🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1500. -- باب: من كره النعي والإيذان والقدر الذي لا يكره منه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے موت کی خبر دینے اور اعلان کرنے کو مکروہ سمجھا ہے اور اس مقدار کا بیان جس میں کراہت نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7179
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ الْعَبْسِيَّ، ثنا بِلَالٌ الْعَبْسِيُّ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ إِذَا كَانَتْ فِي أَهْلِهِ جِنَازَةٌ لَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَحَدًا وَيَقُولُ:" إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ" ⦗١٢٤⦘ وَيُرْوَى فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ عَنْ عَلْقَمَةَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَالرَّبِيعِ بْنِ خَيْثَمٍ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَبَلَغَنِي عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا أُحِبُّ الصِّيَاحَ لِمَوْتِ الرَّجُلِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ وَلَوْ وَقَفَ عَلَى حِلَقِ الْمَسَاجِدِ فَأَعْلَمَ النَّاسِ بِمَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ بِهِ بَأْسٌ وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى جَعْفَرًا وَزَيْدًا وَابْنَ رَوَاحَةَ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ وَعَنْهُ فِي مَوْتِ الْإِنْسَانِ الَّذِي كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ وَدُفِنَ لَيْلًا أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي وَفِي رِوَايَةٍ مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي؟.
بلال عبسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں جب کوئی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی کسی کو اطلاع نہ دیتے اور فرماتے: ”مجھے ڈر ہے کہ یہ نعی (موت کا اعلان) نہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعی سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔“
اس بارے میں سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہم سے، پھر علقمہ، ابن مسیب، ربیع بن خثیم اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ سے بھی روایت کیا جاتا ہے۔ مالک بن انس رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: کسی آدمی کی موت پر مسجدوں کے دروازوں پر چیخنا مجھے پسند نہیں، اور اگر کوئی مسجدوں کے حلقوں کے پاس کھڑا ہو کر لوگوں کو اس کی موت کی اطلاع دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہمیں روایت پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر، زید اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی موت کی خبر دی، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی موت کی خبر دی، اور انہی سے اس آدمی کی موت کے بارے میں جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا اور رات کو دفن کر دیا گیا: ”تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟“ اور ایک روایت میں ہے: ”تمہیں مجھے آگاہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7179]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ترمذي»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7180
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ الْوَاشِحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ رَافِعٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، مَاتَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَأُتِيَ ابْنُ عُمَرَ فَأُخْبِرَ بِمَوْتِهِ، فَقِيلَ لَهُ مَا تَرَى أَيُخْرَجُ بِجِنَازَتِهِ السَّاعَةَ فَقَالَ:" إِنَّ مِثْلَ رَافِعٍ لَا يُخْرَجُ بِهِ حَتَّى يُؤْذَنَ بِهِ مَنْ حَوْلِنَا مِنَ الْقُرَى فَأَصْبِحُوا وَاخْرُجُوا بِجِنَازَتِهِ".
ابن رافع اپنی دادی سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ عصر کے بعد فوت ہوئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ان کی موت کی خبر دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ کیا خیال ہے ان کا جنازہ ابھی نکالا جائے؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رافع جیسے آدمیوں کا جنازہ نہیں نکالا جا سکتا جب تک قریب کی بستیوں میں اعلان نہ کر دیا جائے، لہٰذا صبح تک ٹھہرو اور پھر ان کا جنازہ لے کر نکلو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7180]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7181
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كُنَّا مَقْدِمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَضَرَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ حَتَّى إِذَا قُبِضَ انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى يُدْفَنَ وَرُبَّمَا قَعَدَ وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى يُدْفَنَ، وَرُبَّمَا طَالَ حَبْسُ ذَلِكَ عَلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا خَشِينَا مَشَقَّةَ ذَلِكَ عَلَيْهِ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِبَعْضٍ: لَوْ كُنَّا لَا نُؤْذِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَدٍ حَتَّى يُقْبَضَ فَإِذَا قُبِضَ آذَنَّاهُ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ مَشَقَّةٌ وَلَا حَبْسٌ فَفَعَلْنَا ذَلِكَ فَكُنَّا نُؤْذِنُهُ بِالْمَيِّتِ بَعْدَ أَنْ يَمُوتَ فَيَأْتِيَهُ وَيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَرُبَّمَا انْصَرَفَ وَرُبَّمَا مَكَثَ حَتَّى يُدْفَنَ الْمَيِّتُ فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ حِينًا ثُمَّ قُلْنَا لَوْ لَمْ نُشْخِصِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلْنَا جِنَازَتَنَا إِلَيْهِ حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهِ عِنْدَ بَيْتِهِ لَكَانَ ذَلِكَ أَرْفَقَ بِهِ فَفَعَلْنَا فَكَانَ ذَلِكَ الْأَمْرُ إِلَى الْيَوْمِ".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ) تشریف لائے تھے تو جب ہم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آتا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور اس کے لیے استغفار کرتے۔ جب وہ فوت ہوجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی واپس چلے جاتے۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دفن ہونے تک بیٹھ جاتے اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ٹھہرنا زیادہ ہوجاتا۔ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشقت سے ڈرے تو کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا کہ کیوں نہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تب اطلاع کریں جب آدمی فوت ہوجائے، پھر جب وہ فوت ہوجاتا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرتے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت نہ ہوتی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ رکنا پڑتا، پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میت کے فوت ہونے کے بعد اطلاع دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور جنازہ پڑھتے، کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جاتے اور کبھی میت کے دفن تک رک جاتے۔ پھر ہم کچھ عرصہ ایسے ہی کرتے رہے۔ پھر ہم نے کہا: اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زحمت نہ دیں اور جنازہ اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے پاس ہی اس کا جنازہ پڑھیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ آسان ہوگا۔ پھر ہم نے ایسا ہی کیا اور وہ معاملہ آج تک ایسے ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7181]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أحمد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1501. -- باب: كراهية رفع الصوت في الجنائز والقدر الذي لا يكره منه
-- باب: جنازوں میں آواز بلند کرنے کی کراہت اور اس مقدار کا بیان جس میں کراہت نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7182
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ" كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُونَ رَفْعَ الصَّوْتِ عِنْدَ الْجَنَائِزِ وَعِنْدَ الْقِتَالِ وَعِنْدَ الذِّكْرِ".
قیس بن عباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہم جنازے کے وقت، لڑائی کے وقت اور ذکر کے وقت آواز بلند کرنا ناپسند کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7182]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7183
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، قَالَ: كَانَ الْحَسَنُ فِي جِنَازَةِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَ أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعِجْلِيُّ: يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّهُ لَيُعْجِبُنِي أَنِّي لَا أَسْمَعُ فِي الْجَنَائِزِ صَوْتًا. فَقَالَ" إِنَّ لِلْخَيْرِ أَهْلِينَ" وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُمْ كَرِهُوا أَنْ يُقَالَ فِي الْجِنَازَةِ: اسْتَغْفِرُوا لَهُ غَفَرَ اللهُ لَكُمْ.
اسود بن شیبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ، نصر بن انس رحمہ اللہ کے جنازے میں تھے تو اشعث بن سلیم عجلی رحمہ اللہ نے کہا: ”اے ابوسعید! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں جنازہ میں کوئی آواز نہ سنوں۔“ تو انہوں نے کہا: ”تو خیر کا ہی اہل ہے۔“
سعید بن مسیب، حسن بصری، سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ نے ناپسند کیا ہے کہ جنازہ میں یہ کہا جائے: ”اس کے لیے استغفار کرو، اللہ تمہیں معاف کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7183]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المؤلف»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1502. -- باب: الثناء على الميت وذكره بما كان فيه من الخير
-- باب: میت کی تعریف کرنے اور اس میں موجود بھلائی کا ذکر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7184
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: مَرُّوا بِجِنَازَةٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ" ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ:" وَجَبَتْ" فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" هَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَهَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ ایک جنازے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس کی اچھی تعریف کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ پھر دوسرا جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا واجب ہوگئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی تم نے اچھائی بیان کی اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جس کی برائی بیان کی اس پر دوزخ واجب ہوگئی اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7184]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7185
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مُرَّ بِجِنَازَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَثْنُوا عَلَيْهِ" فَقَالُوا: كَانَ فِيمَا عَلِمْنَا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ:" وَجَبَتْ" قَالَ ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ:" أَثْنُوا" عَلَيْهِ فَقَالُوا: بِئْسَ الْمَرْءُ كَانَ فِي دِينِ اللهِ، فَقَالَ:" وَجَبَتْ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تعریف بیان کرو۔“ انہوں نے کہا: ہم جانتے ہیں کہ وہ اللہ اور رسول سے محبت کرتا تھا، یعنی اس کی اچھی تعریف کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے دوسرا جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بارے میں بیان کرو۔“ تو اس کے بارے میں لوگوں نے بری بات کہی کہ وہ اللہ کے دین کے ساتھ اچھا نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر واجب ہو گئی اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7185]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7186
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ عَفَّانُ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَمَرَّتْ بِهِمْ جِنَازَةٌ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ. ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثِ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا شَرًّا فَقَالَ عُمَرُ: ⦗١٢٦⦘ وَجَبَتْ. فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ فَقُلْتُ: مَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ" قَالَ: قُلْنَا وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ:" وَثَلَاثَةٌ" قَالَ: قُلْنَا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ:" وَاثْنَانِ"، قَالَ: لَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: قَالَ عَفَّانُ فَذَكَرَهُ.
ابوالاسود دیلی فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کی طرف نکلا اور وہاں بیماری تھی تو میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گیا، تو ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اس کی اچھی تعریف کی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہوگئی۔“ پھر دوسرا جنازہ گزرا اس کی اچھائی بیان کی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہوگئی۔“ پھر تیسرا جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہوگئی۔“ ابوالاسود کہتے ہیں: میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا واجب ہوگئی؟ انہوں نے کہا: میں نے بھی ویسے ہی کہا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جس مسلمان کے لیے چار بندے اس کی بھلائی (نیکی) کی گواہی دے دیں تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے۔“ ہم نے کہا: اگر تین ہوں؟ تو انہوں نے کہا: ”تین بھی۔“ ہم نے کہا: دو ہوں؟ تو انہوں نے کہا: ”دو بھی۔“ پھر ہم نے ایک کے بارے میں نہ پوچھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7186]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1503. -- باب: النهي عن سب الأموات والأمر بالكف عن مساوئهم، إذا كان مستغنيا عن ذكرها
-- باب: مردوں کو برا بھلا کہنے کی ممانعت اور ان کی برائیوں سے رکنے کے حکم کا بیان، جب کہ ان کے ذکر کی ضرورت نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7187
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کو گالی نہ دو کیونکہ جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا وہ اس کی طرف جا چکے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7187]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7188
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ، بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُؤْذُوا مُسْلِمًا بِشَتْمِ كَافِرٍ".
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسلمانوں کو اذیت نہ دو کافروں کو گالیاں دے کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7188]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں