🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2072. -- باب: الرجل يصيب امرأته بعد التحلل الأول وقبل الثاني
-- باب: اس شخص کا بیان جو تحللِ اول (پہلی بار حلال ہونے) کے بعد اور تحللِ ثانی سے پہلے اپنی بیوی سے ہم بستری کر لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9799
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: وَطِئْتُ امْرَأَتِي قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ، قَالَ:" عِنْدَكَ شَيْءٌ؟" قَالَ: نَعَمْ إِنِّي مُوسِرٌ، قَالَ:" فَانْحَرْ نَاقَةً سَمِينَةً فَأَطْعِمْهَا الْمَسَاكِينَ".
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: جس نے بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی تھی، انہوں نے فرمایا: تو کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ وہ کہنے لگا: میں مالدار ہوں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک موٹی تازی اونٹنی ذبح کر کے مساکین کو کھلا دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9799]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9800
وَرَوَاهُ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي رَجُلٍ قَضَى الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ وَاقَعَ، قَالَ: عَلَيْهِ بَدَنَةٌ وَتَمَّ حَجُّهُ" أَنْبَأَنِيهِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ زِيَادٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أنبأ ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: ثنا سَلَمَةُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ فَذَكَرَهُ.
سعید بن جبیر، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے بیت اللہ کے طواف کے سوا تمام مناسک ادا کر لیے، پھر (اپنی بیوی سے) مجامعت کر لی، تو انہوں نے فرمایا: اس پر ایک اونٹ (کی قربانی) لازم ہے اور اس کا حج مکمل ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9800]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9801
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَبِيدَةُ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنْ أَهْلِهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ:" يَنْحَرَانِ جَزُورًا بَيْنَهُمَا وَلَيْسَ عَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ".
عطاء سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے قربانی کے دن بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی، آپ نے فرمایا: وہ دونوں مل کر ایک اونٹ قربان کریں، لیکن آئندہ سال ان پر حج نہ ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9801]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الدار قطني 2/ 272»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9802
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ:" يَعْتَمِرُ وَيُهْدِي" قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ.
ابن زید دیلمی حضرت عکرمہ جو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں ان سے بیان کرتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو طوافِ افاضہ کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرے تو وہ فرمانے لگے: وہ عمرہ کرے گا اور قربانی کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9802]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 859»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9803
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ⦗٢٨٠⦘ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ وَقَعَ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، قَالَ مَالِكٌ: عَلَيْهِ عُمْرَةٌ وَبَدَنَةٌ وَحَجُّهُ تَامٌّ، وَرَوَاهُ عَنْ رَبِيعَةَ فَتَرَكَ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ لِرَأْيِ رَبِيعَةَ، وَرَوَاهُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ يَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْقَوْلِ فِي عِكْرِمَةَ لَا يَرَى لِأَحَدٍ أَنْ يَقْبَلَ حَدِيثَهُ، وَهُوَ يَرْوِي بِيَقِينٍ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ خِلَافَهُ، وَعَطَاءٌ ثِقَةٌ عِنْدَهُ وَعِنْدَ النَّاسِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَاهُ عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے سوال ہوا کہ محرم آدمی جو منیٰ میں ہے طوافِ افاضہ سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کر لیتا ہے، انہوں نے حکم دیا کہ وہ ایک اونٹ قربان کرے۔
امام شافعی رحمہ اللہ: اسی چیز کو ہم اختیار کریں گے، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ذمہ عمرہ اور اونٹ کی قربانی ہے اور اس کا حج مکمل ہے۔
(ب) ربیعہ رحمہ اللہ سے منقول ہے اور انہوں نے ربیعہ کی رائے کی وجہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کو چھوڑ دیا ہے۔
اور امام مالک نے اسے ثور بن زید سے، انہوں نے عکرمہ سے، اس گمان کے ساتھ روایت کیا کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے، حالانکہ امام مالک عکرمہ کے بارے میں سخت رائے رکھتے ہیں اور کسی کے لیے اس کی حدیث قبول کرنا درست نہیں سمجھتے، جبکہ وہ یقین کے ساتھ عطاء سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف روایت کرتے ہیں، اور عطاء ان کے نزدیک بھی اور لوگوں کے نزدیک بھی ثقہ ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں: ہم نے یہ بات اہلِ مدینہ کے فقہاء سے بھی روایت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9803]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لغيره: 858»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2073. -- باب: المعتمر لا يقرب امرأته ما بين أن يهل إلى أن يكمل الطواف بالبيت وبين الصفا والمروة وقبل أن يحلق أو يقصر
-- باب: عمرہ کرنے والا احرام باندھنے سے لے کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی مکمل کرنے تک، اور بال منڈوانے یا کٹوانے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب نہ جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9804
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، أنبأ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَقَعُ بِامْرَأَتِهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] " قَالَ عُمَرُ: وَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ:" لَا يَقْرَبْهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ.
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا، جس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا لیکن صفا و مروہ کا طواف نہ کیا بلکہ اس نے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی اور صفا و مروہ کا طواف کیا، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نمونہ ہے۔“ عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو وہ کہنے لگے کہ صفا و مروہ کا طواف کرنے سے پہلے وہ اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9804]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 387»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا اعْتَمَرَ فَغَشِيَ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَعْدَمَا طَافَ بِالْبَيْتِ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَقُلْتُ: فَأِيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَزُورٌ، أَوْ بَقَرَةٌ"، قُلْتُ: فَأِيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَزُورٌ" خَالَفَهُ أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدٍ.
ابوبشر، حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عمرہ کیا، بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد اور صفا و مروہ کے طواف سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دے۔ میں نے پوچھا: افضل کون سا ہے؟ فرمانے لگے: اونٹ یا گائے۔ میں نے کہا: پھر کون سا افضل ہے؟ فرمانے لگے: اونٹ۔ ایوب رحمہ اللہ نے حضرت سعید رحمہ اللہ سے مخالفت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9805]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9806
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي تَوْبَةَ الصُّوفِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ حَاتِمٍ النَّجَّارُ الْآمُلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا أَهَلَّ هُوَ وَامْرَأَتُهُ جَمِيعًا بِعُمْرَةٍ فَقَضَتْ مَنَاسِكَهَا إِلَّا التَّقْصِيرَ فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ:" إِنَّهَا لَشَبِقَةٌ"، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا تَسْمَعُ، فَاسْتَحْيَا مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ:" أَلَا أَعْلَمْتُمُونِي؟"، وَقَالَ ⦗٢٨١⦘ لَهَا:" أَهْرِيقِي دَمًا"، قَالَتْ: مَاذَا؟ قَالَ:" انْحَرِي نَاقَةً، أَوْ بَقَرَةً، أَوْ شَاةً"، قَالَتْ: أِيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" نَاقَةٌ" وَلَعَلَّ هَذَا أَشْبَهُ.
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میاں بیوی نے عمرہ کا احرام باندھا، انہوں نے عمرہ کے مناسک ادا کر لیے، لیکن بال کتروانے باقی تھے، مرد نے بیوی سے بال کتروانے سے پہلے مجامعت کر لی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا، فرمانے لگے: یہ تو کثیر الشہوت ہے، ان سے کہا گیا: وہ سن رہی ہے، تو وہ حیا محسوس کرنے لگے اور فرمانے لگے: تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ پھر اس سے فرمایا: قربانی دو، عورت نے کہا: کیا؟ فرمایا: اونٹ یا گائے یا بکری کی قربانی کرو، کہنے لگی: افضل کیا ہے؟ فرمایا: اونٹنی۔
شاید یہ (روایت) زیادہ درست ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9806]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9807
فَقَدْ أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى امْرَأَتَهُ فِي عُمْرَةٍ فَقَالَتْ: إِنِّي لَمْ أُقَصِّرْ فَجَعَلَ يَقْرِضُ شَعْرَهَا بِأَسْنَانِهِ، قَالَ:" إِنَّهُ لَشَبِقٌ يُهْرِيقَ دَمًا" كَذَا قَالَ، لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ.
حکم سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے حالت عمرہ میں مجامعت کرلی، اس نے کہا: میں نے بال نہیں کتروائے، تو وہ اپنے دانتوں سے اس کے بال کاٹنے لگے۔ فرمانے لگے: یہ کثیر الشہوۃ ہے، وہ ایک خون بہائے۔ اس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9807]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن الجعد 152»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9808
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ، ثنا جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَأَلَ الْحَسَنَ عَنِ امْرَأَةٍ قَدِمَتْ مُعْتَمِرَةً فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ، قَالَ:" لِتُهْدِي هَدْيًا بَعِيرًا أَوْ بَقَرَةً" قَالَ حُمَيْدٌ: وَذَكَرَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّهَا لَشَبِقَةٌ"، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ الْمَرْأَةَ شَاهِدَةٌ، قَالَ: فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ:" لِتُهْدِيَنَّ هَدْيًا بَعِيرًا أَوْ بَقَرَةً".
حمید نے سیدنا حسن رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ ایک عورت عمرہ کے لیے آئی، اس نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر لیا، لیکن بال کٹوانے سے پہلے اس کے خاوند نے اس سے ہمبستری کر لی۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک گائے یا اونٹ کی قربانی دے۔
(ب) حمید بیان کرتے ہیں کہ بکر بن عبداللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ یہ «كَثِيرُ الشَّهْوَةِ» ”بہت زیادہ شہوت والا“ ہے۔ ان سے کہا گیا کہ عورت موجود ہے، وہ خاموش ہو گئے۔ پھر فرمایا کہ وہ اونٹ یا گائے کی قربانی پیش کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9808]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں