السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1284. -- باب: من أجاز أن يصلي في الخسوف ركعتين في كل ركعة أربع ركوعات
-- باب: جس نے گرہن کی نماز دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی اس طور پر کہ ہر رکعت میں چار رکوع ہوں
حدیث نمبر: 6328
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَخَرَجَ فَصَلَّى بِمَنْ عِنْدَهُ فَقَرَأَ سُورَةَ الْحَجِّ، وَيس، لَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا بَدَأَ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَجَدَ فِي الرَّابِعَةِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْحَجِّ وَيس، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَعَدَ فَدَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَوَافَقَ انْصِرَافُهُ وَقَدِ انْجَلَى عَنِ الشَّمْسِ". لَمْ يَرْفَعْهُ سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ عَنِ الْحَكَمِ فَرَفَعَهُ.
(٦٣٢٨) حنش بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں سورج گرہن لگا تو انھوں نے نماز پڑھائی جو ان کے پاس تھے اور اس میں سورة حج اور یٰسین کی تلاوت کی، مجھے معلوم نہیں کہ ان دو سورتوں میں سے کس کو پہلے پڑھا اور بلند آواز سے قراءت کی۔ پھر اپنے قیام کی مقدار کے مطابق رکوع کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا پھر جتتی دیر کھڑے رہے قیام کیا تھا، پھر رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر اپنے قیام کے مطابق کھڑے رہے پھر اپنے قیام کے مطابق رکوع کیا اور چوتھی مرتبہ کے بعد پھر سجدہ کیا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے۔ سورة حج اور یٰسین کی تلاوت کی۔ پھر کھڑے ہوئے انھوں نے اس رکعت میں پہلی رکعت ہی کی طرح کیا، انھوں نے آٹھ رکوع اور چار سجدے کیے۔ پھر بیٹھ گئے دعا کی پھر چلے گئے۔ ان کے پھرتے ہی سورج روشن ہوگیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6328]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ عبد الرزاق 4936»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6329
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ، بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الطَّنَافِسِيُّ قَالُوا: ثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالَ لَهُ حَنَشٌ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ، فَقَرَأَ بِ يس وَنَحْوِهَا، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ السُّورَةَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ سَمِعَ اللهَ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ أَيْضًا قَدْرَ السُّورَةِ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا حَتَّى رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ حَتَّى انْكَشَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ فَعَلَ"..
(٦٣٢٩) حنش، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس میں سورة یٰسین یا اس کی مثل قراءت کی۔ پھر اپنی قراءت کے مطابق رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور کہا: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ پھر کھڑے ہوئے پھر سورة (یٰسین) کے اندازے مطابق قیام کیا اور دعا کرتے رہے اور آپ نے تکبیر کہی، پھر اپنی قرات کے مثل لمبا رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا، پھر سورة کے اندازے کے مطابق قیام کیا، پھر اس قدر ہی رکوع کیا۔ یہاں تک کہ چار رکوع ہوگئے، پھر کہا: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے اٹھے اور اس میں پہلی رکعت کی طرح ہی کیا۔ پھر بیٹھے ہوئے دعا کرتے رہے۔ پھر آپ ترغیب دیتے رہے یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا، پھر انھیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسا کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6329]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ ابن خزيمه 1388»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6330
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، قَالَ: حَنَشُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَبُو الْمُعْتَمِرِ الْكِنَانِيُّ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: حَنَشُ بْنُ رَبِيعَةَ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رَوَى عَنْهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، وَالْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، يَتَكَلَّمُونَ فِي حَدِيثِهِ، وَهُوَ كُوفِيٌّ، سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ عَنْهُ: حَنَشُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ. ⦗٤٦١⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَمِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ ذَهَبَ إِلَى تَصْحِيحِ الْأَخْبَارِ الْوَارِدَةِ فِي هَذِهِ الْأَعْدَادِ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهَا مَرَّاتٍ مَرَّةً رُكُوعَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَمَرَّةً ثَلَاثَ رُكُوعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَمَرَّةً أَرْبَعَ رُكُوعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَأَدَّى كُلٌّ مِنْهُمْ مَا حَفِظَ وَأَنَّ الْجَمِيعَ جَائِزٌ وَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزِيدُ فِي الرُّكُوعِ إِذَا لَمْ يَرَ الشَّمْسَ قَدْ تَجَلَّتْ ذَهَبَ إِلَى هَذَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، وَمَنْ بَعْدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، وَأَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ، وَاسْتَحْسَنَهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ صَاحِبُ الْخِلَافِيَّاتِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَالَّذِي أَشَارَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ مِنَ التَّرْجِيحِ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(٦٣٣٠) شیخ فرماتے ہیں کہ جو تعداد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی مرتبہ ایک رکعت میں دو رکوع کیے اور کبھی ایک میں تین ‘ کبھی چار رکوع کیے تو جس کو جو یاد تھا اس نے وہی بیان کردیا۔ یہ تمام صورتیں جائز ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع اس وقت زیادہ کیے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ سورج گرہن ختم نہیں ہو رہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6330]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عدي ابن كامل 2/438»
الحكم على الحديث: صحيح
1285. -- باب: من صلى في الخسوف ركعتين
-- باب: جس نے گرہن کی نماز (عام نماز کی طرح) دو رکعت پڑھی
حدیث نمبر: 6331
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ. وَهَذَا خَبَرٌ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تُوُفِّيَ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِدَلِيلِ.
(٦٣٣١) حسن ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6331]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1013»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6332
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْكَشَفَ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ". قَالَ: وَذَلِكَ أَنَّ ابْنًا لَهُ مَاتَ يُقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ نَاسٌ فِي ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا مَعْمَرٍ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ:" يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا عِبَادَهُ"، وَقَدْ ذَكَرَهُ جَمَاعَةٌ وَقَوْلُهُ فِي الْحَدِيثِ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ مَعَ إِخْبَارِهِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، يُرِيدُ بِهِ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ⦗٤٦٢⦘ رُكُوعَيْنِ كَمَا أَثْبَتَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةُ، وَجَابِرٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ وَغَيْرِهِ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، فَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا تُصَلُّونَ..
(٦٣٣٢) (الف) حضرت حسن ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سورج گرہن لگا توہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے نکلے، یہاں تک کہ مسجد پہنچ گئے۔ لوگوں نے بھی جلدی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔ جب گرہن ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں۔ یہ کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم سورج یا چاند کو دیکھو کہ انھیں گرہن لگا ہوا ہے تو نماز پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات اس وقت کہی جب لوگوں نے کہا کہ ایسا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی وجہ سے ہوا ہے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں ابو معمر سے منقول ہے انھوں نے یُخَوِّفُ اللَّہُ بِہِمَا عِبَادَہُ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
(ج) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر رکعت میں دو رکوع کیے، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ ‘ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، لیکن یزید بنزریع وغیرہ یونس بن عبید سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے حدیث کے بارے میں کہا کہ انھوں نے دو رکعت نماز پڑھائی جیسے تم پڑھتے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6332]
(ب) ایک دوسری روایت میں ابو معمر سے منقول ہے انھوں نے یُخَوِّفُ اللَّہُ بِہِمَا عِبَادَہُ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
(ج) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر رکعت میں دو رکوع کیے، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ ‘ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، لیکن یزید بنزریع وغیرہ یونس بن عبید سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے حدیث کے بارے میں کہا کہ انھوں نے دو رکعت نماز پڑھائی جیسے تم پڑھتے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6332]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري1014»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6333
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاودُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ:" كَمَا تُصَلُّونَ". إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ مَوْتَ ابْنِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَصَلَاةُ الْخُسُوفِ كَانَتْ مَشْهُورَةً فِيمَا بَيْنَهُمْ فَأَشَارَ إِلَيْهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(٦٣٣٣) یزید بن زریع یونس سے نقل فرماتے ہیں کہ جیسے تم نماز پڑھتے ہو، لیکن انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے کی وفات کا ذکر نہیں کیا اور نمازِ خسوف ان کے ہاں مشہور تھی، اس کی طرف اشارہ کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6333]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6334
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ:" بَيْنَمَا أَنَا أَرْمِي بِأَسْهُمٍ لِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ مَا يَحْدُثُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ، وَيَحْمَدُ، وَيُهَلِّلُ، وَيُكَبِّرُ، وَيَدْعُو، حَتَّى حَسَرَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيِّ. وَقَوْلُهُ:" فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ" يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ مُرَادُهُ بِذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ جَمَاعَةٍ أَثْبَتُوهُ، وَالْمُثْبَتُ شَاهِدٌ، فَهُوَ أَوْلَى بِالْقَبُولِ.
(٦٣٣٤) (الف) عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے تیروں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں کھیل رہا تھا۔ اچانک سورج گرہن لگا، میں نے ان کو پھینک دیا اور میں نے کہا: میں ضرور دیکھوں گا کہ آج سورج گرہن کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے ہیں۔ میں آپ تک پہنچا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے تسبیح ‘ تحمید ‘ تحلیل وتکبیر اور دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج گرہن ختم ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز پڑھائی۔
(ب) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز پڑھائی، اس سے یہ مراد ہوسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر رکعت میں دو رکوعکیے جیسا کہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6334]
(ب) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز پڑھائی، اس سے یہ مراد ہوسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر رکعت میں دو رکوعکیے جیسا کہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6334]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 913»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6335
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى انْجَلَتْ، فَلَمَّا انْجَلَتْ قَالَ:" إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ". هَذَا مُرْسَلٌ، أَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ رَجُلٍ عَنِ النُّعْمَانِ وَلَيْسَ فِيهِ هَذِهِ اللَّفْظَةُ الْأَخِيرَةُ.
(٦٣٣٥) نعمان بن یزید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرائے ہوئے اپنے کپڑے کو کھینچتے ہوئے مسجد آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں مشغول رہے، یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا جب سورج روشن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کا یہ گمان ہے کہ سورج اور چاند کسی بڑے کی موت کی وجہ سے بےنور ہوتے ہیں حالانکہ اس طرح نہیں بلکہ سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے بلکہ یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور اللہ اپنی مخلوق میں سے جب کسی چیز کو روشن فرماتے ہیں تو وہ اس کے لیے خشوع خضوع اختیار کرتی ہے، جب تم ان کو دیکھو تو فرض نماز کی طرح نماز پڑھو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6335]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 1193»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6336
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيُسَلِّمُ حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا كَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا: إِنَّمَا يَنْكَسِفُ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللهِ، فَإِذَا تَجَلَّى اللهُ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا". وَرَوَاهُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ فِيهِ: فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَسَأَلَ عَنْهَا حَتَّى انْجَلَتْ. وَرَوَاهُ الْحَسَنُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ خَالِيًا عَنْ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ الَّتِي تُوهِمُ خِلَافًا، وَخَالِيًا عَنْ لَفْظِ التَّجَلِّي.
(٦٣٣٦) نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پھر دو رکعت نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا۔ جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے کہ جب سورج بےنور ہوتا ہے تو اہل زمین میں کسی بڑے کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ حالانکہ بات اس طرح نہیں ہے، لیکن یہ دونوں اللہ کی مخلوق میں سے ہیں جب اللہ اپنی مخلوق سے کسی کو روشن کرتا ہے تو وہ اس سے ڈرتی ہے اور جب تم اس طرح دیکھو تو نماز پڑھو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6336]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 4/367»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6337
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُسْتَعْجِلًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، وَقَدِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى حَتَّى انْجَلَتْ، وَقَالَ:" إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ الْأَرْضِ، وَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَيُحْدِثُ اللهُ فِي خَلْقِهِ مَا يَشَاءُ، فَأَيُّهُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَمْرًا". هَذَا أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا، وَقَدْ قِيلَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ.
(٦٣٣٧) نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے جلدی مسجد کی طرف آتے اور سورج گرہن ہوچکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند زمین والوں میں سے کسی بڑے کی وجہ سی بےنور ہوتے ہیں حالانکہ سورج اور چاند کسی کی موت کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے کیونکہ یہ دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ اپنی مخلوق میں جو چاہے کرتا ہے تو ان میں سے جو بھی بےنور ہو تو تم نماز پڑھو۔ یہاں تک کہ یہ روشن ہوجائے یا پھر اللہ کوئی اور صورت نکال دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6337]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ نسائي 1490»
الحكم على الحديث: ضعيف