🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1306. -- باب: الدليل على أن السنة في صلاة الاستسقاء السنة في صلاة العيدين، وأنه يصليها ركعتين كما يصلي في العيدين بلا أذان ولا إقامة في وقت صلاة العيد
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ نمازِ استسقاء میں سنت وہی ہے جو عیدین کی نماز کی سنت ہے، اور یہ کہ وہ اسے عیدین کی طرح عید کی نماز کے وقت اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعت پڑھے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6402
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ قَالَ: أَرْسَلَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّا تَمَارَيْنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَرْسَلَكَ ابْنُ أَخِيكَ، وَلَوْ أَنَّهُ أَرْسَلَ فَسَأَلَ، مَا كَانَ بِذَاكَ بَأْسٌ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا، مُتَوَاضِعًا، مُتَضَرِّعًا، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ يَخْطُبْ كَخُطْبَتِكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ، وَالتَّضَرُّعِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيدِ". لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: الصَّوَابُ ابْنُ عُتْبَةَ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الْحَدِيثُ يُوهِمُ أَنَّ دُعَاءَهُ كَانَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ.
ہمیں ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے اس شخص سے سنا جو وہ حدیث بیان کرتے ہیں اور انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عقبہ نے بھیجا (جو ان دنوں مدینہ کے امیر تھے) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف تاکہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی «صَلَاةُ الِاسْتِسْقَاءِ» ”نمازِ استسقاء“ کا طریقہ پوچھوں، سو میں ان کے پاس آیا تو میں نے کہا: ہم مسجد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ استسقاء کے بارے میں جھگڑ پڑے ہیں، تو انہوں نے کہا: ”نہیں بلکہ تمہیں تمہارے بھانجے نے بھیجا ہے، اگر اس نے بھیجا ہے تو اس نے ایسی بات کا سوال کیا ہے جس میں کوئی جھگڑا نہیں۔“ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم معمولی لباس زیب تن کیے ہوئے، عاجزی و انکساری کرتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور تمہارے اس خطبے کی طرح خطبہ نہیں دیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے رہے، گڑگڑاتے رہے، اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرتے رہے اور دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔“
یہ الفاظ ابراہیم بن موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور جو یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث ہے وہ بھی انہی معانی کے ساتھ بیان ہوئی ہے، مگر انہوں نے ولید بن عتبہ کہا۔ ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ نے کہا: درست ابن عتبہ ہے۔
شیخ رحمہ اللہ نے کہا ہے: یہ حدیث یہ وہم پیدا کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نماز سے پہلے تھی اور اسے سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6402]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6402 in Urdu