السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1304. -- باب: استحباب الصيام للاستسقاء لما يرجى من دعاء الصائم
-- باب: استسقاء کے لیے روزہ رکھنے کے مستحب ہونے کا بیان کیونکہ روزے دار کی دعا (قبول ہونے) کی امید ہوتی ہے
حدیث نمبر: 6393
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ ⦗٤٨٢⦘ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ:" وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ".
(٦٣٩٣) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین ایسے اشخاص ہیں جن کی دعا کو رد نہیں کیا جاتا: 1 عادل حکمران 2 روزے دار جب تک افطار نہ کر دے اور 3 مظلوم کی دعا بادلوں کے اوپر اٹھالی جاتی ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں: مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6393]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
1305. -- باب: الخروج من المظالم والتقرب إلى الله تعالى بالصدقة ونوافل الخير رجاء الإجابة
-- باب: دعا کی قبولیت کی امید میں مظالم سے نکلنے (حقوق العباد ادا کرنے) اور صدقہ اور نیک نوافل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6394
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا الطَّيِّبَ، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ" قَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} [المؤمنون: ٥١] ، وَقَالَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة: ١٧٢] ، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلُ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَقَدْ غُذِّيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
(٦٣٩٤) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہیں اور صرف پاکیزہ ہی کو قبول کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”اے رسولو! تم کھاؤ پاکیزہ چیزوں اور اعمال صالحہ کرو، جو تم اعمال کرتے ہو، بیشک میں جاننے والا ہوں“ [المؤمنون: ٥١] اور یہ بھی فرمایا: ”اے ایمان والو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں سے جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے“ [البقرۃ: ١٧٢] پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تذکرہ کیا ایک ایسے شخص کا جو لمبا سفر کرتا ہے غبار آلود پراگندہ بالوں والا اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے اور یا رب یا رب کہہ کر پکارتا ہے جبکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام اور اس کی پرورش ہی حرام پر ہوئی تو اس کی دعا کیسے قبول کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6394]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6395
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدٌ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا زَالَ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي عَلَيْهَا، وَلَئِنْ سَأَلَنِي عَبْدِي أَعْطَيْتُهُ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ". وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. قَدْ أَخْرَجْتُهُ فِي كِتَابِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ مَعَ تَأْوِيلِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ.
(٦٣٩٥) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس نے میرے دوست (ولی) سے دشمنی کے اس نے میرے ساتھ اعلان جنگ کیا اور نہیں میرا کوئی بندہ میرا قرب حاصل کرتا کسی چیز کے ساتھ جو مجھے محبوب ہو اس میں سے جو میں نے اس پر فرائض فرض کیے اور وہ ہمیشہ نوافل کے ساتھ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا وہ ہاتھ جس سے وہ چھوتا ہے اور اس کے وہ پاؤں جن سے وہ چلتا ہے۔ اگر میرے سے میرا بندہ مانگے تو میں اسے دے دیتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دے دیتا ہوں۔
امام بخاری نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں محمد بن عثمان بن کر امۃ سے بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6395]
امام بخاری نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں محمد بن عثمان بن کر امۃ سے بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6395]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6396
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ⦗٤٨٣⦘ هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا إِلَّا امْرَأً بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ" قَالَ:" فَيُقَالُ: انْتَظِرْ هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا". وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" انْظُرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا مَرَّتَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِيرٍ.
(٦٣٩٦) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر پیر اور جمعرات کو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر اس شخص کو معاف کیا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا مگر اس شخص کو معاف نہیں کرتا جس کے دل میں اپنے بھائی کے متعلق کینہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہا جاتا ہے کہ میں ان دونوں کو مہلت دیتا ہوں کہ وہ دونوں صلح صفائی کرلیں۔
اور ہمیں حدیث بیان کی جریر نے وہ سہل سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ایسی ہی حدیث بیان کی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ صلح کرلیں اور یہ بات دو مرتبہ کہی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6396]
اور ہمیں حدیث بیان کی جریر نے وہ سہل سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ایسی ہی حدیث بیان کی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ صلح کرلیں اور یہ بات دو مرتبہ کہی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6396]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6397
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا نَقْضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ قَطُّ إِلَّا كَانَ الْقَتْلُ بَيْنَهُمْ، وَمَا ظَهَرَتْ فَاحِشَةٌ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا سَلَّطَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ، وَلَا مَنَعَ قَوْمٌ الزَّكَاةَ إِلَّا حَبَسَ اللهُ عَنْهُمُ الْقَطْرَ". كَذَا رَوَاهُ بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ.
(٦٣٩٧) ابن بریدہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی قوم کبھی بھی کسی عہد کو نہیں توڑتی مگر ان میں قتل ہوتا ہے اور کسی قوم میں کبھی فحاشی ظاہر نہیں ہوتی، مگر اللہ ان پر موت کو مسلط کردیتے ہیں اور نہیں روکتی کوئی قوم زکوۃ کو مگر اللہ تعالیٰ ان سے بارش کو روک لیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6397]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6398
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ قَطُّ إِلَّا سَلَّطَ اللهُ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ، وَلَا فَشَتِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ إِلَّا أَخَذَهُمُ اللهُ بِالْمَوْتِ، وَمَا طَفَّفَ قَوْمٌ الْمِيزَانَ إِلَّا أَخَذَهُمُ اللهُ بِالسِّنِينَ، وَمَا مَنَعَ قَوْمٌ الزَّكَاةَ إِلَّا مَنَعَهُمُ اللهُ الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ، وَمَا جَارَ قَوْمٌ فِي حُكْمٍ إِلَّا كَانَ الْبَأْسُ بَيْنَهُمْ، أَظُنُّهُ قَالَ: وَالْقَتْلُ".
(٦٣٩٨) حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کوئی قوم کبھی عہد نہیں توڑتی مگر اللہ تعالیٰ ان پر دشمن کو مسلط کردیتا ہے اور نہیں پھیلتی کسی قوم میں بےحیائی مگر اللہ تعالیٰ ان کو موت کے ساتھ پکڑتے ہیں اور کوئی قوم ناپ طول میں کمی نہیں کرتی مگر اللہ سبحانہ ان پر قحط سالی مسلط کردیتے ہیں اور کوئی قوم زکوۃ کو نہیں روکتی مگر اللہ تعالیٰ ان پر آسمان سے بارش کو روک لیتا ہے اور کوئی قوم اللہ کے حکم کو نہیں توڑتی مگر ان پر لڑائی مسلط ہوجاتی ہے میرا خیال ہے کہ انھوں نے لفظ ’ قتل ‘ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6398]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المؤلف في الشعب»
الحكم على الحديث: صحيح
1306. -- باب: الدليل على أن السنة في صلاة الاستسقاء السنة في صلاة العيدين، وأنه يصليها ركعتين كما يصلي في العيدين بلا أذان ولا إقامة في وقت صلاة العيد
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ نمازِ استسقاء میں سنت وہی ہے جو عیدین کی نماز کی سنت ہے، اور یہ کہ وہ اسے عیدین کی طرح عید کی نماز کے وقت اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعت پڑھے گا
حدیث نمبر: 6399
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَاسْتَسْقَى، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ". زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ:" وَرَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو، فَدَعَا وَاسْتَسْقَى".
(٦٣٩٩) عباد بن تمیم اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے لوگوں کے ساتھ پانی طلب کرنے کیلئے، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں بلند آواز میں قرأت کی اور اپنی چادر کو پلٹایا اور پانی مانگا اور قبلے کی طرف منہ کیا اس کے علاوہ نے اضافہ کیا ہے اور وہ عبد الرزاق سے بیان کرتے ہیں کہ اور آپ نے اپنے ہاتھ اٹھاتے دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے پانی طلب کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6399]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ومسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6400
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ.
(٦٤٠٠) ہمیں حدیث بیان کی عبد الرزاق نے اور انھوں نے تذکرہ اس حدیث کا کچھ زیادتی (اضافے) کے ساتھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6400]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6401
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ هُوَ ابْنُ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَنَا، فَدَعَا اللهَ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، ثُمَّ قَلْبَ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ". تَفَرَّدَ بِهِ النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
(٦٤٠١) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے (بارش) پانی طلب کرنے کیلئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں بغیر اذان اور اقامت کے۔ پھر ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنے چہرے کو پھیرا قبلے کی طرف اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے پھر اپنی چادر کو پلٹایا اور دائیں جانب کو بائیں طرف کرلیا اور بائیں جانب کو دائیں طرف۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6401]
تخریج الحدیث: «سنده منكر۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: سنده منكر
حدیث نمبر: 6402
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ قَالَ: أَرْسَلَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّا تَمَارَيْنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَرْسَلَكَ ابْنُ أَخِيكَ، وَلَوْ أَنَّهُ أَرْسَلَ فَسَأَلَ، مَا كَانَ بِذَاكَ بَأْسٌ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا، مُتَوَاضِعًا، مُتَضَرِّعًا، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ يَخْطُبْ كَخُطْبَتِكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ، وَالتَّضَرُّعِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيدِ". لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: الصَّوَابُ ابْنُ عُتْبَةَ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الْحَدِيثُ يُوهِمُ أَنَّ دُعَاءَهُ كَانَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ.
(٦٤٠٢) ہمیں حدیث بیان کی ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ نے، وہ کہتے ہیں: مجھے خبر دی میرے باپ نے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا اس سے جو وہ حدیث بیان کرتے ہیں اور انھوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عقبہ نے بھیجا (جو ان دنوں مدینہ کے امیر تھے) ابن عباس کی طرف تاکہ میں ان سے پوچھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صلوٰۃ الاستسقاء کا طریقہ سو میں ان کے پاس آیا تو میں نے کہا: ہم مسجد میں جھگڑ پڑے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز استسقاء کے بارے میں تو انھوں نے کہا: نہیں بلکہ تمہیں بھیجا ہے تمہارے بھانجے نے اگر اس نے بھیجا ہے تو اس نے ایسی بات کا سوال کیا ہے جس میں کوئی جھگڑا نہیں۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے کپڑے لٹکا کر عاجزی انکساری کرتے ہوئے اور آہ وزاری کرتے ہوئے یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر بیٹھے اور تمہاری خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کرتے رہے اور گڑگڑاتے رہے اور اللہ کی کبریائی بیان کرتے رہے اور دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔
یہ لفظ ابراہیم بن موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور جو یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث وہ بھی انھیں معانی کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ یہ حدیث وہم پیدا کرتی ہے کہ ان کی دعا نماز سے پہلے تھی اور یہ بات سفیان ثوری نے کہی۔
شیخ (رح) نے کہا ہے: یہ حدیث وہم پیدا کرتی ہے کہ آپ کی دعا نماز سے پہلے تھی اور اسے بیان کیا سفیان ثوری نے بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6402]
یہ لفظ ابراہیم بن موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور جو یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث وہ بھی انھیں معانی کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ یہ حدیث وہم پیدا کرتی ہے کہ ان کی دعا نماز سے پہلے تھی اور یہ بات سفیان ثوری نے کہی۔
شیخ (رح) نے کہا ہے: یہ حدیث وہم پیدا کرتی ہے کہ آپ کی دعا نماز سے پہلے تھی اور اسے بیان کیا سفیان ثوری نے بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6402]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه»
الحكم على الحديث: حسن