السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
508. -- باب: من لم يذكر الرفع إلا عند الافتتاح
-- باب: اس شخص کی روایت کا بیان جس نے صرف نماز شروع کرتے وقت کے علاوہ ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا
حدیث نمبر: 2535
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، فَذَكَرَهُ قَالَ عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ: فَهَذَا قَدْ رُوِيَ مِنْ هَذَا الطَّرِيقِ الْوَاهِي، عَنْ عَلِيٍّ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَرْفَعُهُمَا عِنْدَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ" فَلَيْسَ الظَّنُّ بِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ يَخْتَارُ فِعْلَهُ عَلَى فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ لَيْسَ أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ مِمَّنْ يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ أَوْ تَثْبُتُ بِهِ سُنَّةً لَمْ يَأْتِ بِهَا غَيْرُهُ ⦗١١٥⦘ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ: الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: وَلَا يَثْبُتُ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ، يَعْنِي مَا رَوَوْهُ عَنْهُمَا مِنْ أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرْفَعَانِ أَيْدِيَهُمَا فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ إِلَّا فِي تَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ فَأَخَذَ بِهِ وَتَرَكَ مَا رَوَى عَاصِمٌ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ كَمَا رَوَى ابْنُ عُمَرَ، وَلَوْ كَانَ هَذَا ثَابِتًا عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ كَانَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ رَآهُمَا مَرَّةً أَغْفَلَا فِيهِ رَفْعَ الْيَدَيْنِ وَلَوْ قَالَ قَائِلٌ: ذَهَبَ عَنْهُمَا حِفْظُ ذَلِكَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَفِظَهُ ابْنُ عُمَرَ، فَكَانَتْ لَهُ الْحُجَّةُ.
(ا) ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔ عثمان دارمی کہتے ہیں: یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کمزور سند سے مروی ہے۔
(ب) ایک اور سند سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس طرح گمان نہیں ہو سکتا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل پر اپنے عمل کو ترجیح دیں۔ لیکن ابوبکر نہشلی ان راویوں میں سے نہیں جن کی روایت سے حجت پکڑی جائے یا جن کے ذریعے کوئی ایسی سنت ثابت ہو جسے ان کے علاوہ کسی نے بیان نہ کیا ہو۔
زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ اپنے قولِ قدیم میں فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایات ثابت نہیں کہ وہ دونوں صرف نماز کی ابتدا میں رفع یدین کرتے تھے اور اس کے علاوہ نہیں کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صرف عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس روایت کو لے لیا لیکن جو روایت عاصم نے اپنے باپ سے اور انہوں نے سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت لی ہے اسے چھوڑ دیا، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رفع یدین کیا“ جیسا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے اور اگر یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت بھی ہو جائے تو اس میں یہ اشتباہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ایک ہی بار دیکھا ہو اور رفع یدین کی طرف توجہ نہ دی ہو۔
اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ ان سے یہ یادداشت چلی گئی اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو یاد رکھا ہو تو اس کے لیے حجت بن سکتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2535]
(ب) ایک اور سند سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس طرح گمان نہیں ہو سکتا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل پر اپنے عمل کو ترجیح دیں۔ لیکن ابوبکر نہشلی ان راویوں میں سے نہیں جن کی روایت سے حجت پکڑی جائے یا جن کے ذریعے کوئی ایسی سنت ثابت ہو جسے ان کے علاوہ کسی نے بیان نہ کیا ہو۔
زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ اپنے قولِ قدیم میں فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایات ثابت نہیں کہ وہ دونوں صرف نماز کی ابتدا میں رفع یدین کرتے تھے اور اس کے علاوہ نہیں کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صرف عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس روایت کو لے لیا لیکن جو روایت عاصم نے اپنے باپ سے اور انہوں نے سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت لی ہے اسے چھوڑ دیا، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رفع یدین کیا“ جیسا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے اور اگر یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت بھی ہو جائے تو اس میں یہ اشتباہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ایک ہی بار دیکھا ہو اور رفع یدین کی طرف توجہ نہ دی ہو۔
اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ ان سے یہ یادداشت چلی گئی اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو یاد رکھا ہو تو اس کے لیے حجت بن سکتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2535]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله كلهم ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2536
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَهُ عَمْرُو بْنُ مُرَّةٍ قَالَ: صَلَّيْنَا فِي مَسْجِدِ الْحَضْرَمِيِّينَ فَحَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ" فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: مَا أَرَى أَبَاهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ذَاكَ الْيَوْمَ الْوَاحِدَ فَحَفِظَ ذَلِكَ، وَعَبْدُ اللهِ لَمْ يَحْفَظْ ذَلِكَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِبْرَاهِيمُ: إِنَّمَا رَفْعُ الْيَدَيْنِ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ⦗١١٦⦘ لَفْظُ حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ: هَذِهِ عِلَّةٌ لَا تَسْوِي سَمَاعَهَا؛ لِأَنَّ رَفْعَ الْيَدَيْنِ قَدْ صَحَّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ، ثُمَّ عَنِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَلَيْسَ فِي نِسْيَانِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَفْعَ الْيَدَيْنِ مَا يُوجِبُ أَنَّ هَؤُلَاءِ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ لَمْ يَرَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ، قَدْ نَسِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنَ الْقُرْآنِ مَا لَمْ يَخْتَلِفِ الْمُسْلِمُونَ فِيهِ بَعْدُ وَهِيَ الْمُعَوِّذَتَانِ، وَنَسِيَ مَا اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ كُلُّهُمْ عَلَى نَسْخِهِ وَتَرْكِهِ مِنَ التَّطْبِيقِ، وَنَسِيَ كَيْفِيَّةَ قِيَامِ اثْنَيْنِ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَنَسِيَ مَا لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ فِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَ النَّحْرِ فِي وَقْتِهَا، وَنَسِيَ كَيْفِيَّةَ جَمْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، وَنَسِيَ مَا لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ فِيهِ مِنْ وَضْعِ الْمِرْفَقِ وَالسَّاعِدِ عَلَى الْأَرْضِ فِي السُّجُودِ، وَنَسِيَ كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَمَا خَلَقَ⦗١١٧⦘ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى} [الليل: ٣] وَإِذَا جَازَ عَلَى عَبْدِ اللهِ أَنْ يَنْسَى مِثْلَ هَذَا فِي الصَّلَاةِ خَاصَّةً، كَيْفَ لَا يَجُوزُ مِثْلُهُ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ؟.
حصین بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ہم ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمرو بن مرہ نے انہیں بیان کیا کہ ہم نے حضرمیوں کی مسجد میں نماز پڑھی تو علقمہ بن وائل نے مجھے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھایا (یعنی رفع یدین کیا) اور جب رکوع کیا تب بھی رفع یدین کیا۔ ابراہیم نے کہا: میں نہیں سمجھتا (خیال کرتا) کہ علقمہ کے والد (وائل) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن کے علاوہ کسی اور دن دیکھا ہو، پس انہوں نے وہی یاد کر لیا اور عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے اس کو یاد نہیں کیا، پھر ابراہیم نے کہہ دیا کہ رفع یدین تو صرف نماز شروع کرنے کے وقت ہے۔
(ب) ابوبکر بن اسحاق فقیہ فرماتے ہیں کہ یہ ایسی علت ہے جو اپنے سماع کو نہیں پہنچ سکتی؛ کیونکہ رفع یدین نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اس کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے، پھر صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے بھی ثابت ہے اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نسیان میں صرف رفع یدین ہی نہیں ہے کہ جس کو دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا، بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھول گئے تھے۔ جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ قرآن سے وہ چیز بھول گئے جس میں مسلمانوں نے کبھی اختلاف نہیں کیا اور وہ معوذتین ہیں۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس میں نسیان کا شکار ہوئے جس کے منسوخ اور متروک ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے یعنی تطبیق کرنے سے اور امام کے پیچھے دو آدمیوں کے کھڑے ہونے کی کیفیت میں، نیز اس مسئلہ میں بھی انہیں نسیان ہوا، جس کے بارے میں علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے روز صبح کی نماز اپنے وقت پر ہی پڑھی۔ اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ عرفہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جمع ہونے کی کیفیت میں بھی نسیان کا شکار ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اس اتفاقی مسئلہ کو بھی بھول گئے کہ نماز میں سجدے کی حالت میں کہنیوں اور بازوؤں کو زمین سے جدا رکھتے ہیں اور یہ بھی بھول گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح ﴿وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 3] پڑھتے تھے اور جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ درست ہے کہ وہ نماز میں اس طرح بھولے ہیں تو ممکن ہے رفع یدین بھی بھول گئے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2536]
(ب) ابوبکر بن اسحاق فقیہ فرماتے ہیں کہ یہ ایسی علت ہے جو اپنے سماع کو نہیں پہنچ سکتی؛ کیونکہ رفع یدین نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اس کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے، پھر صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے بھی ثابت ہے اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نسیان میں صرف رفع یدین ہی نہیں ہے کہ جس کو دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا، بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھول گئے تھے۔ جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ قرآن سے وہ چیز بھول گئے جس میں مسلمانوں نے کبھی اختلاف نہیں کیا اور وہ معوذتین ہیں۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس میں نسیان کا شکار ہوئے جس کے منسوخ اور متروک ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے یعنی تطبیق کرنے سے اور امام کے پیچھے دو آدمیوں کے کھڑے ہونے کی کیفیت میں، نیز اس مسئلہ میں بھی انہیں نسیان ہوا، جس کے بارے میں علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے روز صبح کی نماز اپنے وقت پر ہی پڑھی۔ اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ عرفہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جمع ہونے کی کیفیت میں بھی نسیان کا شکار ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اس اتفاقی مسئلہ کو بھی بھول گئے کہ نماز میں سجدے کی حالت میں کہنیوں اور بازوؤں کو زمین سے جدا رکھتے ہیں اور یہ بھی بھول گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح ﴿وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 3] پڑھتے تھے اور جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ درست ہے کہ وہ نماز میں اس طرح بھولے ہیں تو ممکن ہے رفع یدین بھی بھول گئے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2536]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الدار قطني 1/ 291/ 13»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2537
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ:" مَا مَعْنَى رَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الرُّكُوعِ؟ فَقَالَ: مِثْلُ مَعْنَى رَفَعِهَمَا عِنْدَ الِافْتِتَاحِ تَعْظِيمًا لِلَّهِ، وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ يُرْجَى فِيهَا ثَوَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِثْلُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَغَيْرِهِمَا".
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ رکوع کے وقت رفع یدین کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ابتدائے نماز میں ان کو اٹھانے کا جو معنی ہے وہی اس سے مقصود ہے۔
(پھر فرمایا:) اس میں اللہ کی عظمت کا اظہار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع ہے اور اللہ کی طرف سے ثواب کی امید بھی ہے اور یہ صفا مروہ پر ہاتھ اٹھانے کی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2537]
(پھر فرمایا:) اس میں اللہ کی عظمت کا اظہار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع ہے اور اللہ کی طرف سے ثواب کی امید بھی ہے اور یہ صفا مروہ پر ہاتھ اٹھانے کی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2537]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2538
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الصَّائِغُ، بِمَرْوَ ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْخَطَّابِ السُّلَمِيُّ، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ يُونُسَ، ثنا وَكِيعٌ قَالَ:" صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَإِذَا أَبُو حَنِيفَةَ قَائِمٌ يُصَلِّي، وَابْنُ الْمُبَارَكِ إِلَى جَنْبِهِ يُصَلِّي، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَأَبُو حَنِيفَةَ لَا يَرْفَعُ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لِعَبْدِ اللهِ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تُكْثِرُ رَفْعَ الْيَدَيْنِ، أَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: يَا أَبَا حَنِيفَةَ قَدْ رَأَيْتُكَ تَرْفَعُ يَدَيْكَ حِينَ افْتَتَحْتَ الصَّلَاةَ فَأَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟ فَسَكَتَ أَبُو حَنِيفَةَ" قَالَ وَكِيعٌ فَمَا رَأَيْتُ جَوَابًا أَحْضَرَ مِنْ جَوَابِ عَبْدِ اللهِ، لِأَبِي حَنِيفَةَ.
وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے کوفہ کی مسجد میں نماز ادا کی، کیا دیکھتا ہوں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے لیکن رفع یدین نہیں کر رہے تھے، جبکہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ ان کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے۔ عبداللہ رحمہ اللہ جب بھی رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ نہیں کر رہے تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے عبداللہ رحمہ اللہ سے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو اتنا زیادہ رفع یدین کرتا ہے گویا اڑنے لگا ہے۔“ تو عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”اے ابوحنیفہ! میں نے آپ کو دیکھا، آپ نے نماز کے شروع میں رفع یدین کیا، کیا آپ اس وقت اڑنا چاہتے تھے؟“ ابوحنیفہ رحمہ اللہ یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ رحمہ اللہ کو ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے سامنے حاضر جوابی سے زیادہ کسی کی حاضر جوابی نہیں دیکھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2538]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدا
حدیث نمبر: 2539
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمَيْحٍ ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّبَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: اجْتَمَعَ الْأَوْزَاعِيُّ وَالثَّوْرِيُّ بِمِنًى، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ لِلثَّوْرِيِّ" لِمَ لَا تَرْفَعُ يَدَيْكَ فِي خَفْضِ الرُّكُوعِ وَرَفْعِهِ؟" فَقَالَ الثَّوْرِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ" أَرْوِي لَكَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، ⦗١١٨⦘ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُعَارِضُنِي بِيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَيَزِيدُ رَجُلٌ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَحَدِيثُهُ مُخَالِفٌ لِلسُّنَّةِ" قَالَ: فَاحْمَارَّ وَجْهُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ:" كَأَنَّكَ كَرِهْتَ مَا قُلْتُ" قَالَ الثَّوْرِيُّ: نَعَمْ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ:" قُمْ بِنَا إِلَى الْمَقَامِ نَلْتَعِنُ أَيُّنَا عَلَى الْحَقِّ" قَالَ: فَتَبَسَّمَ الثَّوْرِيُّ لَمَّا رَأَى الْأَوْزَاعِيَّ قَدِ احْتَدَّ".
سلیمان بن داؤد شاذکونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ اور سفیان ثوری رحمہ اللہ منیٰ میں اکٹھے ہوئے تو اوزاعی رحمہ اللہ نے ثوری رحمہ اللہ سے کہا: آپ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفعِ یدین کیوں نہیں کرتے؟ ثوری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہمیں یزید بن ابی زیاد نے حدیث بیان کی ہے، تو امام اوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں تجھے زہری عن سالم عن ابیہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتا ہوں اور تو میرے سامنے یزید بن ابی یزید کی حدیث بیان کرتا ہے، حالانکہ یزید ضعیف راوی ہے اور اس کی حدیث سنت کے مخالف ہے؟ راوی فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ کا چہرہ سرخ ہو گیا تو اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: لگتا ہے آپ کو میری بات بری لگی ہے؟ تو ثوری رحمہ اللہ نے کہا: جی ہاں! اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: ہمارے ساتھ اس جگہ کھڑے ہو جاؤ، ہم ایک دوسرے پر لعنت کریں کہ ہم میں سے کون حق پر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ثوری رحمہ اللہ نے جب دیکھا کہ اوزاعی رحمہ اللہ غصہ ہو گئے ہیں تو وہ مسکرانے لگے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2539]
تخریج الحدیث: «موضوع الشاذ۔ كوفي كذا بان»
الحكم على الحديث: موضوع الشاذ
حدیث نمبر: 2540
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْذَعِيُّ بِبُخَارَا، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْأَشْتِيخَنِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّبَرِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ الْمَرْوَزِيِّ.
ایک دوسری سند سے اس کے ہم معنی روایت بھی موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2540]
تخریج الحدیث: «موضوع۔ الطبري كذاب»
الحكم على الحديث: موضوع
509. -- باب: السنة في رفع اليدين كلما كبر للركوع
-- باب: جب بھی رکوع کے لیے تکبیر کہے تو ہاتھ اٹھانے کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 2541
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَهُمَا كَذَلِكَ فَيَرْكَعُ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ" الزُّبَيْدِيُّ هَذَا اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَامِرٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے حتیٰ کہ وہ کندھوں کے برابر ہوجاتے، پھر جب بھی تکبیر کہتے تو ایسے ہی رفع یدین کرتے اور رکوع کرتے، پھر جب رکوع سے اٹھنے کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح رفع یدین کرتے یہاں تک کہ ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھاتے، پھر فرماتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ اور سجدوں میں رفع یدین نہیں کرتے تھے، لیکن رکوع سے پہلے ہر تکبیر میں رفع یدین کرتے حتیٰ کہ آپ کی نماز مکمل ہوجاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2541]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 722»
الحكم على الحديث: صحيح
510. -- باب: ما روي في التطبيق في الركوع
-- باب: رکوع میں تطبیق (دونوں ہاتھوں کو ملا کر گھٹنوں کے درمیان رکھنے) کے بارے میں مروی روایات کا بیان
حدیث نمبر: 2542
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالَا: أَتَيْنَا عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ فِي دَارِهِ قَالَ: صَلَّى هَؤُلَاءِ خَلْفَكُمْ؟ قُلْنَا: لَا، فَقَالَ:" قُومُوا فَصَلُّوا، فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِأَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ، فَلَمَّا رَكَعْنَا وَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَلَمَّا صَلَّيْنَا قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا، وَيَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرِقِ الْمَوْتَى، يَعْنِي آخِرَ الْوَقْتِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ قَدْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً، وَإِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَصَلُّوا جَمِيعًا وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ⦗١١٩⦘ فَلْيَقْدُمْكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَأَرَانَا قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: هَذَا قَدْ تُرِكَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
اسود اور علقمہ رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر آئے۔ انہوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے تمہارے پیچھے نماز پڑھی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ، نماز پڑھو۔ لیکن انہوں نے ہمیں نہ اذان کا حکم دیا نہ اقامت کا۔ ہم چلے تاکہ ان کے پیچھے کھڑے ہوں تو انہوں نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ہم میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کر لیا۔
جب ہم نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے تو انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر چٹکی ماری اور اپنی ہتھیلیوں کو ملایا، پھر انہیں اپنی رانوں کے درمیان رکھ دیا۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے اور اس کو آخر وقت تک روک رکھیں گے۔ جب تم ان (حکمرانوں) کو دیکھو کہ وہ اس طرح کریں تو تم نماز کو اس کے وقت میں ادا کرو اور ان کے ساتھ نماز کو نفل بنا لو اور جب تم تین آدمی ہو تو اکٹھے (ایک ہی صف میں) نماز پڑھو۔ اگر تمہاری تعداد اس سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک آگے نکل جائے۔ جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے بازوؤں کو اپنی رانوں پر پھیلا دے۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلیوں کو ملایا اور ہمیں کر کے دکھایا۔ پھر فرمایا کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں۔ ابو معاویہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ عمل متروک ہو چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2542]
جب ہم نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے تو انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر چٹکی ماری اور اپنی ہتھیلیوں کو ملایا، پھر انہیں اپنی رانوں کے درمیان رکھ دیا۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے اور اس کو آخر وقت تک روک رکھیں گے۔ جب تم ان (حکمرانوں) کو دیکھو کہ وہ اس طرح کریں تو تم نماز کو اس کے وقت میں ادا کرو اور ان کے ساتھ نماز کو نفل بنا لو اور جب تم تین آدمی ہو تو اکٹھے (ایک ہی صف میں) نماز پڑھو۔ اگر تمہاری تعداد اس سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک آگے نکل جائے۔ جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے بازوؤں کو اپنی رانوں پر پھیلا دے۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلیوں کو ملایا اور ہمیں کر کے دکھایا۔ پھر فرمایا کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں۔ ابو معاویہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ عمل متروک ہو چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2542]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 534»
الحكم على الحديث: صحيح
511. -- باب: السنة في وضع الراحتين على الركبتين ونسخ التطبيق
-- باب: ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھنے کی سنت اور تطبیق کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2543
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي فَطَبَّقْتُ بَيْنَ كَفِّيَّ، ثُمَّ وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ فَخِذِيَّ فَنَهَانِي أَبِي عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا فَنُهِينَا عَنْهُ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِيَنَا عَلَى الرُّكَبِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
ابویعفور رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے مصعب بن سعد رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے والد کے پاس نماز ادا کی تو میں نے اپنی ہتھیلیوں کو ملا کر اپنی رانوں کے درمیان رکھ دیا۔ میرے والد رضی اللہ عنہ نے مجھے اس سے روکا اور فرمایا: ”ہم بھی پہلے اس طرح کرتے تھے، بعد میں ہمیں روک دیا گیا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2543]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 790»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2544
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ سَعْدٍ فَطَبَّقْتُ بِيَدِيَّ فَجَعَلْتُهُمَا بَيْنَ رُكْبَتِيَّ فَضَرَبَ بِيَدِيَّ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّيْتُ مَرَّةً أُخْرَى إِلَى جَنْبِهِ، فَطَبَّقْتُ بِيَدِيَّ فَجَعَلْتُهُمَا بَيْنَ رُكْبَتِيَّ قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِيَّ، وَقَالَ: يَا بُنِيَّ إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، فَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالْأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، وَزَادَ: إِنَّا نُهِينَا عَنْ هَذَا وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالْأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ.
(ا) حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ دیا تو انہوں نے میرے ہاتھ پر چٹکی ماری۔ مصعب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک مرتبہ پھر ان کے پہلو میں نماز پڑھی تو اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے درمیان رکھ دیا۔ انہوں نے پھر میرے ہاتھ پر چٹکی لگائی اور فرمایا: ”میرے پیارے بیٹے! بیشک ہم بھی پہلے اس طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔“
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس کو قتیبہ وغیرہ سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”ہمیں اس سے منع کر دیا گیا تھا اور ہمیں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2544]
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس کو قتیبہ وغیرہ سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”ہمیں اس سے منع کر دیا گیا تھا اور ہمیں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2544]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح