🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1280. -- باب: الأمر بالفزع إلى ذكر الله وإلى الصلاة متى كسفت الشمس
-- باب: جب سورج گرہن ہو تو گھبرا کر اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف لپکنے کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6298
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللهِ وَإِلَى الصَّلَاةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
(٦٢٩٨) ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی تو سورج گرہن لگ گیا۔ لوگوں نے کہا: سورج گرہن ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف رغبت کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6298]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3032»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6299
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، وَوَكِيعٌ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَعَائِشَةُ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، وَأَبُو بَكَرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا الْمَعْنَى.
(٦٢٩٩) ابو مسود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوگیا تو لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے گرہن ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتیبل کہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جب تم اس کو دیکھو تو نماز پڑھو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6299]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1281. -- باب: الأمر بأن ينادى: الصلاة جامعة
-- باب: یہ اعلان کرنے کے حکم کا بیان کہ ”الصلوٰۃ جامعۃ“ (نماز جمع کرنے والی ہے)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6300
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، قَالَا: ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا:" أَنَّهُ لَمَّا كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُودِيَ أَنَّ ⦗٤٤٨⦘ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شَيْبَانَ.
(٦٣٠٠) عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوتا تو آواز دی جاتی کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے۔ پھر کھڑے ہوئے تو ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر بیٹھ گئے تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6300]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري998»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6301
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ مُنَادِيًا، فَنَادَى: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ، فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.
(٦٣٠١) عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج بےنور ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک منادی کرنے والے کو بھیجا کہ وہ منادی کرے نماز کے لیے جمع ہو جاؤ ‘ ‘ تو لوگ جمع ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو رکعات چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی پھر تشہد پڑھا اور سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6301]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1016»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1282. -- باب:: كيف يصلى في الخسوف
-- باب: گرہن میں نماز کیسے پڑھی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6302
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحَمَامِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ إِمْلَاءً. فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى، وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، قَالَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللهَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ، فَقَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ، أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَأُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا أَفْظَعَ مِنْهَا، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" بِكُفْرِهِنَّ"، قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللهِ، قَالَ:" يَكْفُرْنَ ⦗٤٤٩⦘ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ". لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ، وَفِي حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ قَالَ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ" وَكَذَلِكَ فِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّافِعِيُّ قَوْلَهُ:" أَفْظَعَ مِنْهَا"، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ.
(٦٣٠٢) (الف) عطاء بن یسار ابن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور لمبا قیام کیا۔ تقریباً سورة بقرہ کی تلاوت کے برابر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر لمبا قیام کیا۔ لیکن پہلے قیام سے ذرا کم۔ پھر لمبا رکوع کیا۔ لیکن پہلے رکوع سے ذرا کم۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا قیام کیا، لیکن وہ پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا رکوع کیا۔ لیکن پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا لیکن وہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبارکوع کیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر سجدہ کیا۔ پھر نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم یہ دیکھو تو اللہ کا ذکر زیادہ کیا کرو۔ صحابہ فرماتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جگہ کچھ پکڑ رہے تھے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ آپ الٹے پاؤں واپس آ رہے تھے۔ فرماتے ہیں: میں نے جنت دیکھی فرمایا: مجھے جنت دکھائی گئی۔ میں نے ایک انگور کا گچھا پکڑنے کی کوشش کی، اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اس کو کھاتے رہتے اور مجھے جہنم بھی دکھائی گئی۔ میں نے آج تک اتنا گھبراہٹ والا منظر نہیں دیکھا تھا۔ میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریتدیکھی۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی ناشکری کی وجہ سے کہا گیا۔ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ فرمایا: وہ خاوندوں کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہیں۔ اگر آپ ان پر زمانہ بھر احسان کرتے رہو پھر اگر آپ سے تھوڑی سی کوتاہی ہوگئی تو اسی وقت کہہ دیتی ہیں کہ میں نے سے کبھی بھلائی پائی ہی نہیں۔
(ب) شافعی کی حدیث میں ہے کہ سورج بےنور گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، لیکن انھوں نے ’ افظع منھا کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6302]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1004»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6303
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسَ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ" ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ وَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ عَنْبَسَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَزَادَ..
(٦٣٠٣) عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوگیا۔ آپ مسجد آئے اور کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صفیں بنالیں تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبی قراءت کی۔ پھر تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی اور لمبا رکوع کیا۔ لیکن یہ پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر کہا سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور سورج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فارغ ہونے سے پہلے روشن ہوچکا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ اللہ کی تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر فرمایا کہ سورج اور چاند یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم اس کو دیکھو تو نماز کے لیے جلدی کیا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6303]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 997»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6304
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: وَكَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ مِثْلَ حَدِيثِ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ..
(٦٣٠٤) ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت نماز پڑھائی، جیسے عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ سے بیان ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6304]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أبو داؤد 1171»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6305
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا الرَّمَادِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ بِهَذَا. وَزَادَ: فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ إِنَّ أَخَاكَ يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ بِالْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ مِثْلِ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ:" أَجَلْ، إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ" ⦗٤٥٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا، وَزَادَ فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ بِطُولِهِ مَعَ هَاتَيْنِ الزِّيَادَتَينِ.
(٦٣٠٥) احمد بن صالح فرماتے ہیں، لیکن کچھ اضافہ ہے کہ میں نے عروہ سے کہا: آپ کے بھائی نے سورج گرہن کے وقت دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھی۔ جیسے صبح کی نماز ہوتی ہے۔ فرمایا: وہ سنت کو بھول گئے یا ان سے غلطی ہوگئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6305]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 999»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6306
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يُخْبِرُ بِذَلِكَ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ:" فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ مَا فَعَلَ ذَلِكَ أَخُوكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، مَا صَلَّى إِلَّا رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ، قَالَ:" أَجَلْ، إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ".
(٦٣٠٦) (الف) زہری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عروہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے بھائی عبداللہ بن زبیر نے مدینہ میں صرف دو رکعت صبح کی نماز کی طرح پڑھائی۔ فرمایا: وہ سنت کو بھول گئے یا ان سے خطا ہوگئی۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعات میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6306]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6307
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ التَّمِيمِيُّ، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا، وَتَصَدَّقُوا، وَاذْكُرُوا اللهَ، وَادْعُوهُ" ثُمَّ قَالَ:" يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ إِنْ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا" قَالَتْ: ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ:" أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ". قَالَ: وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
(٦٣٠٧) (الف) ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام لمبا کیا، پھر رکوع کیا تو رکوع بھی لمبا فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کردیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا قیام کیا۔ لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا رکوع کیا۔ لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا۔ وہ پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا رکوع کیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو سورج روشن ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی حمد وثنا بیان فرمائی۔ پھر فرمایا کہ سورج اور چاند کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے، بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔ صدقہ، اللہ کا ذکر اور دعا کیا کرو۔ پھر فرمایا: اے امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی قسم! تمہارا کوئی بھی اللہ سے زیادہ غیور نہیں کہ اس کا بندہ یا اس کی لونڈی زنا کرے۔ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ کی قسم! اگر تم جان لو۔ جو میں جانتا ہوں تو تم رو زیادہ اور ہنسو کم۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھالیے اور فرمایا: آگاہ رہو! میں نے پہنچادیا۔
(ب) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6307]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1009»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں