السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1503. -- باب: النهي عن سب الأموات والأمر بالكف عن مساوئهم، إذا كان مستغنيا عن ذكرها
-- باب: مردوں کو برا بھلا کہنے کی ممانعت اور ان کی برائیوں سے رکنے کے حکم کا بیان، جب کہ ان کے ذکر کی ضرورت نہ ہو
حدیث نمبر: 7189
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِئِهِمْ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: مُرَّ بِجِنَازَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ" أَثْنُوا عَلَيْهِ" فَأَثْنَوْا خَيْرًا، وَمُرَّ بِأُخْرَى فَقَالَ:" أَثْنُوا عَلَيْهِ" فَأَثْنَوْا شَرًّا وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُمْ إِنَّمَا أَثْنَوْا عَلَى الْجِنَازَتَيْنِ عَلَى إِحْدَاهُمَا بِالْخَيْرِ وَعَلَى الْأُخْرَى بِالشَّرِّ عِنْدَ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثَّنَاءِ عَلَيْهِمَا، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ ذِكْرِ الْمَرْءِ بِمَا يَعْلَمُهُ مِنْهُ إِذَا وَقَعَتِ الْحَاجَةُ إِلَيْهِ نَحْوَ سُؤَالِ الْقَاضِي الْمُزَكِّي وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ وَكَأَنَّ الَّذِي أَثْنَوْا عَلَيْهِ شَرًّا كَانَ مُعْلِنًا بَشَرِّهِ ⦗١٢٧⦘ فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجْرَ أَمْثَالِهِ عَنْ شُرُورِهِمْ وَعَنْ إِطَالَةِ الْأَلْسِنَةِ فِي أَنْفُسِهِمْ فَقَالَ مَا قَالَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مردوں کے محاسن کا تذکرہ کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز آ جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7189]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أبو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
1504. -- باب: لا يشهد لأحد بجنة ولا بنار إلا لمن شهد له رسول الله صلى الله عليه وسلم بها
-- باب: کسی کے جنتی یا جہنمی ہونے کی گواہی نہیں دی جائے گی سوائے اس شخص کے جس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کی گواہی دی ہو
حدیث نمبر: 7190
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِمْ قَدْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَارَ لَهُمْ فِي سَهْمِ السُّكْنَى حِينَ اقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ فِي سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ: فَسَكَنَ عِنْدَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَاشْتَكَى فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي ثِيَابِهِ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللهَ أَكْرَمَهُ" فَقُلْتُ لَا أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا عُثْمَانُ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ،" وَاللهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللهِ مَا يُفْعَلُ بِي" قَالَتْ: فَوَاللهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا أَبَدًا وَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ:" ذَاكَ عَمَلُهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
خارجہ بن زید، ام العلاء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، وہ خبر دیتی ہیں کہ جب انصار اور مہاجرین کے درمیان (رہائش کے لیے) قرعہ اندازی کی گئی تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی رہائش کا قرعہ ان کے نام نکلا۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں ٹھہرے اور وہ بیمار ہو گئے، ہم نے ان کی تیمار داری کی حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے اور ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا۔ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: ”اے ابو سائب! تجھ پر اللہ کی رحمت ہو، میں تیرے حق میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے تجھے عزت بخشی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کیا معلوم کہ اللہ نے اسے عزت بخشی ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نہیں جانتی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن عثمان، تو اس کے پاس «الْيَقِينُ» ”موت“ آ چکی ہے اور میں اس کے لیے اللہ سے خیر کی امید رکھتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“ وہ فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے کبھی کسی کو (قطعی طور پر) پاکیزہ نہیں کہا، اور اس بات نے مجھے غمگین کر دیا، پھر میں سو گئی تو مجھے خواب میں عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک چشمہ دکھایا گیا جو بہہ رہا تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے اعمال (کا صلہ) ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7190]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7191
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةُ تَقُولُ، فَذَكَرَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مَا يُفْعَلُ بِهِ، وَزَادَ قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ غَيْرَ الزُّهْرِيِّ يَقُولُ: كَرِهَ الْمُسْلِمُونَ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ حَتَّى تُوُفِّيَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الْحَقِي بِفَرَطِنَا عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ.
خارجہ بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام العلاء انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں، پھر اسی حدیث کا مفہوم بیان کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: ”اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“ اور یہ اضافہ کیا کہ معمر نے کہا: میں نے زہری کے علاوہ کسی اور کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو فرمایا تھا وہ مسلمانوں کو ناگوار گزرا، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فوت ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے پیش رو عثمان بن مظعون سے جا ملو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7191]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
1505. -- باب: زيارة القبور
-- باب: قبروں کی زیارت کا بیان
حدیث نمبر: 7192
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: زَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى ⦗١٢٨⦘ وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ فَقَالَ:" اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، فَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ؛ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْمَوْتَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو دیے اور جو ارد گرد تھے ان کو بھی رلا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے ان کی بخشش کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ ملی، پھر میں نے زیارتِ قبر کی اجازت طلب کی تو وہ مجھے مل گئی، سو تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، یقیناً وہ تمہیں موت یاد دلاتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7192]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7193
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ خَالِدٍ ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا وَنَحْنُ مَعَهُ قَرِيبًا مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَفَدَاهُ بِالْأَبِ وَالْأُمِّ وَقَالَ لَهُ مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي اسْتِغْفَارِي لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي فَبَكَيْتُ لَهَا رَحْمَةً لَهَا مِنَ النَّارِ وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَكُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُمْسِكُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَكُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِي أِيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ زُهَيْرٍ دُونَ قِصَّةِ أُمِّهِ..
ابن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم ایک جگہ اترے اور ہم ہزار سواروں کے قریب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے والدہ کے لیے دعائے مغفرت کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ دی گئی تو میں رو دیا۔ آگ سے رحمت کے لیے اور میں تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا کرتا تھا، سو تم زیارت کیا کرو اور میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ جمع کرنے سے روکا تھا، سو اب تم کھاؤ اور جب تک چاہو جمع رکھو اور میں نے تمہیں کچھ برتنوں میں پینے سے منع کیا کرتا تھا، اب جس برتن میں چاہو پیو مگر نشہ آور چیز نہ پیو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7193]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أحمد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7194
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ الْيَامِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَزُورُوهَا وَلْتُزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا" وَرَوَاهَا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً".
زہیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زبیر بن حارث یامی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اسی سند کے ساتھ بیان کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: ”سو تم ان کی زیارت کیا کرو، اس کی زیارت تمہارے لیے بھلائی میں اضافہ کرے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7194]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا فِي النَّهْيِ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَالْإِذْنِ فِيهَا فَقَطْ.
احمد بن یونس فرماتے ہیں کہ معرف بن واصل نے ہمیں حدیث بیان کی اور اس میں زیارتِ قبور سے نہی مختصراً بیان کی اور اس کی اجازت بھی دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7195]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7196
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَا: أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِيهَا عِبْرَةً وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ أَلَا فَانْتَبِذُوا وَلَا أُحِلُّ مُسْكِرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا۔ سو ان کی زیارت کیا کرو، بیشک اس میں عبرت ہے اور میں تمہیں نبیذ سے منع کیا کرتا تھا، نبیذ بناؤ سو اب، مگر نشہ آور کو میں حلال نہیں کر رہا اور میں تمہیں قربانی کے گوشت (کو جمع کرنے) سے روکتا تھا سو تم اسے کھاؤ اور جمع کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7196]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه أحمد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7197
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَأَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ وَعَنْ نَبِيذِ الْأَوْعِيَةِ أَلَا فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ وَكُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَابْقُوا مَا شِئْتُمْ فَإِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ إِذِ الْخَيْرُ قَلِيلٌ فَوَسَّعَهُ اللهُ عَلَى النَّاسِ، أَلَا إِنَّ وِعَاءً لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا وَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا اور تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت سے بھی اور نبیذ کے برتنوں سے بھی۔ سو قبروں کی زیارت کیا کرو، بیشک وہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں اور قربانی کا گوشت کھاؤ اور جس قدر چاہے باقی رکھو، میں تمہیں تب منع کیا کرتا تھا جب مال و زر کم تھا، اب اللہ نے لوگوں پر فراخی کر دی ہے۔ بیشک برتن کسی چیز کو حرام نہیں کرتے مگر ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7197]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7198
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَالْأَوْعِيَةَ وَزِيَارَةَ الْقُبُورِ ثُمَّ ذَكَرَ إِذْنَهُ فِيهَا بِطُولِهِ قَالَ:" وَكُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ثُمَّ بَدَا لِي فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ فَزُورُوا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَمْرٍو.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا اور قربانی کے گوشت کا تذکرہ کیا اور برتنوں کا اور قبروں کی زیارت کا بھی، پھر ان سب کی اجازت کا تذکرہ کیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ ”میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا، پھر میری رائے بدل گئی، سو تم ان کی زیارت کیا کرو، بیشک وہ دل نرم کرتی ہیں اور آنسو بہاتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں، سو تم زیارت کرو مگر بین نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7198]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه أحمد»
الحكم على الحديث: صحيح