🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1377. -- باب: الرجل يغسل امرأته إذا ماتت
-- باب: شوہر کا اپنی بیوی کو وفات کے بعد غسل دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6662
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْأَنْصَارِيِّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْبَجَلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ:" أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ⦗٥٥٧⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَسَّلَ امْرَأَتَهُ حِينَ مَاتَتْ".
عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو غسل دیا جب وہ فوت ہو گئی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6662]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1378. -- باب: غسل المرأة زوجها
-- باب: عورت کا اپنے شوہر کو غسل دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6663
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ لِثَمَانٍ بَقِينَ مِنْ جُمَادَى الْآخِرَةِ سَنَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَوْصَى أَنْ تُغَسِّلَهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ امْرَأَتُهُ، وَأَنَّهَا ضَعُفَتْ فَاسْتَعَانَتْ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ". وَهَذَا الْحَدِيثُ الْمَوْصُولُ وَإِنْ كَانَ رَاوِيَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ صَاحِبُ التَّارِيخِ وَالْمَغَازِي فَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَلَهُ شَوَاهِدُ مَرَاسِيلُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ غَسَّلَتْ زَوْجَهَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَذَكَرَ بَعْضُهُمْ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْصَى بِذَلِكَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منگل کی رات فوت ہوئے، جمادی الآخرہ کی آٹھ راتیں باقی تھیں اور تیرہ ہجری تھی، انہوں نے وصیت کی کہ انہیں غسل سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا دیں جو ان کی بیوی تھیں اور تب وہ کمزور ہو چکی تھیں اس لیے ان کا تعاون سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔
یہ موصول حدیث، جبکہ اس کا راوی محمد بن عمر واقدی (صاحب تاریخ و مغازی) ہے، قوی نہیں ہے۔ اس کے کچھ مرسل شواہد ابن ابی ملیکہ سے، اور عطاء بن ابی رباح سے سعد بن ابراہیم سے ہیں کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غسل دیا، اور بعض نے ذکر کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی وصیت کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6663]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ الحاكم»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6664
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" رَحِمَ اللهُ امْرَأً غَسَّلَتْهُ امْرَأَتُهُ، وَكُفِّنَ فِي أَخْلَاقِهِ". قَالَتْ: فَفُعِلَ ذَلِكَ بِأَبِي بَكْرٍ، غَسَّلَتْهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ الْأَشْجَعِيَّةُ، وَكُفِّنَ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي كَانَ يَبْتَذِلُهَا. هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جسے اس کی بیوی نے غسل دیا اور وہ اپنے پرانے کپڑوں میں کفن دیا گیا۔“ وہ کہتی ہیں کہ ایسا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا، انہیں غسل ان کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے دیا اور کفن انہیں کپڑوں میں دیا گیا جو انہوں نے پرانے کر لیے تھے۔
یہ سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6664]
تخریج الحدیث: «باطل»

الحكم على الحديث: باطل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6665
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَتَلَهَّفَتْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَا يُتَلَهَّفُ إِلَّا عَلَى مَا يَجُوزُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اگر مجھے اپنے معاملے کا وہ پہلے معلوم ہوتا جو بعد میں معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے علاوہ کوئی غسل نہ دیتا۔
شیخ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس پر حسرت کا اظہار کیا اور حسرت صرف اسی بات پر کی جاتی ہے جو جائز ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6665]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن ماجه»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1379. -- باب: المسلم يغسل ذا قرابته من المشركين، ويتبع جنازته، ويدفنه، ولا يصلي عليه
-- باب: مسلمان اپنے مشرک رشتہ دار کو غسل دے، اس کے جنازے کے پیچھے جائے اور اسے دفن کرے، لیکن اس پر نماز نہ پڑھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6666
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، يَعْنِي أَبَاهُ، قَالَ:" اذْهَبْ فَوَارِهِ، وَلَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّى تَأْتِيَنِي" فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ، فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ دَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي مَا عَلَى الْأَرْضِ بِهِنَّ مِنْ شَيْءٍ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: آپ کا بوڑھا گمراہ چچا فوت ہو چکا ہے (یعنی میرا باپ)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر اسے دفن کر دو اور میرے پاس آنے تک کوئی نیا کام نہ کرنا“۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے غسل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعائیں کیں جو مجھے بہت ہی پسند ہیں، حتیٰ کہ ان سے بڑھ کر زمین کی کوئی چیز مجھے خوش نہیں کر سکتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6666]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6667
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ نَصْرَانِيًّا، فَقَالَ:" اغْسِلْهُ، وَكَفِّنْهِ، وَحَنِّطْهُ، ثُمَّ ادْفِنْهُ" ثُمَّ قَالَ: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى} [التوبة: ١١٣] الْآيَةَ".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا کہ میرے والد نصرانیت پر فوت ہو گئے۔ انہوں نے فرمایا: ”اسے غسل دے، کفن دے اور خوشبو لگا پھر اسے دفن کر دے۔“ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى﴾ [سورة التوبة: 113] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور نہ ہی اہل ایمان کے لیے یہ لائق ہے کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں اگرچہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6667]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ النسائي»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1380. -- باب: من لم ير الغسل من غسل الميت
-- باب: اس شخص کا قول جو میت کو غسل دینے کے بعد (غسل دینے والے کے لیے) غسل کو ضروری نہیں سمجھتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6668
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" لَيْسَ عَلَيْكُمْ فِي مَيِّتِكُمْ غُسْلٌ إِذَا غَسَّلْتُمُوهُ". وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عَطَاءٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”تمہارے مرنے والوں کی وجہ سے تم پر غسل نہیں ہے جب تم انہیں غسل دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6668]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1381. -- باب: المرأة تموت مع الرجال، ليس معهم امرأة
-- باب: عورت مردوں کے درمیان فوت ہو جائے اور ان کے ساتھ کوئی (دوسری) عورت نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6669
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَاتَتِ الْمَرْأَةُ مَعَ الرِّجَالِ لَيْسَ مَعَهُمُ امْرَأَةٌ غَيْرُهَا، وَالرَّجُلُ مَعَ النِّسَاءِ لَيْسَ مَعَهُنَّ رَجُلٌ غَيْرُهُ، فَإِنَّهُمَا يُتَيَمَّمَانِ وَيُدْفَنَانِ، وَهُمَا بِمَنْزِلَةِ مَنْ لَا يَجِدُ الْمَاءَ". هَذَا مُرْسَلٌ، وَرُوِي عَنْ سِنَانِ بْنِ غَرْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ مَعَ النِّسَاءِ، وَالْمَرْأَةِ تَمُوتُ مَعَ الرِّجَالِ، لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا مَحْرَمٌ" يُتَيَّمَّمَانِ بِالصَّعِيدِ وَلَا يُغَسَّلَانِ".
مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی عورت مردوں کے ساتھ فوت ہو جائے اور اس کے علاوہ ان کے ساتھ دوسری عورت نہ ہو یا پھر مرد اکیلا عورتوں کے ساتھ ہو اور ان کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی دوسرا مرد نہ ہو تو اس صورت میں ان دونوں کو تیمم کروا کے دفن کر دو اور وہ اس کے حکم میں ہیں جن کے پاس پانی نہ ہو۔“
یہ روایت مرسل ہے۔
سنان بن غرفہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ ”وہ شخص جو عورتوں کے ساتھ اکیلا تھا اور وہ فوت ہو گیا یا ایسے ہی عورت مردوں کے ساتھ اور اس کا کوئی محرم ساتھ نہیں تو ان کو مٹی کے ساتھ تیمم کروایا جائے گا اور غسل نہیں دیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6669]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6670
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فِي الْمَرْأَةِ تَمُوتُ مَعَ الرِّجَالِ لَيْسَ مَعَهُمُ امْرَأَةٌ، قَالَ:" تُرْمَسُ فِي ثِيَابِهَا". وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ:" تُيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ"، وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ" يُصَبُّ عَلَيْهَا الْمَاءُ مِنْ فَوْقِ الثِّيَابِ" وَكَذَا قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ.
نافع عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں اس عورت کے بارے میں جو مردوں کے ساتھ مر جائے اور ان کے ساتھ دوسری عورت نہ ہو تو وہ کپڑوں میں ہی دفن کر دی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6670]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1382. جماع أبواب عدد الكفن، وكيف الحنوط -- باب: السنة في تكفين الرجل في ثلاثة أثواب ليس فيهن قميص ولا عمامة
کفن کے کپڑوں کی تعداد اور حنوط (خوشبو) لگانے کے طریقے کے ابواب کا جامع بیان -- باب: مرد کو تین کپڑوں میں کفن دینے کے سنت ہونے کا بیان، جن میں نہ قمیص ہو اور نہ عمامہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6671
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْمُلَائِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ". لَفْظُ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَفِي رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ قَالَتْ:" كُفِّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ كُرْسُفٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَعَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا جو «سَحُولِيَّة» ”سحولیہ“ تھے، جن میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔
ثوری کی روایت میں ہے کہ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روئی کے تین کپڑوں میں کفن دیا گیا جو «سَحُولِيَّة» ”سحولیہ“ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6671]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں