🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2077. -- باب: خطأ الناس يوم عرفة
-- باب: یومِ عرفہ (کے تعین) میں لوگوں سے غلطی ہو جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9828
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِّ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنِ السَّفَّاحِ بْنِ مَطَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوْمُ عَرَفَةَ الْيَوْمُ الَّذِي يُعَرِّفُ النَّاسُ فِيهِ" هَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ.
عبدالعزیز بن عبداللہ بن خالد بن اسید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرفہ کا دن وہ ہوتا ہے جب لوگ عرفہ میں قیام کرتے ہیں۔“
یہ عمدہ مرسل روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9828]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود في المراسيل 138»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9829
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: رَجُلٌ حَجَّ أَوَّلَ مَا حَجَّ، فَأَخْطَأَ النَّاسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ أَيُجْزِئُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ أَيْ لَعَمْرِي إِنَّهَا لَتُجْزِيءُ عَنْهُ، ⦗٢٨٧⦘ قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ" - وَأُرَاهُ قَالَ -:" وَعَرَفَةُ يَوْمَ تُعَرِّفُونَ".
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطا رحمہ اللہ سے کہا: ایک شخص نے پہلی مرتبہ حج کیا، پھر لوگوں سے «يَوْمَ النَّحْرِ» یعنی قربانی کے دن (کی تعیین) میں غلطی ہو گئی، کیا یہ اس سے کفایت کر جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میری عمر کی قسم! اس سے کفایت کر جائے گا۔ میرا گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عید الفطر کا دن وہ ہے جس دن تم افطار کرو اور تمہاری عید الاضحی کا دن جب تم قربانی کرو۔“ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور عرفہ کا وہ دن ہے جب لوگ قیام کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9829]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الشافعي في لام 1/ 382»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2078. -- باب: دخول مكة بغير إرادة حج ولا عمرة
-- باب: حج یا عمرے کے ارادے کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q9830
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا} [البقرة: 125] الْآيَةَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: الْمَثَابَةُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ الْمَوْضِعُ يَثُوبُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَيَؤُبُونَ يَعُودُونَ إِلَيْهِ بَعْدَ الذَّهَابِ عَنْهُ، وَقَدْ يُقَالُ: ثَابَ إِلَيْهِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ.
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا﴾ ”اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے بار بار لوٹنے کی جگہ اور امن کا مقام بنایا۔“ [سورة البقرة: 125] (آخر آیت تک)۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عرب کے کلام میں لفظ «الْمَثَابَةُ» سے مراد وہ جگہ ہے جہاں لوگ بار بار لوٹ کر آتے ہیں اور وہاں سے جانے کے بعد پھر لوٹتے ہیں، اور یوں بھی کہا جاتا ہے: «ثَابَ إِلَيْهِ» یعنی وہ اس جگہ مجتمع ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q9830]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّقَّاءِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا} [البقرة: ١٢٥] قَالَ:" يَثُوبُونَ إِلَيْهِ، وَيَذْهَبُونَ وَيَرْجِعُونَ لَا يَقْضُونَ مِنْهُ وَطَرًا".
ابو حجاج مجاہد بن جبر رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا﴾ [سورة البقرة: 125] کے بارے میں منقول ہے: ”اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے لوٹنے کی جگہ (یا ثواب کی جگہ) اور امن کی جگہ بنایا۔“ فرماتے ہیں: وہ اس کی طرف لوٹ کر آتے ہیں، جاتے ہیں اور واپس آتے ہیں لیکن ان کا دل اس سے نہیں بھرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9830]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن جرير في تفسيره 1/ 580»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9831
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: {مَثَابَةً لِلنَّاسِ} [البقرة: ١٢٥] يَقُولُ:" لَا يَقْضُونَ مِنْهُ وَطَرًا أَبَدًا"، {وَأَمْنًا} [البقرة: ١٢٥] يَقُولُ:" لَا يَخَافُ مَنْ دَخَلَهُ".
ابن ابی نجیح حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿مَثَابَةً لِّلنَّاسِ﴾ [سورة البقرة: 125] سے مراد یہ ہے کہ ان کا دل اس سے کبھی نہیں بھرتا، اور «أَمْنًا» سے مراد یہ ہے کہ جو شہر مکہ میں داخل ہو جاتا ہے، وہ خوف نہیں کھاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9831]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9832
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ} [الحج: ٢٧] قَالَ: لَمَّا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ، قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَبَّكُمُ اتَّخَذَ بَيْتًا وَأَمَرَكُمْ أَنْ تَحُجُّوهُ، فَاسْتَجَابَ لَهُ مَا سَمِعَهُ مِنْ حَجَرٍ، أَوْ شَجَرٍ، أَوْ أَكَمَةٍ، أَوْ تُرَابٍ، أَوْ شَيْءٍ فَقَالُوا: لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ".
سعید بن جبیر، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ﴾ [سورة الحج: 27] کے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں تو انہوں نے فرمایا: ”اے لوگو! تمہارے رب نے گھر بنوایا ہے اور وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اس کا حج کرو۔“ ان کی آواز یا دعوت کو ہر پتھر، درخت، ٹیلے، مٹی اور ہر چیز جس نے بھی سنا، اسے قبول کیا۔ انہوں نے کہا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» ”اے اللہ! ہم حاضر ہیں، اے اللہ! ہم حاضر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9832]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ ابن عساكر في تاريخه 6/ 206»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9833
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ، يَعْنِي ابْنَ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا فَرَغَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ بِنَاءِ الْبَيْتِ، قَالَ:" رَبِّ قَدْ فَرَغْتُ"، فَقَالَ:" أَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ"، قَالَ:" رَبِّ وَمَا يَبْلُغُ صَوْتِي؟"، قَالَ:" أَذِّنْ وَعَلَيَّ الْبَلَاغُ"، قَالَ:" رَبِّ كَيْفَ أَقُولُ؟" قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ حَجُّ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ"، فَسَمِعَهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَجِيئُونَ مِنْ أَقْصَى الْأَرْضِ يُلَبُّونَ؟.
ابن ابی ظبیان اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کو بنانے سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے: ”اے میرے رب! میں فارغ ہو گیا ہوں“، تو اللہ رب العزت نے فرمایا: ”لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔“ کہنے لگے: ”اے میرے رب! میری آواز نہ پہنچ سکے گی۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اعلان تم کرو، آواز میں پہنچا دوں گا۔“ کہنے لگے: ”اے میرے رب! میں کیا کہوں؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”کہو: اے لوگو! اللہ نے تمہارے اوپر بیت اللہ کے حج کو فرض کر دیا ہے۔“ ان کی آواز کو آسمان و زمین کے درمیان رہنے والوں نے سن لیا، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ لوگ زمین کے کناروں سے تلبیہ کہتے ہوئے آتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9833]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الحاكم 2/ 421»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا ⦗٢٨٨⦘ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُعَاذٌ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالُوا: إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ (ك ف ر) فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ ذَلِكَ وَلَكِنَّهُ قَالَ:" أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ قَدِ انْحَدَرَ مِنَ الْوَادِي يُلَبِّي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ.
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ کیا اور کہنے لگے کہ اس کی آنکھوں کے درمیان (ک ف ر) لکھا ہوگا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ میں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح نہیں سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہرحال سیدنا ابراہیم علیہ السلام تو تم اپنے ساتھی کی جانب دیکھو اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ، گھنگریالے بالوں والے، سرخ اونٹ پر سوار تھے جس کو کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی مضبوط رسی سے لگام دی ہوئی ہے، گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ وادی سے نیچے اتر رہے ہیں اور تلبیہ پکار رہے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9834]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5596»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9835
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوسَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْبَكْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ مَوْضِعُ الْبَيْتِ فِي زَمَنِ آدَمَ شِبْرًا، أَوْ أَكْثَرَ عِلْمًا، فَكَانَتِ الْمَلَائِكَةُ تَحُجُّهُ قَبْلَ آدَمَ، ثُمَّ حَجَّ آدَمُ فَاسْتَقْبَلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ فَقَالُوا: يَا آدَمُ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ قَالَ: حَجَجْتُ الْبَيْتَ، فَقَالُوا: قَدْ حَجَّتْهُ الْمَلَائِكَةُ قَبْلَكَ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام کے دور میں بیت اللہ کی جگہ ایک بالشت یا زیادہ تھی بطور علامت و نشانی، فرشتے آدم علیہ السلام سے پہلے اس کا حج کرتے تھے۔ پھر آدم علیہ السلام نے اس کا حج کیا تو فرشتے آدم علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: اے آدم! آپ کہاں سے آئے؟ فرمانے لگے: میں نے بیت اللہ کا حج کیا ہے، انہوں نے کہا: آپ سے پہلے فرشتوں نے اس کا حج کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9835]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه المولف في الشعب 3986»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9836
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ:" حَجَّ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَلَقِيَتْهُ الْمَلَائِكَةُ، فَقَالُوا: بَرَّ نُسُكُكَ آدَمُ لَقَدْ حَجَجْنَا قَبْلَكَ بِأَلْفَيْ عَامٍ".
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ یا ان کے علاوہ کوئی بیان کرتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کا حج کیا، ان سے فرشتوں نے ملاقات کی اور کہا کہ آدم (علیہ السلام) کا حج قبول کیا گیا، حالانکہ ہم نے آپ سے دو ہزار سال پہلے اس کا حج کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9836]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي 532»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں