السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1842. -- باب: إدخال الحج على العمرة
-- باب: عمرے پر حج کو داخل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ⦗٥٦٨⦘ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُهُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا وَقَالَ:" إِنَّ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَسَارَ حَتَّى إِذَا ظَهَرَ عَلَى ظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ"، فَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ وَرَأَى أَنَّ ذَلِكَ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَى. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ عَنْ نَافِعٍ وَزَادُوا فِيهِ أَنَّهِ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّى أَحَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ. وَقَوْلُهُ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ أَرَادَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً، وَلَوْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُدْخِلَ عَلَيْهِ عُمْرَةً فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَكْثَرُ منْ لَقِيتُ وَحَفِظْتُ عَنْهُ يَقُولُ لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ التَّابِعِينَ وَلَا أَدْرِي هَلْ يَثْبُتُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْءٌ أَمْ لَا، فَإِنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَيْسَ يَثْبُتُ وَإِنَّمَا أَرَادَ مَا.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے زمانے میں عمرہ کی نیت سے نکلے اور کہا: ”اگر مجھے بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم ویسے ہی کریں گے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا“، پس وہ نکلے اور عمرہ کا تلبیہ کہا اور چلے، حتیٰ کہ جب بیداء پر چڑھے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا: ”معاملہ تو دونوں کا ایک ہی ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کو بھی عمرہ کے ساتھ واجب کر لیا ہے“، پس وہ چلے حتیٰ کہ بیت اللہ پہنچے اور اس کا طواف کیا اور صفا و مروہ کا سات مرتبہ طواف کیا، اس سے زائد نہیں کیا اور سمجھا کہ یہی کافی ہے اور قربانی دی۔
صحیحین میں امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث ہے، جس کو عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے نافع رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں: وہ ان دونوں سے حلال نہیں ہوئے، حتیٰ کہ ان دونوں سے حج کے ساتھ یوم النحر کے دن حلال ہوئے اور ان کا کہنا کہ ”اس پر زیادہ نہیں کیا“ سے مراد یہ ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان صرف ایک دفعہ سعی کی، اور اگر اس نے حج کا تلبیہ پکارا، پھر اس پر (عمرہ) داخل کرنے کا ارادہ کیا تو (اس بارے میں) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اکثر لوگوں سے ملا ہوں اور ان سے یہ بات یاد کی ہے وہ کہتے تھے: یہ اس کے لیے (جائز) نہیں ہے۔ بعض تابعین سے روایت کیا گیا ہے، لیکن میرے علم میں نہیں کہ وہ بات کسی صحابی سے ثابت ہے یا نہیں۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن وہ ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8747]
صحیحین میں امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث ہے، جس کو عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے نافع رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں: وہ ان دونوں سے حلال نہیں ہوئے، حتیٰ کہ ان دونوں سے حج کے ساتھ یوم النحر کے دن حلال ہوئے اور ان کا کہنا کہ ”اس پر زیادہ نہیں کیا“ سے مراد یہ ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان صرف ایک دفعہ سعی کی، اور اگر اس نے حج کا تلبیہ پکارا، پھر اس پر (عمرہ) داخل کرنے کا ارادہ کیا تو (اس بارے میں) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اکثر لوگوں سے ملا ہوں اور ان سے یہ بات یاد کی ہے وہ کہتے تھے: یہ اس کے لیے (جائز) نہیں ہے۔ بعض تابعین سے روایت کیا گیا ہے، لیکن میرے علم میں نہیں کہ وہ بات کسی صحابی سے ثابت ہے یا نہیں۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن وہ ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8747]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1712۔ مسلم 1230»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8748
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَيِّدٍ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حَيَّانَ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، قَالَ: أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ فَأَدْرَكْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: إِنِّي أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ فأَسْتَطِيعُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِ عُمْرَةً، قَالَ:" لَا لَوْ كُنْتَ أَهْلَلْتَ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَرَدْتَ أَنْ تَضُمَّ إِلَيْهَا الْحَجَّ ضَمَمْتَهُ، وَإِذَا بَدَأْتَ بِالْحَجِّ فَلَا تَضُمَّ إِلَيْهِ عُمْرَةً"، قَالَ: فَمَا أَصْنَعُ إِذَا أَرَدْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" صُبَّ عَلَيْكَ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ ثُمَّ تُحْرِمُ بِهِمَا جَمِيعًا فَتَطُوفُ لَهُمَا طَوَافَيْنِ" كَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَنْصُورٍ وَأَبُو نَصْرٍ هَذَا غَيْرُ مَعْرُوفٍ.
ابونصر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حج کے لیے احرام باندھا، پھر میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پا لیا تو پوچھا: میں نے حج کی نیت سے احرام باندھا ہے تو کیا میں اس کے ساتھ عمرہ شامل کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: نہیں! اگر تو عمرہ کا احرام باندھتا اور پھر تو اس کے ساتھ حج کو شامل کرنا چاہتا تو کر لیتا اور جب تو نے حج کے ساتھ ابتدا کی ہے تو پھر عمرہ ساتھ نہ ملاؤ۔ میں نے پوچھا: پھر میں کیا کروں اگر میں دونوں ہی کرنا چاہوں؟ انہوں نے کہا: اپنے اوپر پانی کا ایک لوٹا بہا اور پھر دونوں کا اکٹھا احرام باندھ اور دو طواف کر۔
یہ ابونصر غیر معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8748]
یہ ابونصر غیر معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8748]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ دارقطني 2/ 265»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8749
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، سَمِعَ مَالِكُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ لَقِيَ عَلِيًّا وَقَدْ أَهَلَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَأَهَلَّ هُوَ بِالْحَجِّ، قَالَ: فَقُلْتُ: لِعَلِيٍّ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّمَا ذَلِكَ لَوْ كُنْتَ حِينَ ابْتَدَأْتَ دَعَوْتَ بِإِدَوَاتِكَ فَاغْتَسَلْتَ ثُمَّ أَهْلَلْتَ بِهِمَا جَمِيعًا ثُمَّ طُفْتَ طَوَافَيْنِ طَوَافًا بِحَجِّكَ وَطَوَافًا بِعُمْرَتِكَ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْكَ شَيْءٌ إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ" وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ مَالِكٌ حَدَّثَنِيهِ ⦗٥٦٩⦘ وَقَالَ: لَا ذَاكَ لَوْ كُنْتَ بَدَأْتَ بِالْعُمْرَةِ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَإِذَا قَرَنْتَ فَافْعَلْ كَذَا فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، وَكَانَ مَنْصُورٌ يَشُكُّ فِي سَمَاعِهِ مِنْ مَالِكٍ نَفْسِهِ أَوْ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْهُ.
ابونصر سلمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہا ہوا تھا اور انہوں نے صرف حج کا تلبیہ کہا تھا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا میں دونوں کا اکٹھا تلبیہ کہہ لوں؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تب ہوتا اگر تو ابتدا کرتے وقت اپنا پانی کا برتن منگواتا اور غسل کرتا، پھر دونوں کا اکٹھا تلبیہ کہتا، پھر دو طواف کرتا، ایک طواف اپنے حج کے لیے اور ایک طواف اپنے عمرہ کے لیے، پھر یوم النحر تک تیرے لیے کوئی چیز حلال نہ ہوتی۔
ثوری نے اسے منصور سے روایت کیا ہے اور اس میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: نہیں، یہ تب ہوتا اگر تو عمرہ سے ابتدا کرتا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تو حج و عمرہ کو ملائے تو اس طرح کر، پھر اسی معنی میں ذکر کیا۔ منصور کو شک تھا کہ انہوں نے یہ خود مالک سے سنا ہے یا ابراہیم کے واسطے سے ان سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8749]
ثوری نے اسے منصور سے روایت کیا ہے اور اس میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: نہیں، یہ تب ہوتا اگر تو عمرہ سے ابتدا کرتا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تو حج و عمرہ کو ملائے تو اس طرح کر، پھر اسی معنی میں ذکر کیا۔ منصور کو شک تھا کہ انہوں نے یہ خود مالک سے سنا ہے یا ابراہیم کے واسطے سے ان سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8749]
1843. -- باب: من قال العمرة تطوع
-- باب: ان کا بیان جن کے نزدیک عمرہ نفل ہے۔
حدیث نمبر: 8750
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ وَاحْتَجَّ بِأَنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْحَجُّ جِهَادٌ وَالْعُمْرَةُ تَطَوُّعٌ" قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْكِتَابِ: فَقُلْتُ لَهُ يَعْنِي بَعْضَ الْمَشْرِقِيِيِنَ أَتُثْبِتُ مِثْلَ هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هُوَ مُنْقَطِعٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْصُولًا وَالطَّرِيقُ فِيهِ إِلَى شُعْبَةَ طَرِيقٌ ضَعِيفٌ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا وَمُحَمَّدٌ هَذَا مَتْرُوكٌ.
ابوصالح حنفی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج کرنا جہاد ہے اور عمرہ نفل ہے“۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب میں فرمایا: میں نے اس سے (یعنی اہل مشرق میں سے ایک شخص سے) کہا: کیا تم اس جیسی روایت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت مانتے ہو؟ تو اس نے کہا: یہ منقطع ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: حدیث شعبہ عن معاویہ بن اسحاق عن ابی صالح عن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موصول ہے اور شعبہ تک سند ضعیف ہے۔ اور اسے محمد بن فضل بن عطیہ نے سالم افطس سے، انہوں نے ابن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور یہ محمد متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8750]
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب میں فرمایا: میں نے اس سے (یعنی اہل مشرق میں سے ایک شخص سے) کہا: کیا تم اس جیسی روایت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت مانتے ہو؟ تو اس نے کہا: یہ منقطع ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: حدیث شعبہ عن معاویہ بن اسحاق عن ابی صالح عن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موصول ہے اور شعبہ تک سند ضعیف ہے۔ اور اسے محمد بن فضل بن عطیہ نے سالم افطس سے، انہوں نے ابن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور یہ محمد متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8750]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مسند شافعي 805۔ ابن ابي شيبه 1347»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8751
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ سَهْلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَمَّادٍ الْآمُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الْعُمْرَةُ وَاجِبَةٌ وَفَرِيضَتُهَا كَفَرِيضَةِ الْحَجِّ؟ قَالَ:" لَا وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ" كَذَا قَالَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ وَهُوَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ذَكَرَهُ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ وَغَيْرُهُمَا عَنِ ابْنِ عُفَيْرٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَرَوَاهُ الْبَاغَنْدِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنِ ابْنِ عُفَيْرٍ قَالَ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَهَذَا وَهْمٌ مِنَ الْبَاغَنْدِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي دَاوُدَ عَنْ جَعْفَرٍ، كَمَا رَوَاهُ النَّاسُ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْمَتْنُ بِالْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ.
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا عمرہ واجب ہے اور حج کی طرح فرض ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اگر عمرہ کرلو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔“
اس سند میں عبیداللہ سے مراد عبیداللہ بن مغیرہ ہیں، ابوالزبیر سے اسے بیان کرنے میں وہ منفرد ہیں، اور یہ متن صرف حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے محمد بن منکدر عن جابر کی سند سے معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8751]
اس سند میں عبیداللہ سے مراد عبیداللہ بن مغیرہ ہیں، ابوالزبیر سے اسے بیان کرنے میں وہ منفرد ہیں، اور یہ متن صرف حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے محمد بن منکدر عن جابر کی سند سے معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8751]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد۔ معجم الصغير للطبراني 2/ 1015»
الحكم على الحديث: منكر الاسناد
حدیث نمبر: 8752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ⦗٥٧٠⦘ عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَاجِبَةٌ الْعُمْرَةُ قَالَ:" لَا وَأَنَ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكٌ" كَذَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ مَرْفُوعًا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا عمرہ واجب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اور اگر تو عمرہ کرلے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8752]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جامع ترمذي 931۔ احمد 3/ 316»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8753
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْعُمْرَةِ أَوَاجِبَةٌ فَرِيضَةٌ كَفَرِيضَةِ الْحَجِّ، قَالَ:" لَا وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفٌ غَيْرُ مَرْفُوعٍ وَرُوِيَ عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعًا بِخِلَافِ ذَلِكَ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا: کیا عمرہ واجب ہے اور حج کی طرح فرض ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، لیکن اگر تو عمرہ کر لے تو تیرے لیے بہتر ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے یہی موقوف روایت محفوظ ہے، مرفوع نہیں۔ اور جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے برعکس مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے، اور دونوں ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8753]
جابر رضی اللہ عنہ سے یہی موقوف روایت محفوظ ہے، مرفوع نہیں۔ اور جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے برعکس مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے، اور دونوں ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8753]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8754
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} [البقرة: ١٩٦] يَقُولُ:" هِيَ وَاجِبَةٌ".
عبداللہ بن عون رحمہ اللہ یہ آیت ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [سورة البقرة: 196] پڑھتے: ”حج و عمرہ کو اللہ کے لیے مکمل کرو۔“ تو فرماتے کہ یہ واجب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8754]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
1844. -- باب: من قال بوجوب العمرة استدلالا بقول الله تعالى وأتموا الحج والعمرة لله
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ”وأتموا الحج والعمرة لله“ (اور اللہ کے لیے حج اور عمرہ پورا کرو) سے استدلال کرتے ہوئے عمرے کو واجب قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 8755
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُعْتَمِرٌ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ قَوْمًا يَزْعُمُونَ أَنْ لَيْسَ قَدَرٌ، قَالَ: فَهَلْ عِنْدَنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا ⦗٥٧١⦘ قَالَ: فَأَبْلِغْهُمْ عَنِّي إِذَا لَقِيتَهُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرِيءٌ إِلَى اللهِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ بُرَءَاءٌ مِنْهُ، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ سَحْنَاءُ سَفَرٍ وَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ يَتَخَطَّى حَتَّى وَرِكِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَجْلِسُ أَحَدُنَا فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ:" أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَأَنْ تُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ وَتَعْتَمِرَ وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وَتُتِمَّ الْوُضُوءَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ" قَالَ: فَإِنْ قُلْتُ هَذَا فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: صَدَقْتَ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ.
یحییٰ بن یعمر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ تقدیر نہیں ہے“، کہنے لگے: ”کیا ان میں سے کوئی ہمارے پاس ہے؟“ میں نے کہا کہ نہیں! تو فرمایا کہ ”ان کو میری طرف سے یہ پیغام دینا، جب بھی تم ان سے ملنا کہ ابن عمر تم سے اللہ کی طرف سے بری ہے اور تم اس سے بری ہو“۔ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا، اس پر سفر کے اثرات تھے اور نہ ہی وہ اہل علاقہ میں سے تھا، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، جس طرح ہم نماز میں بیٹھتے ہیں، پھر اس نے اپنے ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھے اور پوچھا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اسلام کیا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے اکیلے معبود ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور عمرہ کرنا، غسلِ جنابت کرنا، وضو مکمل کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا“۔ اس نے کہا: ”اگر میں یہ کروں تو کیا میں مسلمان ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ پھر اس نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے“، (اور ساری حدیث ذکر کی)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8755]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 8۔ ابوداود 4696»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8756
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ - قَالَ حَفْصٌ فِي حَدِيثِهِ: رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ - أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ، قَالَ:" احْجُجْ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ".
ابورزین رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ حج و عمرہ نہیں کر سکتے اور نہ سواری پر ٹھہر سکتے ہیں،“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے والد کی طرف سے حج و عمرہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8756]
تخریج الحدیث: «حسن۔ مضي 8633»
الحكم على الحديث: حسن