السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1388. -- باب: من استحب فيه الحبرة وما صبغ غزله ثم نسج
-- باب: جس نے کفن میں یمنی دھاری دار چادر اور اس کپڑے کو مستحب قرار دیا جس کا سوت رنگا گیا ہو اور پھر بُنا گیا ہو
حدیث نمبر: 6692
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا تُوُفِّيَ أَحَدُكُمْ فَوَجَدَ شَيْئًا فَلْيُكَفَّنْ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب تم میں سے کوئی فوت ہو جائے اور (اس کے پاس) کچھ گنجائش ہو تو اسے یمنی کپڑے میں کفن دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6692]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6693
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ، وَخَيْرُ الْأُضْحِيَّةِ الْكَبْشُ الْأَقْرَنُ". قَالَ الشَّيْخُ: وَالْحُلَّةُ هِيَ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ غَالِبًا، ⦗٥٦٦⦘ وَالْأَحَادِيثُ فِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثِيَابٍ بِيضٍ، وَأَنَّهُ اسْتَحَبَّ الْبَيَاضَ أَصَحُّ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین کفن حلہ ہے اور بہترین قربانی سینگوں والے مینڈھے کی ہے۔“ حلہ عام طور پر سرخ رنگ کے دو کپڑے ہوتے ہیں۔ اور وہ احادیث زیادہ صحیح ہیں جن میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگ کو پسند فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6693]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
1389. -- باب: ما يستحب من تحسين الكفن
-- باب: کفن کو عمدہ بنانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6694
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ خَطَبَ يَوْمًا وَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، وَقُبِرَ لَيْلًا، فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ الْإِنْسَانُ إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اپنے صحابہ میں سے ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیا جو فوت ہو گیا تھا اور اسے ایسے کفن میں لپیٹا گیا جو عمدہ نہیں تھا اور اسے رات ہی کو دفن کر دیا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر ڈانٹا کہ اسے رات ہی کے وقت کیوں دفن کیا گیا، تاکہ اس کی نماز جنازہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود) ادا فرماتے، الا یہ کہ انسان اس کے لیے مجبور ہو جائے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے، تو اسے چاہیے کہ وہ اچھا کفن دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6694]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
1390. -- باب: من كره ترك القصد فيه
-- باب: جس نے اس (کفن) میں میانہ روی ترک کرنے کو مکروہ قرار دیا
حدیث نمبر: 6695
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا عَمْرٌو أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَا يُغَالَى فِي كَفَنٍ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تُغَالُوا فِي الْكَفَنِ؛ فَإِنَّهُ يُسْلَبُ سَلْبًا سَرِيعًا".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کفن زیادہ قیمتی نہ بنایا جائے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”کفن میں قیمتی کفن نہ بناؤ، کیونکہ وہ جلد ہی چھین لیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6695]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6696
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ حُذَيْفَةَ الْمَوْتُ قَالَ:" ابْتَاعُوا لِي كَفَنًا". قَالَ: فَأُتِيَ بِحُلَّةٍ ثَمَنِ ثَلَاثِ مِائَةٍ وَخَمْسِينَ دِرْهَمًا، فَقَالَ:" لَا حَاجَةَ لِي بِهَا، اشْتَرُوا لِي ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ؛ فَإِنَّهُمَا لَنْ يُتْرَكَا عَلَيَّ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى أُبْدَلَ بِهَا خَيْرًا مِنْهُمَا" أَوْ شَرًّا مِنْهُمَا".
ابواسحاق، صلہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے کہا: میرے لیے کفن خرید لو، تو ان کے پاس ایک حلہ لایا گیا جس کی قیمت تین سو پچاس (350) درہم تھی، تو وہ کہنے لگے: مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔ میرے لیے صرف دو سفید کپڑے خرید لاؤ کیونکہ وہ مجھ پر نہیں چھوڑے جائیں گے مگر تھوڑی دیر کے لیے، یہاں تک کہ ان سے بہتر تبدیل کر دیے جائیں گے یا ان سے بدتر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6696]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الطبراني»
الحكم على الحديث: صحيح
1391. -- باب: من استعد الكفن في حال الحياة
-- باب: جس نے زندگی میں ہی کفن تیار کر لیا
حدیث نمبر: 6697
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، وَالْمَنِيعِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ: أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ مِنْهَا حَاشِيَتُهَا، ثُمَّ قَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ؟" قَالُوا" الشَّمْلَةُ، قَالَ:" نَعَمْ" فَقَالَتْ: نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي، فَجِئْتُ لِأَكْسُوَكَهَا، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ أَوْ رِدَاؤُهُ، شَكَّ أَبُو إِبْرَاهِيمَ، فَجَسَّهَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، لِرَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْبُرْدَةَ، أَكَسَيْتَنِيهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوَاهَا فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: وَاللهِ مَا أَحْسَنْتَ، لَبِسَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ ⦗٥٦٧⦘ إِيَّاهَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا، فَقَالَ: وَاللهِ مَا سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا إِلَّا لِيَكُونَ كَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ". قَالَ سَهْلٌ: وَكَانَتْ كَفَنَهُ يَوْمَ مَاتَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَلَمْ يَشُكَّ فِي الْإِزَارِ.
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت بنی ہوئی چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی جس میں حاشیہ بھی تھا۔ پھر انہوں نے کہا: ”کیا تم جانتے ہو یہ «بُرْدَة» کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: (شملہ) چادر ہے، تو انہوں نے کہا: ”ہاں ہاں۔“ وہ عورت کہنے لگی: ”اسے میں نے اپنے ہاتھ سے بُنا ہے، میں اس لیے لائی ہوں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہناؤں۔“ تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہن لیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی ضرورت محسوس کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اس حال میں کہ وہ آپ کا تہبند یا چادر تھی (ابوابراہیم کو شک ہے)، اسے ایک آدمی نے چھوا جس کا انہوں نے اس دن نام لیا تھا اور اس نے کہا: ”یہ چادر کتنی اچھی ہے، کیا آپ مجھے پہنائیں گے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر آئے تو وہ چادر اس صحابی کو بھیج دی۔ لوگوں نے اسے کہا: ”اللہ کی قسم! تو نے اچھا نہیں کیا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت محسوس کرتے ہوئے اسے پہنا تھا مگر تو نے وہی مانگ لی اور تو جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سائل کو نہیں لوٹایا کرتے۔“ تو اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے یہ نہیں مانگی مگر اس لیے کہ یہ میرا کفن بن جائے جب میں مر جاؤں۔“ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب وہ فوت ہوا تو وہی چادر اس کا کفن بنی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6697]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1392. -- باب: الحنوط للميت
-- باب: میت کو حنوط (خوشبو) لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 6698
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَمْرٌو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَوَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَوَقَصَتْهُ، وَقَالَ عَمْرٌو: فَأَقْعَصَتْهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يُلَبِّي". وَقَالَ عَمْرٌو" مُلَبِّيًا" قَالَ إِسْمَاعِيلُ: هَكَذَا قَالَ مُسَدَّدٌ، وَخَالَفَهُ عَارِمٌ وَسُلَيْمَانُ اتَّفَقَا عَلَى أَنَّ عَمْرًا قَالَ" يُلَبِّي" وَأَنَّ أَيُّوبَ قَالَ:" مُلَبِّيًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، كَمَا مَضَى. وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ غَيْرَ الْمُحْرِمِ يُحَنَّطُ كَمَا يُخَمَّرُ، وَأَنَّ النَّهْيَ وَقَعَ لِأَجْلِ الْإِحْرَامِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی عرفات میں پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی سواری پر تھا، اس کی سواری نے اسے گرا دیا تو وہ فوت ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ ہی اس کے سر کو ڈھانپو، بیشک اللہ تعالیٰ اسے تلبیہ کہتے ہوئے اٹھائیں گے۔“ اس سے یہ ثابت ہوا کہ جو محرم نہ ہو اسے خوشبو لگائی جائے گی اور سر بھی ڈھانپا جائے گا کیونکہ اس سے منع احرام کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6698]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني تخريجه 6637»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6699
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيٍّ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ آدَمَ لَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَالَ لِبَنِيهِ: يَا بَنِيَّ، إِنِّي مَرِيضٌ، وَإِنِّي أَشْتَهِي مَا يَشْتَهِي الْمَرِيضُ، وَإِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثِمَارٍ مِنَ الْجَنَّةِ، فَابْغُوا لِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ، فَلَقِيَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا، فَقَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ، أَيْنَ تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نَبْغِي أَبَانَا مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: ارْجِعُوا، فَقَدْ أُمِرَ بِقَبْضِ رَوْحِ أَبِيكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ، قَالَ: فَقَبَضُوا رُوحَهُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ، وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ، وَصَلُّوا عَلَيْهِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ، هَذِهِ سُنَّتُكُمْ فِي مَوْتَاكُمْ". يَرْفَعُهُ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ وَوَقَفَهُ هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، وَغَيْرُهُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَزَادَ فِيهِ بَعْضُهُمْ: ثُمَّ حَفَرُوا لَهُ ثُمَّ دَفَنُوهُ، وَزَادَ: وَكَذَلِكُمْ فَافْعَلُوا..
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدم بیمار ہوئے جس بیماری میں وہ فوت ہوئے تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: اے میرے بیٹو! میں بیمار ہوں اور میں بھی وہی کچھ چاہتا ہوں جو مریض چاہتا ہے اور میں جنت کا پھل چاہتا ہوں۔ وہ میرے لیے تلاش کرو۔ وہ نکلے اور زمین میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ انہیں اچانک فرشتے ملے اور کہنے لگے: اے آدم کے بیٹو! تم کیا ارادہ کرتے ہو؟ وہ کہنے لگے: ہم اپنے بابا جان کے لیے جنت کا پھل ڈھونڈ رہے ہیں۔ فرشتوں نے کہا: واپس پلٹ جاؤ کیونکہ تمہارے باپ کی روح قبض کرنے اور جنت کی طرف لے جانے کا حکم ملا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو فرشتوں نے آدم کی روح قبض کر لی اور وہ سب دیکھ رہے تھے، انہوں نے اسے کفن دیا، خوشبو لگائی اور وہ دیکھ رہے تھے اور انہوں نے آدم کی نماز جنازہ پڑھی اور وہ دیکھ رہے تھے، پھر انہوں نے کہا: اے آدم کے بیٹو! تمہارے لیے تمہارے مردوں میں یہی سنت و طریقہ ہے۔“
خارجہ بن مصعب نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور ہشیم بن بشیر وغیرہ نے یونس بن عبید سے اسے موقوف بیان کیا ہے، اور بعض راویوں نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ پھر انہوں نے ان کے لیے قبر کھودی، پھر انہیں دفن کر دیا، اور یہ بھی اضافہ کیا: اور تم بھی اسی طرح کیا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6699]
خارجہ بن مصعب نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور ہشیم بن بشیر وغیرہ نے یونس بن عبید سے اسے موقوف بیان کیا ہے، اور بعض راویوں نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ پھر انہوں نے ان کے لیے قبر کھودی، پھر انہیں دفن کر دیا، اور یہ بھی اضافہ کیا: اور تم بھی اسی طرح کیا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6699]
تخریج الحدیث: «باطل۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: باطل
حدیث نمبر: 6700
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنِي عُتَيٌّ السَّعْدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ، يُحَدِّثُ قَالَ: لَمَّا احْتُضِرَ آدَمُ، فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا بِمَعْنَاهُ.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا آدم (علیہ السلام) کی موت کا وقت آیا۔۔۔ آگے اسی مفہوم کی پوری حدیث موقوفاً بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6700]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6701
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ ⦗٥٦٨⦘ الْقَاسِمِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تُوُفِّيَتِ الْمَرْأَةُ فَأَرَادُوا أَنْ يُغَسِّلُوهَا" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ:" ثُمَّ احْشِي سُفْلَتَهَا كُرْسُفًا مَا اسْتَطَعْتِ، ثُمَّ أَمِّسِي كُرْسُفَهَا مِنْ طِيبِهَا، ثُمَّ خُذِي سَبَنِيَّةً طَوِيلَةً مَغْسُولَةً فَارْبِطِيهَا عَلَى عَجُزِهَا كَمَا يُرْبَطُ النِّطَاقُ، ثُمَّ اعْقِدِيهَا بَيْنَ فَخِذَيْهَا، وَضُمِّي فَخِذَيْهَا، ثُمَّ أَلْقِي طَرَفَ السَّبَنِيَّةِ مِنْ عِنْدِ عَجُزِهَا إِلَى قَرِيبٍ مِنْ رُكْبَتَيْهَا، فَهَذَا بَيَانُ سُفْلَتِهَا، ثُمَّ طَيِّبِيهَا وَكَفِّنِيهَا".
ام سلیم انس بن مالک رضی اللہ عنہما کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت فوت ہوگئی اور اسے غسل دینے کا ارادہ کیا۔۔۔ (لمبی حدیث بیان کی) اور کہا: پھر اس کے نیچے روئی کا حاشیہ بنا، جس قدر تو بنا سکتی ہے۔ پھر اس روئی کو خوشبو میں بھگو دے۔ پھر صاف لمبا تہہ بند لو اور اس کی کمر کے ساتھ باندھ دو جیسے کمر بند باندھا جاتا ہے۔ پھر اس کی رانوں کے درمیان اس سے گرہ لگاؤ اور اس کے کولہوں کو دباؤ۔ پھر اس کے تہہ بند کی ایک طرف اس کی کمر سے گھٹنوں تک ڈال دو۔ یہ ہے «سُفْلَة» سے مراد۔ پھر اسے خوشبو لگاؤ اور کفن پہناؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6701]
تخریج الحدیث: «منكر۔ الطبراني»
الحكم على الحديث: منكر