🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1306. -- باب: الدليل على أن السنة في صلاة الاستسقاء السنة في صلاة العيدين، وأنه يصليها ركعتين كما يصلي في العيدين بلا أذان ولا إقامة في وقت صلاة العيد
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ نمازِ استسقاء میں سنت وہی ہے جو عیدین کی نماز کی سنت ہے، اور یہ کہ وہ اسے عیدین کی طرح عید کی نماز کے وقت اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعت پڑھے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6403
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: مَنْ أَرْسَلَكَ؟ قُلْتُ: فُلَانٌ قَالَ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يَأْتِيَنِي فَيَسْأَلَنِي؟" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا، مُتَضَرِّعًا، مُتَذَلِّلًا، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ". قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِلشَّيْخِ: الْخُطْبَةُ قَبْلَ الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ بَعْدَهَا قَالَ: لَا أَدْرِي. فَهَذَا يَدُلُّ ⦗٤٨٥⦘ عَلَى أَنَّ هِشَامًا كَانَ لَا يَحْفَظُهُ، وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامٍ عَنْ جَدِّهِ مُحَالًا بِهَا عَلَى صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ.
(٦٤٠٣) ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والدکہتے ہیں: امیروں میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس کی طرف بھیجا تاکہ صلوٰۃ الاستسقاء کے متعلق ان سے پوچھوں تو ابن عباس نے کہا: تجھے کس نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: فلاں نے تو انھوں نے کہا: اس کس نے روکا ہے کہ وہ میرے پاس آئے اور پوچھے۔ پھر ابن عباس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عاجزی کرتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے اس خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا اور دو رکعتیں پڑھائیں، جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔
سفیان کہتے ہیں: میں نے شیخ سے کہا: خطبہ دو رکعتوں سے پہلے یا بعد میں؟ تو انھوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ سو یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ہشام یاد نہیں رکھ سکتے تھے اور تحقیق اس کو بیان کیا ہے اسماعیل بن ربیعہ بن ہشام نے اپنے دادا سے عیدین کی نماز پر محمول کرتے ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6403]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6404
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ السُّكَّرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ جَدِّهِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَسْقَى مُتَخَشِّعًا مُتَذَلِّلًا، كَمَا يَصْنَعُ فِي الْعِيدَيْنِ". وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَبِيعَةَ بِمَعْنَاهُ.
(٦٤٠٤) عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے جب بارش طلب کی، خشوع و خضوع اور انکساری کرتے ہوئے جیسے آپ عیدین میں کرتے رہے۔ اس کو عبداللہ بن یوسف تنیسی نے اسماعیل بن ربیعہ سے اسی معنیٰ میں روایت کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6404]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6405
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ قَالَ: أَرْسَلَنِي مَرْوَانُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ سُنَّةِ الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ:" سُنَّةُ الِاسْتِسْقَاءِ سَنَةُ الصَّلَاةِ فِي الْعِيدَيْنِ، إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَبُ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ وَيَسَارَهُ عَلَى يَمِينِهِ، وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، فَكَبَّرَ فِي الْأُولَى بِسَبْعِ تَكْبِيرَاتٍ، وَقَرَأَ بِـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَقَرَأَ فِي الثَّانِيَةِ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، وَكَبَّرَ فِيهَا خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ".
(٦٤٠٥) حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے مروان نے ابن عباس کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے استسقاء کا طریقہ پوچھوں تو انھوں نے کہا: صلوۃ استسقاء کا طریقہ وہی ہے جو صلوۃ العیدین کا ہے سوا اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی چادر کو پلٹایا (پھیرا) اور دائیں جانب کو بائیں جانب اور بائیں جانب کو دائیں جانب کیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔ پہلی رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات تکبیرات کہیں اور سورة سبح اسم ربک الاعلیٰ پڑھی اور دوسری رکعت میں ھل اتاک حدیث الغاشیۃ پڑھی اور اس میں پانچ تکبیرات کہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6405]
تخریج الحدیث: «منكر۔ الحاكم»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6406
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْخَالِقِ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السُّنَّةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ:" مِثْلُ السُّنَّةِ فِي الْعِيدَيْنِ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، وَكَبَّرَ فِيهِمَا ثِنْتَيْ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً: سَبْعًا فِي الْأُولَى، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَخَطَبَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ اسْتَسْقَى". مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ هَذَا غَيْرُ قَوِيٍّ، وَهُوَ بِمَا قَبْلَهُ مِنَ الشَّوَاهِدِ يَقْوَى.
(٦٤٠٦) حضرت طلحہ بن عبداللہ بن عوف سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صلوٰۃ الاستسقاء کا طریقہ پوچھاتو انھوں نے کہا: عید کے طریقے کی طرح ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے بارش طلب کر رہے تھے۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھائیں بغیر اذان و اقامت کے اور ان میں بارہ (١٢) تکبیرات کہیں، سات پہلی میں اور پانچ دوسری میں اور جہری قرأت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پلٹے اور خطبہ دیا۔ پھر قبلے کی طرف منہ کیا اپنی چادر کو پلٹا اور بارش کی دعا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6406]
تخریج الحدیث: «منكر۔ دار قطني»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6407
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي: أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ: خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالنَّاسِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اسْتَسْقَى، فَلَقِيتُ يَوْمَئِذٍ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُ رَجُلٍ أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَجُلٌ، قُلْتُ: كَمْ غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" ⦗٤٨٦⦘ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً"، قُلْتُ: كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ؟ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: فَمَا أَوَّلُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا؟ قَالَ: ذَاتُ الْعُسَيْرَةِ أَوْ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ".
(٦٤٠٧) ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ بیشک عبداللہ بن یزید انصاری لوگوں کے ساتھ بارش کی دعا کیلئے نکلے، سو انھوں نے دو رکعت پڑھائیں، پھر بارش کی دعا کی اور اس دن میں زید بن ارقم سے ملا، میرے اور ان کے درمیان کوئی آدمی نہیں تھا یا انھوں نے کہا کہ میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی تھا۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے غزوات کیے تو انھوں نے کہا: انیس غزوات۔ پھر میں نے کہا: آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات کیے؟ تو انھوں نے کہا: سترہ۔ پھر میں نے کہا: پہلا غزوہ کونسا ہے جو آپ نے لڑا؟ انھوں نے کہا: ذات العسیرۃ یا پھر ذات العشیرۃ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6407]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1307. -- باب: ذكر الأخبار التي تدل على أنه دعا أو خطب قبل الصلاة
-- باب: ان احادیث کا تذکرہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے نماز سے پہلے دعا کی یا خطبہ دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6408
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ أَنَّهُ، سَمِعَ عَمَّهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهَ يَدْعُو اللهَ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ". قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي الْحَدِيثِ: وَقَرَأَ فِيهِمَا، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يُرِيدُ الْجَهْرَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ"، وَكَذَلِكَ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ وَحْدَهُ. وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ دُونَ قَوْلِهِ: ثُمَّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ دُونَ كَلِمَةِ ثُمَّ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَوَصَفَ الصَّلَاةَ أَوَّلًا، ثُمَّ وَصَفَ تَحْوِيلَ الرِّدَاءِ وَالدُّعَاءَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(٦٤٠٨) عباد بن تمیم ماذی بیان کرتے ہیں کہ اس نے اپنے چچا سے سنا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن بارش کی دعا کیلئے نکلے، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ پھیری اور قبلے کی طرف منہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنی چادر کو بھی پھیرا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعات پڑھیں۔ ابن ابی ذئب نے اس حدیث اور اپنی چادر کو بھی پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعات پڑھیں ابن ابی ذئب نے اس حدیث میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں قراءت بھی کی۔ ابن وھب کہتے ہیں کہ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باآواز بلند قرأت کی۔
نیز امام بخاری نے اپنی صحیح میں آدم بن ابی ایاس سے اور انھوں نے ابن ابی ذئب سے جو حدیث بیان کی، اسی حوالے سے نقل کی ہے۔ اس میں انھوں نے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائی اور ان میں قراءت جہری کی اور ایسی ہی روایت ابو نعیم سے بیان کی گئی ہے جو انھوں نے ابو ذئب سے بیان کی اور اس حدیث کو امام مسلم ابو طاہر کی سند سے بیان کیا ہے۔ معمر نے زہری سے بیان کیا اور پہلے نماز کا طریقہ بیان کیا، پھر چادر پلٹنے کا اور دعاکاذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6408]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6409
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: شَكَيَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُحُوطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ، وَاسْتِيخَارَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَدَعُوهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ، ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمِنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللهُمَّ أَنْتَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ"، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَتْرُكْ فِي الرَّفْعِ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَهُوَ رَافِعٌ يَدَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ⦗٤٨٧⦘ وَأَنْشَأَ اللهُ تَعَالَى سَحَابًا فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى، فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكَنِّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَقَالَ" أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ هَارُونَ.
(٦٤٠٩) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بارش کے قحط کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر رکھنے کا حکم دیا تو اسے عید گاہ میں رکھا گیا اور لوگوں سے ایک دن میں نکلنے کا وعدہ لیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہونے لگا تو آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور تکبیر وتحمید بیان کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے گھروں کے خشک ہونے کا ذکر کیا اور بارش طلب کی اور اس وقت کے مشکل ہوجانے کا جب کہ اللہ سبحانہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اسے پکاو اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول کرے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا:اَلْحَمُد لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنَ لَا اِلٰہَ اِلَّا للّٰہُ یَفْعَلُ مَایُرِیْدُ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَا اَنْتَ الْغَنِیُّ وَنَحْنُ الفُقَرائُ۔ اَنْزِلْ عَلَیْنَا الْغَیْثَ وَاجْعَلْ مَا اَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّۃً وَبَلَاغًا اِلٰی حِیْنٍ
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور انھیں مسلسل اٹھاتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوگئی۔ پھر لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کو پھیرا اور اپنی چادر کو پلٹا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر سے اتر کر دو رکعتیں پڑھائیں اور اللہ تعالیٰ نے بادل پیدا کردیے اور وہ کڑ کے اور چمکے۔ پھر وہ اللہ کے حکم سے برسے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی مسجد تک نہیں آئے تھے کہ پرنالے بہنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ بارش سے بچت کی جلدی کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، میں اس کا بندہ اور رسول ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6409]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6410
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو غَسَّانَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ:" خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ يَسْتَسْقِي، وَقَدْ كَانَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجَ فِيمَنْ خَرَجَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَئِذٍ: فَقَامَ قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ عَلَى غَيْرِ مِنْبَرٍ، فَاسْتَسْقَى وَاسْتَغْفَرَ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، وَنَحْنُ خَلْفَهُ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ، لَمْ يُؤَذِّنْ يَوْمَئِذٍ، وَلَمْ يُقِمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: فَخَطَبَ ثُمَّ صَلَّى. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ اسْتَسْقَى، وَرِوَايَةُ الثَّوْرِيِّ وَزُهَيْرٍ أَشْبَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(٦٤١٠) ابو اسحاق سے روایت ہے کہ عبداللہ بن یزید انصاری بارش کی دعا کرنے کیلئے نکلے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا۔ ان کے ساتھ جو لوگ نکلے ان میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور زید بن ارقم بھی تھے اور اسحاق کہتے ہیں کہ اس دن میں بھی ان کے ساتھ تھا تو وہ بغیر منبر کے اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہوئے۔ پھر انھوں نے بارش کی دعا کی اور توبہ و استغفار کیا، پھر ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور ہم ان کے پیچھے تھے وہ ان میں بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے تو نہ تو انھوں نے اذان کہی اور نہ ہی اقامت۔ امام بخاری نے اس روایت کو اپنی صحیح میں ابو نعیم سے بیان کیا ہے اور ثوری نے جو ابو اسحاق سے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں: انھوں نے خطبہ دیا، پھر نماز پڑھائی اور جو شعبہ نے بیان کیا ہے، اس میں ہے کہ دو رکعات پڑھائیں، پھر دعا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6410]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1308. -- باب: الدعاء في الاستسقاء قائما
-- باب: نمازِ استسقاء میں کھڑے ہو کر دعا مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6411
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أنبأ أَبُو الْيَمَانِ، ثنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، أَنَّ عَمَّهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِالنَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي لَهُمْ، فَقَامَ فَدَعَا قَائِمًا، ثُمَّ تَوَجَّهَ قِبَلَ الْقِبْلَةِ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، فَسُقُوا". وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَدَعَا اللهَ قَائِمًا وَقَالَ:" فَاسْقُوا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
(٦٤١١) عباد بن تمیم سے روایت ہے کہ اس کا چچا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہے، اس نے عباد کو خبر دی کہ بیشک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ساتھ عید گاہ کی طرف ان کیلئے بارش مانگنے کی خاطرنکلے۔ آپ کھڑے ہوگئے اور کھڑے ہو کر دعا کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلے کی طرف منہ کیا اور اپنی چادر کو پھیرا تو وہ بارش دے دیے گئے۔
ابو اسحاق نے بھی اسی طرح ہی حدیث بیان کی ہے۔ کہا کہ پھر کھڑے ہو کر دعا کی۔ وہ کہتے ہیں: پھر وہ بارش دے دیے گئے۔ اسے امام بخاری نے بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6411]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1309. -- باب: استقبال القبلة إذا اجتهد في الدعاء
-- باب: جب دعا میں خوب گڑگڑائے (کوشش کرے) تو قبلہ رخ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6412
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ قَالَا: أنبأ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ⦗٤٨٨⦘ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي، وَإِنَّهُ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
(٦٤١٢) عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید گاہ کی طرف بارش مانگنے کے لیے نکلے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کا ارادہ کیا تو اپنے چہرے کو قبلے کی طرف کیا اور چادر کو پلٹایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6412]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ومسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں