السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1844. -- باب: من قال بوجوب العمرة استدلالا بقول الله تعالى وأتموا الحج والعمرة لله
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ”وأتموا الحج والعمرة لله“ (اور اللہ کے لیے حج اور عمرہ پورا کرو) سے استدلال کرتے ہوئے عمرے کو واجب قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 8767
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ" وَأَقِيمُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ إِلَى الْبَيْتِ ثُمَّ يَقُولُ وَاللهِ لَوْلَا التَّحَرُّجُ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا شَيْئًا لَقُلْتُ الْعُمْرَةُ وَاجِبَةٌ مِثْلُ الْحَجِّ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: حج و عمرہ کو بیت اللہ جا کر کماحقہ ادا کرو، اور پھر کہتے: اللہ کی قسم! اگر اس بات میں حرج نہ ہوتا کہ میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنا تو میں کہہ دیتا کہ عمرہ بھی حج کی طرح واجب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8767]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا۔ تفسير طبري 2/212»
الحكم على الحديث: ضعيف جدا
حدیث نمبر: 8768
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللهِ" أُمِرْتُمْ بِإِقَامَةِ أَرْبَعٍ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقِيمُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ إِلَى الْبَيْتِ، وَالْحَجُّ الْحَجُّ الْأَكْبَرُ وَالْعُمْرَةُ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تمہیں چار چیزیں قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے: ”نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور حج و عمرہ قائم کرو بیت اللہ میں، اور حج «الْحَجُّ الْأَكْبَرُ» ”حجِ اکبر“ ہے اور عمرہ «الْحَجُّ الْأَصْغَرُ» ”حجِ اصغر“ ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8768]
تخریج الحدیث: «منكر۔ طبراني 10/ 10298»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 8769
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" الْعُمْرَةُ وَاجِبَةٌ كَوُجُوبِ الْحَجِّ وَهُوَ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عمرہ بھی حج کی طرح فرض ہے اور وہ حج اصغر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8769]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ دارقطني 2/285»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8770
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" الْحَجُّ الْأَكْبَرُ يَوْمُ النَّحْرِ وَالْحَجُّ الْأَصْغَرُ الْعُمْرَةُ" وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حجِ اکبر یومِ نحر کو ہے اور عمرہ حجِ اصغر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8770]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دارقطني 2/ 285، ابن ابي شيبة 13659»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8771
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الْخِلَالِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَا: ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهَلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ فَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَفِيهِ إِنَّ الْعُمْرَةَ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ".
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کی طرف خط لکھا، اس میں فرائض، سنن اور دیات تھیں اور وہ خط مجھے دے کر بھیجا اور اس میں یہ بات تھی کہ ”عمرہ حج اصغر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8771]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن حبان 6009»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8772
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ حَمْدَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فِي الْوَادِي يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ:" دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی میں کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ”عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8772]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1217۔ ابوداود 179»
الحكم على الحديث: صحيح
1845. جماع أبواب ما يجزئ من العمرة إذا جمعت إلى غيرها -- باب: جواز القران وهو الجمع بين الحج والعمرة بإحرام واحد
0ان ابواب کا مجموعہ جو اس عمرے کے کفایت کر جانے کے بیان میں ہیں جسے کسی دوسری عبادت کے ساتھ ملایا گیا ہو۔ -- باب: حجِ قران کے جواز کا بیان اور وہ ایک ہی احرام کے ساتھ حج اور عمرے کو جمع کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 8773
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا فَقَالَ:" لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا"، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْ شَيْءٍ وَأَنْتَ تَفْعَلُهُ، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ لِأَدَعُ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.
مروان بن حکم فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کو مکہ میں پایا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج و عمرہ کو جمع کرنے سے منع کرتے تھے اور حج تمتع سے بھی۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے حج قران کا تلبیہ کہا اور فرمایا: «لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا» ”میں عمرہ اور حج دونوں کے لیے حاضر ہوں“، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تجھے معلوم ہے کہ میں لوگوں کو ایک کام سے منع کرتا ہوں اور تو پھر وہی کرتا ہے؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کسی کے قول کی خاطر نہیں چھوڑوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8773]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1577»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الصَّبِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَنَصْرَانِيَّةٍ فَأَسْلَمْتُ فَاجْتَهَدْتُ فَأَهْلَلْتُ بِالْحَجَّةِ وَالْعُمْرَةِ فَخَرَجْتُ أُهِلُّ بِهِمَا فَمَرَرْتُ عَلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ بِالْعُذَيْبِ وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ وَقَالَ الْآخَرُ: أَبِهِمَا جَمِيعًا؟ فَخَرَجْتُ كَأَنَّمَا أَحْمِلُهُمَا عَلَى ظَهْرِي حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي قَالَا، فَقَالَ:" إِنَّهُمَا لَا يَقُولَانِ شَيْئًا هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
سیدنا صبی بن معبد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں جاہلیت و نصرانیت سے نیا نیا مسلمان ہوا تھا تو کوشش کر کے میں نے حج و عمرہ کا تلبیہ کہا اور یہی تلبیہ کہتے ہوئے نکلا اور زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ رحمہما اللہ کے پاس سے عذیب نامی جگہ سے گزرا تو ان میں سے ایک نے کہا: یہ تو اپنے گھر کے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے اور دوسرے نے کہا: کیا دونوں کا اکٹھا تلبیہ؟ تو میں وہاں سے نکلا اور ان کی بات مجھے بہت چبھی حتیٰ کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کی بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: ان دونوں کی بات کوئی وزن نہیں رکھتی، تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ہدایت دیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8774]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 1799»
الحكم على الحديث: صحيح
1846. -- باب: القارن يهريق دما
-- باب: حجِ قران کرنے والا قربانی کا جانور ذبح کرے۔
حدیث نمبر: 8775
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ وَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ کہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہے اور حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہوجائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8775]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2793۔ مسلم 1218»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، قَالَ وَأنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ إِسْحَاقُ أنبأ وَقَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا"" قَالَتْ: فَحِضْتُ فَلَمَّا دَخَلْتُ لَيْلَةَ عَرَفَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي؟ فَقَالَ:"" انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْشِطِي وَأَمْسِكِي عَنِ الْعُمْرَةِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ"" فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَمْسَكْتُ عَنْهَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، وَإِنَّمَا أَمَرَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ ⦗٥٧٦⦘ عَنْهَا بِذَلِكَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهَا هَدْيٌ خَوْفًا مِنْ فَوَاتِ حَجَّتِهَا ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ عَنْ أَزْوَاجِهِ الْبَقَرَ، وَحَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ يَقْطَعُ بِكَوْنِهَا قَارِنَةً وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو میں نے عمرہ کا تلبیہ کہا اور میں قربانی نہیں لے کر آئی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے وہ عمرے کے ساتھ حج کا تلبیہ بھی کہے اور پھر اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک وہ دونوں سے فارغ نہیں ہوجاتا۔“ فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہوگئی تو جب عرفہ کی رات آئی میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو عمرہ کا تلبیہ کہا تھا، اب میں حج کا کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دے اور کنگھی کرلے اور عمرہ سے رک جا اور حج کا تلبیہ کہہ۔“ تو جب میں نے حج کرلیا تو عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا، انہوں نے مجھے اس عمرے کے بدلے جس سے میں روک دی گئی تھی تنعیم سے عمرہ کروایا۔
(ب) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارنے کا حکم انہیں دیا جن کے پاس قربانی تھی، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہی حکم دیا، اگرچہ ان کے پاس قربانی نہیں تھی، اس ڈر سے کہ کہیں ان کا حج فوت نہ ہوجائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی، اور ابوزبیر کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت قطعی طور پر بتاتی ہے کہ وہ حج قران کر رہی تھیں، اور اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8776]
(ب) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارنے کا حکم انہیں دیا جن کے پاس قربانی تھی، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہی حکم دیا، اگرچہ ان کے پاس قربانی نہیں تھی، اس ڈر سے کہ کہیں ان کا حج فوت نہ ہوجائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی، اور ابوزبیر کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت قطعی طور پر بتاتی ہے کہ وہ حج قران کر رہی تھیں، اور اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8776]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 8211»
الحكم على الحديث: صحيح