السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1846. -- باب: القارن يهريق دما
-- باب: حجِ قران کرنے والا قربانی کا جانور ذبح کرے۔
حدیث نمبر: 8777
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: ضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ ذَبَحَ، وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَهْدَى عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ. وَقَالَتْ عَمْرَةُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ الْبَقَرَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے قربان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8777]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 290۔ مسلم 1211»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8778
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ الْبَيْرُوتِيُّ، أنبأ عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ثنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ عَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَقَرَةً وَاحِدَةً كَانَتْ عَمْرَةُ تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ عَائِشَةَ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ الْبَقَرَ، وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهَ تَعَالَى.
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک ہی گائے قربان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8778]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 1750۔ ابن ماجه 3135»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8779
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: نَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بَقَرَةً فِي حَجَّتِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج میں اپنی بیویوں کی طرف سے ایک گائے ذبح کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8779]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 1751»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8780
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّنِ اعْتَمَرَ مِنْ نِسَائِهِ بَقَرَةً بَيْنَهُنَّ ⦗٥٧٧⦘ تَفَرَّدَ بِهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ سَمَاعَهُ فِيهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ كَانَ يَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ عَنْ يُوسُفَ بْنِ السَّفَرِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے جنہوں نے عمرہ کیا تھا ایک گائے ذبح کی۔
اس روایت کو صرف ولید بن مسلم نے بیان کیا ہے اور انہوں نے اس میں اوزاعی سے اپنے سماع کا ذکر نہیں کیا، اور محمد بن اسماعیل بخاری کو اندیشہ تھا کہ انہوں نے اسے یوسف بن سفر سے لیا ہو۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8780]
اس روایت کو صرف ولید بن مسلم نے بیان کیا ہے اور انہوں نے اس میں اوزاعی سے اپنے سماع کا ذکر نہیں کیا، اور محمد بن اسماعیل بخاری کو اندیشہ تھا کہ انہوں نے اسے یوسف بن سفر سے لیا ہو۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8780]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 1751»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8781
وَقَدْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْفَقِيهُ بِمِصْرَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ فَذَكَرَهُ وَقَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَإِنْ كَانَ قَوْلُهُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ مَحْفُوظًا صَارَ الْحَدِيثُ جَيِّدًا.
ایضاً۔ اور اس میں ہے کہ یہ حجۃ الوداع کے موقع پر تھا۔
اگر اس روایت میں ”ہمیں اوزاعی نے بیان کیا“ کے الفاظ محفوظ ہیں تو یہ حدیث جید ہو جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8781]
اگر اس روایت میں ”ہمیں اوزاعی نے بیان کیا“ کے الفاظ محفوظ ہیں تو یہ حدیث جید ہو جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8781]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8782
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، وَحَمْدَانُ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْر، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرِيدُ الْحَجَّ زَمَنَ نَزَلِ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ:" {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] إِذَنْ أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً"، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ" قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي" وَأُهْدِي هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ، فَانْطَلَقَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ حُرِمَ مِنْهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ نَحَرَ وَحَلَقَ ثُمَّ رَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَهُ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس زمانے میں حج کے لیے نکلے جب حجاج، ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لیے مکہ پہنچا ہوا تھا تو ان کو کہا گیا کہ لوگوں کے درمیان لڑائی ہونے والی ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ وہ آپ کو روک دیں گے تو فرمانے لگے: تمہارے لیے ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے)، میں ویسے ہی کروں گا، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ واجب کر لیا ہے، پھر نکلے حتیٰ کہ بیداء پر چڑھے تو کہنے لگے: حج و عمرہ کا معاملہ تو ایک سا ہی ہے، میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کے ساتھ عمرہ بھی واجب کر لیا ہے اور انہوں نے قدید سے ایک قربانی بھی خرید لی اور آگے بڑھے، حتیٰ کہ مکہ میں پہنچے۔ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا اور مزید کچھ نہ کیا، قربانی نہ کی، نہ ہی سر منڈوایا اور نہ ہی بال کٹوائے اور کسی چیز سے حلال نہیں ہوئے جو ان پر حرام تھی حتیٰ کہ جب یومِ نحر آیا تو قربانی کی اور سر منڈوایا، پھر دیکھا کہ انہوں نے پہلے طواف کے ساتھ حج و عمرہ کا طواف مکمل کر لیا ہے، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8782]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1713۔ مسلم 1230»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8783
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، الْمَعْنَى قَالَا: ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ: كُنْتُ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ فَأَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ عَشِيرَتِي يُقَالُ لَهُ هُذَيْمُ بْنُ ثُرْمُلَةَ فَقُلْتُ: يَا هَنَاهُ إِنِّي حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ فَكَيْفَ لِي بِأَنْ أَجْمَعَهُمَا؟ فَقَالَ: اجْمَعْهُمَا وَاذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، فَأَهْلَلْتُ بِهِمَا فَلَمَّا أَتَيْتُ الْعُذَيْبَ لَقِيَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا مَعًا فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: مَا هَذَا بِأَفْقَهَ مِنْ بَعِيرِهِ ذَلِكَ، فَكَأَنَّمَا أُلْقِيَ عَلَيَّ جَبَلٌ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا وَإِنِّي أَسْلَمْتُ وَأَنَا حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ فَأَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي فَقَالَ اجْمَعْهُمَا وَاذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، وَإِنِّي أَهْلَلْتُ بِهِمَا مَعًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا سبی بن معبد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک بدوی نصرانی آدمی تھا، جب میں مسلمان ہوا تو اپنے قبیلہ کے ایک آدمی کے پاس آیا جس کا نام ہذیم بن ثرملہ تھا، میں نے اس سے کہا کہ مجھے جہاد کا شوق ہے اور مجھ پر حج و عمرہ بھی فرض ہے تو کیوں نہ میں دونوں کو جمع کر لوں؟ تو اس نے کہا: دونوں کو جمع کر لے اور جو قربانی تجھے میسر آتی ہے وہ کر لے، چنانچہ میں نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا، اور جب میں (عذیب) مقام پر پہنچا تو مجھے سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہما ملے اور میں حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہہ رہا تھا تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ”یہ تو اپنے اس اونٹ سے بھی زیادہ نادان ہے“، تو گویا مجھ پر پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ حتیٰ کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان سے عرض کی: اے امیر المؤمنین! میں ایک دیہاتی نصرانی آدمی تھا، پھر مسلمان ہو گیا ہوں اور میں جہاد کا شوقین ہوں اور حج و عمرہ کو میں نے اپنے آپ پر فرض پایا ہے تو میں اپنی قوم کے ایک آدمی کے پاس گیا تو اس نے مجھے کہا کہ دونوں کو جمع کر لے اور جو قربانی میسر آئے اسے ذبح کر لینا، اور میں نے ان دونوں کا اکٹھا تلبیہ کہا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ہدایت دے دی گئی ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8783]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
1847. -- باب: العمرة قبل الحج والحج قبل العمرة
-- باب: حج سے پہلے عمرہ اور عمرے سے پہلے حج کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8784
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الصَّائِغُ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْعُمْرَةِ، قَبْلَ الْحَجِّ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ عَلَى أَحَدٍ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، قَالَ عِكْرِمَةُ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
عکرمہ بن خالد نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج سے پہلے عمرہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کسی پر کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ حج سے پہلے عمرہ کر لے۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8784]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 684»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8785
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ""، وَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"" دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي شَعْرَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِحَجٍّ"" حَتَّى إِذَا صَدَرَتْ وَقَضَى اللهُ حَجَّهَا أَرْسَلَ مَعَهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ فَأَرْدَفَهَا وَأَهَلَّتْ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا، فَقَضَى الله عُمْرَتَهَا وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صِيَامٌ وَلَا صَدَقَةٌ. قَوْلُهُ فَقَضَى الله عُمْرَتَهَا مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ وَإِنَّمَا لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَدْ أَهْدَى عَنْهَا وَعَمَّنِ اعْتَمَرَ مِنْ أَزْوَاجِهِ بَقَرَةً بَيْنَهُنَّ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ⦗٥٧٩⦘ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: وَحَدَّثَنَا هَنَّادٌ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ بِحَجٍّ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى الْأَوَّلِ وَأَضَافَ كَلَامَ عُرْوَةَ إِلَيْهِ.
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم ذوالحجہ کے چاند کے قریب نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو عمرہ کا تلبیہ کہنا چاہتا ہے وہ کہہ لے۔ اگر میں قربانی ساتھ لے کر نہ آیا ہوتا تو میں بھی عمرہ کا تلبیہ کہتا“ اور قوم میں کچھ عمرہ کا تلبیہ کہنے والے تھے، کچھ حج کا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا، میں حیض کی حالت میں مکہ پہنچی اور عرفہ کا دن ہو گیا تو میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے عمرہ کو رہنے دے، بال کھول لے، کنگھی کرلے اور حج کا تلبیہ کہہ“، حتیٰ کہ جب وہ واپس آئیں اور حج کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو بھیجا حصبہ والی رات۔ انہوں نے ان کو اپنے پیچھے سوار کیا پھر انہوں نے تنعیم سے عمرہ کا تلبیہ کہا اپنے پہلے عمرہ کی جگہ اور اس دوران قربانی یا روزہ یا صدقہ کچھ بھی نہیں تھا۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت نکلے جب ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی حج کا تلبیہ پکارنا پسند کرے تو وہ حج کا تلبیہ پکارے اور جو کوئی عمرہ کا تلبیہ پکارنا پسند کرے تو وہ عمرہ کا تلبیہ پکارے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8785]
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت نکلے جب ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی حج کا تلبیہ پکارنا پسند کرے تو وہ حج کا تلبیہ پکارے اور جو کوئی عمرہ کا تلبیہ پکارنا پسند کرے تو وہ عمرہ کا تلبیہ پکارے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8785]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1691۔ مسلم 1211»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8786
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ مَوْلَايَ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ: أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ، فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتَ فَاعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ وَإِنْ شِئْتَ فَبَعْدَ أَنْ تَحُجَّ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَنْ كَانَ صَرُورَةً فَلَا يَصِحُّ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، فَسَأَلْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا فَقَالَتْ: نَعَمْ وَأَشْفَيْكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَهِلُّوا يَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَةٍ فِي حَجٍّ".
ابوعمران سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اپنے موالی کے ساتھ حج کیا تو میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: کیا میں حج سے پہلے عمرہ کر لوں؟ تو انہوں نے فرمایا: اگر تم چاہو تو کر لو اور اگر چاہو تو حج کے بعد عمرہ کر لینا، تو میں نے کہا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ جس نے حج نہ کیا ہو اس کے لیے حج سے پہلے عمرہ کرنا جائز نہیں ہے، پھر میں نے امہات المومنین رضی اللہ عنہن سے پوچھا، انہوں نے بھی وہی بات کہی جو انہوں نے کہی تھی، میں ان کے پاس آیا اور انہیں خبر دی تو انہوں نے کہا: ہاں، اور میں تمہاری تسلی کر دیتی ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے آلِ محمد! حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ کہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8786]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن حبان3920۔ احمد6/298»
الحكم على الحديث: صحيح