السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2066. -- باب: ما يفسد الحج
-- باب: ان امور کا بیان جو حج کو فاسد کر دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9789
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: كَيْفَ تَرَوْنَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ الْقَوْمُ شَيْئًا، قَالَ سَعِيدٌ: إِنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَبَعَثَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ النَّاسِ: يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَى عَامِ قَابِلٍ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ:" لِيَنْفُذَا لِوُجُوهِهِمَا فَلْيُتِمَّا حَجَّهُمَا الَّذِي أَفْسَدَا، فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا، وَإِذَا أَدْرَكَهُمَا الْحَجُّ فَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ وَالْهَدْيُ، وَيُهِلَّا مِنْ حَيْثُ كَانَا أَهَلَّا بِحَجِّهِمَا الَّذِي كَانَا أَفْسَدَا وَيَتَفَرَّقَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا".
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ اس شخص کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جو حالتِ احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کر لیتا ہے؟ تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک محرم آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی تو اس نے ان کو مدینہ روانہ کیا کہ اس کے بارے میں سوال کرے، تو کچھ لوگوں نے جواب دیا کہ آئندہ سال تک ان میں کروا دی جائے، تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی حالت پر ہی رہیں گے، لیکن وہ حج پورا کریں گے جو ان دونوں نے خراب کیا، پھر جب ان کو حج کا فریضہ پا لے تو ان پر حج اور قربانی کرنا ہے، پھر وہاں سے حج کا تلبیہ کہنا شروع کریں جہاں سے پہلے حج کا تلبیہ کہنا شروع کیا تھا، جس کو انہوں نے باطل کر دیا اور وہ دونوں جدا رہیں گے یہاں تک کہ حج مکمل کر لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9789]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 855»
الحكم على الحديث: صحيح
2067. -- باب: المحرم يصيب امرأته ما دون الجماع
-- باب: محرم کا اپنی بیوی سے ہم بستری کے علاوہ بوس و کنار وغیرہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9790
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ خُرَّزَاذَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلْيُهْرِقْ دَمًا" هَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِيَ فِي مَعْنَاهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَّهُ يُتِمُّ حَجَّهُ، وَهُوَ قَوْلُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَقَتَادَةَ، وَالْفُقَهَاءِ.
ابوجعفر، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے حالت احرام میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا تو وہ قربانی دے۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنا حج پورا کرے۔
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9790]
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنا حج پورا کرے۔
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9790]
تخریج الحدیث: «ضيعف جداً»
الحكم على الحديث: ضيعف جداً
2068. -- باب: المفسد لحجه لا يجد بدنة ذبح بقرة فإن لم يجدها ذبح سبعا من الغنم استدلالا بما
-- باب: اپنے حج کو فاسد کرنے والے کا بیان کہ اگر وہ قربانی کا اونٹ نہ پائے تو گائے ذبح کرے، اور اگر وہ بھی نہ پائے تو سات بکریاں ذبح کرے، ان شواہد سے استدلال کرتے ہوئے جو وارد ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 9791
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ⦗٢٧٦⦘ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ"، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ.
ابوزبیر سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان کیا اور گائے کو بھی سات آدمیوں کی جانب سے قربان کیا۔
(ب) ابن وہب کی روایت میں ہے کہ حدیبیہ کے سال۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9791]
(ب) ابن وہب کی روایت میں ہے کہ حدیبیہ کے سال۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9791]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1318»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9792
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ بَدَنَةً فَلَمْ أَجِدْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْبَحْ سَبْعًا مِنَ الْغَنَمِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ أَوْرَدَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ؛ لِأَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَقَدْ رُوِيَ مَوْقُوفًا.
عطاء خراسانی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اونٹ کی قربانی کی نذر مانی ہے لیکن میرے پاس موجود نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات بکریاں اس کی جگہ ذبح کر دو۔“
ابوداود نے اسے المراسیل میں ذکر کیا ہے، کیونکہ عطاء خراسانی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہیں پایا، اور یہ موقوف بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9792]
ابوداود نے اسے المراسیل میں ذکر کیا ہے، کیونکہ عطاء خراسانی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہیں پایا، اور یہ موقوف بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9792]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2069. -- باب: التخيير في فدية الأذى
-- باب: فدیہِ اذیٰ (تکلیف پہنچنے کے فدیے) میں اختیار دیے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9793
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا السَّكَنُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" ادْنُ" فَدَنَوْتُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟" أَظُنُّهُ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَقَالَ أَيُّوبُ، عَنْ مُجَاهِدٍ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ" فَأَمَرَنِي بِصَوْمٍ أَوْ بِصَدَقَةٍ، أَوْ بِنُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَفَسَّرَ لِي مُجَاهِدٌ فَنَسِيتُ فَأَنْبَأَنِي أَيُّوبُ أَنَّهُ سَمِعَهُ عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ صَدَقَةُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ نُسُكُ شَاةٍ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ.
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ۔“ میں دو یا تین مرتبہ قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے تیری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ میں یہی گمان کرتا ہوں کہ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“
(ب) ایوب، مجاہد سے یہ الفاظ نقل فرماتے ہیں کہ ”کیا تجھے تیرے سر کی جوؤں نے تکلیف دی ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روزہ، صدقہ یا قربانی کا حکم دیا جو بھی میسر ہو۔ ابن عون کہتے ہیں کہ مجاہد نے مجھے تفسیر بیان کی تھی لیکن میں بھول گیا۔ ایوب نے مجھے خبر دی کہ اس نے مجاہد سے سنا کہ تین دن کے روزے یا چھ مساکین کو صدقہ یا ایک بکری کی قربانی دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9793]
(ب) ایوب، مجاہد سے یہ الفاظ نقل فرماتے ہیں کہ ”کیا تجھے تیرے سر کی جوؤں نے تکلیف دی ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روزہ، صدقہ یا قربانی کا حکم دیا جو بھی میسر ہو۔ ابن عون کہتے ہیں کہ مجاہد نے مجھے تفسیر بیان کی تھی لیکن میں بھول گیا۔ ایوب نے مجھے خبر دی کہ اس نے مجاہد سے سنا کہ تین دن کے روزے یا چھ مساکین کو صدقہ یا ایک بکری کی قربانی دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9793]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1720۔ مسلم 1201»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9794
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا فَآذَاهُ الْقُمَّلُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ ⦗٢٧٧⦘ وَقَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ أَوِ انْسُكْ شَاةً أِيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكٌ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى دُونَ ذِكْرِ مُجَاهِدٍ فِي إِسْنَادِهِ.
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، جوؤں نے ان کو تکلیف دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دے دیا اور فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھ یا چھ مساکین کو دو دو مد کھانا دو یا ایک بکری قربان کرو، جو سا کام بھی آپ نے کر لیا آپ سے کفایت کر جائے گا۔“
یہی (سند) صحیح ہے، اور امام مالک نے اسے ایک دوسری مرتبہ عبدالکریم جزری سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، اس کی سند میں مجاہد کا ذکر کیے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9794]
یہی (سند) صحیح ہے، اور امام مالک نے اسے ایک دوسری مرتبہ عبدالکریم جزری سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، اس کی سند میں مجاہد کا ذکر کیے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9794]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 938»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9795
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍٍ، ثنا مَالِكٌ، فَذَكَرُوهُ بِنَحْوِهِ دُونَ ذِكْرِ مُجَاهِدٍ فِي إِسْنَادِهِ، وَفِي بَعْضِ هَذِهِ الْعَرْضَاتِ سَمِعَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ الْمُوَطَّأِ دُونَ الْعَرْضَةِ الَّتِي شَهِدَهَا ابْنُ وَهْبٍ ثُمَّ إنَّ الشَّافِعِيَّ تَنَبَّهَ لَهُ فِي رِوَايَةِ الْمُزَنِيِّ، وَابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ عَنْهُ، فَقَالَ: غَلَطَ مَالِكٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، الْحُفَّاظُ حَفِظُوهُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا غَلَطَ فِي هَذَا بَعْضَ الْعَرْضَاتِ وَقَدْ رَوَاهُ فِي بَعْضِهَا عَلَى الصِّحَّةِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبٍ، وَرَوَيْنَا فِيمَا مَضَى مِنْ حَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ فِيهِ:" ثَلَاثَةُ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ"، وَفِي حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ" فَرَقًا مِنْ زَبِيبٍ"، وَمِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ كَعْبٍ:" لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ".
عبدالرحمن بن لیلیٰ رحمہ اللہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس میں ہے کہ ”تین صاع کھجور کے۔“
(ب) حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ حضرت عبدالرحمن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ایک فرق (یہ پیمانہ ہے) خشک انگور سے۔“
(ج) عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہر مسکین کے لیے نصف صاع کھانے کا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک کو اس حدیث (کی سند سے مجاہد کو چھوڑنے) میں غلطی لگی ہے، حفاظ نے اسے عبدالکریم سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے محفوظ کیا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: امام مالک سے یہ غلطی (موطا کی) بعض پیشیوں میں ہوئی ہے، جبکہ بعض میں انہوں نے اسے درست روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9795]
(ب) حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ حضرت عبدالرحمن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ایک فرق (یہ پیمانہ ہے) خشک انگور سے۔“
(ج) عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہر مسکین کے لیے نصف صاع کھانے کا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک کو اس حدیث (کی سند سے مجاہد کو چھوڑنے) میں غلطی لگی ہے، حفاظ نے اسے عبدالکریم سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے محفوظ کیا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: امام مالک سے یہ غلطی (موطا کی) بعض پیشیوں میں ہوئی ہے، جبکہ بعض میں انہوں نے اسے درست روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9795]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 937»
الحكم على الحديث: صحيح
2070. -- باب: الترتيب في هدي التمتع وكل دم وجب بترك نسك
-- باب: حجِ تمتع کی قربانی اور کسی نسک (عبادت) کے ترک کرنے پر واجب ہونے والے ہر دم (قربانی) میں ترتیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 9796
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ لِلنَّاسِ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حُرِمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ، وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، وَرُوِّينَا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الَّذِي يَفُوتُهُ الْحَجُّ فَإِنْ أَدْرَكَهُ الْحَجُّ قَابِلًا" فَلْيَحُجَّ إِنِ اسْتَطَاعَ وَلْيُهْدِ فِي حَجِّهِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ هَبَّارٍ حِينَ فَاتَهُ الْحَجُّ.
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک حدیث ذکر کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”جو تم میں سے قربانی ساتھ لے کر آیا ہے وہ حج کو مکمل کرنے تک حلال نہ ہوگا اور جو قربانی ساتھ نہیں لایا وہ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کرے اور بال کٹوا کر حلال ہو جائے، پھر دوبارہ حج کا احرام باندھے اور قربانی کرے، جس کو قربانی میسر نہ ہو وہ تین دن کے روزے ایامِ حج میں رکھے اور سات روزے گھر واپس آکر رکھ لے۔“
(ب) نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس کا حج رہ جائے: اگر آئندہ سال حج اس کو پالے، اگر طاقت ہو (خرچہ موجود ہو) تو حج کرے اور قربانی بھی دے، اگر قربانی میسر نہ ہو تو ایامِ حج میں تین روزے رکھے اور سات روزے گھر واپس آکر۔
(ج) سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہبار کے قصہ کے بارے میں نقل کیا جس وقت اس کا حج رہ گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9796]
(ب) نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس کا حج رہ جائے: اگر آئندہ سال حج اس کو پالے، اگر طاقت ہو (خرچہ موجود ہو) تو حج کرے اور قربانی بھی دے، اگر قربانی میسر نہ ہو تو ایامِ حج میں تین روزے رکھے اور سات روزے گھر واپس آکر۔
(ج) سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہبار کے قصہ کے بارے میں نقل کیا جس وقت اس کا حج رہ گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9796]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1606۔ مسلم 1227»
الحكم على الحديث: صحيح
2071. -- باب: محل الهدي والطعام إلى مكة ومنى والصوم حيث شاء
-- باب: ہدی (قربانی کے جانور) اور کھانا کھلانے کا مقام مکہ اور منیٰ ہے، اور روزہ جہاں چاہے رکھ لے۔
حدیث نمبر: 9797
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نَحَرْتُ هَا هُنَا بِمِنًى وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ أَبِيهِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہاں منیٰ میں قربانی کی ہے جبکہ منیٰ پورا ہی قربانی کی جگہ ہے، چاہے تم اپنے خیموں میں ہی قربانی کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9797]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1218»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9798
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکہ کی ہر گلی اور راستہ قربانی کی جگہ ہے۔“ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۱۹۳۷] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9798]