🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2177. -- باب: ما يقول إذا خرج من بيته
-- باب: جب شخص اپنے گھر سے نکلے تو کیا پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10309
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، يَقُولُ:" بِاسْمِ اللهِ اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو فرماتے: «بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ، أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں پھسل جاؤں یا گمراہ ہو جاؤں۔ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔ میں کسی پر جہالت کروں یا کوئی مجھ پر جہالت کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10309]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 5094»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10310
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّاءُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ: بِاسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ يُقَالُ: وُقِيتَ وَكُفِيتَ"، وَرَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَزَادَ فِيهِ: إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کہا: اللہ کے نام کے ساتھ، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ (کچھ نیکی کرنے کی) قوت، تو (اسے) کہا جاتا ہے: تو بچا لیا گیا اور تیری کفایت کر دی گئی۔“
حجاج بن محمد نے بھی اسے ابن جریج سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: جب وہ اپنے گھر سے نکلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10310]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداد 5095۔ الترمذي 342»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2178. -- باب: التوديع
-- باب: مسافر کو الوداع کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10311
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، قَالَ: أَرْسَلَنِي ابْنُ عُمَرَ إِلَى حَاجَةٍ فَأَخَذَ بِيَدِي وَقَالَ: أُوَدِّعُكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْسَلَنِي إِلَى حَاجَةٍ لَهُ، فَقَالَ:" أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ".
یحییٰ بن اسماعیل بن جریر، قزعہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے کسی کام کے لیے روانہ کیا، انہوں نے میرے ہاتھ کو پکڑ لیا اور فرمایا: میں تجھے ویسے الوداع کہوں گا، جیسے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الوداع کہا تھا اور مجھے کام کے لیے روانہ کیا اور فرمایا: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» ”میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتموں کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10311]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 2600»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10312
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَرَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَرَدْتُ سَفَرًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: انْتَظِرْ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُنَا:" أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ".
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: انتظار کر میں تجھے الوداع کہوں گا، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں الوداع کیا کرتے تھے: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» ”میں تیرے دین، تیری امانت اور اعمال کے خاتموں کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10312]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن خزيمه 2531»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10313
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ سَفَرًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ" حَتَّى إِذَا أَدْبَرَ الرَّجُلُ، قَالَ:" اللهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ سفر کا ارادہ رکھتا تھا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھے اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں اور ہر گھاٹی پر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہنے کی۔“ یہاں تک کہ جب وہ آدمی چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» ”اے اللہ! اس کے لیے زمین کو لپیٹ دے اور اس کے سفر کو آسان بنا دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10313]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الترمذي 3445۔ ابن ماجه 2771»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10314
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، وَحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَشْرِكْنَا فِي صَالِحِ دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا".
سالم اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کی اجازت طلب کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا، ہمیں نہ بھول جانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10314]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1198۔ الترمذي 3562»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10315
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الزُّهْرِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالُوا: أنا شُعْبَةُ، أنا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةٍ فَأَذِنَ لَهُ وَقَالَ:" لَا تَنْسَنَا يَا أَخِي مِنْ دُعَائِكَ" قَالَ: فَقَالَ لِي كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُ عَاصِمًا بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ فَحَدَّثَنِيهِ وَقَالَ فِيهِ:" أَشْرِكْنَا يَا أَخِي فِي دُعَائِكَ" وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ يُوسُفَ، قَالَ فِي إِسْنَادِهِ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ⦗٤١٣⦘ عُمَرَ وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: فَقَالَ لِي كَلِمَةً مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا، وَإِثْبَاتُ أَخِي فِي أَوَّلِهِ وَأَخِي فِي آخِرِهِ مِنْ جِهَتِهِ.
سالم اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی اور فرمایا: ”اے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسا کلمہ کہا کہ اس کے بدلے مجھے ساری دنیا مل جائے تو بھی مجھے خوشی نہ ہو۔ شعبہ کہتے ہیں کہ بعد میں عاصم سے مدینہ میں ملا، اس نے مجھ سے بیان کیا، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا۔“
(ب) سالم بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک بات کہی میں پسند نہیں کرتا کہ اس کے عوض میرے لیے دنیا ہو، «أَخِي» کے الفاظ ابتدا اور آخر دونوں طرف موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10315]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2179. -- باب: ما يقول إذا ركب
-- باب: جب مسافر سواری پر سوار ہو تو کیا پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10316
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ:" {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: ١٤] ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تُحِبُّ وَتَرْضَى، اللهُمَّ هُوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ" قَالَ: وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ:" آئِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ" لَفْظُ حَدِيثِ حَجَّاجٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ:" اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي مَسِيرِنَا هَذَا" وَلَمْ يَقُلْ" تُحِبُّ"، وَقَالَ:" اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ" وَزَادَ:" عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ"، وَالْبَاقِي مِثْلُهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سکھایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے لیے نکلتے ہوئے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے۔ پھر یہ دعا پڑھتے: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کردیا، حالاں کہ ہم اسے قابو کرنے والے نہیں تھے اور یقیناً ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔“ «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تُحِبُّ وَتَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ» ”اے اللہ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں اور اس عمل کا جسے تو پسند کرے اور جس سے تو راضی ہو۔ اے اللہ! ہمارا سفر ہم پر آسان فرما دے اور ہم سے اس کی دوری لپیٹ دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں نائب ہے۔ اے اللہ! ہم سفر کی مشقت، ناکام لوٹنے کے غم اور اہل و مال میں برے منظر سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔“ اور جب واپس آتے تو ان کلمات کو کہتے اور ان میں یہ اضافہ کرتے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔“
(ب) ابن وہب کی روایت میں ہے کہ ”اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں سوال کرتے ہیں“ لیکن اس نے «تُحِبُّ» کے لفظ نہیں کہے اور کہا: ”اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی مشقت، برے منظر کے غم اور ناکام لوٹنے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں“ اس میں زیادتی یہ ہے: ”عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10316]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1342»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10317
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ رَبِيعَةَ أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ رَكِبَ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ، قَالَ:" بِاسْمِ اللهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: ١٤] ، ثُمَّ حَمِدَ ثَلَاثًا وَكَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيلَ لَهُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ وَقَالَ مِثْلَ مَا قُلْتُ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْنَا: مَا يُضْحِكُكَ يَا نَبِيَّ اللهِ؟ قَالَ:" الْعَبْدُ" أَوْ قَالَ:" عَجِبْتُ لِلْعَبْدِ إِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا هُوَ".
سیدنا علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے جس وقت وہ سوار ہوئے۔ جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو فرمانے لگے: «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“، جب سواری پر بیٹھ گئے تو کہنے لگے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، پھر کہا: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”اللہ پاک ہے جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کر دیا حالانکہ ہم اس سے ملنے والے نہ تھے اور یقیناً ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں“، پھر تین بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ اور تین بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ پھر کہا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے اپنی جان پر ظلم کر لیا ہے تو مجھے معاف کر دے، تیرے علاوہ گناہ معاف کرنے والا کوئی نہیں“، پھر مسکرائے۔ کہا گیا: اے امیر المومنین! آپ رضی اللہ عنہ کو کس چیز نے ہنسا دیا؟ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، انہوں نے ایسا ہی کیا جیسے میں نے کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کہا جیسے میں نے کہا، پھر مسکرائے، ہم نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کس چیز نے ہنسا دیا؟ فرمایا: ”بندے نے (یا فرمایا: میں نے) تعجب کیا بندے کے کہنے سے کہ صرف تو ہی معبود ہے، میں نے اپنی جان پر ظلم کر لیا ہے، مجھے معاف کر دے، تیرے علاوہ گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں، جبکہ بندہ جانتا ہے کہ صرف وہی گناہ معاف کرتا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10317]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 2603۔ الترمذي 3446»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10318
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ⦗٤١٤⦘ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" إِذَا رَكِبَ الرَّجُلُ الدَّابَّةَ فَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ رَدِفَهُ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ لَهُ: تَغَنَّ، فَإِنْ لَمْ يُحْسِنْ، قَالَ لَهُ: تَمَنَّ" مَوْقُوفٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی چوپائے پر سوار ہوتا ہے اور اللہ کا نام نہیں لیتا تو اس کا ردیف شیطان ہوتا ہے، وہ اس سے کہتا ہے: گانا گاؤ، اگر وہ اچھا نہ گا سکتا ہو تو اس سے کہتا ہے: آرزو کر۔
یہ روایت موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10318]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطبراني في الكبير 8781»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں