السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1715. -- باب: ما يستحب من تعجيل الفطر وتأخير السحور
-- باب: افطار میں جلدی کرنے اور سحری میں تاخیر کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8121
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُوسَى هَارُونُ بْنُ مُوسَى الزَّاهِدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَيُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ وَيُؤَخِّرُ ⦗٤٠٠⦘ الْإِفْطَارَ، قَالَتْ:" أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَيُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ؟" قُلْنَا: عَبْدُ اللهِ، قَالَتْ:" هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَخَالَفَهُمَا شُعْبَةُ فَرَوَاهُ.
ابوعطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اور مسروق رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے، انہوں نے کہا: اے ام المومنین! اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے دو آدمی ہیں، ایک ان میں سے نماز جلدی پڑھتا ہے اور روزہ بھی جلدی افطار کرتا ہے اور دوسرا نماز و افطار میں (تاخیر) کرتا ہے، انہوں نے پوچھا: ”جلدی کون کرتا ہے؟“ انہوں نے کہا: عبداللہ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے“ اور دوسرے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8121]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8122
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْوَادِعِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، أَوْ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ فِينَا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُؤَخِرُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ، فَقَالَتْ:" مَنْ هَذَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ؟" قُلْنَا: ابْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ:" كَذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَهَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابوعطیہ وادعی فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ ہم نے کہا: ”اے ام المومنین! اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے دو افراد ہیں، ایک ان میں سے افطار جلدی کرتا ہے مگر سحری میں تاخیر کرتا ہے، لیکن جو دوسرا ہے وہ افطار میں تاخیر کرتا ہے اور سحری میں جلدی کرتا ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”وہ کون ہے جو افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتا ہے؟“ ہم نے کہا: ”وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔“ تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی کیا کرتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8122]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8123
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هِشَامٍ.
عاصم بن عمر رحمہ اللہ اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات آ جائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزے دار افطار کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8123]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8124
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ"، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَبَيْنَ السُّحُورِ؟ قَالَ:" قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعِ عَنْ هِشَامٍ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کرتے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ میں نے کہا: اذان اور سحری میں کتنا وقفہ ہوتا؟ انہوں نے کہا: پچاس آیات پڑھنے کے برابر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8124]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8125
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا طَلْحَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا أَنْ نُعَجِّلَ إِفْطَارَنَا، وَنُؤَخِّرَ سُحُورَنَا، وَنَضَعَ أَيْمَانَنَا عَلَى شَمَائِلِنَا فِي الصَّلَاةِ" هَذَا حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِطَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو الْمَكِّيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ، فَقِيلَ عَنْهُ هَكَذَا، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَمِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِنْ قَوْلِهَا: وَثَلَاثَةٌ مِنَ النُّبُوَّةِ، فَذَكَرَهُنَّ، وَهُوَ أَصَحُّ مَا وَرَدَ فِيهِ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ..
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم انبیاء کی جماعت کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم افطار میں جلدی کریں اور سحری میں تاخیر کریں اور یہ کہ ہم نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھیں۔“
یہ حدیث طلحہ بن عمرو مکی کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور وہ ضعیف ہیں، ان میں اختلاف کیا گیا ہے۔ یہ سیدنا ابوہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی دوسری ضعیف سندوں سے مروی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ان کے اپنے قول کے طور پر منقول ہے جس میں ہے کہ تین چیزیں نبوت میں سے ہیں: پھر ان کا تذکرہ کیا، اور اس بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے اس میں یہ سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8125]
یہ حدیث طلحہ بن عمرو مکی کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور وہ ضعیف ہیں، ان میں اختلاف کیا گیا ہے۔ یہ سیدنا ابوہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی دوسری ضعیف سندوں سے مروی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ان کے اپنے قول کے طور پر منقول ہے جس میں ہے کہ تین چیزیں نبوت میں سے ہیں: پھر ان کا تذکرہ کیا، اور اس بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے اس میں یہ سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8125]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدبن حميد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا، أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يُصَلِّيَانِ الْمَغْرِبَ حِينَ يَنْظُرَانِ إِلَى اللَّيْلِ الْأَسْوَدِ، ثُمَّ يُفْطِرَانِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْمَبْسُوطِ: كَأَنَّهُمَا يَرَيَانِ تَأْخِيرَ ذَلِكَ وَاسِعًا؛ لِأَنَّهُمَا يَعْمَدَانِ الْفَضْلَ لِتَرْكِهِ بَعْدَ أَنْ أُبِيحَ لَهُمَا، وَصَارَا مُفْطِرَيْنِ بِغَيْرِ أَكْلٍ وَشُرْبٍ؛ لِأَنَّ الصَّوْمَ لَا يَصْلُحُ فِي اللَّيْلِ.
حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما مغرب کی نماز ادا کیا کرتے تھے، جب وہ دیکھتے کہ رات سیاہ ہو گئی ہے۔ پھر وہ نماز کے بعد افطار کیا کرتے تھے اور یہ رمضان میں ہوتا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے مبسوط میں فرمایا ہے کہ تاخیر میں وسعت دیکھ کر ایسا کرتے تھے، نہ کہ ان کا مقصد فضیلت کو چھوڑنا تھا جو ان کے لیے مباح تھی اور وہ بغیر کھائے پیے ہی روزہ افطار کر لیتے تھے، اس لیے کہ رات کو روزہ باقی نہیں رہتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8126]
امام شافعی رحمہ اللہ نے مبسوط میں فرمایا ہے کہ تاخیر میں وسعت دیکھ کر ایسا کرتے تھے، نہ کہ ان کا مقصد فضیلت کو چھوڑنا تھا جو ان کے لیے مباح تھی اور وہ بغیر کھائے پیے ہی روزہ افطار کر لیتے تھے، اس لیے کہ رات کو روزہ باقی نہیں رہتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8126]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8127
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْجَلَ النَّاسِ إِفْطَارًا، وَأَبْطَأَهُمْ سُحُورًا".
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم افطار کرنے میں سب سے جلدی کرنے والے تھے اور سحری میں سب سے زیادہ تاخیر کرنے والے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8127]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1716. -- باب: ما يفطر عليه
-- باب: جن چیزوں سے روزہ افطار کیا جائے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 8128
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلْيُفْطِرْ عَلَى التَّمْرِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ التَّمْرَ فَعَلَى الْمَاءِ، فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُوَرٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ، وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ حَفْصَةَ فَلَمْ يَرْفَعْهُ.
سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو وہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے، بیشک پانی بھی پاک ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8128]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8129
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، تُحَدِّثُ عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَامَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى التَّمْرِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَى الْمَاءِ، فَإِنَّهُ طَهُوَرٌ" هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْمُسْنَدِ قَدْ أَقَامَ إِسْنَادَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ غَيْلَانَ عَنْ أَبِي دَاوُدَ دُونَ ذِكْرِ الرَّبَابِ، وَرُوِيَ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ شُعْبَةَ مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ فَغَلِطَ فِي إِسْنَادِهِ.
سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو وہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ پائے تو پھر پانی سے، بیشک وہ پاکیزہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8129]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظرقبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8130
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدَ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ، وَمَنْ لَا فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ، فَإِنَّهُ طَهُوَرٌ" قَالَ الْبُخَارِيُّ فِيمَا رَوَى عَنْهُ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ وَهْمٌ يَهِمُ فِيهِ سَعِيدٌ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کھجور پائے وہ اس سے افطار کرے اور جو نہ پائے وہ پانی سے افطار کرے، بیشک وہ پاک ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا (جیسا کہ ابو عیسیٰ ترمذی نے ان سے نقل کیا): سعید بن عامر کی حدیث وہم ہے جس میں سعید کو وہم ہوا ہے، اور صحیح حدیث عاصم کی حفصہ بنت سیرین سے روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8130]
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا (جیسا کہ ابو عیسیٰ ترمذی نے ان سے نقل کیا): سعید بن عامر کی حدیث وہم ہے جس میں سعید کو وہم ہوا ہے، اور صحیح حدیث عاصم کی حفصہ بنت سیرین سے روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8130]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: ضعيف