السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1690. -- باب: من أكل وهو يرى أن الشمس قد غربت ثم بان أنها لم تغرب
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کرتے ہوئے کھا لیا کہ سورج غروب ہو چکا ہے، پھر ظاہر ہوا کہ وہ غروب نہیں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 8011
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ، ثُمَّ بَدَتْ لَنَا الشَّمْسُ، فَقُلْتُ لِهِشَامٍ: فَأُمِرُوا بِالْقَضَاءِ، قَالَ: فَبُدٌّ مِنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک بادل والے دن میں روزہ افطار کیا، پھر سورج نکل آیا (راوی کہتے ہیں:) میں نے ہشام سے کہا: کیا پھر انہیں قضا کا حکم دیا گیا؟ انہوں نے کہا: اس کے سوا چارہ ہی کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8011]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8012
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ وَرَأَى أَنَّهُ قَدْ أَمْسَى وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ عُمَرُ:" الْخَطْبُ يَسِيرٌ، وَقَدِ اجْتَهَدْنَا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي قَضَاءَ يَوْمٍ مَكَانَهُ، وَعَلَى ذَلِكَ حَمَلَهُ أَيْضًا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ عُمَرَ مُفَسَّرًا فِي الْقَضَاءِ.
زید بن اسلم اپنے بھائی خالد بن اسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ایک بادلوں والے دن میں روزہ افطار کیا۔ انہوں نے سمجھا کہ شام ہو چکی ہے اور سورج غروب ہو چکا ہے، پھر ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے امیر المومنین! سورج نکل آیا ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: فرق تو تھوڑا ہی ہے، ویسے ہم نے اجتہاد کیا تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے عوض ایک دن کی قضا کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8012]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8013
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأُتِيَ بِجَفْنَةٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ الْمُؤَذِّنُ: الشَّمْسُ طَالِعَةٌ، فَقَالَ:" أَغْنَى الله عَنَّا شَرَّكَ، إِنَّا لَمْ نُرْسِلْكَ دَاعِيًا لِلشَّمْسِ، إِنَّمَا أَرْسَلْنَاكَ دَاعِيًا إِلَى الصَّلَاةِ، يَا هَؤُلَاءِ، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَفْطَرَ فَقَضَاءُ يَوْمٍ يَسِيرٌ، وَإِلَّا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ، وَفِي رِوَايَةِ يَعْلَى فَأَتَيْنَا بِطَعَامٍ فَأَفْطَرَ، وَقَالَ:" فَمَا أَيْسَرَ قَضَاءَ يَوْمٍ، وَمَنْ لَا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ".
علی بن حنظلہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ رمضان کے مہینے میں ایک ٹب لایا گیا، مؤذن نے کہا: ابھی سورج ہے، تو انہوں نے کہا: اللہ ہمیں تیرے شر سے محفوظ رکھے، ہم نے تجھے سورج دیکھنے کے لیے نہیں بھیجا، ہم نے تجھے نماز کی طرف بلانے کے لیے بھیجا ہے۔ پھر فرمایا: اے لوگو! جس نے تم میں سے روزہ افطار کر لیا ہے تو ایک دن کی قضا آسان ہے، ورنہ وہ اپنے روزے کو پورا کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8013]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8014
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حَنْظَلَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ أَبُوهُ صَدِيقًا لِعُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فِي رَمَضَانَ، فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ، فَصَعِدَ الْمُؤَذِّنُ لِيُؤَذِّنَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَذِهِ الشَّمْسُ لَمْ تَغْرُبْ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" كَفَانَا اللهُ شَرَّكَ، إِنَّا لَمْ نَبْعَثْكَ دَاعِيًا"، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَنْ كَانَ أَفْطَرَ فَلْيَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِمَعْنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَنْظَلَةَ. وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُمَرَ.
علی بن حنظلہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دوست تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں ایک مرتبہ رمضان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو انہوں نے روزہ افطار کیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کر لیا، پھر مؤذن اذان کے لیے اوپر چڑھا تو اس نے کہا: لوگو! یہ رہا سورج ابھی تو غروب نہیں ہوا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ہمیں تیرے شر سے کافی ہو، ہم نے تجھے یہ دیکھنے کے لیے نہیں بھیجا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے تم میں سے افطار کر لیا ہے وہ اس کے عوض ایک روزہ رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8014]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8015
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ زِيَادٍ يَعْنِي ابْنَ عِلَاقَةَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَهُ عَشِيَّةً فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ يَوْمُ غَيْمٍ، فَظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ غَابَتْ، فَشَرِبَ عُمَرُ وَسَقَانِي، ثُمَّ نَظَرُوا إِلَيْهَا عَلَى سَفْحِ الْجَبَلِ، فَقَالَ عُمَرُ:" لَا نُبَالِي وَاللهِ، نَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ زِيَادٍ وَفِي تَظَاهُرِ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْقَضَاءِ دَلِيلٌ عَلَى خَطَأِ رِوَايَةِ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ فِي تَرْكِ الْقَضَاءِ وَهِيَ فِيمَا.
بشر بن قیس، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور اس دن بادل چھائے ہوئے تھے، انہوں نے سمجھا کہ سورج غروب ہو چکا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیا اور مجھے بھی پلایا، پھر انہوں نے اسے پہاڑ کے دامن میں دیکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کوئی بات نہیں، ہم اس کے عوض ایک روزہ رکھیں گے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے قضا کے بارے میں ان روایات کا ایک دوسرے کی تائید کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ قضا نہ کرنے کے بارے میں زید بن وہب کی روایت غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8015]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے قضا کے بارے میں ان روایات کا ایک دوسرے کی تائید کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ قضا نہ کرنے کے بارے میں زید بن وہب کی روایت غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8015]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8016
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فِي رَمَضَانَ، وَالسَّمَاءُ مُتَغَيِّمَةٌ فَرَأَيْنَا أَنَّ ⦗٣٦٨⦘ الشَّمْسَ قَدْ غَابَتْ، وَأَنَّا قَدْ أَمْسَيْنَا، فَأُخْرِجَتْ لَنَا عِسَاسٌ مِنْ لَبَنٍ مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ، فَشَرِبَ عُمَرُ وَشَرِبْنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ ذَهَبَ السَّحَابُ وَبَدَتِ الشَّمْسُ، فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَقُولُ لِبَعْضٍ: نَقْضِي يَوْمَنَا هَذَا، فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ فَقَالَ:" وَاللهِ لَا نَقْضِيهِ وَمَا تَجَانَفْنَا لِإِثْمٍ" كَذَا رَوَاهُ شَيْبَانُ وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، وَكَانَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ يَحْمِلُ عَلَى يَدِ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ الْمُخَالِفَةِ لِلْرِوَايَاتِ الْمُتَقَدِّمَةِ، وَيَعُدُّهَا مِمَّا خُولِفَ فِيهِ، وَزَيْدٌ ثِقَةٌ، إِلَّا أَنَّ الْخَطَأَ غَيْرُ مَأْمُونٍ، وَاللهُ يَعْصِمُنَا مِنَ الزَّلَلِ وَالْخَطَايَا بِمَنِّهِ وَسَعَةِ رَحْمَتِهِ.
زید بن وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم مدینہ کی مسجد میں بیٹھے تھے، رمضان کی بات ہے اور آسمانوں پر بادل تھے۔ ہم نے سوچا کہ سورج غروب ہو چکا ہے اور ہم نے شام کر لی تو ہمارے لیے بیتِ حفصہ رضی اللہ عنہا سے دودھ کا ایک ٹب نکالا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے پیا اور ہم نے بھی پیا۔ ہم ابھی تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ بادل چھٹ گئے اور سورج نکلا تو ہم میں سے بعض نے کہا: ہم قضا کر دیں گے۔ یہ بات عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کی قضا نہیں کریں گے، ہم نے یہ گناہ جان بوجھ کر نہیں کیا۔
یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے۔ زید ثقہ ہیں مگر خطا سے مامون نہیں ہیں، اللہ ہمیں پھسلنے اور غلطی سے بچائے اپنی وسیع رحمت سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8016]
یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے۔ زید ثقہ ہیں مگر خطا سے مامون نہیں ہیں، اللہ ہمیں پھسلنے اور غلطی سے بچائے اپنی وسیع رحمت سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8016]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الفسوي»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 8017
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ عُمَرِو بْنِ سُلَيْمٍ الْأَنْصَارِيُّ وَكَانَ أَتَى عَلَيْهِ مِائَةٌ وَخَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، قَالَ: أَفْطَرْنَا مَعَ صُهَيْبٍ الْحَبْرِ، أَنَا وَأَبِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ وَطَشٍّ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَعَشَّى إِذْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ صُهَيْبٌ:" طُعْمَةُ اللهِ، أَتِمُّوا صِيَامَكُمْ إِلَى اللَّيْلِ، وَاقْضُوا يَوْمًا مَكَانَهُ".
سیدنا شعیب بن عمرو بن سلیم رضی اللہ عنہ ایک سو پندرہ سال کی عمر میں تھے، فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ افطار کیا، میں اور میرے والد رمضان کے مہینے میں بارش اور بادلوں والے ایک دن میں ہم رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ سورج ظاہر ہو گیا تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ اللہ کی طرف سے کھلانا تھا، لہٰذا تم اپنا روزہ رات تک پورا کرو اور اس کی جگہ ایک روزہ کی قضا کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8017]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: ضعيف
1691. -- باب: من طلع الفجر وفي فيه شيء لفظه وأتم صومه استدلالا بما
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر فجر طلوع ہو گئی اور اس کے منہ میں کوئی چیز تھی تو اس نے اسے اگل دیا اور اپنا روزہ مکمل کیا، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 8018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الرَّازِيَّانِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا، قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ" قَالَ: فَقُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَفِيمَ؟" قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنِ ازْدَرَدَهُ بَعْدَ الْفَجْرِ قَضَى يَوْمًا مَكَانَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن میں بیوی کے قریب ہوا اور بوسہ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں روزے سے تھا۔ میں نے کہا: میں نے آج بہت بڑا گناہ کیا ہے، کہ میں نے روزے کی حالت میں بوسہ دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے اگر تو روزے کی حالت میں پانی سے کلی کرے؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اس کا کوئی حرج نہیں ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کس بات سے پریشان ہے؟“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بعد فجر لقمہ نگلا ہے تو اس کے عوض ایک دن کی قضا کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8018]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بعد فجر لقمہ نگلا ہے تو اس کے عوض ایک دن کی قضا کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8018]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8019
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو ⦗٣٦٩⦘ جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرِّيَاحِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اس وقت تک نہ رکھے جب تک اس سے اپنی ضرورت پوری نہ کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8019]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 8020
قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، قَالَ الرِّيَاحِيُّ فِي رِوَايَتِهِ وَزَادَ فِيهِ: وَكَانَ الْمُؤَذِّنُونَ يُؤَذِّنُونَ إِذَا بَزَغَ الْفَجْرُ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ حَمَّادٍ، وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَهُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَ عَوَامِّ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ أَنَّ الْمُنَادِيَ كَانَ يُنَادِي قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ بِحَيْثُ يَقَعُ شُرْبُهُ قُبَيْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، وَقَوْلُ الرَّاوِي: وَكَانَ الْمُؤَذِّنُونَ يُؤَذِّنُونَ إِذَا بَزَغَ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ خَبَرًا مُنْقَطِعًا مِمَّنْ دُونَ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ يَكُونُ خَبَرًا عَنِ الْأَذَانِ الثَّانِي، وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ" خَبَرًا عَنِ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِمَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مؤذن اذان کہتا جب فجر روشن ہو جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو ضرورت پوری کر لے۔“
اگر یہ روایت صحیح ہو تو عام اہل علم کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ اذان دینے والا طلوع فجر سے پہلے اذان دیتا ہے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پینا طلوع فجر سے ذرا پہلے ہوتا۔ اور راوی کا یہ قول کہ ”مؤذن فجر روشن ہونے پر اذان دیتے تھے“ ممکن ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نیچے کسی راوی کی منقطع خبر ہو یا دوسری اذان کے بارے میں ہو، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو“ پہلی اذان کے بارے میں ہو، تاکہ یہ دوسری روایات کے موافق ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8020]
اگر یہ روایت صحیح ہو تو عام اہل علم کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ اذان دینے والا طلوع فجر سے پہلے اذان دیتا ہے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پینا طلوع فجر سے ذرا پہلے ہوتا۔ اور راوی کا یہ قول کہ ”مؤذن فجر روشن ہونے پر اذان دیتے تھے“ ممکن ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نیچے کسی راوی کی منقطع خبر ہو یا دوسری اذان کے بارے میں ہو، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو“ پہلی اذان کے بارے میں ہو، تاکہ یہ دوسری روایات کے موافق ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8020]
تخریج الحدیث: «حسن۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن