السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1760. -- باب: من رأى عليه القضاء
-- باب: ان کا بیان جو اس پر قضا کو لازم سمجھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8367
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا ⦗٤٦٥⦘ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ الْحَدِيثَ مُرْسَلًا، فَقَالَ سُفْيَانُ: فَقِيلَ لِلزُّهْرِيِّ هُوَ عَنْ عُرْوَةَ، فَقَالَ: لَا، وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ قِيَامِهِ مِنَ الْمَجْلِسِ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ سُفْيَانُ: وَقَدْ كُنْتُ سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ أَبِي الْأَخْضَرِ حَدَّثَنَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: لَيْسَ هُوَ عَنْ عُرْوَةَ فَظَنَنْتُ أَنَّ صَالِحًا أَتَى مِنْ قَبْلِ الْعَرْضِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مَعْمَرٍ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: لَوْ كَانَ مِنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ مَا نَسِيتُهُ فَهَذَانِ ابْنُ جُرَيْجٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ شَهِدَا عَلَى الزُّهْرِيِّ وَهُمَا شَاهِدَا عَدْلٍ بِأَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ فَكَيْفَ يَصِحُّ وَصْلُ مَنْ وَصَلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَكَذَلِكَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ وَاحْتَجَّ بِحِكَايَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَبِإِرْسَالِ الْحَدِيثِ عَنِ الزُّهْرِيِّ مِنَ الْأَئِمَّةِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ جُرَيْجِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَإِنْ كَانَ مِنَ الثِّقَاتِ فَهُوَ وَاهِمٌ فِيهِ وَقَدْ خَطَّأَهُ فِي ذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَائِشَةَ مُرْسَلًا..
سفیان کہتے ہیں: میں نے زہری سے سنا، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں، اور انہوں نے یہ حدیث مرسل بیان کی۔
سفیان کہتے ہیں: زہری سے کہا گیا: کیا یہ عروہ سے ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اور یہ بات ان کے مجلس سے اٹھتے وقت ہوئی جبکہ نماز کی اقامت ہو چکی تھی۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے صالح بن ابی اخضر کو سنا تھا کہ وہ یہ حدیث ہمیں زہری سے، عروہ کے واسطے سے بیان کرتے تھے، جبکہ زہری نے کہا: یہ عروہ سے نہیں ہے، تو میرا خیال ہے کہ صالح کی غلطی عرض (پیش کرنے کے طریقے) کی وجہ سے آئی ہے۔ ابوبکر حمیدی کہتے ہیں: مجھے کئی لوگوں نے معمر سے خبر دی کہ انہوں نے اس حدیث کے بارے میں کہا: اگر یہ عروہ کی حدیث ہوتی تو میں اسے نہ بھولتا۔
پس یہ دونوں، ابن جریج اور سفیان بن عیینہ، زہری کے بارے میں گواہی دیتے ہیں، اور یہ دونوں عادل گواہ ہیں، کہ انہوں نے اسے عروہ سے نہیں سنا، تو جس نے اسے موصول بیان کیا اس کا موصول بیان کرنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: زہری کی عروہ سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث صحیح نہیں ہے۔ اور محمد بن یحییٰ ذہلی نے بھی یہی کہا ہے، اور انہوں نے ابن جریج اور سفیان بن عیینہ کے بیان سے اور ائمہ کے زہری سے اس حدیث کو مرسل بیان کرنے سے دلیل لی ہے۔ یہ حدیث جریر بن حازم سے، یحییٰ بن سعید سے، عمرہ سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت کی گئی ہے، اور جریر بن حازم اگرچہ ثقہ راویوں میں سے ہیں مگر انہیں اس میں وہم ہوا ہے، اور احمد بن حنبل اور علی بن مدینی نے انہیں اس میں غلط قرار دیا ہے، اور محفوظ روایت یحییٰ بن سعید سے، زہری سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8367]
سفیان کہتے ہیں: زہری سے کہا گیا: کیا یہ عروہ سے ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اور یہ بات ان کے مجلس سے اٹھتے وقت ہوئی جبکہ نماز کی اقامت ہو چکی تھی۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے صالح بن ابی اخضر کو سنا تھا کہ وہ یہ حدیث ہمیں زہری سے، عروہ کے واسطے سے بیان کرتے تھے، جبکہ زہری نے کہا: یہ عروہ سے نہیں ہے، تو میرا خیال ہے کہ صالح کی غلطی عرض (پیش کرنے کے طریقے) کی وجہ سے آئی ہے۔ ابوبکر حمیدی کہتے ہیں: مجھے کئی لوگوں نے معمر سے خبر دی کہ انہوں نے اس حدیث کے بارے میں کہا: اگر یہ عروہ کی حدیث ہوتی تو میں اسے نہ بھولتا۔
پس یہ دونوں، ابن جریج اور سفیان بن عیینہ، زہری کے بارے میں گواہی دیتے ہیں، اور یہ دونوں عادل گواہ ہیں، کہ انہوں نے اسے عروہ سے نہیں سنا، تو جس نے اسے موصول بیان کیا اس کا موصول بیان کرنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: زہری کی عروہ سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث صحیح نہیں ہے۔ اور محمد بن یحییٰ ذہلی نے بھی یہی کہا ہے، اور انہوں نے ابن جریج اور سفیان بن عیینہ کے بیان سے اور ائمہ کے زہری سے اس حدیث کو مرسل بیان کرنے سے دلیل لی ہے۔ یہ حدیث جریر بن حازم سے، یحییٰ بن سعید سے، عمرہ سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت کی گئی ہے، اور جریر بن حازم اگرچہ ثقہ راویوں میں سے ہیں مگر انہیں اس میں وہم ہوا ہے، اور احمد بن حنبل اور علی بن مدینی نے انہیں اس میں غلط قرار دیا ہے، اور محفوظ روایت یحییٰ بن سعید سے، زہری سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8367]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الضوي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8368
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ بُنْدَارٍ الصَّيْرَفِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الْأَثْرَمَ يَقُولُ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلِ تَحْفَظُهُ عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ مَنْ رَوَاهُ؟ قُلْتُ: جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ فَقَالَ: جَرِيرٌ كَانَ يُحَدِّثُ بِالتَّوَهُّمِ.
ابوبکر اثرم بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ یحییٰ سے اس حدیث کو جانتے ہیں جو انہوں نے عمرہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی کہ وہ کہتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی، تو انہوں نے اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ کس نے بیان کیا ہے؟ میں نے کہا: جریر بن حازم نے۔ انہوں نے کہا: جریر کی احادیث وہم ہوتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8368]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن جرير»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8369
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُظَفَّرٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْخَلَّالُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ: يَا أَبَا الْحَسَنِ تَحْفَظُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ، صَائِمَتَيْنِ فَقَالَ لِي مَنْ رَوَى هَذَا؟ قُلْتُ: ابْنُ وَهْبٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: فَضَحِكَ فَقَالَ: مِثْلُكَ يَقُولُ مِثْلَ هَذَا، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ أَصْبَحَتَا صَائِمَتَيْنِ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ.
احمد بن منصور رمادی کہتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی سے کہا: اے ابوالحسن! آپ یحییٰ بن سعید سے وہ حدیث جانتے ہیں جو انہوں نے عمرہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی کہ وہ کہتی ہیں میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے روزے کی حالت میں صبح کی؟ تو انہوں نے مجھے کہا: اسے کس نے روایت کیا ہے؟ میں نے کہا: ابن وہب جریر بن حازم سے، وہ یحییٰ بن سعید سے بیان کرتے ہیں، تو وہ ہنس پڑے اور کہا: تم جیسا آدمی ایسی بات کہتا ہے! ہمیں حماد بن زید نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے زہری سے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے روزے کی حالت میں صبح کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8369]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8370
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا ⦗٤٦٦⦘ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، وَعُمَرُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ قَالَ: حَدَّثَنِي زُمَيْلٌ مَوْلَى عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أُهْدِيَ لِي وَلِحَفْصَةَ طَعَامٌ وَكُنَّا صَائِمَتَيْنِ فَقَالَتْ إِحْدَاهُمَا لِصَاحِبَتِهَا: هَلْ لَكِ أَنْ تُفْطِرِي؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَفْطَرَتَا ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا أُهْدِيَ لَنَا هَدِيَّةٌ فَاشْتَهَيْنَاهُ فَأَفْطَرْنَا فَقَالَ:" لَا عَلَيْكُمَا صُومَا يَوْمًا آخَرَ مَكَانَهُ" أَقَامَ إِسْنَادَهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْضُهُمْ عُرْوَةَ فِي إِسْنَادِهِ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ مجھے اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو کھانے کا تحفہ دیا گیا اور ہم روزے سے تھیں، تو ان میں سے ایک نے اپنی سہیلی سے کہا: کیا تو افطار کرے گی؟ اس نے کہا: ہاں، تو ان دونوں نے افطار کر لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس داخل ہوئے تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں ہدیہ دیا گیا۔ ہم نے اسے بہت پسند کیا اور ہم نے روزہ افطار کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں پر کوئی حرج نہیں، اس کے عوض کسی دوسرے دن روزہ رکھ لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8370]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8371
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ زُمَيْلُ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عُرْوَةَ: رَوَى عَنْهُ ابْنُ الْهَادِ لَا يُعْرَفُ لِزُمَيْلٍ سَمَاعٌ مِنْ عُرْوَةَ وَلَا لِابْنِ الْهَادِ مِنْ زُمَيْلٍ وَلَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ، قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عَائِشَةَ لَا يَصِحُّ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ قَدْ بَيَّنْتُ ضَعْفَهَا فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
ابو احمد عبداللہ بن عدی حافظ کہتے ہیں: زمیل بن عباس عروہ سے روایت کرتا ہے اور اس سے ابن الہاد نے روایت کی ہے۔ زمیل کا عروہ سے سماع معروف نہیں، نہ ابن الہاد کا زمیل سے، اور اس سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ میں نے ابن حماد کو یہ بات امام بخاری سے نقل کرتے سنا۔
شیخ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی بیان کی گئی ہے، ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں، اور میں نے ”الخلافیات“ میں ان کی کمزوری واضح کر دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8371]
شیخ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی بیان کی گئی ہے، ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں، اور میں نے ”الخلافیات“ میں ان کی کمزوری واضح کر دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8371]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ذكره ابن عدي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8372
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَبَدَا لَهُ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ أَوْ قَالَ مَكَانَهُ يَوْمًا" شَكَّ مِسْعَرٌ.
عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جب کوئی تم میں سے روزے کی حالت میں صبح کرے، پھر اسے افطار کی ضرورت پیش آ گئی تو چاہیے کہ وہ اس کے عوض روزہ رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8372]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1761. -- باب: النهي عن الوصال في الصوم
-- باب: روزے میں وصال (بغیر افطار کے مسلسل روزے رکھنے) کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 8373
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى" لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری مانند نہیں ہوں، بیشک میں تو کھلایا پلایا جاتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8373]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8374
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقرِئُ وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، ⦗٤٦٧⦘ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ وَنَهَاهُمْ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَّ تُوَاصِلُ قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں وصال کیا اور انہیں منع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو وصال کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو کھلایا پلایا جاتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8374]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8375
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ" قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: إِنِّي لَسْتُ فِي ذَاكُمْ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَاكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ وَالْأَعْرَجِ وَأَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وصال سے بچو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو وصال کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں تمہاری مانند نہیں ہوں۔ اگر میں رات گزارتا ہوں تو میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے، اس عمل کے لیے اپنے کو مکلف نہ بناؤ جس کی تمہیں طاقت نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8375]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8376
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللهِ تُوَاصِلُ، قَالَ:" وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي" فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوَا الْهِلَالَ فَقَالَ:" لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ" كَالتَّنْكِيلِ بِهِمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کرنے سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون میری طرح ہے؟ میں رات گزارتا ہوں تو میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔“ جب وہ وصال سے باز نہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک دن وصال کیا، پھر دوسرے دن بھی، پھر چاند نظر آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تاخیر ہو جاتی تو میں اور زیادہ وصال کرتا۔“ گویا (وصال سے) باز نہ آنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سزا دینا چاہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8376]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح