السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1362. -- باب: ما يستحب من تسجيته بثوب يغطى به جميع جسده
-- باب: میت کو ایسے کپڑے سے ڈھانپنے کے مستحب ہونے کا بیان جس سے اس کا سارا جسم چھپ جائے
حدیث نمبر: 6613
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُجِّيَ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَغَيْرِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمنی چادر میں لپٹا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6613]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
1363. -- باب: المحافظة على سنة أهل الإسلام في أمور الموتى
-- باب: مردوں کے معاملات میں اہل اسلام کے طریقے (سنت) پر قائم رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 6614
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ قِيلَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَا نَتَّخِذُ لَكَ شَيْئًا كَأَنَّهُ الصُّنْدُوقُ مِنَ الْخَشَبِ؟ فَقَالَ:" بَلِ اصْنَعُوا بِي مَا صَنَعْتُمْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، انْصِبُوا عَلَيَّ اللَّبِنَ، وَأَهِيلُوا عَلَيَّ التُّرَابَ".
امام شافعی رحمہ اللہ ہمیں خبر دیتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کیا ہم آپ کے لیے لکڑی کا صندوق نہ بنوا لیں؟ تو انہوں نے کہا: میرے ساتھ بھی ایسا ہی کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا گیا، وہ یہ کہ مجھ پر مٹی کی اینٹیں نصب کرو، پھر اوپر مٹی ڈال دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6614]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الشافعي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6615
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمِسْوَرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي هَلَكَ فِيهِ:" الْحَدُوا لِي لَحْدًا، وَانْصِبُوا عَلَيَّ اللَّبِنَ نَصْبًا، كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنی اس بیماری میں کہا جس میں وہ فوت ہو گئے: میرے لیے لحد کھودنا، پھر اس پر کچی اینٹیں کھڑی کر دینا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6615]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
1364. -- باب: وجوب العمل في الجنائز من الغسل والتكفين والصلاة والدفن حتى يقوم بذلك من فيه الكفاية
-- باب: جنازوں کے معاملات مثلاً غسل، کفن، نماز اور دفن میں عمل کرنے کے وجوب کا بیان یہاں تک کہ اتنے لوگ یہ کام انجام دے لیں جو کافی ہوں (فرضِ کفایہ کا بیان)
حدیث نمبر: Q6616
قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ".
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنازوں کے پیچھے چلنے (یعنی ان میں شرکت کرنے) کا حکم دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: Q6616]
حدیث نمبر: 6616
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ: رَدُّ السَّلَامِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازوں کی اتباع کرنا، دعوت کو قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6616]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6617
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ، فَمَا رَأَيْتُهُ مَرَّ بِجِيفَةِ إِنْسَانٍ إِلَّا أَمَرَ بِدَفْنِهِ، لَا يَسْأَلُ أَمُسْلِمٌ هُوَ أَمْ كَافِرٌ؟"..
عمر بن یعلیٰ بن مرہ اپنے والد سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی مرتبہ سفر کیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی انسان کی میت کے پاس سے گزرے ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دفن کا حکم نہ دیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی نہیں پوچھتے تھے کہ یہ مسلم ہے یا کافر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6617]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 6618
وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، بِإِسْنَادِهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ، يَقُولُ، فَذَكَرَهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ ⦗٥٤٣⦘ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، فَذَكَرَهُ.
عمر بن عبداللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ایسی ہی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6618]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ دار قطني»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 6619
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ، ثنا ابْنُ يُونُسَ، ثنا لَيْثٌ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ:" وَجَدَ النَّاسُ وَهُمْ صَادِرُونَ يَعْنِي مِنَ الْحَجِّ امْرَأَةً مَيْتَةً بِالْبَيْدَاءِ، يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَلَا يَرْفَعُونَ لَهَا رَأْسًا، حَتَّى مَرَّ بِهَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ كُلَيْبٌ مِسْكِينٌ فَأَلْقَى عَلَيْهَا ثَوْبَهُ ثُمَّ اسْتَعَانَ عَلَيْهَا مَنْ يَدْفِنُهَا، فَدَعَا عُمَرُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَهُ، فَقَالَ:" هَلْ مَرَرْتَ بِهَذِهِ الْمَرْأَةِ الْمَيْتَةِ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ حَدَّثْتَنِي أَنَّكُ مَرَرْتَ بِهَا لَنَكَّلْتُ بِكَ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ فِيهَا، وَقَالَ: لَعَلَّ اللهَ يُدْخِلُ كُلَيْبًا الْجَنَّةَ بِفِعْلِهِ بِهَا، فَبَيْنَمَا كُلَيْبٌ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ الْمَسْجِدِ جَاءَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ قَاتِلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَقَرَ بَطْنَهُ، قَالَ نَافِعٌ: وَقَتَلَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ مَعَ عُمَرَ سَبْعَةَ نَفَرٍ". وَرَوَاهُ أَيْضًا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ حج سے آ رہے تھے تو انہوں نے بیداء مقام پر ایک مردہ عورت کو پایا۔ وہ گزرتے گئے اور کسی نے اس کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا حتیٰ کہ بنو لیث میں سے ایک آدمی گزرا جسے کلیب مسکین کہا جاتا تھا۔ اس نے اس پر کپڑا ڈال دیا۔ پھر انہوں نے مدد کے لیے پکارا جو اسے دفن کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کو بلایا (یعنی اپنے بیٹے کو) تو انہوں نے کہا: ”کیا تو اس مردہ عورت کے پاس سے گزرا ہے؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ”نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر مجھے علم ہو گیا کہ تو وہاں سے گزرا ہے تو میں تجھے ضرور سزا دوں گا۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور ان پر بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے: ”شاید کہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کی وجہ سے کلیب کو جنت میں داخل کر دے۔“ ایک مرتبہ کلیب مسجد کے پاس وضو کر رہے تھے کہ ان کے پاس ابولؤلؤ آیا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا تو اس نے اس کا پیٹ پھاڑ دیا۔ نافع کہتے ہیں: ابولؤلؤ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سات افراد کو قتل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6619]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن حبان»
الحكم على الحديث: صحيح
1365. -- باب: ما يستحب من التعجيل بتجهيزه إذا بان موته
-- باب: جب موت واضح ہو جائے تو میت کی تجہیز میں جلدی کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6620
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ أَبُو سُفْيَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَلَوِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ:" إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ بِهِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهِ حَتَّى أَشْهَدَهُ فَأُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَعَجِّلُوهُ، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَكَذَا قَالَهُ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ وَقِيلَ عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ، وَرُوِيَ فِي الِاسْتِينَاءِ بِالْغَرِيقِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ فِي الِاسْتِينَاءِ بِالْمَصْعُوقِ، وَكَانَ الشَّافِعِيُّ يَسْتَحِبُّ ذَلِكَ حَتَّى يَتَبَيَّنَ مَوْتُهُ.
سیدنا حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تیمار داری کے لیے تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہیں دیکھتا طلحہ کو مگر یہ کہ اس پر موت ظاہر ہو چکی ہے۔ سو تم مجھے اس کی اطلاع کرنا تاکہ میں آ کر اس کی نمازِ جنازہ ادا کروں اور اس کے لیے جلدی کرنا کیونکہ کسی بھی مسلمان میت کے لیے یہ جائز نہیں کہ اس کو اس کے اہل میں زیادہ دیر تک رکھا جائے۔“
ڈوبنے والے کے (دفن سے پہلے) انتظار کرنے کے بارے میں ایک مرفوع حدیث روایت کی گئی ہے جس جیسی روایت ثابت نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6620]
ڈوبنے والے کے (دفن سے پہلے) انتظار کرنے کے بارے میں ایک مرفوع حدیث روایت کی گئی ہے جس جیسی روایت ثابت نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6620]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
1366. جماع أبواب غسل الميت -- باب: ما يستحب من غسل الميت في قميص
میت کو غسل دینے کے ابواب کا جامع بیان -- باب: میت کو قمیص میں (قمیص پہنے ہوئے) غسل دینے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6621
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفَ الْقَوْمُ فِيهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا، أَوْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟ فَأَلْقَى الله عَلَيْهِمُ السِّنَةَ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا نَائِمٌ ذَقْنُهُ عَلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ مَا يَدْرُونَ مَا هُوَ: اغْسِلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ، فَغَسَّلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ عَلَيْهِ وَيُدَلِّكُونَهُ مِنْ فَوْقِهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" وَايْمُ اللهِ، لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاؤُهُ"..
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کا ارادہ کیا گیا تو قوم نے اختلاف کیا۔ کچھ نے کہا: کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس اتاریں جیسے ہم اپنے فوت ہونے والوں کا لباس اتارتے ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں غسل دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اونگھ نازل کردی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا مگر نیند کی وجہ سے اس کی ٹھوڑی اس کی چھاتی کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور گھر کے کونے میں سے ایک کہنے والے نے کہا (اور وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے): ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دو اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے آپ کے جسدِ اطہر پر ہوں۔“ پھر انہوں نے آپ کو غسل دیا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر تھی اور اس پر وہ پانی ڈال رہے تھے، اوپر سے ہی مل رہے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”اللہ کی قسم! اگر مجھے اپنے معاملے کا پہلے وہ علم ہوتا جو بعد میں ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے سوا کوئی غسل نہ دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6621]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن