🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1697. -- باب: كفارة من أتى أهله في نهار رمضان وهو صائم
-- باب: اس شخص کے کفارے کا بیان جس نے رمضان کے دن میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8041
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ لَهُ:" أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَجِدُ ⦗٣٧٥⦘ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لَا، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ، فَقَالَ" أَطْعِمْ هَذَا عَنْكَ"، فَقَالَ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، قَالَ:" أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ" قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ: إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً لِهَذَا، فَمَنْ أَصَابَ مِثْلَ مَا أَصَابَ فَلْيَصْنَعْ مَا أُمِرَ بِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَرِيرٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی سے رمضان میں صحبت کر لی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تو پاتا ہے جس کے ساتھ غلام آزاد کر دے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو پاتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا اور وہ بڑا ٹوکرا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اپنی طرف سے کھلا دے۔“ تو اس نے کہا: ان دونوں پہاڑوں میں کوئی گھر ہم سے زیادہ محتاج نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اپنے اہل کو ہی کھلا دے۔“
محمد بن مسلم فرماتے ہیں: یہ رخصت اسی کے لیے تھی، جس کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آئے تو وہ اس طرح کر لے جس طرح حکم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8041]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8042
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الصَّيْرَفِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْأَنْصَارِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً"، قَالَ: لَا أَجِدُهَا، قَالَ:" صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ:" فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: لَا أَجِدُ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ:" فَخُذْهَا فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، قَالَ:" خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، قَالَ فِي الْحَدِيثِ: بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ هَكَذَا. وَذَكَرَهُ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ. وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَجَعَلَ هَذَا التَّقْدِيرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فَالَّذِي يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ تَقْدِيرُ الْمِكْتَلِ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ رِوَايَةٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام آزاد کر۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مہینے کے متواتر روزے رکھ۔“ اس نے کہا: میں استطاعت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجور کے پندرہ صاع تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لے اور اپنی طرف سے کھلا دے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی گھر ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جا اور اپنے اہل کو کھلا۔“
اور ٹوکرے میں کھجور کے پندرہ صاع تھے۔
زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ ٹوکرے کا پندرہ صاع کا اندازہ عمرو بن شعیب کی روایت سے ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8042]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8043
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَابْنُ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا لَيْثٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ⦗٣٧٦⦘ أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ:" هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" زَادَ ابْنُ بُكَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ" مُتَتَابِعَيْنِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے کہا: اپنی بیوی سے میں نے رمضان میں صحبت کر لی، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو غلام پاتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔“
ابن بکیر نے «مُتَتَابِعَيْنِ» کا لفظ اضافی بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8043]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8044
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَجِدُ رَقَبَةً؟" قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لَا أَجِدُهُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، قَالَ:" اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهَذَا"، فَقَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ" قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا رُخْصَةً لِلرَّجُلِ وَحْدَهُ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ الْيَوْمَ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا أَنْ يُكَفِّرَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ مَعْمَرٍ وَبِمَعْنَى هَؤُلَاءِ رَوَاهُ أَكْثَرُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ وَغَيْرُهُمَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور گویا ہوا کہ میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ تو اس نے کہا: میں رمضان میں بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو غلام پاتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو متواتر دو مہینے روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے جا کر صدقہ کر دے۔“ اس نے کہا: اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ہم سے زیادہ محتاج ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، پھر فرمایا: ”اسے اپنے اہل و عیال کے پاس لے جا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8044]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8045
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، تُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ احْتَرَقَ، فَسَأَلَهُ:" مَا لَهُ؟" فَقَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَتْ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقُ، فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ:" أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ؟" فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَذَا" ⦗٣٧٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُنِيرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ وہ ہلاک ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ٹوکرا لایا گیا جسے «الْعَرَقُ» کہا جاتا ہے، اس میں کھجور تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہلاک ہونے والا کہاں ہے؟“ ایک آدمی کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8045]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8046
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حدَّثَنِي الْأُوَيْسِيُّ، حدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ فَارِعٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ، وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً" قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: لَيْسَ عِنْدِي، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا، فَقَالَ" تَصَدَّقْ"، فَقَالَ: مَا نَجِدُ عَشَاءً لَيْلَةً، قَالَ:" فَعُدْ بِهِ عَلَى أَهْلِكَ" قَالَ الشَّيْخُ: الزِّيَّادَاتُ الَّتِي فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ تَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ حِفْظِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَمَنْ دُونَهُ لِتِلْكَ الْقِصَّةِ، وَقَوْلُهُ: فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا، بَلَاغٌ بَلَّغَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَدْ رَوَى الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِبَعْضٍ مِنْ هَذَا، يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: فَحُدِّثْتُ بَعْدُ أَنَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ كَانَتْ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، وَهُوَ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارع کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا جو بنو بیاضہ میں سے تھا، کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا کہ رمضان کے مہینے میں بیوی پر واقع ہو گیا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام آزاد کر“، اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا“۔ اس نے کہا: میرے پاس نہیں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا، جس میں بیس صاع تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا صدقہ کر“۔ اس نے کہا: ہمارے پاس آج رات کا کھانا نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اپنے اہل پر لوٹا دے“۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں جو زائد باتیں ہیں وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان سے نیچے کے راویوں کے اس قصے کو صحیح یاد رکھنے پر دلالت کرتی ہیں۔ اور یہ کہنا کہ اس میں بیس صاع تھے، ایک بلاغ ہے جو محمد بن جعفر تک پہنچا، محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے بیان کیا گیا کہ وہ صدقہ بیس صاع کھجور تھا، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں پندرہ صاع مروی ہے اور وہی زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8046]
تخریج الحدیث: «حسن۔ البخاري»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1698. -- باب: رواية من روى هذا الحديث مقيدة بوقوع وطئه في صوم رمضان وفيها دلالة على أن هذه القصة غير قصة المظاهر، فإن وطء المظاهر وقع ليلا في القمر
-- باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث کو رمضان کے روزے میں جماع کے وقوع کے ساتھ مقید کیا ہے، اور اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ یہ واقعہ ظہار کرنے والے کے واقعے کے علاوہ ہے، کیونکہ ظہار کرنے والے کا جماع رات کے وقت چاندنی میں ہوا تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8047
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟" فَقَالَ: لَا، فَقَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لَا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا، خُذْ هَذَا التَّمْرَ فَتَصَدَّقْ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللهِ، فَوَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ، أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ اس نے کہا: روزے کی حالت میں میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو غلام رکھتا ہے کہ اسے آزاد کر دے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھنے کی استطاعت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی گنجائش ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”یہ لے لو اور صدقہ کر دے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ محتاج کون ہے؟ اللہ کی قسم! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان میرے اہل سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں اور فرمایا: ”جا اپنے اہل کو کھلا دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8047]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ هذا لفظ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8048
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْثَدٍ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ، قَالَ:" وَيْحَكَ وَمَا ذَاكَ"؟ قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً"، قَالَ: مَا أَجِدُهَا، قَالَ:" فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَ: مَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، قَالَ:" خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ"، قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي، فَوَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِي، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، قَالَ:" خُذْهُ وَاسْتَغْفَرِ اللهَ، وَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْهَقْلُ بْنُ زِيَادٍ، وَمَسْرُورُ بْنُ صَدَقَةَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ جَعَلَ قَوْلَهُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَأَدْرَجَهُ هِقْلٌ وَمَسْرُورٌ فِي الْحَدِيثِ، كَمَا أَخْرَجَهُ دُحَيْمٌ عَنِ الْوَلِيدِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! وہ کیسے؟“ تو اس نے کہا: میں رمضان کے مہینے میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام آزاد کر۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دو مہینے کے متواتر روزے رکھ۔“ اس نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے جا اور صدقہ کر۔“ اس نے کہا: اپنے اہل سے زیادہ محتاجوں پر؟ اللہ کی قسم! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے اور استغفار کر اور اپنے اہل کو ہی کھلا دے۔“ البتہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے پندرہ صاع والی بات کو عمرو بن شعیب کی روایت سے قرار دیا ہے، جبکہ ہقل اور مسرور نے اسے حدیث میں شامل کر دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8048]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8049
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الزَّاهِدُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الرَّازِيُّ وَأَنَا سَأَلْتُهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نَجَادِ بْنِ يَزِيدَ، ابْنُ أَخِي يُونُسَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ ⦗٣٧٩⦘ اللهِ، هَلَكْتُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ وَمَا ذَاكَ؟" قَالَ: إِنِّي وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ فِي رَمَضَانَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟" قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَجِدُ طَعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لَا، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ إِذْ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ:" أَيْنَ الرَّجُلُ آنِفًا، خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ" قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا، قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، وَغَيْرُهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَاتَّفَقَتْ رِوَايَةُ جَمَاعَتِهِمْ، وَرِوَايَةُ مَنْ سَمَّيْنَاهُمْ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ عَلَى أَنَّ فِطْرَ الرَّجُلِ وَقَعَ بِجِمَاعٍ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْكَفَّارَةِ عَلَى اللَّفْظِ الَّذِي يَقْتَضِي التَّرْتِيبَ، وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَيَّدًا بَالْوَطْءِ فِي رَمَضَانَ نَهَارًا.
حمید بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! وہ کیسے؟“ اس نے کہا: ”میں رمضان میں روزے سے تھا اور اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس غلام ہے جو تو آزاد کر دے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے متواتر روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھلانے کی گنجائش رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم اسی حالت میں بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی جو آدمی تھا وہ کہاں ہے؟“ اور فرمایا: ”یہ لے لو اور صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جو مجھ سے زیادہ محتاج ہیں ان پر؟ اللہ کی قسم! دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو کھلا دے۔“
دیگر راویوں نے بھی زہری سے اسی معنی میں روایت کیا ہے، اور ان سب کی روایت اور ان راویوں کی روایت جن کا نام ہم نے پچھلے باب میں لیا ہے، اس پر متفق ہے کہ آدمی کا افطار جماع کی وجہ سے ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارے کا حکم ایسے الفاظ میں دیا جو ترتیب کا تقاضا کرتے ہیں۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث رمضان میں دن کے وقت جماع کے ساتھ مقید مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8049]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني قريب»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8050
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الْجُوَيْنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الرُّمْحِ، أنبأ اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِمَ" قَالَ: وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا، قَالَ:" تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ" قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ، فَجَاءَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ، لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الرُّمْحِ، وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَمْكُثَ، فَجَاءَهُ عَرَقٌ مِنْ طَعَامٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الرُّمْحِ. وَرِوَايَةُ ابْنِ بُكَيْرٍ فِي الْعَرَقِ أَصَحُّ لِمُوَافَقَتِهَا سَائِرَ الرِّوَايَاتِ عَنِ اللَّيْثِ، وَرِوَايَةُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں ہلاک ہو گیا، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں بھئی؟“ اس نے کہا: رمضان میں دن کے وقت صحبت کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کر صدقہ۔“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیٹھنے کو کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو ٹوکریاں لائی گئیں جن میں کھانا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا صدقہ کرنے کا حکم دیا، ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانے کی ایک ٹوکری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو صدقہ کر دے۔“
ٹوکری کے بارے میں ابن بکیر کی روایت زیادہ صحیح ہے، کیونکہ وہ لیث سے مروی باقی تمام روایات کے اور یحییٰ بن سعید سے عبدالوہاب ثقفی اور یزید بن ہارون کی روایت کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8050]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں