السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1756. -- باب: السواك للصائم
-- باب: روزہ دار کے لیے مسواک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8327
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ فِهْرٍ بِمَكَّةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَلْخِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَلْخِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْخُوَارَزْمِيُّ، قَاضِي خُوَارَزْمَ قَدِمَ عَلَيْنَا أَيَّامَ عَلِيِّ بْنِ عِيسَى قَالَ: سَأَلْتُ عَاصِمَ الْأَحْوَلَ، فَقُلْتُ: أَيَسْتَاكُ الصَّائِمُ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ"، فَقُلْتُ: بِرَطْبِ السِّوَاكِ وَيَابِسِهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: عَمَّنْ؟ قَالَ:" عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَهَذَا يَنْفَرِدُ بِهِ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَيْطَارٍ، وَيُقَالُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَاضِي ⦗٤٥٣⦘ خُوَارَزْمَ حَدَّثَ بِبَلْخٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِالْمَنَاكِيرِ لَا يُحْتَجُّ بِهِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ أَوَّلِ النَّهَارِ وَآخِرِهِ.
قاضیٔ خوارزم ابو اسحاق خوارزمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عاصم احول سے پوچھا کہ کیا روزے دار بھی مسواک کرے گا؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو میں نے کہا: مسواک تر یا خشک دونوں کے ساتھ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: دن کے شروع یا آخر میں بھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کس نے بیان کیا؟ انہوں نے کہا: انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں ابو اسحاق ابراہیم بن بیطار منفرد ہے، اسے ابراہیم بن عبدالرحمن قاضیٔ خوارزم بھی کہا جاتا ہے، اس نے بلخ میں عاصم احول سے منکر روایات بیان کیں، اس سے حجت نہیں لی جاتی، اور اس سے ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت کی گئی ہے جس میں دن کے شروع اور آخر کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8327]
اس روایت کو بیان کرنے میں ابو اسحاق ابراہیم بن بیطار منفرد ہے، اسے ابراہیم بن عبدالرحمن قاضیٔ خوارزم بھی کہا جاتا ہے، اس نے بلخ میں عاصم احول سے منکر روایات بیان کیں، اس سے حجت نہیں لی جاتی، اور اس سے ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت کی گئی ہے جس میں دن کے شروع اور آخر کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8327]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه دارقطني»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8328
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَزْدَكٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ وَاصِلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَأَلْتُ عَاصِمَ الْأَحْوَلَ عَنِ السِّوَاكِ لِلصَّائِمِ فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ"، فَقُلْتُ بِرَطْبِ السِّوَاكِ وَيَابِسِهِ، فَقَالَ:" أَتُرَاهُ أَشَدَّ رُطُوبَةً مِنَ الْمَاءِ؟" قُلْتُ عَمَّنْ، قَالَ" عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: إِبْرَاهِيمُ هَذَا عَامَّةُ أَحَادِيثِهِ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ.
ابراہیم بن عبدالرحمن نے کہا: میں نے عاصم احول سے روزے دار کی مسواک کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں، تو میں نے کہا: تر اور خشک دونوں کے ساتھ؟ انہوں نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کی رطوبت پانی سے بھی زیادہ ہے؟ میں نے کہا: آپ نے کس سے سنا؟ انہوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
ابو احمد (ابن عدی) نے کہا: اس ابراہیم کی اکثر احادیث غیر محفوظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8328]
ابو احمد (ابن عدی) نے کہا: اس ابراہیم کی اکثر احادیث غیر محفوظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8328]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن عدي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8329
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ قَالَ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَدْأَبَ سِوَاكًا وَهُوَ صَائِمٌ مِنْ عُمَرَ" أَرَاهُ قَالَ:" بِعُودٍ قَدْ ذَوِيَ" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ يَعْنِي يَبِسَ.
زیاد بن حدیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی ایک کو نہیں دیکھا جو مسواک کی زیادہ سے زیادہ مواظبت کرنے والا ہو روزے کی حالت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے، میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: لکڑی سے، ابو عبیدہ نے کہا: یعنی خشک لکڑی سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8329]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه عبدالرزاق»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 8330
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ.
عبداللہ بن نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام، اپنے والد سے بیان کرتے ہیں اور وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ وہ روزے کی حالت میں مسواک کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8330]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1757. -- باب: من كره السواك بالعشي إذا كان صائما لما يستحب من خلوف فم الصائم
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے روزہ دار کے لیے پچھلے پہر مسواک کرنے کو مکروہ قرار دیا، اس لیے کہ روزہ دار کے منہ کی بو پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 8331
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْهَرَوِيُّ فِي الرَّوْضَةِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي عَلِيٍّ الرَّفَّاءِ قُلْتُ لَهُ أَخْبَرَكُمْ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ اللهُ: الصَّوْمُ لِي ⦗٤٥٤⦘ وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَأَكْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى اللهَ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں ہی دوں گا کہ وہ اپنی خواہش کو ترک کر دیتا ہے، کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے میری وجہ سے اور روزہ ڈھال ہے اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب کی ملاقات کے وقت ہو گی اور اس کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی عمدہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8331]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معنيٰ قريباً»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8332
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ التَّمِيمِيُّ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ قَالَ الْعَلَوِيُّ: أنبأ وَقَالَ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعِفُ الْحَسَنَةَ عَشْرَ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَةِ ضِعْفٍ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ الصَّوْمُ جُنَّةٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ عَنْ وَكِيعٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کے ہر عمل کو بڑھایا جاتا ہے، ایک نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا تک، اللہ عزوجل نے فرمایا: سوائے روزے کے، بیشک وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا کہ وہ میری وجہ سے اپنی خواہش اور کھانے پینے کو چھوڑتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو شادمانیاں ہیں: ایک شادمانی افطار کے وقت اور دوسری رب کی ملاقات کے وقت ہوگی، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی اطیب و عمدہ ہے، اور روزہ ڈھال ہے، روزہ ڈھال ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8332]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8333
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَجَزَاهُ فَرِحَ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ.
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں دوں گا اور یہ کہ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: جب وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اس کی جزا اسے خوش کر دے گی اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری سے بھی زیادہ پسند ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8333]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8334
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ كَيْسَانَ أَبِي عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِلَالٍ مَوْلَاهُ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ مَعَ عَلِيٍّ صِفِّينَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَا يَسْتَاكُ الصَّائِمُ بِالْعَشِيِّ وَلَكِنْ بِاللَّيْلِ فَإِنَّ يُبُوسَ شَفَتَيِ الصَّائِمِ نُورٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
یزید بن بلال، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ شام کے وقت روزے دار مسواک نہ کرے لیکن رات کو کرے، بے شک صائم کے ہونٹوں کا خشک ہونا قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور کا باعث ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8334]
حدیث نمبر: 8335
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ الظُّفُرُ بْنُ سَهْلٍ الْخَلِيلُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حِبَّانَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فِيمَا يَرْوِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ" كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" ⦗٤٥٥⦘ فَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: هَذَا مِنْ أَجْوَدِ الْأَحَادِيثِ وَأَحْكَمِهَا، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُحَاسِبُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَهُ وَيُؤَدِّي مَا عَلَيْهِ مِنَ الْمَظَالِمِ مِنْ سَائِرِ عَمَلِهِ حَتَّى لَا يَبْقَى إِلَّا الصَّوْمُ فَيَتَحَمَّلُ اللهُ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَظَالِمِ وَيُدْخِلُهُ بِالصَّوْمِ الْجَنَّةَ.
ایوب بن حبان واسطی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سنا، اس نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے پوچھا: اے ابو محمد! وہ روایت جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے بیان کرتے ہیں کہ ”بنو آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں دوں گا۔“ تو ابن عیینہ نے کہا: یہ عمدہ ترین اور پختہ ترین احادیث میں سے ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ عزوجل اپنے بندے کا حساب لے گا اور اس کے ذمے جو مظالم ہوں گے وہ اس کے باقی تمام اعمال سے ادا کرے گا، یہاں تک کہ صرف روزہ باقی رہ جائے گا، تو اس پر جو مظالم باقی ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں خود اٹھا لے گا اور روزے کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8335]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الظفر بن سهل»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8336
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو خُرَاسَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَنِ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْقَصَّابُ كَيْسَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ:" إِذَا صُمْتُمْ فَاسْتَاكُوا بِالْغَدَاةِ وَلَا تَسْتَاكُوا بِالْعَشِيِّ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ صَائِمٍ تَيْبَسُ شَفَتَاهُ بِالْعَشِيِّ إِلَّا كَانَتَا نُورًا بَيْنَ عَيْنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
یزید بن بلال سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جب تم روزہ رکھو تو صبح کے وقت مسواک کرو، شام کے وقت مسواک نہ کرو، وہ اس لیے کہ روزے دار کے ہونٹ شام کے وقت خشک نہیں ہوتے مگر وہ قیامت کے دن اس کی آنکھوں کے درمیان نور کا باعث ہوں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8336]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مضيٰ تخريحه»
الحكم على الحديث: ضعيف