السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1758. -- باب: صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه
-- باب: نفلی روزہ رکھنے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے توڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8357
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، أنبأ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ تَفَرَّدَ بِهِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ الْعَنْبَرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قاسم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
اس روایت کو بیان کرنے میں عون بن عمارہ عنبری منفرد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8357]
اس روایت کو بیان کرنے میں عون بن عمارہ عنبری منفرد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8357]
تخریج الحدیث: «منكر۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 8358
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُزَاحِمٍ، ثنا سَرِيعُ بْنُ نَبْهَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الصَّائِمُ فِي التَّطَوُّعِ بِالْخِيَارِ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”نفلی روزے رکھنے والا آدھے دن تک اختیار میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8358]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 8359
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُزَاحِمٍ وَسَرِيعُ بْنُ نَبْهَانَ مَجْهُوَلَانِ.
احمد بن عبید صفار بیان کرتے ہیں کہ محمد بن فرج ازرق نے اسی سند کے ساتھ ایسی حدیث بیان کی۔
ابراہیم بن مزاحم اور سریع بن نبہان دونوں مجہول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8359]
ابراہیم بن مزاحم اور سریع بن نبہان دونوں مجہول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8359]
تخریج الحدیث: «منكر۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: منكر
1759. -- باب: التخيير في القضاء إن كان صومه تطوعا
-- باب: اگر روزہ نفلی ہو تو اس کی قضا کے سلسلے میں اختیار دیے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8360
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئِ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَوْتُ لَهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ أَوْ قَالَ: دَعَا بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِي يَوْمًا مَكَانَهُ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِي وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِي".
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی منگوایا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، پھر مجھے دے دیا تو میں نے بھی پیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو صائمہ تھی لیکن میں نے نہ چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچا ہوا پانی واپس لوٹاؤں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر رمضان کے مہینے کی قضا تھی تو پھر اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھ، اگر نفلی روزہ تھا پھر تو چاہے تو قضا دے چاہے اگر چاہے تو قضا نہ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8360]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ معنيٰ لكلام»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ هَارُونَ ابْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ أَوِ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَنَاوَلَنِي فَضْلَ شَرَابِهِ فَشَرِبْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِي يَوْمًا مَكَانَهُ وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِيهِ وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِيهِ".
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن داخل ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بچا ہوا پانی مجھے دیا تو میں نے اسے پی لیا، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو صائمہ تھی مگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچا ہوا پانی واپس کرنا پسند نہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر رمضان کے روزوں کی قضا تھی تو اس کے عوض ایک روزہ رکھ اور اگر نفلی روزہ تھا تو پھر تیری مرضی ہے کہ چاہے تو قضا دے یا نہ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8361]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8362
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمِ بْنُ أَبِي الْفَضْلِ الْهَرَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: صَنَعْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَأَتَانِي هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعَاكُمْ أَخُوكُمْ وَتَكَلَّفَ لَكُمْ" ثُمَّ قَالَ لَهُ:" أَفْطِرْ وَصُمْ مَكَانَهُ يَوْمًا إِنْ شِئْتَ" وَرُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَدْ أَخْرَجْنَاهُ فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا تو میرے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم آئے۔ جب کھانا رکھا گیا تو قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں روزے سے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نے تمہیں بلایا ہے اور تمہارے لیے تکلف کیا ہے۔“ پھر اسے فرمایا: ”افطار کر اور اس کے عوض ایک روزہ رکھ لینا اگر تو چاہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8362]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الطبراني في الاؤسط»
الحكم على الحديث: ضعيف
1760. -- باب: من رأى عليه القضاء
-- باب: ان کا بیان جو اس پر قضا کو لازم سمجھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8363
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَصْبَحَتَا صَائِمَتَيْنِ مُتَطَوِّعَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَهُمَا طَعَامٌ فَأَفْطَرَتَا عَلَيْهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَتْ حَفْصَةُ، فَبَدَرَتْنِي بِالْكَلَامِ وَكَانَتِ ابْنَةَ أَبِيهَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصْبَحْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ صَائِمَتَيْنِ مُتَطَوِّعَتَيْنِ وَأُهْدِيَ لَنَا طَعَامٌ فَأَفْطَرْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْضِيَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ". هَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ ثِقَاتُ الْحُفَّاظِ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ عَنْهُ مُنْقَطِعًا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ وَبَكْرُ بْنُ وَائِلٍ وَغَيْرُهُمْ.
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے روزے کی حالت میں صبح کی، نفلی روزے کے ساتھ، تو ان کو کھانے کا ہدیہ دیا گیا تو انہوں نے اس کے ساتھ افطار کر لیا، تو ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بات کرنے میں مجھ سے پہل کی اور وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں۔ وہ کہتی ہیں: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اور عائشہ رضی اللہ عنہما نے نفلی روزوں کے ساتھ صبح کی۔ پھر ہمیں کھانے کا ہدیہ ملا تو ہم نے افطار کر لیا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے عوض دوسرے دن میں قضا دینا۔“
اس حدیث کو زہری کے ثقہ حفاظ شاگردوں نے ان سے منقطع سند کے ساتھ بیان کیا ہے: مالک بن انس، یونس بن یزید، معمر بن راشد، ابن جریج، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ بن عمر، سفیان بن عیینہ، محمد بن ولید زبیدی، بکر بن وائل وغیرہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8363]
اس حدیث کو زہری کے ثقہ حفاظ شاگردوں نے ان سے منقطع سند کے ساتھ بیان کیا ہے: مالک بن انس، یونس بن یزید، معمر بن راشد، ابن جریج، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ بن عمر، سفیان بن عیینہ، محمد بن ولید زبیدی، بکر بن وائل وغیرہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8363]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8364
وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَعَرَضَ لَنَا طَعَامٌ فَاشْتَهَيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَتْنِي حَفْصَةُ، وَكَانَتِ ابْنَةَ أَبِيهَا، فَقَصَّتْ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ" هَكَذَا رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ وَهِمُوا فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں: میں اور حفصہ رضی اللہ عنہا روزے سے تھیں کہ ہمیں کھانا ہدیہ میں ملا تو ہمارے دل میں کھانے کی چاہت ابھری، سو ہم نے کھا لیا۔ پھر ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے پہل کی کہ وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں اور ساری بات بیان کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی دوسرے دن میں اس کی قضا دینا۔“
جعفر بن برقان، صالح بن ابی اخضر اور سفیان بن حسین نے اسے زہری سے اسی طرح بیان کیا ہے، اور انہیں اس میں زہری سے روایت کرتے ہوئے وہم ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8364]
جعفر بن برقان، صالح بن ابی اخضر اور سفیان بن حسین نے اسے زہری سے اسی طرح بیان کیا ہے، اور انہیں اس میں زہری سے روایت کرتے ہوئے وہم ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8364]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8365
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قُلْتُ لَهُ: أَحَدَّثَكَ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ، فَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ فِي هَذَا شَيْئًا وَلَكِنِّي حَدَّثَنِي نَاسٌ فِي خِلَافَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ بَعْضِ مَنْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَنَا هَدِيَّةٌ فَأَكَلْنَاهَا فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَتْنِي حَفْصَةُ وَكَانَتِ ابْنَةَ أَبِيهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" اقْضِيَا يَوْمًا مَكَانَهُ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن شہاب سے کہا: کیا آپ کو عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی؟ انہوں نے کہا: اس بارے میں میں نے عروہ سے کچھ نہیں سنا، لیکن سلیمان بن عبدالملک کی خلافت کے زمانے میں کچھ لوگوں نے مجھے ان لوگوں میں سے بعض کے حوالے سے بیان کیا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جایا کرتے تھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی تو ہمیں ہدیہ دیا گیا۔ ہم نے کھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس داخل ہوئے تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے پہل کی، وہ اپنے باپ کی بیٹی تھی، اور انہوں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے عوض ایک دن کی قضا دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8365]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8366
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَنَا طَعَامٌ وَالطَّعَامُ مَحْرُوصٌ عَلَيْهِ فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَرَتْنِي حَفْصَةُ، وَكَانَتْ بِنْتَ أَبِيهَا، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ: أَصْبَحْنَا صَائِمَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَنَا طَعَامٌ فَأَكَلْنَا مِنْهُ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" صُومَا يَوْمًا مَكَانَهُ". قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلُوا الزُّهْرِيَّ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَقَالُوا: هُوَ عَنْ عُرْوَةَ؟ قَالَ: لَا..
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی حالت میں صبح کی اور ہمیں کھانے کا ہدیہ پیش کیا گیا اور کھانا بھی پرکشش تھا۔ سو ہم نے اس میں سے کھا لیا تو ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے سوال کرنے میں مجھ سے پہل کی اور وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم نے روزے کی حالت میں صبح کی تو ہمیں کھانا دیا گیا اور ہم نے اس میں سے کھا لیا“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھنا۔“
سفیان کہتے ہیں: لوگوں نے میری موجودگی میں زہری سے پوچھا: کیا یہ عروہ سے مروی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8366]
سفیان کہتے ہیں: لوگوں نے میری موجودگی میں زہری سے پوچھا: کیا یہ عروہ سے مروی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8366]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ النسائي»
الحكم على الحديث: ضعيف