🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
440. -- باب: الدليل على إباحة ذلك على أي مركوب كان ناقة أو حمارا
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ یہ رخصت ہر قسم کی سواری پر مباح ہے خواہ وہ اونٹنی ہو یا گدھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2207
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هَمَّامٌ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ ⦗٨⦘ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: لَقِينَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ فَلَقِيتُهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَوَجْهُهُ مِنْ هَذَا الْجَانِبِ، يَعْنِي عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ" فَقَالَ:" لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ مَا فَعَلْتُهُ، وَفِي حَدِيثِ عَفَّانَ وَوَجْهُهُ ذَلِكَ الْجَانِبَ وَأَوْمَى هَمَّامٌ عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: لَمْ أَفْعَلْهُ، يَعْنِي التَّطَوُّعَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَبَّانَ، عَنْ هَمَّامٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَفَّانَ.
(الف) انس بن سیرین سے روایت ہے کہ جب انس بن مالک رضی اللہ عنہ شام سے آئے تو ہم آپ سے ملنے گئے۔ میری ان سے ”عین التمر“ کے مقام پر ملاقات ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہ گدھے پر بیٹھے نماز ادا کر رہے تھے اور آپ کا چہرہ قبلہ کی بائیں جانب تھا، میں نے ان سے عرض کیا: میں آپ کو غیر قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے نماز پڑھتے دیکھ رہا ہوں! انہوں نے فرمایا: ”اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں اس طرح کبھی نہ کرتا۔“
(ب) اور عفان کی حدیث میں ہے کہ ان کا چہرہ اسی جانب تھا، ہمام نے اشارے سے بتایا کہ قبلہ کی بائیں جانب، اس روایت کے آخر میں ہے کہ ”پھر میں بھی اس طرح نہ کرتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2207]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1049»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
441. -- باب: استقبال القبلة بالناقة عند الإحرام
-- باب: تکبیرِ تحریمہ کے وقت اونٹنی کا رخ قبلہ کی طرف کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2208
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا رِبْعِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنِي الْجَارُودُ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ فَأَرَادَ أَنْ يَتَطَوَّعَ بِالصَّلَاةِ اسْتَقْبَلَ بِنَاقَتِهِ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ ثُمَّ صَلَّى حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ النَّاقَةُ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر فرماتے اور نفل نماز ادا کرنے کا ارادہ ہوتا تو اپنی سواری کو قبلہ رخ کر لیتے، پھر تکبیر کہتے، پھر جدھر بھی اونٹنی کا منہ ہوتا، آپ اپنی نماز جاری رکھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2208]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الطيالسي 2228»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
442. -- باب: الإيماء بالركوع والسجود، والسجود أخفض من الركوع
-- باب: رکوع اور سجدے کے لیے اشارہ کرنے، اور سجدے کا اشارہ رکوع کی نسبت زیادہ جھک کر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2209
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَبِّحُ وَهُوَ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ لَا يُبَالِي حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ، وَيَوْمِي بِرَأْسِهِ إِيمَاءً، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کی پیٹھ پر نفل نماز ادا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ جدھر بھی ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا خیال نہیں کرتے تھے اور اپنے سر کے ساتھ اشارہ کیا کرتے تھے۔
اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2209]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 2/ 132/ 6155»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2210
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي ⦗٩⦘ عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ النَّوَافِلَ مِنْ كُلِّ جِهَةٍ، وَلَكِنَّهُ يَخْفِضُ السَّجْدَتَيْنِ مِنَ الرَّكْعَةِ وَيَوْمِي إِيمَاءً".
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر ہر طرف رخ کر کے نفل نماز پڑھتے دیکھا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں رکوع سے زیادہ جھکتے تھے۔ آپ (سواری پر) نماز اشارے سے ادا فرماتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2210]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 3/366، 380»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2211
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ:" بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ" فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا۔ جب میں واپس آیا تو آپ اپنی سواری پر مشرق کی طرف منہ کیے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور آپ سجدے میں رکوع سے زیادہ جھکتے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2211]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شبية 2/236»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
443. -- باب: الوتر على الراحلة
-- باب: سواری پر وتر کی نماز ادا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ:" كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلَتُ فَأَوْتَرْتُ" فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ:" فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سعید بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا مکہ کے راستے میں (شریکِ سفر) تھا۔ جب مجھے صبح ہونے کا ڈر ہوا تو میں سواری سے اترا اور وتر نماز پڑھنے لگا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ﴿اسوہ حسنہ﴾ [سورة الأحزاب: 21] نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور ہے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2212]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 999»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2213
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ الْقَاضِي، وَتَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ.
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری پر ہی (نفل) نماز پڑھ لیا کرتے تھے، جدھر بھی وہ آپ کو لے کر چلتی اور وتر بھی اسی پر ادا کر لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2213]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2214
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا ⦗١٠⦘ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ہی وتر نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2214]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 6/347»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2215
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُوتِرُ عَلَى الرَّاحِلَةِ؟ قَالَ: وَهَلْ لِلْوَتْرِ فَضِيلَةٌ عَلَى سَائِرِ التَّطَوُّعِ؟" إِي وَاللهِ لَقَدْ كَانَ يُوتِرُ عَلَيْهَا".
جریر بن حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سواری پر وتر پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: کیا وتروں کو دیگر تمام نوافل پر برتری حاصل ہے؟ اللہ کی قسم! وہ سواری پر ہی وتر ادا کر لیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2215]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن عدي في الكامل 2/192»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2216
وَرَوَاهُ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ هَكَذَا، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَحَدَّثَنِيهِ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ..
ایک دوسری سند سے اسی جیسی حدیث منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2216]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں