السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1283. -- باب: من أجاز أن يصلى في الخسوف ركعتين في كل ركعة ثلاث ركوعات
-- باب: جس نے گرہن کی نماز دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی اس طور پر کہ ہر رکعت میں تین رکوع ہوں
حدیث نمبر: 6318
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ ابْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ يُرِيدُ عَائِشَةَ:" أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ قِيَامًا شَدِيدًا، يَقُومُ قِيَامًا ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ فِي ثَلَاثِ رُكُوعَاتٍ وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، فَانْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَرْكَعُ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" فَقَامَ فَحَمِدَ اللهُ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللهِ يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفًا فَاذْكُرُوا اللهَ حَتَّى يَنْجَلِيَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: حَسِبْتُهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَجَمَاعَةٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ.
(٦٣١٨) عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا قیام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے۔ پھر رکوع فرمایا۔ پھر کھڑے ہوئے۔ پھر رکوع فرمایا۔ پھر کھڑے ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعات پڑھیں اور تین رکوع اور چار سجدے کیے۔ پھر سلام پھیرا اور سورج روشن ہوچکا تھا۔ جب آپ رکوع کرتے تو فرماتے: اللہ اکبر، پھر رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر فرمایا: سورج اور چاند کو گرہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہے جن کے ذریعہ اللہ رب العزت ڈراتے ہیں۔ جب تم گرہن کو دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو یہاں تک کہ وہ روشن ہوجائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6318]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 901»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6319
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، وَهَذَا حَدِيثُ إِسْحَاقَ، وَقَالَ مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ". قُلْتُ لِمُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ: أَهُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، بِلَا شَكٍّ وَلَا مِرْيَةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ الْمِسْمَعِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ الشَّيْخُ: قَتَادَةُ لَمْ يَشُكَّ فِي أَنَّهُ عَنْ عَائِشَةَ وَقَدْ خَالَفَهُمَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ فِي إِسْنَادِهِ، فَرَوَاهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَأَخْبَرَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(٦٣١٩) عبید بن عمیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ میں نے معاذ بن ہشام سے کہا: کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں؟ فرمایا: ہاں، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6319]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 901»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6320
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الصُّولِيُّ إِمْلَاءً سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، كَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الثَّالِثَةَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَانْحَدَرَ لِلسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنْهَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَامَ فِي مَقَامِهِ وَتَقَدَّمْتُ الصُّفُوفُ مَعَهُ، فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ"..
(٦٣٢٠) جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوگیا۔ یہ وہ دن تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے تو لوگوں نے کہا: یہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبی قرأت کی۔ پھر اتنا ہی لمبا رکوع کیا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو پہلی قراءت سے ذرا کم قراءت کی۔ پھر اتنا لمبا ہی رکوع کیا، جتنا قیام کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ قراءت کی، جو دوسری مرتبہ والی قراءت سے کم تھی۔ پھر قیام کے برابر رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدے میں گرپڑے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کرنے سے پہلے تین رکوع کیے ہر رکوع دوسرے سے لمبا ہی ہوتا ہے بلکہ جتنا قیام اتناہی لمبا رکوع فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی پیچھے ہٹیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور صفیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کی تو سورج روشن ہوچکا تھا۔ فرمایا: اے لوگو! سورج و چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی انسان کی موت کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ روشن ہوجائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6320]
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو پہلی قراءت سے ذرا کم قراءت کی۔ پھر اتنا لمبا ہی رکوع کیا، جتنا قیام کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ قراءت کی، جو دوسری مرتبہ والی قراءت سے کم تھی۔ پھر قیام کے برابر رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدے میں گرپڑے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کرنے سے پہلے تین رکوع کیے ہر رکوع دوسرے سے لمبا ہی ہوتا ہے بلکہ جتنا قیام اتناہی لمبا رکوع فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی پیچھے ہٹیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور صفیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کی تو سورج روشن ہوچکا تھا۔ فرمایا: اے لوگو! سورج و چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی انسان کی موت کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ روشن ہوجائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6320]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 904»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6321
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ،. ح وَأنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَرُكُوعُهُ نَحْوٌ مِنْ سُجُودِهِ وَزَادَ فِي تَأَخُّرِ الصُّفُوفِ قَالَ: حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى النِّسَاءِ، ثُمَّ زَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ:" مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ حَتَّى جِيءَ بِالنَّارِ وَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ يَسْرِقُ مَتَاعَ الْحُجَّاجِ بِمِحْجَنِهِ، فَإِنْ فُطِنَ لَهُ قَالَ إِنَّهُ تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي، وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ، وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي، وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ، فَمَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ نَظَرَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ وَفِي الْقِصَّةِ الَّتِي رَوَاهَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَلِمَ أَنَّهَا قِصَّةٌ وَاحِدَةٌ، وَأَنَّ الصَّلَاةَ الَّتِي أَخْبَرَ عَنْهَا إِنَّمَا فَعَلَهَا يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدِ اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ، وَرِوَايَةُ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ وَكَثِيرِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرِوَايَةُ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ ⦗٤٥٦⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَرِوَايَةُ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا صَلَّاهَا رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رُكُوعَيْنِ"، وَفِي حِكَايَةِ أَكْثَرِهِمْ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا تَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ" دَلَالَةً عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا صَلَّاهَا يَوْمَ تُوُفِّيَ ابْنُهُ، فَخَطَبَ وَقَالَ هَذِهِ الْمَقَالَةَ رَدًّا لِقَوْلِهِمْ: إِنَّمَا كَسَفَتْ لِمَوْتِهِ، وَفِي اتِّفَاقِ هَؤُلَاءِ الْعَدَدِ مَعَ فَضْلِ حِفْظِهِمْ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَزِدْ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ عَلَى رُكُوعَيْنِ، كَمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى.
(٦٣٢١) (الف) عبد الملک نے اپنی سند سے اسی کے ہم معنی بیان کیا ہے، فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکوع سجدے کی طرح ہی تھا۔ اس میں اضافہ کیا ہے کہصفیں اس قدر پیچھے ہٹیں کہ وہ عورتوں تک پہنچ گئیں۔ حدیث کے آخر میں اضافہ ہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا گیا اور میں نے اس کو اپنی اس نماز میں نہ دیکھا ہو۔ جہنم کو لایا گیا۔ جس وقت تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹ رہا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں اس کے شعلے مجھے نہ پہنچ جائیں۔ یہاں تک کہ میں نے اس میں کھونٹی والے کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں جہنم میں کھینچ رہا تھا۔ وہ حاجیوں کے سامان کو اپنی کھونٹی سے چرایا کرتا تھا۔ اگر اس کو علم ہوجاتا تو کہہ دیتا کہ وہ میری کھونٹی سے اٹک گیا۔ اگر اس کو پتہ نہ چلتا تو وہ لے جاتا اور میں نے جہنم میں ایک بلی کو باندھنے والی عورت کو دیکھا۔ نہ تو وہ اس کو کھلاتی تھی اور نہ ہی اس کو چھوڑتی تاکہ وہ زمین کے حشرات کو کھا کر گزار کرلیتی۔ یہاں تک کہ وہ بھوکی مرگئی۔ پھر جنت کو لایا گیا، یہ اس وقت تھا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا۔ یہاں تک کہ میں اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا اور میں نے اپنا ہاتھ پھیلایا تاکہ اس کے پھل حاصل کرلوں، تاکہ تم دیکھ لو۔ پھر میرے لیے ظاہر ہوا کہ میں ایسا نہ کروں۔ جس چیز کا بھی تم سے وعدہ کیا گیا میں نے اس کو اپنی اس نماز میں دیکھا۔
شیخ فرماتے ہیں: ابو زبیر عن جابر والا اور یہ دونوں ایک ہی قصہ ہے اور نماز وہ بیان کی جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے۔
(ب) ابو زبیر حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع تھے۔
(ج) اکثر کا قول ہے کہ سورج و چاند دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ اس تعداد میں لوگوں کا اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع سے زائد نہیں کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6321]
شیخ فرماتے ہیں: ابو زبیر عن جابر والا اور یہ دونوں ایک ہی قصہ ہے اور نماز وہ بیان کی جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے۔
(ب) ابو زبیر حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع تھے۔
(ج) اکثر کا قول ہے کہ سورج و چاند دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ اس تعداد میں لوگوں کا اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع سے زائد نہیں کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6321]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
1284. -- باب: من أجاز أن يصلي في الخسوف ركعتين في كل ركعة أربع ركوعات
-- باب: جس نے گرہن کی نماز دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی اس طور پر کہ ہر رکعت میں چار رکوع ہوں
حدیث نمبر: 6322
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: زَادَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ فِيهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ: وَعَنْ عَلِيٍّ مِثْلُ ذَلِكَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَذَكَرَ فِيهِ عَلِيًّا.
(٦٣٢٢) طاؤس ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6322]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ مسلم 908»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6323
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ وَفِي الْأُخْرَى مِثْلَهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَغَيْرِهِ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ. وَأَمَّا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فَإِنَّهُ أَعْرَضَ عَنْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ الَّتِي فِيهَا خِلَافُ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ.
(٦٣٢٣) (الف) طاؤس ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ کسوف پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرأت کی۔ پھر رکوع کیا، پھر قرأت کی، پھر رکوع کیا۔ پھر قرأت کی۔ پھر رکوع کیا۔ پھر قرأت کی۔ پھر رکوع کیا ‘ پھر سجدہ کیا اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔
(ب) کثیر بن عباس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔
(ج) طاؤس ابن عباس سے ان کا عملنقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے نماز میں چھ رکوع اور چار سجدے کیے۔ لیکن سر اٹھانے اور تعداد میں اختلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6323]
(ب) کثیر بن عباس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔
(ج) طاؤس ابن عباس سے ان کا عملنقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے نماز میں چھ رکوع اور چار سجدے کیے۔ لیکن سر اٹھانے اور تعداد میں اختلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6323]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6324
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: فَقَالَ يَعْنِي بَعْضَ مَنْ كَانَ يُنَاظِرُهُ: رَوَى بَعْضُكُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ". قُلْتُ لَهُ: هُوَ مِنْ وَجْهٍ مُنْقَطِعٌ وَنَحْنُ لَا نُثْبِتُ الْمُنْقَطِعَ عَلَى الِانْفِرَادِ وَوَجْهٌ نَرَاهُ وَاللهُ أَعْلَمُ غَلَطًا، قَالَ: وَهَلْ يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ صَلَاةُ ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، قُلْنَا: نَعَمْ.
(٦٣٢٤) (الف) ربیع بن سلیمان فرماتے ہیں کہ ہمیں امام شافعی (رح) نے خبر دی کہ بعض لوگ ان سے مناظرہ کرتے ہیں کہ بعض نے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر رکعت میں تین رکوع کیے۔ میں نے کہا: یہ حدیث منقطع ہے اور منقطع حدیث ہمارے نزدیک انفراد کے طریق سے ثابت نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم۔ فرماتے ہیں کہ کیا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کوئی ایسی روایت منقول ہے کہ انھوں نے ایک رکعت میں تین رکوع کیے ہوں؟ ہم نے کہا: ہاں۔ سلیمان احوال بیان کرتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہمیں چھ رکوع او چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ فرماتے ہیں کہ زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس یہ سند زیادہ ثابت ہے سلیمان احوال عن طاؤس عن ابن عباس کی سند سے۔ اس طرح صفوان بن عبداللہ بن صفوان فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے زمزم کے نزدیک نمازِ کسوف ادا کی تو ہر رکعت میں دو دو رکوع کیے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ خسوف کے خلاف نماز نہ پڑھاتے۔ تینوں روایات کو ہی قبول کیا جائے گا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے زلزلے کے وقت ہر رکعت میں تین رکوع کے ساتھ نماز پڑھائی۔
(ج) محمد بن اسماعیل بخاری (رح) فرماتے ہیں: میرے نزدیک نمازِ کسوف چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھنا زیادہ صحیح ہے۔ یعنی ہر رکعت میں دو رکوع کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6324]
ابن عباس رضی اللہ عنہ کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ خسوف کے خلاف نماز نہ پڑھاتے۔ تینوں روایات کو ہی قبول کیا جائے گا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے زلزلے کے وقت ہر رکعت میں تین رکوع کے ساتھ نماز پڑھائی۔
(ج) محمد بن اسماعیل بخاری (رح) فرماتے ہیں: میرے نزدیک نمازِ کسوف چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھنا زیادہ صحیح ہے۔ یعنی ہر رکعت میں دو رکوع کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6324]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ كتاب العم 7/261»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6325
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ كَمَا قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ كَمَا رَكَعَ، صَنَعَ ذَلِكَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَمْ يَقْرَأْ بَيْنَ الرُّكُوعِ". مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ خَمْسُ رُكُوعَاتٍ فِي رَكْعَةٍ بِإِسْنَادٍ لَمْ يَحْتَجُّ بِمِثْلِهِ صَاحِبَا الصَّحِيحِ، وَلَكِنْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، وَهُوَ.
(٦٣٢٥) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی، پھر قرأت کی، پھر رکوع کیا جتنی دیر قرأت کی تھی۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح چار رکوع کیے سجدہ کرنے سے پہلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئیتو اسی طرح کیا اور رکوع کے درمیان قرأت نہیں کی۔
(ب) بعض روایات میں ایک رکعت میں پانچ رکوع کا تذکرہ بھی آیا ہے، لیکن وہ قابل حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6325]
(ب) بعض روایات میں ایک رکعت میں پانچ رکوع کا تذکرہ بھی آیا ہے، لیکن وہ قابل حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6325]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني في الدعاء 2234»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6326
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قَالُوا: أنبأ رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَقَرَأَ سُورَةً مِنَ الطِّوَالِ، وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ، فَقَرَأَ سُورَةً مِنَ الطِّوَالِ، وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى تَجَلَّى كُسُوفُهَا".
(٦٣٢٦) (الف) ابو العالیہ حضرت أبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طوال کی سورتوں میں ایک سورة پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ رکوع کیے، پھر دو سجدے کیے۔ پھر دوسری رکعت کے لیے اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طوال کی سورتوں میں کوئی سورة پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ٥ رکوع کیے، پھر دو سجدے کیے۔ پھر قبلہ کی رخ ہو کر بیٹھے رہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا۔
(ب) حسن بصری (رح) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے نمازِ کسوف پانچ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6326]
(ب) حسن بصری (رح) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے نمازِ کسوف پانچ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6326]
تخریج الحدیث: «منكر۔ احمد 5/134»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6327
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ بِذَلِكَ. وَيُذْكَرُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَةٍ.
(٦٣٢٧) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انھوں نے ہر رکعت میں چار رکوع کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6327]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الشافعي في العم»
الحكم على الحديث: ضعيف