السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
478. -- باب: افتتاح الصلاة بعد التكبير
-- باب: تکبیر کے بعد نماز کی ابتدا (دعائے استفتاح) کا بیان
حدیث نمبر: 2345
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: يَقُولُ: حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ:" وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي" فَذَكَرَهُ وَقَالَ: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ:" اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ" فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ:" وَاهْدِنِي" إِلَى قَوْلِهِ:" لَبَّيْكَ"، ثُمَّ قَالَ:" لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ أَسْتَغْفِرُكَ، ثُمَّ أَتُوبُ إِلَيْكَ" ثُمَّ ذَكَرَ الْبَاقِي بِمَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَحَدِيثُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَتَمُّ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک اٹھاتے۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کے بعد جب نماز شروع کرتے تو پڑھتے: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ...» مکمل دعا ذکر کی اور «وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ...» ”اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا معبودِ برحق کوئی نہیں۔ تو پاک ہے۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔“ پھر مکمل دعا ذکر کی لیکن «وَاهْدِنِي» سے «لَبَّيْكَ» تک نہیں پڑھا، پھر «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ لَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ أَسْتَغْفِرُ ثُمَّ أَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ ہی سے امید لگائے بیٹھا ہوں۔ تیرے علاوہ کسی اور کی طرف کوئی پناہ نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں، پھر تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔“
پھر عبدالعزیز کی حدیث جیسی حدیث ذکر کی اور عبدالعزیز کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2345]
پھر عبدالعزیز کی حدیث جیسی حدیث ذکر کی اور عبدالعزیز کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2345]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2346
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَعَمِلْتُ سُوءًا فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ" وَقَدْ حَكَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنْ هُشَيْمٍ مِنْ غَيْرِ سَمَاعٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَلِيٍّ، فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا فَيُحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ أَبُو إِسْحَاقَ سَمِعَهُ مِنْهُمَا، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ" وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ" وَكَذَلِكَ فِي بَعْضِ ⦗٥١⦘ الرِّوَايَاتِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَفِي بَعْضِهَا وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَجْعَلُ مَكَانَ" وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِذَلِكَ أَمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ وَجِمَاعَةٌ مِنْ فُقَهَاءِ الْمَدِينَةِ" وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ رَحِمَهُ اللهُ: وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، تَفْسِيرُهُ وَالشَّرُّ لَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْكَ.
(ا) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو یہ پڑھتے: ”تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تو پاک ہے۔ میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور برے عمل کیے، سو مجھے معاف فرما دے۔ بیشک تیرے سوا کوئی نہیں بخش سکتا۔ میں نے اپنے آپ کو اس ذات کی طرف متوجہ کر دیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں یکسوئی کے ساتھ تابع فرماں ہوا اور میں مشرکوں سے بھی نہیں ہوں۔ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] (بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں) اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں سے ہوں۔“
(ب) عبدالعزیز بن ابی سلمہ رحمہ اللہ کی روایت کے الفاظ «وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ”اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں“ ہیں اور بعض روایات میں «أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ”میں مسلمانوں میں سے ہوں“ ہے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: «أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» کی جگہ «أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» کے الفاظ ہی بہتر ہیں۔
(د) شیخ فرماتے ہیں کہ محمد بن منکدر رحمہ اللہ اور فقہاء مدینہ نے اسی کا حکم دیا ہے۔
(ن) نضر بن شمیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: «وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ» ”اور شر تیری طرف (منسوب) نہیں“ کی تفسیر یہ ہے کہ شر کے ذریعے تیرا قرب حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2346]
(ب) عبدالعزیز بن ابی سلمہ رحمہ اللہ کی روایت کے الفاظ «وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ”اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں“ ہیں اور بعض روایات میں «أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ”میں مسلمانوں میں سے ہوں“ ہے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: «أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» کی جگہ «أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» کے الفاظ ہی بہتر ہیں۔
(د) شیخ فرماتے ہیں کہ محمد بن منکدر رحمہ اللہ اور فقہاء مدینہ نے اسی کا حکم دیا ہے۔
(ن) نضر بن شمیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: «وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ» ”اور شر تیری طرف (منسوب) نہیں“ کی تفسیر یہ ہے کہ شر کے ذریعے تیرا قرب حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2346]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
479. -- باب: الاستفتاح بسبحانك اللهم وبحمدك
-- باب: ”سبحانك اللهم وبحمدك“ کے ذریعے نماز کی ابتدا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2347
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ" أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، وَقَدْ رَوَى قِصَّةَ الصَّلَاةِ جَمَاعَةٌ عَنْ بُدَيْلٍ لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ شَيْئًا مِنْ هَذَا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ عَائِشَةَ.
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو پڑھتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَىٰ جَدُّكَ وَلَا إِلَٰهَ غَيْرُكَ» ”پاک ہے تو اے اللہ اور میں تیری تعریف کے ساتھ (تجھے یاد کرتا ہوں) اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔“
امام ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث عبدالسلام بن حرب سے مشہور نہیں ہے، اسے صرف طلق بن غنام نے روایت کیا ہے، اور ایک جماعت نے بدیل سے نماز کا واقعہ روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2347]
امام ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث عبدالسلام بن حرب سے مشہور نہیں ہے، اسے صرف طلق بن غنام نے روایت کیا ہے، اور ایک جماعت نے بدیل سے نماز کا واقعہ روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2347]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 776»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2348
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُ:" سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ" وَهَذَا لَمْ نَكْتُبْهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرُوِيَ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، پھر کہتے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَىٰ جَدُّكَ، وَلَا إِلَٰهَ غَيْرُكَ» ”پاک ہے تو اے اللہ اور میں تیری تعریف کے ساتھ (تجھے یاد کرتا ہوں) اور تیرا نام برکت ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔“
ہم نے اسے صرف حارثہ بن ابی الرجال کی حدیث سے لکھا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2348]
ہم نے اسے صرف حارثہ بن ابی الرجال کی حدیث سے لکھا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2348]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن خزيمة 470»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2349
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا زَكَرِيَّا وَهُوَ ابْنُ عَدِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ" قَالَ: ثُمَّ هَلَّلَ ثَلَاثًا" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" ثُمَّ كَبَّرَ ثَلَاثًا" اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ" قَالَ: جَعْفَرٌ: هَمْزُهُ: الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ: الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ: الْكِبْرُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ يَقُولُونَ: هُوَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ الْحَسَنِ، الْوَهْمُ مِنْ جَعْفَرٍ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ فِي الِاسْتِفْتَاحِ بِسُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ حَدِيثٌ آخَرُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ مَرْفُوعًا، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَرُوِيَ ذَلِكَ مَرْفُوعًا، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَصَحُّ مَا رُوِيَ فِيهِ الْأَثَرُ الْمَوْقُوفُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ پڑھتے: ” «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“”پھر تین بار یہ پڑھتے: ” «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔“”پھر تین بار تکبیر کہتے: ” «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ» (اللہ سب سے بڑا ہے)“ پھر ” «أَعُوذُ بِاللّٰهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ» ”میں شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں جو سننے اور جاننے والا ہے اور اس کے وسوسے سے، تکبر کی ہوا اور جادو کی پھونکار سے۔“”جعفر کہتے ہیں: ہمزہ سے مراد دیوانگی، غشی ہے۔
اور نفثہ سے مراد اشعار وغیرہ ہیں اور نفخۃ سے مراد تکبر ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ» “ سے نماز کی ابتدا کے بارے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی منقول ہے۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محدثین کہتے ہیں کہ یہ حدیث علی بن علی کی حسن (بصری) سے روایت ہے اور وہم جعفر کی طرف سے ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث قوی نہیں ہے، اور اس بارے میں سب سے صحیح روایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر موقوف اثر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2349]
اور نفثہ سے مراد اشعار وغیرہ ہیں اور نفخۃ سے مراد تکبر ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ» “ سے نماز کی ابتدا کے بارے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی منقول ہے۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محدثین کہتے ہیں کہ یہ حدیث علی بن علی کی حسن (بصری) سے روایت ہے اور وہم جعفر کی طرف سے ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث قوی نہیں ہے، اور اس بارے میں سب سے صحیح روایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر موقوف اثر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2349]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابن خزيمة 467»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2350
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ".
اسود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے، پھر کہتے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالٰی جَدُّكَ وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور تعریف تیرے لیے ہے، اور تیرا نام برکت والا ہے، اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے، اور تیرے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2350]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم الكلام عليه قريبا»
الحكم على الحديث: صحيح
480. -- باب: من روى الجمع بينهما
-- باب: جس نے ان دونوں (دعاؤں) کو جمع کرنے کی روایت بیان کی ہے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2351
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ" ⦗٥٣⦘.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَىٰ جَدُّكَ، وَلَا إِلَٰهَ غَيْرُكَ» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور تعریف تیرے لیے ہے اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔“
” ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] میں نے یکسوئی کے ساتھ اپنے آپ کو اس ذات کی جانب متوجہ کر دیا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2351]
” ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] میں نے یکسوئی کے ساتھ اپنے آپ کو اس ذات کی جانب متوجہ کر دیا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2351]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ قال الزيلعي في نصب الرابة 2/ 204»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2352
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَقَالَ: تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت منقول ہے، اس میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: «تَبَارَكَ اسْمُكَ» باقی حدیث اسی طرح ہے۔
عبداللہ بن عامر اسلمی نے، جو ضعیف ہیں، اسے محمد بن منکدر سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2352]
عبداللہ بن عامر اسلمی نے، جو ضعیف ہیں، اسے محمد بن منکدر سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2352]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
481. -- باب: التعوذ بعد الافتتاح
-- باب: دعائے استفتاح کے بعد تعوذ (أعوذ بالله پڑھنے) کا بیان
حدیث نمبر: 2353
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، سَمِعَ عَاصِمًا الْعَنَزِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ قَالَ:" اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا" قَالَهَا ثَلَاثًا" وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا" قَالَهَا ثَلَاثًا" وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا" قَالَهَا ثَلَاثًا" أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو تکبیر کہنے کے بعد: ” «اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» (ہر کلمہ تین تین مرتبہ کہتے) پھر «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ: مِنْ نَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ، وَهَمْزِهِ» ”میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے، اس کے وسوسوں سے، تکبر کی ہوا سے اور جادو کی پھنکار سے۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2353]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 4/82، 16882»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2354
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" وَزَادَ قَالَ عُمَرُ: وَنَفْخُهُ: الْكِبْرُ، وَهَمْزُهُ: الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ: الشِّعْرُ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ يُقَالُ لَهُ عَاصِمٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَزَادَ التَّفْسِيرَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَنْسُبْهُ إِلَى عَمْرٍو، وَلَكِنْ قَالَ: قِيلَ: وَمَا هَمْزُهُ؟ قَالَ: الْمُوتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ قِيلَ: وَمَا نَفْخُهُ؟ قَالَ: الْكِبْرُ، قِيلَ: وَمَا نَفْثُهُ؟ قَالَ: الشِّعْرُ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مِسْعَرٌ وَشُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ.
(ا) ایک دوسری سند میں ابو ولید شعبہ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔“
(ب) انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمرو کہتے ہیں: نفخہ سے مراد تکبر ہے، ہمزہ سے مراد دیوانگی ہے اور نفثہ سے مراد شعر گوئی ہے۔
(ج) ایک دوسری سند سے ابوداؤد کی حدیث بھی اسی طرح ہے، اس میں حدیث کے ساتھ کچھ تشریح کا اضافہ بھی ہے مگر انہوں نے اس کو عمرو کی طرف منسوب نہیں کیا، بلکہ کہا کہ ان سے کسی نے پوچھا: ہمزہ سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: وہ غشی اور دیوانگی جو ابن آدم پر طاری ہو جاتی ہے۔ کسی نے پوچھا: نفخہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تکبر۔ پھر کسی نے پوچھا: نَفْثُہُ سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: شعر و شاعری۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2354]
(ب) انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمرو کہتے ہیں: نفخہ سے مراد تکبر ہے، ہمزہ سے مراد دیوانگی ہے اور نفثہ سے مراد شعر گوئی ہے۔
(ج) ایک دوسری سند سے ابوداؤد کی حدیث بھی اسی طرح ہے، اس میں حدیث کے ساتھ کچھ تشریح کا اضافہ بھی ہے مگر انہوں نے اس کو عمرو کی طرف منسوب نہیں کیا، بلکہ کہا کہ ان سے کسی نے پوچھا: ہمزہ سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: وہ غشی اور دیوانگی جو ابن آدم پر طاری ہو جاتی ہے۔ کسی نے پوچھا: نفخہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تکبر۔ پھر کسی نے پوچھا: نَفْثُہُ سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: شعر و شاعری۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2354]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف