السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1691. -- باب: من طلع الفجر وفي فيه شيء لفظه وأتم صومه استدلالا بما
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر فجر طلوع ہو گئی اور اس کے منہ میں کوئی چیز تھی تو اس نے اسے اگل دیا اور اپنا روزہ مکمل کیا، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 8021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّمَا يُنَادِي لِيُوقِظَ نَائِمَكُمْ، وَيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ"، قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ:" وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَلَكِنْ يَقُولُ: هَكَذَا، الْفَجْرُ هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ التَّيْمِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو بلال کی اذان سحری سے نہ روکے، وہ تو تمہیں نیند سے بیدار کرنے کے لیے اذان کہتا ہے اور قیام کرنے والے کو لوٹاتا ہے۔“
جریر فرماتے ہیں کہ انہوں نے لمبائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فجر کی نشاندہی نہیں کی، بلکہ چوڑائی کی طرف اشارہ کیا کیونکہ وہ لمبائی میں نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8021]
جریر فرماتے ہیں کہ انہوں نے لمبائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فجر کی نشاندہی نہیں کی، بلکہ چوڑائی کی طرف اشارہ کیا کیونکہ وہ لمبائی میں نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8021]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8022
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
سیدنا ابن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک بلال رات کو اذان کہتا ہے، سو تم کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8022]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مقفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8023
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٧٠⦘ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ جَدِّهِ شَيْبَانَ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَنَادَيْتُ فَتَنَحَّيْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبَا يَحْيَى"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" ادْنُهْ، هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ" قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ، قَالَ:" وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ، وَلَكِنْ مُؤَذِّنُنَا فِي بَصَرِهِ سُوءٌ، أَوْ شَيْءٌ، أَذَّنَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ" كَذَا رَوَاهُ حَفْصٌ وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ الْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ أَبُو هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَالْحَدِيثُ تَفَرَّدَ بِهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، فَإِنْ صَحَّ فَكَأَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ وَقَعَ تَأْذِينُهُ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَمْ يَمْتَنِعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَكْلِ، وَعَلَى هَذَا الَّذِي ذَكَرْنَا تَتَّفِقُ الْأَخْبَارُ وَلَا تَخْتَلِفُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا شیبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور میں نے اذان کہی اور کونے میں بیٹھ گیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو یحییٰ!“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ اور کھا لو۔“ میں نے عرض کیا: میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں، لیکن ہمارے مؤذن کی آنکھ میں کچھ خرابی ہے یا کچھ اور ہے کہ اس نے طلوع فجر سے پہلے اذان کہہ دی۔“
اس حدیث کو بیان کرنے میں اشعث بن سوار اکیلے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو گویا سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان فجر سے پہلے ہو گئی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے نہیں رکے۔ ہم نے جو ذکر کیا ہے اس کی بنا پر تمام اخبار باہم موافق ہو جاتی ہیں اور ان میں اختلاف نہیں رہتا، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8023]
اس حدیث کو بیان کرنے میں اشعث بن سوار اکیلے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو گویا سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان فجر سے پہلے ہو گئی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے نہیں رکے۔ ہم نے جو ذکر کیا ہے اس کی بنا پر تمام اخبار باہم موافق ہو جاتی ہیں اور ان میں اختلاف نہیں رہتا، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8023]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
1692. -- باب: من طلع الفجر وهو مجامع أخرجه من ساعته وأتم صومه
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر فجر طلوع ہو گئی اور وہ جماع میں مشغول تھا، تو اس نے اسی لمحے خود کو الگ کر لیا اور اپنا روزہ مکمل کیا۔
حدیث نمبر: 8024
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ:" لَوْ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ وَالرَّجُلُ عَلَى امْرَأَتِهِ لَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ أَنْ يَصُومَ، إِذَا أَرَادَ الصِّيَامَ قَامَ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَتَمَّ صِيَامَهُ".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ اگر نماز کے لیے اذان ہو جائے اور آدمی اپنی بیوی پر ہو تو یہ عمل اسے نہیں روکتا کہ وہ روزہ رکھے، جب وہ روزے کا ارادہ رکھتا ہو۔ وہ کھڑا ہو، غسل کرے اور روزہ پورا کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8024]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح
1693. -- باب: من ذرعه القيء لم يفطر، ومن استقاء أفطر
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر قے غلبہ پا گئی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 8025
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ:" وَمَنْ تَقَيَّأَ وَهُوَ صَائِمٌ وَجَبَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ، وَمَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ"، وَبِهَذَا أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ ”جس نے جان بوجھ کر قے کی، اس پر قضا واجب ہے اور جسے قے آ جائے اس پر قضا نہیں ہے۔“ یہ خبر ہمیں مالک رحمہ اللہ نے دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8025]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الي الشافعي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8026
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّبْعِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو نَصْرٍ مَنْصُورُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمُفَسِّرُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ".
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جسے خود قے آ جائے اس پر قضا نہیں اور جو جان بوجھ کر قے کرے اس پر قضا واجب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8026]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8027
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ السَّبْعِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ مَنْصُورُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَنَزِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ السُّلَمِيُّ، ثنا شَدَّادُ بْنُ حَكِيمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَإِنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے قے آجائے اور وہ روزے سے ہو تو اس پر قضا نہیں اور اگر خود قے کی ہے تو پھر روزے کی قضا ہے جسے ادا کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8027]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8028
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْبُرُلُّسِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، تَفَرَّدَ بِهِ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْفِرْدَوْسِيُّ وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، وَبَعْضُ الْحُفَّاظِ لَا يَرَاهُ مَحْفُوظًا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: لَيْسَ مِنْ ذَا شَيْءٌ، قُلْتُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْقَيْءِ:" لَا يُفْطِرُ"، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ قَوْلِهِ:.
حفص بن غیاث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہشام بن حسان رحمہ اللہ نے اسی معنی میں حدیث بیان کی اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے قے کے بارے میں فرمایا: وہ روزہ نہیں توڑتی۔
اسے بیان کرنے میں ہشام بن حسان فردوسی منفرد ہیں، اور بعض حفاظ اسے محفوظ نہیں سمجھتے۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل کو یہ کہتے سنا: اس میں کچھ نہیں۔ یہ ایک دوسری ضعیف سند سے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8028]
اسے بیان کرنے میں ہشام بن حسان فردوسی منفرد ہیں، اور بعض حفاظ اسے محفوظ نہیں سمجھتے۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل کو یہ کہتے سنا: اس میں کچھ نہیں۔ یہ ایک دوسری ضعیف سند سے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8028]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظرقبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8029
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا أَكَلَ الرَّجُلُ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللهُ إِيَّاهُ، وَإِذَا تَقَيَّأَ وَهُوَ صَائِمٌ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، وَإِذَا ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ".
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس نے روزے کی حالت میں بھول کر کھا لیا تو وہ رزق ہے جو اللہ نے اسے عطا کیا ہے، اور جب وہ روزے کی حالت میں قے کر لے تو اس پر قضا ہے، اور جب زبردستی قے آ جائے تو پھر قضا نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8029]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8030
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَنَّادٍ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ، قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ، فَقَالَ: صَدَقَ، وَأَنَا صَبَبْتُ عَلَيْهِ وَضُوءَهُ، فَهَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِي إِسْنَادِهِ، فَإِنْ صَحَّ فَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى مَا لَوْ تَقَيَّأَ عَامِدًا، وَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مُتَطَوِّعًا بِصَوْمِهِ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ ثَوْبَانَ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی، پھر افطار کر لیا۔ وہ کہتے ہیں: میں دمشق کی مسجد میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، تو میں نے ان سے کہا: سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور افطار کر دیا، تو انہوں نے کہا کہ سچ کہا ہے اور میں پانی انڈیل رہا تھا۔
یہ حدیث سند کے لحاظ سے مختلف ہے، اگر صحیح ہے تو پھر اس پر محمول ہو کہ اگر قے جان بوجھ کر کی ہے اور آپ کا نفلی روزہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8030]
یہ حدیث سند کے لحاظ سے مختلف ہے، اگر صحیح ہے تو پھر اس پر محمول ہو کہ اگر قے جان بوجھ کر کی ہے اور آپ کا نفلی روزہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8030]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: صحيح