🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1385. -- باب: الدليل على جواز التكفين في ثوب واحد
-- باب: ایک کپڑے میں کفن دینے کے جواز کی دلیل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6682
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٦٣⦘ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الْوَرَّاقُ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللهِ نَبْتَغِي وَجْهَ اللهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ: مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ شَيْءٌ يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً، فَكُنَّا إِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رَأْسِهِ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ضَعُوهَا مِمَّا يَلِي رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ" قَالَ: وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يُهْدِيهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے ہجرت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کی راہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے، ہمارا اجر اللہ پر واجب ہوگیا، ہم میں سے وہ بھی تھے جو اس اجر کا فائدہ اٹھائے بغیر چل دیے، ان میں سے ایک مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے، جو احد کے دن شہید کردیے گئے، ہم نے ایک موٹی چادر کے بغیر کوئی کپڑا نہ پایا جس میں ہم انھیں کفن دیتے، سو ہم جب اسے ان کے چہرے پر رکھتے یعنی سر پر ڈالتے تو ان کے پاؤں نکل آتے اور جب پاؤں پر ڈالتے تو سر ننگا ہوجاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو سر پر ڈال دو اور اس کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔“ پھر انہوں نے کہا: ہم میں سے وہ بھی ہیں جن کا پھل تیار ہوچکا ہے اور وہ اسے توڑ رہے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6682]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6683
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا، فَقَالَ:" قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَكُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ، إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ، قَالَ: وَأَرَاهُ قَالَ: وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا، أَوْ قَالَ: أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا، وَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا، وَجَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ وَغَيْرِهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ.
سعد بن ابراہیم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لایا گیا اور وہ روزے سے تھے تو انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے اور انہیں ایسی چادر میں کفن دیا گیا کہ اگر اس سے سر کو ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر قدم ڈھانپے جاتے تو سر ننگا ہو جاتا۔ میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے اور وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ پھر ہمارے لیے دنیا فراخ کر دی گئی یا انہوں نے کہا: ہمیں دنیا دی گئی جس قدر دی گئی اور ہمیں ڈر ہونے لگا کہ ہماری بھلائیاں ہمارے لیے جلد عطا کر دی گئی ہیں اور وہ رونا شروع ہو گئے۔ یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6683]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6684
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ:" لَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاحِيَةً وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ تَؤُمُّ الْقَتْلَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَرْأَةَ الْمَرْأَةَ" فَلَمَّا تَوَسَّمْتُهَا فَإِذَا هِيَ أُمِّي صَفِيَّةُ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ، ارْجِعِي، فَلَدَمَتْ فِي صَدْرِي وَقَالَتْ: لَا أَرْضَ لَكَ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْزِمُ عَلَيْكِ قَالَ: فَأَعْطَتْنِي ثَوْبَيْنِ، فَقَالَتْ: كَفِّنُوا فِي هَذَيْنِ أَخِي، قَالَ: فَوَجَدْنَا إِلَى جَنْبِ حَمْزَةَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ لَيْسَ لَهُ كَفَنٌ، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا غَضَاضَةً أَنْ نُكَفِّنَ حَمْزَةَ فِي ثَوْبَيْنِ وَالْأَنْصَارِيُّ إِلَى جَنْبِهِ لَيْسَ لَهُ كَفَنٌ، قَالَ: فَأَقْرَعْنَا بَيْنَهُمَا فِي أَجْوَدِ الثَّوْبَيْنِ فَكَفَّنَّا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي الثَّوْبِ الَّذِي طَارَ لَهُ".
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ احد کے دن جب مشرک واپس پلٹے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جانب بیٹھ گئے۔ اسی اثناء میں ایک عورت آئی جو مقتولین کا جائزہ لے رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت! عورت!“ جب میں نے اسے پرکھا تو وہ میری والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں، میں نے کہا: ”امی جان! واپس چلی جائیں۔“ تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: «لَا أَرْضَ لَكَ» ”تیرے لیے زمین نہ ہو۔“ میں نے کہا: ”پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ (کو واپس جانے) کا عزم کرتے ہیں۔“ وہ کہتے ہیں، پھر انہوں نے مجھے دو کپڑے دیے اور کہا کہ میرے بھائی کو ان میں کفن دو۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کی میت کو دیکھا جس پر کفن نہیں تھا تو ہم نے اپنے دل میں کچھ پریشانی و اضطراب پایا کہ ہم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو تو دو کپڑوں میں کفن دیں اور ان کے پہلو میں موجود انصاری پر کفن نہ ہو۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے ان دونوں میں سے بہتر کپڑے کے لیے ان دونوں کے درمیان قرعہ ڈالا، پھر ہم نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو اس کپڑے میں کفن دیا جو اس کے حصے میں آیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6684]
تخریج الحدیث: «جيد۔ أخرجه احمد»

الحكم على الحديث: جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1386. -- باب: جواز التكفين في القميص وإنا كنا نختار ما اختير لرسول الله صلى الله عليه وسلم
-- باب: قمیص میں کفن دینے کا جواز اور ہمارا اسی چیز کو پسند کرنا جو رسول اللہ ﷺ کے لیے پسند کی گئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6685
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ:" أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، أَوْ فَخِذَيْهِ، فَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ". وَاللهُ أَعْلَمُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَالِكِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر کے پاس آئے، اس کے بعد جب اسے قبر میں ڈال دیا گیا تھا، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے نکالا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اپنا لعابِ مبارک اس پر ڈالا اور اپنی قمیض اسے پہنائی اور اللہ زیادہ جانتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6685]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6686
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: لَمَّا كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِالْمَدِينَةِ طَلَبَتْ لَهُ الْأَنْصَارُ ثَوْبًا يَكْسُونَهُ، فَلَمْ يَجِدُوا قَمِيصًا يَصْلُحُ عَلَيْهِ إِلَّا قَمِيصَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَكَسَوْهُ إِيَّاهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيِّ عَنْ سُفْيَانَ، وَقَدْ قِيلَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَدَ بِمَا فَعَلَ مَكَافَأَتَهُ بِمَا صَنَعَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ مدینے میں تھے، انصاریوں نے انہیں پہنانے کے لیے کپڑا تلاش کیا تو انہوں نے کوئی قمیص نہ پائی جو انہیں پوری آتی سوائے عبداللہ بن ابی (منافق) کی قمیص کے، چنانچہ انہوں نے وہی قمیص انہیں پہنا دی۔
کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ بدلہ دینے کی بنا پر کیا جو اس نے کیا تھا (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو قمیص پہنائی تھی)۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6686]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6687
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَزَادَ قَالَ سُفْيَانُ: فَلَعَلَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَازَاهُ بِذَلِكَ الْقَمِيصِ.
اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں سفیان رحمہ اللہ نے ایسی ہی حدیث بیان کی اور سفیان رحمہ اللہ نے یہ اضافی بات کہی کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قمیض اس لیے پہنائی کہ اس کا بدلہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6687]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6688
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ، فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ اللهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللهُ فَقَالَ {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ، أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ} [التوبة: ٨٠] وَسَأَزِيدُ عَلَى سَبْعِينَ" قَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} [التوبة: ٨٤] " الْآيَةَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَغَيْرِهِ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول فوت ہوا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سوال کیا کہ میرے ابا کو کفن دینے کے لیے اپنی قمیض دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دے دی۔ پھر اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ پڑھ دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے پڑھانے کے لیے کھڑے ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیض کو پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اس کا جنازہ پڑھائیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منع کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے“ اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80] کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں اور اگر آپ ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تب بھی انہیں معاف نہیں کرے گا اور ”شاید میں ستر سے بھی زیادہ کروں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ منافق ہے۔ کہتے ہیں: تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] کہ آئندہ آپ ان میں سے کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھیں گے اور نہ ہی کبھی ان کی قبر پر کھڑے ہونا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6688]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6689
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ:" الْمَيِّتُ يُقَمَّصُ، وَيُؤَزَّرُ، وَيُلَفُّ بِالثَّوْبِ الثَّالِثِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ كُفِّنَ فِيهِ". وَهَذَا مَوْقُوفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میت کو قمیض پہنائی جائے گی اور تہہ بند بھی اور تیسرے کپڑے میں لپیٹ دیا جائے گا، اگر صرف ایک ہی کپڑا ہو تو اسی میں کفن دیا جائے گا۔
یہ روایت موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6689]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1387. -- باب: استحباب البياض في الكفن
-- باب: کفن میں سفید رنگ کے مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6690
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَالْحَكَمُ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ؛ فَإِنَّهَا أَطْيَبُ وَأَطْهَرُ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ".
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید کپڑے پہنا کرو، بیشک وہ پاکیزہ اور صاف شفاف ہوتے ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6690]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ معني تخريجه في 5969»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6691
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالْبَيَاضِ، فَلْيَلْبَسْهُ أَحْيَاؤُكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهِ مَوْتَاكُمْ؛ فَإِنَّهُ مِنْ خَيْرِ لِبَاسِكُمْ". وَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابِ الْجُمُعَةِ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفیدی کو اپنے لیے لازم کر لو۔ تمہارے زندوں کو چاہیے کہ وہ اسے پہنیں اور اس میں اپنے مردوں کو کفن دیں۔ بے شک وہ تمہارے بہترین لباس میں سے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6691]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں