السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1551. -- باب: الوالي يأخذ منه زكاة أمواله الظاهرة أحب ذلك أو كرهه.
-- باب: اس بات کا بیان کہ حاکمِ وقت شخص کے ظاہری اموال کی زکوٰۃ اس سے لازماً وصول کرے گا، خواہ وہ اسے پسند کرے یا ناپسند۔
حدیث نمبر: 7377
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ"؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا. قَالَ عُمَرُ فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ. ⦗١٩٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ وَقَالَا عِقَالًا. وَحَدِيثُ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا"، قَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، اور اہلِ عرب میں سے جس نے انکار کیا کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر! تم لوگوں سے کیسے لڑائی کرو گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّىٰ يَقُولُوا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ» ”میں حکم دیا گیا ہوں کہ لوگوں سے اتنی دیر تک لڑتا رہوں جب تک وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ» کا اقرار نہ کر لیں، سو جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ» کا اقرار کر لیا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور جان بچا لی مگر اس کے حق کے ساتھ اور اس کا حساب اللہ پر ہے““ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! جس نے نماز و زکوٰۃ میں فرق کیا میں اس سے لڑائی کروں گا۔ بیشک زکوٰۃ مال کا حق ہے، اللہ کی قسم! اگر انہوں نے مجھ سے ایک بچہ بھی روکا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دیا کرتے تھے تو اس کے منع کرنے کی وجہ سے بھی میں ان سے لڑائی کروں گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جو کچھ بھی وہ تھا میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے لڑائی کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے کو کھول دیا تو میں نے جان لیا کہ وہ حق پر تھے۔ حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اجر کے حصول کے لیے دیا اس کے لیے اجر ہوگا اور جس نے روک لیا میں اسے اس سے لینے والا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7377]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني تخريجه»
الحكم على الحديث: صحيح
1552. -- باب: الاختيار في دفعها إلى الوالي.
-- باب: زکوٰۃ حاکمِ وقت کے سپرد کرنے کے اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7378
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، فِي الْفَوَائِدِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابٌ فَقَالُوا: يَأْتِينَا مُصَدِّقُونَ فَيَعْتَدُونَ عَلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْضُوهُمْ" فَأَعَادُوا عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتِ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ:" أَرْضُوهُمْ". قَالَ جَرِيرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَمَا أَتَانِي مُصَدِّقٌ بَعْدُ إِلَّا ذَهَبَ وَهُوَ رَاضٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَأَخْرَجَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ بِطُولِهِ.
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل ہمارے پاس آتے ہیں اور زیادتی کرتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں خوش رکھو،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا تین مرتبہ فرمایا، چنانچہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کے بعد جب بھی میرے پاس عامل آیا تو وہ خوش خوش ہی گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7378]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7379
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو الْغُصْنِ، عَنْ صَخْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنِ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَيَأْتِيكُمْ رَكْبٌ مُبْغَضُونَ، فَإِذَا أَتَوْكُمْ فَرَحِّبُوا بِهِمْ وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُونَ فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهَا، وَأَرْضُوهُمْ فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِهِمْ رِضَاهُمْ وَلْيَدْعُوا لَكُمْ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ أَبُو الْغُصْنِ هُوَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ غُصْنٍ. قَالَ الشَّيْخُ: فَهَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلِفٌ إِسْنَادُهُ عَنْ أَبِي الْغُصْنِ.
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے پاس ایسے سوار آئیں گے جو ناپسند کیے جائیں گے۔ سو جب وہ تمہارے پاس آئیں تو انہیں خوش آمدید کہو، اگر انہوں نے کوئی مطالبہ کیا تو اس کو پورا کرو۔ اگر وہ عدل و انصاف سے کام لیں گے تو یہ ان کی اپنی ذات کے لیے ہے اور اگر وہ ظلم کریں گے تو اس کا وبال بھی انہیں پر ہے اور انہیں خوش کرو، بیشک تمہاری زکاۃ کی تکمیل ان کی رضامندی میں ہے اور چاہیے کہ وہ تمہارے لیے دعا کریں۔“
اس حدیث کی سند ابوالغصن سے مختلف (متضاد) طریقوں سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7379]
اس حدیث کی سند ابوالغصن سے مختلف (متضاد) طریقوں سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7379]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي هُنَيْدٌ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَكَانَ عَلَى أَمْوَالِهِ بِالطَّائِفِ قَالَ: قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ فِي صَدَقَةِ أَمْوَالِي؟" قَالَ: مِنْهَا مَا أَدْفَعُهَا إِلَى السُّلْطَانِ وَمِنْهَا مَا أَتَصَدَّقُ بِهَا فَقَالَ: مَا لَكَ وَمَا لِذَلِكَ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ يَشْتَرُونَ بِهَا الْبِزُوزَ وَيَتَزَوَّجُونَ بِهَا النِّسَاءَ وَيَشْتَرُونَ بِهَا الْأَرَضِينَ، قَالَ:" فَادْفَعْهَا إِلَيْهِمْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَدْفَعَهَا إِلَيْهِمْ وَعَلَيْهِمْ حِسَابُهُمْ".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ وہ طائف میں ان کے اموال پر نگران تھے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو میرے مال کی زکوٰۃ کا کیا کرتا ہے؟ تو اس نے کہا: اس میں سے کچھ سلطان (بادشاہ) کو دے دیتا ہوں اور کچھ اس میں سے صدقہ کر دیتا ہوں، انہوں نے کہا: وہ اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ تو اس نے کہا: وہ اس کے عوض پارچہ جات لیتے ہیں جن کے ساتھ وہ عورتوں سے نکاح کرتے ہیں اور اس کے ساتھ زمین بھی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اسے ان کو واپس لوٹا دو، بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”ہم وہ انہیں لوٹا دیں اور ان کا حساب انہی پر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7380]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7381
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، بِنَيْسَابُورَ وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" ادْفَعُوا صَدَقَاتِ أَمْوَالِكُمْ إِلَى مَنْ وَلَّاهُ اللهُ أَمْرَكُمْ فَمَنْ بَرَّ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَثِمَ فَعَلَيْهَا".
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اپنے مالوں کی زکوٰۃ اپنے ان لوگوں کو ادا کرو جو تمہارے امور کے والی بنے ہیں، جس نے نیکی کی وہ اسی کے لیے ہے اور جس نے گناہ کیا اس کا وبال اسی پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7381]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7382
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْحَضْرَمِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَأَعْطِهِ صَدَقَتَكَ فَإِنِ اعْتَدَى عَلَيْكَ فَوَلِّهِ ظَهْرَهُ وَلَا تَلْعَنْهُ، وَقُلْ: اللهُمَّ إِنِّي احْتَسَبْتُ عِنْدَكَ مَا أَخَذَ مِنِّي".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عامل تمہارے پاس آئے تو اپنی زکوۃ اسے دے دو۔ اگر وہ تجھ پر زیادتی کرتے ہیں تو ان سے منہ موڑ لو اور لعنت نہ کرو اور یہ کہو کہ اے اللہ! میں تو تیری جناب سے نیکی بھلائی کا طالب ہوں، اس کے عوض جو انہوں نے مجھ سے وصول کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7382]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه حاكم»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7383
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: سُئِلَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنِ الزَّكَاةِ فَأَخْبَرَنَا، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ:" ادْفَعُوهَا إِلَيْهِمْ وَإِنْ شَرِبُوا بِهَا الْخَمْرَ"، يَعْنِي الْأُمَرَاءَ.
زیاد کے غلام قزعہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس مال کو ان کی طرف لوٹا دو، اگرچہ امراء اس کی شراب ہی کیوں نہ پیئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7383]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7384
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ سَعْدٍ الْجُهَنِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ عَنِ الزَّكَاةِ، فَقَالَ: سَمِعْتَ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" كَانَ يَدْفَعُهَا إِلَيْهِمْ يَعْنِي السُّلْطَانَ فِي الْفِتْنَةِ يَقْضَمُونَ بِهَا دَوَابَّهُمْ".
حسن بن سعد جہنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے زید بن اسلم رحمہ اللہ سے زکوۃ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کیا تم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: وہ فتنے کے دور میں زکوۃ انہیں یعنی سلطان کو دیا کرتے تھے، جس سے وہ اپنے چوپایوں کو چارہ کھلاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7384]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7385
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَى سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ أَدْرَكَ لِي مَالٌ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُؤَدِّيَ زَكَاتَهُ وَأَنَا أَجِدُ لَهَا مَوْضِعًا وَهَؤُلَاءِ يَصْنَعُونَ فِيهَا مَا قَدْ رَأَيْتَ فَقَالَ:" أَدِّهَا إِلَيْهِمْ"، قَالَ: وَسَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَدِّهَا إِلَيْهِمْ قَالَ: وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ أَدِّهَا إِلَيْهِمْ وَرُوِّينَا فِي هَذَا أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
سہیل بن صالح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ میرے پاس مال ہے جس کی میں زکاۃ ادا کرنا چاہتا ہوں اور میں اس کے مصرف کو جانتا ہوں اور یہ لوگ اس معاملے میں ایسے ہی کرتے ہیں جو تو نے دیکھا ہے، تو انہوں نے کہا: تو پھر ان کو ادا کر دے، اور فرمایا: میں نے ایسا ہی سوال ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا: ان کو ادا کر دے۔ فرماتے تھے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ان کو اسے ادا کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7385]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبه»
الحكم على الحديث: حسن
1553. -- باب: الاختيار في قسمها بنفسه إذا أمكنه ذلك ليكون على يقين من أدائها
-- باب: اگر ممکن ہو تو زکوٰۃ بذاتِ خود تقسیم کرنے کو ترجیح دینا تاکہ اس کی درست ادائیگی کا کامل یقین ہو جائے۔
حدیث نمبر: 7386
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ زَكَاةِ مَالِهِ فَقَالَ:" ادْفَعْهَا إِلَيْهِمْ"، فَقَالَ لَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: إِنَّ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: مَرَرْتُ بِامْرَأَةٍ عَطَّارَةٍ فِي السُّوقِ فَلَوْ كَانَ مَعِي شَيْءٌ لَأَعْطَيْتُهَا فَقَالَ: يَا غَضْبَانُ، أَعْطِهِ خَمْسَمِائَةَ دِرْهَمٍ مِنَ الزَّكَاةِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" لَبَّسُوا عَلَيْنَا لَبَّسَ اللهُ عَلَيْهِمْ".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اپنے مال کی زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اسے ان کی طرف لوٹا دو، تو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: بشر بن مروان کے پاس اہل شام میں سے ایک آدمی آیا، اس نے اس سے سوال کیا تو اس نے کہا: میں بازار میں ایک عطار (خوشبو بیچنے والے) کے پاس سے گزرا، اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو میں اسے ضرور دیتا، تو اس نے کہا: اے غضبان! اسے پانچ سو درہم زکوٰۃ میں سے دے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: انہوں نے ہم پر دین خلط ملط کر دیا، اللہ ان پر معاملہ خلط ملط کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7386]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف