السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
507. -- باب: رفع اليدين عند الركوع وعند رفع الرأس منه
-- باب: رکوع میں جاتے وقت اور اس سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین (ہاتھ اٹھانے) کا بیان
حدیث نمبر: 2515
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، وَمَوْلًى لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ" قَالَ أَبُو عُثْمَانَ:" وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ، يَعْنِي رَفَعَ الْيَدَيْنِ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ وَرَفَعَهُمَا فَكَبَّرَ، فَلَمَّا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَفَّانَ.
علقمہ بن وائل اور ان کے غلام دونوں نے علقمہ کے والد سیدنا وائل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہتے ہوئے دیکھا۔ (سند کے راوی) ابو عثمان کہتے ہیں کہ ہمام نے یہ صفت بھی بیان کی کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے برابر تک اٹھایا، پھر اپنے کپڑے میں ہاتھ لپیٹ لیے اور دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا، پھر جب رکوع کا ارادہ فرمایا تو اپنے ہاتھوں کو چادر سے باہر نکالا اور ہاتھ بلند کرتے ہوئے تکبیر کہی۔ پھر جب «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا تو بھی ہاتھ اٹھائے، پھر جب سجدہ کیا تو دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2515]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 826»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2516
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْخَضْرَمِيِّ قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ كَيْفَ ⦗١٠٥⦘ يُصَلِّي، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ مِنْ وَجْهِهِ ذَلِكَ الْمَوْضِعَ، فَلَمَّا جَلَسَ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثِنْتَيْنِ، وَحَلَّقَ وَاحِدَةً، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ" وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَغِيلَانُ بْنُ جَامِعٍ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ، وَزَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَجَمَاعَةٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ إِلَّا أَنَّ بَعْضَهُمْ قَالَ: حِذَاءَ أُذُنَيْهِ وَوَافَقَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ زِيَادٍ فِي الْمَنْكِبَيْنِ.
سیدنا وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے دل میں سوچا کہ میں دیکھوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں؟ (میں دیکھنے لگا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے اور تکبیر کہی اور دونوں ہاتھوں کو اٹھایا حتیٰ کہ کندھوں تک لے گئے۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے ساتھ پکڑ لیا۔ پھر جب رکوع کرنا چاہا تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھایا اور جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا۔ جب رکوع سے اٹھنے لگے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھایا۔ پھر جب سجدہ فرمایا تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے برابر جگہ میں رکھا۔ اس کے بعد جب (قعدہ کے لیے) بیٹھے تو بائیں ٹانگ کو بچھایا اور اپنی بائیں ران پر اپنے بائیں ہاتھ کو رکھا اور اپنی دائیں کہنی کا کنارہ داہنی ران پر رکھا، پھر دو انگلیاں بند کر لیں، درمیان والی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنایا اور شہادت والی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
ایک روایت میں کندھوں کی بجائے کانوں کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2516]
ایک روایت میں کندھوں کی بجائے کانوں کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2516]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2517
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ ⦗١٠٦⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لِمَ؟ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعًا وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ عَلَيْنَا قَالَ: فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ وَلَا يَنْصُبُ رَأْسَهُ وَلَا يَقْنَعُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَعُودَ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَعُودُ، ثُمَّ يَرْفَعُ فَيَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَثْنِي رِجْلَهُ فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا مُعْتَدِلًا حَتَّى يَرْجِعَ أَوْ يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ مَوْضِعَهُ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا فَعَلَ، أَوْ كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي السَّجْدَةِ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ" فَقَالُوا جَمِيعًا: صَدَقَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ السَّمْعِيُّ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَأَصْحَابِهِ.
محمد بن عمرو بن عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام کی موجودگی میں، جن میں سیدنا ابو قتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے طریقے کو جانتا ہوں۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: ”یہ کیسے؟ تم نہ تو ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے تھے اور نہ ہی صحابیت کے شرف میں ہم سے پرانے ہو۔“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں، یہ بات تو درست ہے۔“ صحابہ نے کہا: ”تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ ہمارے سامنے پیش کرو۔“ اس پر انہوں نے بیان کیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، پھر تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر اعتدال کے ساتھ ٹھہر جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرأت فرماتے، پھر تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھتے، پھر کمر سیدھی کر لیتے، اس حال میں کہ رکوع کے دوران نہ تو اپنا سر اوپر کی طرف اکڑا کر رکھتے اور نہ ہی بالکل نیچے لٹکا دیتے، پھر اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، پھر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی سیدھی ہو کر اپنی جگہ پر لوٹ آتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے، پھر زمین کی طرف سجدے کے لیے جھکتے اور اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے تو اپنا بایاں پاؤں بچھاتے اور اس پر بیٹھ جاتے اور سجدہ کرتے وقت اپنے پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھتے، پھر دوبارہ سجدے میں جاتے، پھر سر اٹھاتے اور «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے، پھر اپنے پاؤں کو موڑتے اور اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر اعتدال کے ساتھ لوٹ آتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے، پھر جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، بالکل ویسے ہی جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کرتے وقت کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی باقی نماز میں بھی اسی طرح کرتے، یہاں تک کہ جب وہ آخری رکعت آتی جس کے آخر میں سلام پھیرنا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں پاؤں کو دائیں پنڈلی کے نیچے سے نکال لیتے اور اپنی بائیں جانب کولہے کے بل (تورک کی حالت میں) بیٹھ جاتے۔“ یہ سن کر ان سب صحابہ نے بیک زبان کہا: ”تم نے سچ کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔“ (اس حدیث کو اسی مفہوم کے ساتھ ہشیم بن بشیر، ابو اسامہ، عبدالملک بن صباح سمعی اور دیگر محدثین نے عبدالحمید بن جعفر سے روایت کیا ہے، نیز اسے ایک دوسری سند سے بھی ابو حمید اور ان کے ساتھیوں سے بیان کیا گیا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2517]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2518
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا: ثنا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ: اجْتَمَعَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَأَبُو حُمَيْدٍ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا، وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ وَلَمْ يُصَبِّ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْهُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَوْضِعَهُ، ثُمَّ سَجَدَ وَأَمْكَنَ جَبْهَتَهُ وَأَنْفَهُ وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ⦗١٠٧⦘ وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَيَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ".
عباس بن سہل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ محمد بن مسلمہ، ابو حمید، ابو اسید اور سہل بن سعد رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا۔ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو جانتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع کے لیے تکبیر کہتے وقت دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع کیا اور اپنے ہاتھ گھٹنوں پر اس طرح رکھے گویا انہیں پکڑے ہوئے ہیں، اور اپنے بازوؤں کو کمان کی تانت کی طرح تان کر پہلوؤں سے الگ رکھا، اور نہ سر کو جھکایا اور نہ اوپر اٹھایا، پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور سیدھے کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی، پھر سجدہ کیا اور اپنی پیشانی اور ناک کو زمین پر خوب جمایا اور ہاتھوں کو پہلوؤں سے الگ رکھا اور ہتھیلیوں کو کندھوں کے برابر رکھا یہاں تک کہ فارغ ہو گئے، پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور دائیں پاؤں کے اگلے حصے کو قبلہ رخ کیا، اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھا اور اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2518]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطاء 1/81»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2519
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الزَّاهِدُ إِمْلَاءً مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ قَالَ: قَالَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي النُّعْمَانِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ"، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ" فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ فَكَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ"، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ"، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَكَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ"، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ": صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ" وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَكَانَ يَرْفَعً يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ" رُوَاتُهُ ثِقَاتٌ.
ابواسماعیل محمد بن اسماعیل سلمی فرماتے ہیں کہ میں نے ابو نعمان محمد بن فضل کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کیا اور رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کیا۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے حماد بن زید کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ انہوں نے نماز شروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کیا تو میں نے ان سے اس کی بابت پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے ایوب سختیانی کے پیچھے نماز پڑھی، وہ بھی نماز شروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے عطا بن ابی رباح کو دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ بھی جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے تھے۔ میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ بھی نماز کے شروع میں اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی رفع یدین کرتے تھے۔ اس حدیث کے راوی بااعتماد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2519]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2520
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَبُو جَعْفَرٍ الْكِيلِينِيُّ الْحَافِظُ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ يَقُولُ:" أَخَذَ أَهْلُ مَكَّةَ الصَّلَاةَ مِنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَأَخَذَ ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ عَطَاءٍ وَأَخَذَ عَطَاءٌ مِنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَأَخَذَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ سَلَمَةُ: وَثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَزَادَ فِيهِ: وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبْرَائِيلَ وَأَخَذَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: يَرْفَعُ يَدَيْهِ.
(ا) سلمہ بن شبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرزاق رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اہل مکہ نے نماز ابن جریج رحمہ اللہ سے سیکھی اور ابن جریج رحمہ اللہ نے عطا رحمہ اللہ سے اور عطا رحمہ اللہ نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی۔
(ب) سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے عبدالرزاق رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل امین علیہ السلام سے سیکھی اور جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سیکھی۔
عبدالرزاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن جریج رحمہ اللہ رفع یدین کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2520]
(ب) سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے عبدالرزاق رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل امین علیہ السلام سے سیکھی اور جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سیکھی۔
عبدالرزاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن جریج رحمہ اللہ رفع یدین کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2520]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الفاكهي في اخبار اهل مكة 1/ 182»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2521
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي الْأَسَدِيَّانِ بِهَمْدَانَ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْحَكَمُ قَالَ:" رَأَيْتُ طَاوُسًا كَبَّرَ فَرَفَعَ ⦗١٠٨⦘ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ، وَعِنْدَ رُكُوعِهِ، وَعِنْدَ رِفْعِهِ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَسَأَلْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ يُحَدِّثُ بِهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ: فَالْحَدِيثَانِ كِلَاهُمَا مَحْفُوظَانِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ وَرَأَى أَبَاهُ فَعَلَهُ، وَرَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(ا) شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حکم رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے طاؤس رحمہ اللہ کو دیکھا کہ جب انہوں نے تکبیر کہی تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھایا اور رکوع کے وقت بھی اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کیا۔ میں نے ان کے شاگردوں میں سے ایک سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ طاؤس رحمہ اللہ اس حدیث کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
(ب) ابو عبداللہ حافظ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں حدیثیں محفوظ ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے؛ کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اپنے والد کو اس طرح کرتے دیکھا ہے اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2521]
(ب) ابو عبداللہ حافظ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں حدیثیں محفوظ ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے؛ کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اپنے والد کو اس طرح کرتے دیکھا ہے اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2521]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ قال الزيلعي في نصب الرايه 1/ 415»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2522
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَرَأَ قِرَاءَتَهُ، وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَيَصْنَعُهُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ" وَقَدْ رُوِّينَا هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور جب اپنی قراءت کرتے یا رکوع کا ارادہ فرماتے یا رکوع سے فارغ ہوتے تو ایسا ہی کرتے اور نماز کے دوران جب قعدہ کی حالت میں ہوتے تو رفع یدین نہیں فرماتے تھے اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو اسی طرح رفع یدین کرتے اور تکبیر کہتے۔
ہم یہ حدیث سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کر چکے ہیں۔ یہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2522]
ہم یہ حدیث سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کر چکے ہیں۔ یہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2522]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن خزيمه 584»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2523
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْبُخَارِيُّ بِنَيْسَابُورَ ثنا مَحْمُودُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مَحْمُودٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ قَالَ: وَقَدْ رُوِّينَا، عَنْ سَبْعَةَ عَشَرَ نَفْسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُمْ كَانُوا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ عِنْدَ ⦗١٠٩⦘ الرُّكُوعِ فَمِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ الْبَدْرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْبَدْرِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيُّ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ خَادِمُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ الْقُرَشِيُّ، وَوَائِلُ بْنُ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ، وَأَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ" قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ هَؤُلَاءِ وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ جَابِرٍ الْبَيَاضِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
(ا) محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے سترہ رکوع کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ ان میں ابو قتادہ انصاری، ابو اسید ساعدی بدری، محمد بن مسلمہ بدری، سہل بن سعد ساعدی، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور خادمِ رسول انس بن مالک، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو بن عاص، عبداللہ بن زبیر بن عوام قرشی، وائل بن حجر حضرمی، مالک بن حویرث، ابو موسیٰ اشعری اور ابو حمید ساعدی انصاری رضی اللہ عنہم ] شامل ہیں۔
(ب) شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت مذکورہ بالا صحابہ کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، جابر بن عبداللہ انصاری، عقبہ بن عامر جہنی اور عبداللہ بن جابر بیاضی رضی اللہ عنہم سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2523]
(ب) شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت مذکورہ بالا صحابہ کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، جابر بن عبداللہ انصاری، عقبہ بن عامر جہنی اور عبداللہ بن جابر بیاضی رضی اللہ عنہم سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2523]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري في رفع اليدين 8»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2524
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِذَا رَكَعُوا، وَإِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ، كَأَنَّمَا أَيْدِيهُمْ مَرَاوِحٌ".
قتادہ، حسن سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب رکوع کرتے تو رفع یدین کرتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی رفع یدین کرتے تھے، ایسے لگتا تھا کہ ان کے ہاتھ پنکھوں کی طرح ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2524]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح