السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
445. -- باب: ما في صلاته الوتر على الراحلة من الدلالة على أن الوتر ليس بواجب
-- باب: سواری پر نمازِ وتر ادا کرنے میں اس بات کی دلالت کا بیان کہ وتر واجب نہیں ہے
حدیث نمبر: 2227
وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ وَأَنَا أَسْمَع، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَهُوَ قَوْلُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَكُلُّ ذَلِكَ مَعَ سَائِرِ الْآثَارِ الْوَارِدَةِ فِيهِ، مَوْضِعُهَا بَابُ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ.
(ا) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”وتر فرض نہیں، سنت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سنت قرار دیا ہے۔“
(ب) یہ سیدنا عبادہ بن صامت اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ اس موضوع سے متعلق دیگر روایات جو وارد ہوئی ہیں، ان کا ذکر باب التطوع میں ہوگا کیونکہ اس کا محل وہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2227]
(ب) یہ سیدنا عبادہ بن صامت اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ اس موضوع سے متعلق دیگر روایات جو وارد ہوئی ہیں، ان کا ذکر باب التطوع میں ہوگا کیونکہ اس کا محل وہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2227]
446. -- باب: الرخصة في ترك استقبال القبلة في المكتوبة حال المسايفة وشدة القتال
-- باب: تلوار بازی اور شدید جنگ کی حالت میں فرض نماز میں استقبالِ قبلہ (قبلہ رخ ہونے) کو ترک کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 2228
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ:" يَتَقَدَّمُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ ثُمَّ قَصَّ الْحَدِيثَ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فِي الْحَدِيثِ: فَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلُّوا رِجَالًا وَرُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ، وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا" وَهُوَ ثَابِتٌ مِنْ جِهَةِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَوْضِعُهُ كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ.
(ا) نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب صلاۃ الخوف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ امام اور ایک جماعت آگے نکل کر نماز پڑھے اور دوسری دشمن کے مقابلے میں رہے، پھر مکمل حدیث بیان کی۔
(ب) حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو وہ پیدل اور سوار دونوں حالت میں ادا کریں، چاہے قبلہ رخ ہوں نہ ہوں۔“
(ج) یہ روایت موسیٰ بن عقبہ کے طریق سے نافع سے، وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اس کا محل کتاب صلاۃ الخوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2228]
(ب) حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو وہ پیدل اور سوار دونوں حالت میں ادا کریں، چاہے قبلہ رخ ہوں نہ ہوں۔“
(ج) یہ روایت موسیٰ بن عقبہ کے طریق سے نافع سے، وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اس کا محل کتاب صلاۃ الخوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2228]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1/148»
الحكم على الحديث: صحيح
447. -- باب: من طلب باجتهاده إصابة عين الكعبة
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنے اجتہاد سے عین کعبہ کی سیدھ تلاش کی
حدیث نمبر: 2229
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: سَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا" دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قِبَلِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ دُونَ قِصَّةِ الدُّخُولِ، عَنْ عَطَاءٍ وَدُونَ ذِكْرِ أُسَامَةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَيْنَاهُ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِطُولِهِ، وَذَكَرَ أُسَامَةَ.
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عطا رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں تو صرف (بیت اللہ کا) طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے اندر داخل ہونے کا نہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کے اندر داخل ہونے سے منع تو نہیں کیا، لیکن میں نے ان سے سنا ہے کہ انہیں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے تمام کونوں میں دعا کی، لیکن نماز نہیں پڑھی۔ بلکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، پھر فرمایا: ”یہ ہے قبلہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2229]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري بنحوه 389»
الحكم على الحديث: صحيح
448. -- باب: من طلب باجتهاده جهة الكعبة
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنے اجتہاد سے کعبہ کی جہت (سمت) تلاش کی
حدیث نمبر: 2230
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبِّرِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔“ (یہ حکم اہل مدینہ کے لیے ہے) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2230]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الحاكم 1/323»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2231
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ" تَفَرَّدَ بِالْأَوَّلِ ابْنُ مُجَبِّرٍ، وَتَفَرَّدَ بِالثَّانِي يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْخَلَّالُ، وَالْمَشْهُورُ رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَزَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، وَغَيْرِهِمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اہل مدینہ کے لیے) مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔“
پہلی روایت کو بیان کرنے میں ابن مجبر منفرد ہیں اور دوسری کو بیان کرنے میں یعقوب بن یوسف خلال منفرد ہیں، اور مشہور وہ روایت ہے جسے ایک جماعت (حماد بن سلمہ، زائدہ بن قدامہ، یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ) نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2231]
پہلی روایت کو بیان کرنے میں ابن مجبر منفرد ہیں اور دوسری کو بیان کرنے میں یعقوب بن یوسف خلال منفرد ہیں، اور مشہور وہ روایت ہے جسے ایک جماعت (حماد بن سلمہ، زائدہ بن قدامہ، یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ) نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2231]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر التخريج السابق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2232
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو بِشْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَاضِرِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ قَالَ:" مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُمَا عَنْ نَافِعٍ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا وَرُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ قَوْلِهِمَا، وَالْمُرَادُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ، وَمَنْ كَانَ قِبْلَتُهُ عَلَى سَمْتِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِيمَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ يَطْلُبُ قِبْلَتَهُمْ، ثُمَّ يَطْلُبُ عَيْنَهَا.
(ا) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔“
(ب) اس سے مراد اہل مدینہ ہیں۔ واللہ اعلم۔ جن لوگوں کا قبلہ اہل مدینہ کی مشرق و مغرب کے درمیان ہے، پہلے ان کا قبلہ تلاش کیا جائے گا، پھر عین قبلہ کو تلاش کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2232]
(ب) اس سے مراد اہل مدینہ ہیں۔ واللہ اعلم۔ جن لوگوں کا قبلہ اہل مدینہ کی مشرق و مغرب کے درمیان ہے، پہلے ان کا قبلہ تلاش کیا جائے گا، پھر عین قبلہ کو تلاش کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2232]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 461»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2233
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا نَافِعُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ إِذَا تَوَجَّهْتَ قِبَلَ الْبَيْتِ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے“ جب تو قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2233]
تخریج الحدیث: «حسن۔ طبقات ابن خياط 1/381»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2234
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَنْبَسَةَ أَبُو مُحَمَّدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ عَنْبَسَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ يَعْقُوبَ الْيَشْكُرِيُّ فِي نُخَيْلَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْمَكِّيُّ، مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الدَّارِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ ⦗١٦⦘ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيْتُ قِبْلَةٌ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ، وَالْمَسْجِدُ قِبْلَةٌ لِأَهْلِ الْحَرَمِ، وَالْحَرَمُ قِبْلَةٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ فِي مَشَارِقِهَا وَمَغَارِبِهَا مِنْ أُمَّتِي" تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَبَشِيٍّ كَذَلِكَ مَرْفُوعًا وَلَا يُحْتَجُّ بِمِثْلِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد حرام والوں کا قبلہ بیت اللہ ہے اور اہل حرم کا قبلہ مسجد حرام ہے اور حرم میری امت کے مشرق و مغرب والے تمام اہل زمین کا قبلہ ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں عمر بن حفص مکی منفرد ہیں، اور وہ ضعیف ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔ یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے عبداللہ بن حبشی سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اور اس جیسی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2234]
اس روایت کو بیان کرنے میں عمر بن حفص مکی منفرد ہیں، اور وہ ضعیف ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔ یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے عبداللہ بن حبشی سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اور اس جیسی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2234]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
449. -- باب: الاختلاف في القبلة عند التحري
-- باب: تحری (غوروخوض کر کے سمت معلوم کرنے) کے وقت قبلہ کے تعین میں اختلاف ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 2235
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي مَسِيرٍ أَوْ سَرِيَّةٍ فَأَصَابَنَا غَيْمٌ فَتَحَرَّيْنَا، وَاخْتَلَفْنَا فِي الْقِبْلَةِ فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِدَةٍ، فَجَعَلَ أَحَدُنَا يَخُطُّ بَيْنَ يَدَيْهِ لِنَعْلَمَ أَمْكِنَتَنَا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا نَظَرْنَاهُ، فَإِذَا نَحْنُ قَدْ صَلَّيْنَا عَلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ" فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" قَدْ أَجْزَأَتْ صَلَاتُكُمْ" تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْعَرْزَمِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ وَهُمَا ضَعِيفَانِ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ رِوَايَةِ الْمَرْثَدِيِّ، ثُمَّ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ: كَذَا قَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، وَقَالَ غَيْرُهُ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الْعَرْزَمِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ وَهُمَا ضَعِيفَانِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُوسَى الرَّقِّيُّ بَأَنْطَاكِيَّةَ، ثنا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ مَرْوَانَ الرَّقِّيَّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر یا سریہ میں تھے، موسم ابر آلود ہو گیا، ہماری کوشش اور غور و فکر کے باوجود قبلہ کے بارے میں ہم میں اختلاف ہو گیا، ہر ایک نے علیحدہ علیحدہ (اپنی سمت پر) نماز ادا کی اور اپنے سامنے خط کھینچ لیا تاکہ ہم اپنی سمتیں جان سکیں، پھر جب ہم نے صبح کی تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہم نے غیرِ قبلہ کی طرف نماز پڑھی، پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نماز ہوگئی۔“
اس روایت کو عطاء سے بیان کرنے میں محمد بن سالم اور محمد بن عبیداللہ عرزمی منفرد ہیں اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2235]
اس روایت کو عطاء سے بیان کرنے میں محمد بن سالم اور محمد بن عبیداللہ عرزمی منفرد ہیں اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2235]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الحاكم 1/324»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2236
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا تُقَلِّدُوا دِينَكُمُ الرِّجَالَ فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَبِالْأَمْوَاتِ لَا بِالْأَحْيَاءِ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اپنے دین میں بلا دلیل لوگوں کی پیروی نہ کرو، اگر تم انکار کرتے ہو تو پھر مردوں کی تقلید کرو، زندوں کی نہ کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2236]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه اللالكائي في شرح الاعتقاد 1/93»
الحكم على الحديث: صحيح