السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1543. -- باب: ما على الإمام من بعث السعاة على الصدقة
-- باب: امام پر زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو بھیجنے کی ذمہ داری کا بیان
حدیث نمبر: 7358
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ وَثَبَتَ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ، وَفِيهِ أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بنو سلیم کی زکاۃ پر عامل بنایا جسے ابن لتبیہ کہتے تھے۔ جب وہ آیا تو اس کا حساب کیا۔ اس میں اور بھی احادیث ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7358]
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بنو سلیم کی زکاۃ پر عامل بنایا جسے ابن لتبیہ کہتے تھے۔ جب وہ آیا تو اس کا حساب کیا۔ اس میں اور بھی احادیث ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7358]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7359
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَمْ يَكُونَا يَأْخُذَانِ الصَّدَقَةَ مُثَنَّاةً وَلَكِنْ يَبْعَثَانِ عَلَيْهَا فِي الْجَدْبِ وَالْخَصْبِ وَالسِّمَنِ وَالْعَجْبِ؛ لِأَنَّ أَخْذَهَا فِي كُلِّ عَامٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةٌ ⦗١٨٥⦘ وَرَوَاهُ فِي الْقَدِيمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَزَادَ فِيهِ: وَلَا يُضَمِّنُونَهَا أَهْلَهَا وَلَا يُؤَخِّرُونَ أَخْذَهَا عَنْ كُلِّ عَامٍ.
ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما دو سال کی زکوٰۃ اکٹھی (دوہری) نہیں لیا کرتے تھے لیکن وہ زکوٰۃ وصولی کے لیے عاملین کو بھیجتے خوش حالی و خشک سالی میں، آسودگی و بد حالی میں؛ کیونکہ پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر سال زکوٰۃ وصول کی۔ اس لیے یہ سنت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7359]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الشافعي»
الحكم على الحديث: صحيح
1544. -- باب: أين تؤخذ صدقة الماشية
-- باب: مویشیوں کی زکوٰۃ کہاں لی جائے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 7360
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَامَ الْفَتْحِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ:" لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو فتح مکہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا، آگے پوری حدیث بیان کی اور اس میں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”نہ جلب ہے (یعنی جانوروں کو عامل کے پاس کھینچ لانا) اور نہ جنب ہے (یعنی انہیں دور لے جانا) اور نہ وصول کی جائے زکوٰۃ مگر ان کے گھروں میں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7360]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أبو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي قَوْلِهِ: لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ قَالَ:" أَنْ تُصْدَقَ الْمَاشِيَةُ فِي مَوَاضِعِهَا وَلَا تُجْلَبُ إِلَى الْمُصَدِّقِ، وَالْجَنَبُ عَنْ هَذِهِ الطَّرِيقَةِ أَيْضًا لَا تَجَنُّبُ أَصْحَابِهَا يَقُولُ: وَلَا يَكُونُ الرَّجُلُ بِأَقْصَى مَوَاضِعِ أَصْحَابِ الصَّدَقَةِ فَتُجْنَبُ إِلَيْهِ وَلَكِنْ تُؤْخَذُ فِي مَوْضِعِهِ".
یعقوب بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا جو محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ» ”نہ جلب ہو اور نہ جنب ہو“ اس سے مقصود یہ ہے کہ چرنے والے جانوروں کی زکوۃ ان کی جگہ پر لی جائے اور انہیں عامل کی طرف نہ لے جایا جائے، اور «جَنَب» سے مراد اسی طریقے سے یہ ہے کہ اس کے مالک اسے ایک طرف پر نہ لے جائیں اور یہ کہ اسے صدقہ لینے والوں کی جگہ سے ایک طرف اور ان سے دور نہ کیے جائیں، بلکہ ان کی زکوۃ اسی جگہ لی جائے جہاں وہ رہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7361]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7362
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ عِنْدَ مِيَاهِهِمْ أَوْ عِنْدَ أَفْنِيَتِهِمْ" شَكَّ أَبُو دَاوُدَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے اموال کی زکوٰۃ ان کے پانیوں کے پاس لی جائے یا پھر ان کے صحنوں میں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7362]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطيالسي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7363
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَى مِيَاهِهِمْ بِأَفْنِيَتِهِمْ" لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَالِحٍ وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَزِيزِ تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ ⦗١٨٦⦘ أَمْوَالِهِمْ عَلَى مِيَاهِهِمْ وَأَفْنِيَتِهِمْ، وَقَالَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَزْمٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیہات والوں کی زکوٰۃ ان کے پانیوں کے گھاٹ یا ان کے باڑوں میں لی جائے۔“
ایک روایت میں ہے کہ ”مسلمانوں کے اموال کی زکوٰۃ ان کے پانیوں یا باڑوں میں لی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7363]
ایک روایت میں ہے کہ ”مسلمانوں کے اموال کی زکوٰۃ ان کے پانیوں یا باڑوں میں لی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7363]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطبراني في الاوسط»
الحكم على الحديث: صحيح
1545. -- باب: الاستسلاف على أهل الصدقة ثم قضائه من سهمائهم
-- باب: مستحقینِ زکوٰۃ کے لیے قرض لینے اور پھر ان کے حصوں میں سے اسے ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7364
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بِكْرًا فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَهُ إِيَّاهُ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ مَالِكٍ.
ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے ایک اونٹ ادھار لیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زکوۃ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ ”میں اسے ادا کر دوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7364]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
1546. -- باب: تعجيل الصدقة
-- باب: زکوٰۃ جلد ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: Q7365
اعْتَمَدَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيهِ عَلَى مَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَمِينِ فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، ثُمَّ عَلَى مَا ثَبَتَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ مِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُبَّمَا كَفَّرَ عَنْ يَمِينِهِ قَبْلَ أَنْ يَحْنَثَ وَرُبَّمَا كَفَّرَ بَعْدَ مَا يَحْنَثُ وَمَوْضِعُهُ كِتَابُ الْأَيْمَانِ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَدْرِي أَيَثْبُتُ أَمْ لَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَلَّفَ صَدَقَةَ مَالِ الْعَبَّاسِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، يَعْنِي بِهِ مَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قسم کے متعلق ثابت اس فرمان پر اعتماد کیا ہے: ”پس اسے چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور وہ کام کرے جو بہتر ہو۔“
پھر ان روایات پر اعتماد کیا ہے جو اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کرام سے ثابت ہیں، جن میں سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما شامل ہیں، وہ بسا اوقات قسم ٹوٹنے سے پہلے اس کا کفارہ ادا کر دیتے اور بسا اوقات قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ ادا کرتے تھے، اور اس کا (تفصیلی) مقام کتاب الایمان ہے۔
ہمیں ابو سعید نے خبر دی، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ابوالعباس نے حدیث بیان کی، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ربیع نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بھی بیان کی جاتی ہے، اور میں نہیں جانتا کہ یہ ثابت ہے یا نہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے مال کی زکوٰۃ اس کی مدت (حول) پوری ہونے سے پہلے ہی پیشگی لے لی تھی، اس سے مراد وہی ہے جو (بیان ہو چکا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7365]
پھر ان روایات پر اعتماد کیا ہے جو اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کرام سے ثابت ہیں، جن میں سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما شامل ہیں، وہ بسا اوقات قسم ٹوٹنے سے پہلے اس کا کفارہ ادا کر دیتے اور بسا اوقات قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ ادا کرتے تھے، اور اس کا (تفصیلی) مقام کتاب الایمان ہے۔
ہمیں ابو سعید نے خبر دی، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ابوالعباس نے حدیث بیان کی، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ربیع نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بھی بیان کی جاتی ہے، اور میں نہیں جانتا کہ یہ ثابت ہے یا نہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے مال کی زکوٰۃ اس کی مدت (حول) پوری ہونے سے پہلے ہی پیشگی لے لی تھی، اس سے مراد وہی ہے جو (بیان ہو چکا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7365]
حدیث نمبر: 7365
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ فَأَذِنَ لَهُ فِي ذَلِكَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زکوٰۃ کی جلد ادائیگی کا سوال کیا اس کے واجب ہونے سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7365]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أبو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 7366
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ هُشَيْمٍ أَصَحُّ. ⦗١٨٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ فَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ الْحَكَمِ هَكَذَا، وَخَالَفَهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ حَجَّاجٍ فَقَالَ: عَنِ الْحَكَمِ عَنْ حُجْرٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ عَلِيٍّ، وَخَالَفَهُ فِي لَفْظِهِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ:" إِنَّا قَدْ أَخَذْنَا مِنَ الْعَبَّاسِ زَكَاةَ الْعَامِ عَامَ الْأَوَّلِ" وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ هُوَ الْعَرْزَمِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ عُمَرَ وَالْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا. وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ طَلْحَةَ وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ:" إِنَّا كُنَّا قَدْ تَعَجَّلْنَا صَدَقَةَ مَالِ الْعَبَّاسِ لِعَامِنَا هَذَا عَامَ أَوَّلَ" وَهَذَا هُوَ الْأَصَحُّ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا.
ابوداؤد رحمہ اللہ نے سعید بن منصور رحمہ اللہ سے یہ حدیث بیان کی اور اس پوری حدیث کا تذکرہ کیا۔
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”ہم نے عباس رضی اللہ عنہ سے ایک سال کی زکاۃ پہلے وصول کر لی ہے،“ نیز عمر و عباس رضی اللہ عنہما کے قصے میں یہ بات بھی منقول ہے کہ ”ہم عباس رضی اللہ عنہ کے مال کا صدقہ لینے میں جلدی کرتے تھے، اس سال میں آنے والے سال کی زکاۃ لے لیتے۔“
یہ (آخری مرسل) روایت ان روایات میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7366]
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”ہم نے عباس رضی اللہ عنہ سے ایک سال کی زکاۃ پہلے وصول کر لی ہے،“ نیز عمر و عباس رضی اللہ عنہما کے قصے میں یہ بات بھی منقول ہے کہ ”ہم عباس رضی اللہ عنہ کے مال کا صدقہ لینے میں جلدی کرتے تھے، اس سال میں آنے والے سال کی زکاۃ لے لیتے۔“
یہ (آخری مرسل) روایت ان روایات میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7366]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ