السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1546. -- باب: تعجيل الصدقة
-- باب: زکوٰۃ جلد ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7367
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّاءُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْكُدَيْمِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ح وَأَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ قِصَّةً فِي بَعْثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَاعِيًا وَمَنْعِ الْعَبَّاسِ صَدَقَتَهُ، وَأَنَّهُ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ الْعَبَّاسُ فَقَالَ:" أَمَا عَلِمْتَ يَا عُمَرُ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ إِنَّا كُنَّا احْتَجْنَا فَاسْتَسْلَفْنَا الْعَبَّاسَ صَدَقَةَ عَامَيْنِ" لَفْظُ حَدِيثِ الْقَطَّانِ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجَّلَ مِنَ الْعَبَّاسِ صَدَقَةَ عَامٍ أَوْ صَدَقَةَ عَامَيْنِ وَفِي هَذَا إِرْسَالٌ بَيْنَ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ وَرَدَ هَذَا الْمَعْنَى فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ وَجْهٍ ثَابِتٍ عَنْهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو عامل بنا کر بھیجا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ نہ دی اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تم جانتے نہیں کہ چچا باپ کی قسم ہوتا ہے؟ ہم ضرورت محسوس کرتے تو عباس (رضی اللہ عنہ) سے دو سال کی زکوٰۃ ادھار لے لیتے تھے۔“
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ایک یا دو سال کی زکوٰۃ پہلے وصول کر لی۔
اس سند میں ابوالبختری اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان ارسال (انقطاع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7367]
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ایک یا دو سال کی زکوٰۃ پہلے وصول کر لی۔
اس سند میں ابوالبختری اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان ارسال (انقطاع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7367]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 7368
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ ⦗١٨٨⦘ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدِ احْتَبَسَ أَعْتُدَهُ وَأَدْرُعَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا" ثُمَّ قَالَ:" يَا عُمَرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَفْصٍ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَعْتَادُهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَبَابَةُ عَنْ وَرْقَاءَ وَرَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَهِيَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا وَمِنْ حَدِيثِ شُعَيْبٍ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ ثُمَّ قَالَ: تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ: هِيَ عَلَيْهِ وَمِثْلُهَا مَعَهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَمَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ رَوَاهُ أَبُو أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ وَكَذَلِكَ هُوَ عِنْدَنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ وَحَمَلُوهُ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَخَّرَ عَنْهُ الصَّدَقَةَ عَامَيْنِ مِنْ حَاجَةٍ بِالْعَبَّاسِ إِلَيْهَا، وَالَّذِي رَوَاهُ وَرْقَاءُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ تَسَلَّفَ مِنْهُ صَدَقَةَ عَامَيْنِ، وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ تَعْجِيلِ الصَّدَقَةِ، فَأَمَّا الَّذِي رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ فَإِنَّهُ يَبْعُدُ مِنَ أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا؛ لِأَنَّ الْعَبَّاسَ كَانَ رَجُلًا مِنْ صُلْبِيَّةِ بَنِي هَاشِمٍ تَحْرُمُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ، فَكَيْفَ يَجْعَلُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَلَيْهِ مِنْ صَدَقَةِ عَامَيْنِ صَدَقَةً عَلَيْهِ؟ وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَهِيَ لَهُ وَمِثْلُهَا مَعَهَا، وَقَدْ يُقَالُ لَهُ بِمَعْنَى عَلَيْهِ فَرِوَايَتُهُ مَحْمُولَةٌ عَلَى سَائِرِ الرِّوَايَاتِ وَقَدْ يَكُونُ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ: فَهِيَ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ وَرْقَاءَ، وَرِوَايَةُ وَرْقَاءَ أَوْلَى بِالصِّحَّةِ لِمُوَافَقَتِهَا مَا تَقَدَّمَ مِنَ الرِّوَايَاتِ الصَّرِيحَةِ بِالِاسْتِسْلَافِ وَالتَّعْجِيلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو کہا گیا کہ ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس رضی اللہ عنہما نے زکوٰۃ نہیں دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن جمیل تو صرف اس بات کا انتقام لے رہا ہے کہ وہ محتاج تھا، اللہ نے اسے غنی کر دیا اور خالد پر تم ظلم و زیادتی کرتے ہو۔ اس نے تو اپنی زرہیں اور (جنگی) سامان اللہ کی راہ میں وقف کر رکھا ہے، لیکن عباس کی زکوٰۃ میرے ذمے ہے اور اتنی مزید۔“ پھر فرمایا: ”اے عمر! کیا تو جانتا نہیں کہ آدمی کا چچا والد کی مانند ہوتا ہے۔“
شعیب بن ابی حمزہ نے ابوالزناد سے روایت کی تو حدیث میں کہا: ”تو وہ اس پر صدقہ ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ اور ابن اسحاق اور ابو اویس مدنی نے ابوالزناد سے، اور ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے روایت کیا: ”وہ اس کے ذمے ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ علماء نے اسے اس پر محمول کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ضرورت کی وجہ سے ان سے دو سال کی زکوٰۃ مؤخر کر دی تھی، اور ورقاء کی روایت اس پر محمول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو سال کی زکوٰۃ پیشگی لے لی تھی، اور اس میں زکوٰۃ پہلے ادا کرنے کے جواز کی دلیل ہے۔ رہی وہ روایت جو شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کی تو اس کا محفوظ ہونا بعید ہے؛ کیونکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ خالص بنو ہاشم میں سے تھے جن پر صدقہ حرام ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ذمے دو سال کی زکوٰۃ کو انہی پر صدقہ کیسے قرار دیتے؟ اور موسیٰ بن عقبہ نے ابوالزناد سے روایت کیا تو حدیث میں کہا: ”تو وہ اس کے لیے ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ اور ”لہ“ کبھی ”علیہ“ کے معنی میں بولا جاتا ہے، لہٰذا ان کی روایت باقی روایات پر محمول ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ”وہ اس پر ہے“ سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو، تاکہ یہ ورقاء کی روایت کے موافق ہو جائے، اور ورقاء کی روایت صحیح ہونے کی زیادہ حق دار ہے، کیونکہ یہ ان سابقہ روایات کے موافق ہے جن میں پیشگی لینے اور جلد وصول کرنے کی صراحت ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7368]
شعیب بن ابی حمزہ نے ابوالزناد سے روایت کی تو حدیث میں کہا: ”تو وہ اس پر صدقہ ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ اور ابن اسحاق اور ابو اویس مدنی نے ابوالزناد سے، اور ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے روایت کیا: ”وہ اس کے ذمے ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ علماء نے اسے اس پر محمول کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ضرورت کی وجہ سے ان سے دو سال کی زکوٰۃ مؤخر کر دی تھی، اور ورقاء کی روایت اس پر محمول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو سال کی زکوٰۃ پیشگی لے لی تھی، اور اس میں زکوٰۃ پہلے ادا کرنے کے جواز کی دلیل ہے۔ رہی وہ روایت جو شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کی تو اس کا محفوظ ہونا بعید ہے؛ کیونکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ خالص بنو ہاشم میں سے تھے جن پر صدقہ حرام ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ذمے دو سال کی زکوٰۃ کو انہی پر صدقہ کیسے قرار دیتے؟ اور موسیٰ بن عقبہ نے ابوالزناد سے روایت کیا تو حدیث میں کہا: ”تو وہ اس کے لیے ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ اور ”لہ“ کبھی ”علیہ“ کے معنی میں بولا جاتا ہے، لہٰذا ان کی روایت باقی روایات پر محمول ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ”وہ اس پر ہے“ سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو، تاکہ یہ ورقاء کی روایت کے موافق ہو جائے، اور ورقاء کی روایت صحیح ہونے کی زیادہ حق دار ہے، کیونکہ یہ ان سابقہ روایات کے موافق ہے جن میں پیشگی لینے اور جلد وصول کرنے کی صراحت ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7368]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7369
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَبْعَثُ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ إِلَى الَّذِي تُجْمَعُ عِنْدَهُ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر اس کی طرف بھیجا کرتے تھے جس کے پاس عید الفطر سے دو یا تین دن پہلے جمع کیا جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7369]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
1547. -- باب: النية في إخراج الصدقة
-- باب: زکوٰۃ نکالنے میں نیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7370
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ الزُّوزَنِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْبَزَّازُ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ⦗١٨٩⦘ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور بیشک انسان کے لیے وہی ہے جو وہ نیت کرتا ہے، جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی اس کی ہجرت اللہ اور رسول ہی کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا یا عورت کے حصول کے لیے ہوگی، اس کی ہجرت وہی ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7370]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1548. -- باب: لا يؤدي عن ماله فيما وجب عليه إلا ما وجب عليه
-- باب: اپنے مال کی زکوٰۃ میں جو چیز اس پر واجب ہوئی ہے صرف وہی ادا کرے
حدیث نمبر: 7371
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ:" خُذِ الْحَبَّ مِنَ الْحَبِّ وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ وَالْبَعِيرَ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْبَقَرَةَ مِنَ الْبَقَرِ".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یمن کی طرف بھیجا اور انھیں حکم دیا: ”دانے کی زکوۃ دانے سے اور بکریوں کی بکریوں سے، اونٹ کی اونٹ سے اور گائے کی زکوۃ گائے سے وصول کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7371]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
1549. -- باب: من أجاز أخذ القيم في الزكوات.
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے زکوٰۃ میں (اشیاء کی بجائے) ان کی قیمت لینے کو جائز قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 7372
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، ⦗١٩٠⦘ عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ جَبَلٍ بِالْيَمَنِ:" ائْتُونِي بِخَمِيسٍ أَوْ لَبِيسٍ آخُذُهُ مِنْكُمْ مَكَانَ الصَّدَقَةِ فَإِنَّهُ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ وَخَيْرٌ لِلْمُهَاجِرِينَ بِالْمَدِينَةِ". كَذَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ.
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے یمن والوں سے کہا کہ تم میرے پاس خمیس (پانچ ہاتھ لمبے کپڑے) یا پہنے ہوئے کپڑے لاؤ، میں تم سے زکاۃ کے عوض وصول کروں گا کیونکہ وہ تمہارے لیے آسان ہے اور مہاجرینِ مدینہ کے لیے بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7372]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7373
وَخَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ، فَقَالَ: قَالَ مُعَاذٌ بِالْيَمَنِ:" ائْتُونِي بِعَرَضِ ثِيَابٍ آخُذُهُ مِنْكُمْ مَكَانَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ عَنْهُ حَدِيثَ طَاوُسٍ عَنِ مُعَاذٍ إِذَا كَانَ مُرْسَلًا فَلَا حُجَّةَ فِيهِ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ بَعْضُهُمْ مِنَ الْجِزْيَةِ بَدَلَ الصَّدَقَةِ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا هُوَ الْأَلْيَقُ بِمُعَاذٍ وَالْأَشْبَهُ بِمَا أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ مِنْ أَخْذِ الْجِنْسِ فِي الصَّدَقَاتِ وَأَخْذِ الدِّينَارِ أَوْ عَدَّ لَهُ مَعَافِرَ ثِيَابٍ بِالْيَمَنِ فِي الْجِزْيَةِ، وَأَنْ تُرَدَّ الصَّدَقَاتُ عَلَى فُقَرَائِهِمْ لَا أَنْ يَنْقُلَهَا إِلَى الْمُهَاجِرِينَ بِالْمَدِينَةِ الَّذِينَ أَكْثَرُهُمْ أَهْلُ فَيْءٍ لَا أَهْلُ صَدَقَةٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے یمن والوں سے کہا کہ تم میرے پاس خمیس یا پہنے ہوئے کپڑے لاؤ میں تم سے زکوٰۃ کے عوض وصول کروں گا کیونکہ وہ تمہارے لیے آسان ہے اور مہاجرینِ مدینہ کے لیے بہتر ہے۔
لیکن روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: میرے پاس کپڑا لاؤ میں تم سے جوار اور جو کے عوض لوں گا۔
ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ نے کہا: طاؤس کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت جب مرسل ہو تو اس میں کوئی حجت نہیں، اور بعض راویوں نے اس میں صدقہ کی بجائے جزیہ کا لفظ کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7373]
لیکن روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: میرے پاس کپڑا لاؤ میں تم سے جوار اور جو کے عوض لوں گا۔
ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ نے کہا: طاؤس کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت جب مرسل ہو تو اس میں کوئی حجت نہیں، اور بعض راویوں نے اس میں صدقہ کی بجائے جزیہ کا لفظ کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7373]
حدیث نمبر: 7374
وَأَمَّا الَّذِي رَوَاهُ مُجَالِدٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ الْأَحْمَسِيّ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ نَاقَةً مُسِنَّةً فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَغَضِبَ وَقَالَ:" قَاتَلَ اللهُ صَاحِبَ هَذِهِ النَّاقَةِ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَوَاشِي الصَّدَقَةِ قَالَ:" فَنِعْمَ إِذًا"، وَهَذَا فِيمَا أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَّ أَبَا الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُمْ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ الْمُجَالِدِ فَذَكَرَهُ. فَقَدْ قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ عَنْهُ الْبُخَارِيَّ فَقَالَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي ⦗١٩١⦘ خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ مُرْسَلًا وَضَعَّفَ مُجَالِدًا.
سیدنا صنابحی احمسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسنہ اونٹنی کو زکوٰۃ کے اونٹوں میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے اور فرمایا: ”اللہ اس اونٹنی والے کو ہلاک کرے۔“ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے میں نے دو اونٹوں کے عوض لیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ٹھیک ہے۔“
ابو عیسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس حدیث کو اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے اونٹوں میں (وہ اونٹنی) دیکھی، یعنی مرسلاً، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے مجالد کو ضعیف قرار دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7374]
ابو عیسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس حدیث کو اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے اونٹوں میں (وہ اونٹنی) دیکھی، یعنی مرسلاً، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے مجالد کو ضعیف قرار دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7374]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن ابي شيبه»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7375
أَخْبَرَنَاهُ مُرْسَلًا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ نَاقَةً كَوْمَاءَ فَسَأَلَ عَنْهَا، فَقَالَ الْمُصَدِّقُ: إِنِّي أَخَذْتُهَا بِإِبِلٍ فَسَكَتَ.
قیس بن ابی حازم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے اونٹوں میں ایک عمدہ اونٹنی دیکھی تو عامل سے پوچھا، تو اس نے کہا: ”میں نے یہ اونٹ کے عوض لی ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7375]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
1550. -- باب: الرجل يتولى تفرقة زكاة ماله الباطنة بنفسه.
-- باب: اس بات کا بیان کہ آدمی اپنے پوشیدہ اموال کی زکوٰۃ خود تقسیم کرنے کی ذمہ داری ادا کرے۔
حدیث نمبر: 7376
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، صَاحِبُ الْعَبَاءِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: جِئْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا زَكَاةُ مَالِي قَالَ:" وَقَدْ عَتِقْتَ يَا كَيْسَانُ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهَا أَنْتَ فَاقْسِمْهَا".
ابو سعید مقبری فرماتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس دو سو درہم لے کر آیا اور میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ میرے مال کی زکاۃ ہے۔ انہوں نے کہا: اے کیسان! تو آزاد ہو گیا؟ تو میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: تو یہ لے جا اور تقسیم کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7376]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن جعد»
الحكم على الحديث: حسن