🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
507. -- باب: رفع اليدين عند الركوع وعند رفع الرأس منه
-- باب: رکوع میں جاتے وقت اور اس سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین (ہاتھ اٹھانے) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2525
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْأَخْرَمُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَفْعِ الْيَدَيْنِ، فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: هُوَ شَيْءٌ يُزَيِّنُ بِهِ الرَّجُلُ صَلَاتَهُ، كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الِافْتِتَاحِ، وَعِنْدَ الرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے نماز میں رفع یدین کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ایسی چیز ہے جس کے ذریعے آدمی اپنی نماز کو آراستہ کرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2525]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 2493»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2526
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْبُخَارِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبُخَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: وَيُرْوَى عَنْ عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، وَأَهْلِ الْحِجَازِ، وَأَهْلِ الْعِرَاقِ، وَأَهْلِ الشَّامِ، وَالْبَصْرَةِ، وَالْيَمَنِ أَنَّهُمْ كَانُوا" يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ عِنْدَ ⦗١١٠⦘ الرُّكُوعِ وَرَفْعِ الرَّأْسِ مِنْهُ" مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ، وَالْحَسَنُ، وَابْنُ سِيرِينَ، وَطَاوُسٌ، وَمَكْحُولٌ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، وَنَافِعٌ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُهُمْ عِدَّةٌ كَثِيرَةٌ" قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَأَبِي الزُّبَيْرِ، ثُمَّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ، ثُمَّ عَنِ الشَّافِعِيِّ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَيَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيِّ وَعِدَّةٍ كَثِيرَةٍ مِنْ أَهْلِ الْآثَارِ بِالْبُلْدَانِ رَحِمَهُمُ اللهُ تَعَالَى.
(ا) محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل مکہ، اہل حجاز، اہل شام، اہل عراق، بصرہ اور یمن کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد سے منقول ہے کہ وہ رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ ان میں سعید بن جبیر، عطا بن ابی رباح، مجاہد، قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ بن عمر، عمر بن عبدالعزیز، نعمان بن ابی عیاش، حسن بصری، ابن سیرین، طاؤس، مکحول، عبداللہ بن دینار، نافع، عبیداللہ بن عمر، حسن بن مسلم، قیس بن سعد اور ان کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ شامل ہیں۔
(ب) شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے ابو قلابہ، ابو زبیر، مالک بن انس، اوزاعی، لیث بن سعد، ابن عیینہ، امام شافعی، یحییٰ بن سعید قطان، عبدالرحمن بن مہدی، عبداللہ بن مبارک، یحییٰ بن یحییٰ، احمد بن حنبل، اسحق بن ابراہیم حنظلی رحمہم اللہ اور مختلف شہروں کے اہل آثار (محدثین) کی ایک بہت بڑی جماعت سے روایت نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2526]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري في رفع اليدين 9»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2527
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ بِهَمْدَانَ ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ أَبِي مَرْحُومٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ بْنُ حَاتِمٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نَبَاتَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر: ٢] قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ:" مَا هَذِهِ النَّحِيرَةُ الَّتِي أَمَرَنِي بِهَا رَبِّي؟" قَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَحِيرَةٍ وَلَكِنَّهُ يَأْمُرُكَ إِذَا تَحَرَّمْتَ لِلصَّلَاةِ أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ إِذَا كَبَّرْتَ، وَإِذَا رَكَعْتَ، وَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ، فَإِنَّهَا صَلَاتُنَا، وَصَلَاةُ الْمَلَائِكَةِ الَّذِينَ فِي السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَفْعُ الْأَيْدِي مِنَ الِاسْتِكَانَةِ الَّتِي قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ} [المؤمنون: ٧٦] " وَقَدْ رُوِيَ هَذَا وَالِاعْتِمَادُ عَلَى مَا مَضَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [سورة الكوثر: 1-2] (یقینا ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی دیجیے) نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا: ”یہ کون سی قربانی ہے جس کے بارے میں میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے؟“ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ وہ (جانور وغیرہ کی) قربانی نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ جب آپ نماز کے لیے تکبیر کہو تو اس وقت رفع یدین کرو اور جب رکوع کرو یا رکوع سے سر اٹھاؤ تب بھی رفع یدین کرو۔ یہی ہماری نماز ہے اور ان فرشتوں کی بھی نماز ہے جو سات آسمانوں میں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رفع یدین کرنا اس جھک جانے سے ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 76] ”پس نہ تو یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی“۔“
یہ روایت بھی نقل کر دی گئی ہے، لیکن اعتماد اسی پر ہے جو گزر چکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2527]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا۔ اخرجه ابن حبان في المجروحين 1/177/112»

الحكم على الحديث: ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
508. -- باب: من لم يذكر الرفع إلا عند الافتتاح
-- باب: اس شخص کی روایت کا بیان جس نے صرف نماز شروع کرتے وقت کے علاوہ ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2528
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ" قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ قَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَلَقِيتُ يَزِيدَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهَذَا، وَزَادَ فِيهِ: ثُمَّ ⦗١١١⦘ لَا يَعُودُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ قَالَ سُفْيَانُ: هَكَذَا سَمِعْتُ يَزِيدَ يُحَدِّثُهُ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ هَكَذَا وَيَزِيدُ فِيهِ: ثُمَّ لَا يَعُودُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَذَهَبَ سُفْيَانُ إِلَى أَنْ يُغَلِّطَ يَزِيدَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ: كَأَنَّهُ لُقِّنَ هَذَا الْحَرْفَ فَتَلَقَّنَهُ وَلَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ سُفْيَانُ يَزِيدَ بِالْحِفْظِ كَذَلِكَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، بِمَكَّةَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ لَيْسَ فِيهِ: ثُمَّ لَا يَعُودُ وَقَالَ سُفْيَانُ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْكُوفَةَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهِ فَيَقُولُ فِيهِ: ثُمَّ لَا يَعُودُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ، وَقَالَ لِي أَصْحَابُنَا: إِنَّ حِفْظَهُ قَدْ تَغَيَّرَ، أَوْ قَالُوا: قَدْ سَاءَ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قُلْنَا لِقَائِلٍ: هَذَا يَعْنِي لِلْمُحْتَجِّ بِهَذَا، إِنَّمَا رَوَاهُ يَزِيدُ، وَيَزِيدُ يَزِيدُ.
(ا) سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے۔“ سفیان کہتے ہیں: پھر میں کوفہ آیا تو (اپنے استاد) یزید سے ملا، میں نے انہیں یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا اور انہوں نے اس میں یہ اضافہ بھی کیا کہ پھر دوبارہ یہ کام (رفع یدین) ساری نماز میں نہیں کیا۔ میں سمجھا کہ انہوں نے اس کی تلقین کی ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے یزید کو یہ حدیث پہلے اس طرح بیان کرتے سنا، پھر دوبارہ انہوں نے اس میں «ثُمَّ لَا يَعُوْدُ» کے الفاظ کا اضافہ کیا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان رحمہ اللہ اس طرف گئے ہیں کہ یزید کو اس حدیث میں غلطی پر سمجھیں؛ وہ کہتے تھے کہ گویا انہیں اس حرف کی تلقین کی گئی تھی یعنی سمجھایا گیا تھا، اور انہوں نے اسے قبول کر لیا، اور سفیان یزید کو اچھے حافظے والا شمار نہیں کرتے تھے۔
(ج) اسی طرح ایک اور سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے، اس میں «ثُمَّ لَا يَعُوْدُ» کے الفاظ نہیں ملتے۔
(د) سفیان کہتے ہیں: جب میں کوفہ آیا تو میں نے انہیں یہ حدیث بیان کرتے سنا تو اس میں وہ «ثُمَّ لَا يَعُوْدُ» کہہ رہے تھے، میں نے جان لیا کہ انہوں نے ان کو سکھا دیا ہے۔
(ہ) اور مجھے میرے ساتھیوں (ہم مسلک لوگوں) نے کہا کہ یزید کا حافظہ خراب ہو گیا تھا یا انہوں نے ”قَدْ سَاءَ“ کا لفظ بولا۔
(و) حمیدی کہتے ہیں: جو اس حدیث سے دلیل پکڑتا ہے ہم اس کو اتنا ہی کہیں گے کہ اس روایت کو یزید نے روایت کیا ہے اور یزید اضافہ کرتا رہتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2528]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الا قوله ’’ثم لم يعد‘‘ (لايعود) اخرجه الشافعي في مسنده 853»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2529
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا يَصِحُّ عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثُ، فَقَالَ: لَا يَصِحُّ عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثُ قَالَ: وَسَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يُضَعِّفُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ: وَمِمَّا يُحَقِّقُ قَوْلَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ أَنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ وَزُهَيْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ وَهُشَيْمًا وَغَيْرَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَجِيئُوا بِهَا إِنَّمَا جَاءَ بِهَا مَنْ سَمِعَ مِنْهُ بِآخِرَةٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي يُؤَكِّدُ مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ هَؤُلَاءِ.
(ا) عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔“
(ب) نیز فرمایا کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کو سنا، وہ یزید بن ابی زیاد کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔
(ب) ابوسعید دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کے قول «إِنَّهُمْ لَقَّنُوهُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ» ”انہوں نے اسے یہ کلمہ سکھایا ہے“ کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ سفیان ثوری، زہیر بن معاویہ، ہشیم اور ان کے علاوہ دیگر اہل علم نے اس قول کو نہیں کیا۔ یہ قول صرف اسی نے کیا ہے جس نے ان کے بعد سنا۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل علم کا موقف بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2529]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم نقله في التخريج السابق»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2530
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ بِمَكَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ" قَالَ سُفْيَانُ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْكُوفَةَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لَا يَعُودُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ، ⦗١١٢⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرَعَاقُولِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَشَّارٍ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ فِيهِ: ثُمَّ لَا يَعُودُ وَقِيلَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى وَقِيلَ: عَنْهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ وَهُوَ أَسْوَأُ حَالًا عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ مِنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، فَذَكَرَ فَصْلًا فِي تَضْعِيفِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ثُمَّ قَالَ: وَلَمْ يَرْوِ هَذَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى أَحَدٌ أَقْوَى مِنْ يَزِيدَ.
(ا) براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع فرماتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تب بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے بھی رفع یدین کرتے۔
سفیان کہتے ہیں: جب میں کوفہ آیا تو میں نے (یزید سے) یہی حدیث سنی تو انہوں نے فرمایا: جب نماز شروع کرتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے (رفع یدین کرتے تھے)۔ پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے تو میں سمجھ گیا کہ اہل کوفہ نے ان کو سمجھایا ہے۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے اپنے بھائی عیسیٰ سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور وہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں بھی یہی ہے کہ پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔
محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاتی اور وہ محدثین کے نزدیک یزید بن ابی زیاد سے بھی زیادہ کمزور حالت میں ہے۔ عثمان بن سعید دارمی نے یزید بن ابی زیاد کی حدیث کے ضعف پر ایک فصل ذکر کی، پھر کہا: اس روایت کو عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے یزید سے زیادہ قوی کسی نے روایت نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2530]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الاقوله ثم لم يعد وقد تقدم الكلام عليه قريبا»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2531
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ: لَأُصَلِّيَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً".
سیدنا علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ضرور تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھاؤں گا۔ پھر انہوں نے نماز پڑھائی تو اس میں صرف ایک مرتبہ (شروع میں) رفع یدین کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2531]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الترمذي 257»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2532
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ" عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ" قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا، يَعْنِي الْإِمْسَاكَ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ ⦗١١٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ فَإِنْ كَانَ الْحَدِيثُ عَلَى مَا رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ فَقَدْ يَكُونُ عَادَ لِفَرْعِهِمَا فَلَمْ يَحْكِهِ، وَإِنْ كَانَ عَلَى مَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ فَفِي حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي صَدْرِ الْإِسْلَامِ كَمَا كَانَ التَّطْبِيقُ فِي صَدْرِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ سُنَّتْ بَعْدَهُ السُّنَنُ وَشُرِّعَتْ بِهَذِهِ الشَّرَائِعُ حَفِظَهَا مَنْ حَفِظَهَا وَأَدَّاهَا فَوَجَبَ الْمَصِيرُ إِلَيْهَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
علقمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی۔ آپ نے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا۔ پھر جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر اپنے گھٹنوں کے درمیان میں لٹکا دیا۔“ علقمہ کہتے ہیں: جب یہ بات سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”میرے بھائی نے سچ کہا، پہلے ہم بھی اسی طرح کرتے تھے، پھر ہمیں ہاتھ گھٹنوں کے اوپر رکھنے کا حکم دیا گیا (یعنی ان کو اوپر سے مضبوطی سے پکڑنے کا)۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ اگر حدیث اس طرح ہو جس طرح عبداللہ بن ادریس رحمہ اللہ نے روایت کی ہے تو اس میں رفع یدین دوبارہ کرنے کو بیان نہیں کیا گیا اور اگر اس طرح ہو جیسے ثوری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے تو ابن ادریس رحمہ اللہ کی حدیث سے معلوم ہے کہ یہ کام اسلام کے ابتدائی دور میں تھا جیسا کہ ہاتھ گھٹنوں کے درمیان لٹکانا اسلام کے ابتدائی دور میں تھا۔ پھر اس کے بعد طریقے بدلتے رہے اور شریعت ارتقا کی منازل طے کرتی رہی (یعنی بتدریج احکام میں تبدیلی آتی رہی)۔ جس نے ان کو یاد کرنا تھا یاد کر لیا اور ان کو آگے پہنچایا، اب ان پر عمل کرنا ضروری ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2532]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن خزيمه 595»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ بِمَرْوَ ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: لَمْ يَثْبُتْ عِنْدِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ، وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدِي حَدِيثُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ ذَكَرَهُ عُبَيْدُ اللهِ، وَمَالِكٌ، وَمَعْمَرٌ، وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ - وَأُرَاهُ وَاسِعًا، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ لِكَثْرَةِ الْأَحَادِيثِ وَجَوْدَةِ الْأَسَانِيدِ".
سفیان بن عبدالملک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف پہلی مرتبہ رفع یدین کیا پھر دوبارہ نہیں کیا“ ثابت نہیں ہے اور میرے پاس تو رفع یدین کی حدیث ثابت ہے جس کو عبیداللہ، مالک، معمر اور ابن ابی حفصہ نے زہری سے، انہوں نے سالم کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور میں اس میں وسعت سمجھتا ہوں۔ پھر عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہنے لگے کہ احادیث کی کثرت اور ان کی اسانید کے جید ہونے کی وجہ سے میرا یہی خیال ہے، گویا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں رفع یدین کرتے دیکھ رہا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2533]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر 2530»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2534
قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ⦗١١٤⦘ وَعُمَرَ فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَّا عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ" أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدٍ الضَّرِيرُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، فَذَكَرَهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ وَكَانَ ضَعِيفًا عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَغَيْرُ حَمَّادٍ يَرْوِيهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مُرْسَلًا، عَنْ عَبْدِ اللهِ مِنْ فِعْلِهِ غَيْرَ مَرْفُوعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّوَابُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مُرْسَلًا مَوْقُوفًا.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، ان سب نے صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کیا تھا۔
اس کو حماد سے، انہوں نے ابراہیم سے روایت کرنے میں محمد بن جابر منفرد ہیں اور وہ ضعیف تھے، حماد کے علاوہ دوسرے راوی اسے ابراہیم سے، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرسل اور ان کے اپنے عمل کے طور پر روایت کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع نہیں، اور یہی درست ہے۔ اسی طرح حماد بن سلمہ نے بھی حماد بن ابی سلیمان سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرسل موقوف روایت کیا ہے۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز میں صرف تکبیر اولیٰ کے وقت رفع یدین کرتے تھے، پھر دوبارہ اس طرح کا کوئی کام نہ کرتے تھے (یعنی بعد میں رفع یدین نہیں کرتے تھے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2534]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن الجوزي في الموضوعات 2/22»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں