السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2173. -- باب: زيارة قبور الشهداء
-- باب: شہداء کی قبروں کی زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10299
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ مِنْ أَصْلِهِ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ، أنا دَاوُدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ مَرَّ هُوَ وَرَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ابْنُ يُوسُفَ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ ابْنُ يُوسُفَ: إِنَّا لَنَجِدُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنَ الْحَدِيثِ مَا لَا نَجِدُ عِنْدَكَ، قَالَ: عِنْدِي حَدِيثٌ كَثِيرٌ وَلَكِنَّ رَبِيعَةَ بْنَ الْهُدَيْرِ وَكَانَ يَلْزَمُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ زَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ، قَالَ رَبِيعَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: قَالَ لِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ تَدَلَّيْنَا مِنْهَا فَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا، فَقَالَ:" هَذِهِ قُبُورُ أَصْحَابِنَا" ثُمَّ خَرَجْنَا فَلَمَّا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ، قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا".
داؤد بن خالد بن دینار سے روایت ہے کہ ان کا اور ایک آدمی کا، جسے ابن یوسف کہا جاتا تھا، ربیعہ بن عبدالرحمن کے پاس سے گزر ہوا تو ابن یوسف نے کہا: ”ہم دوسروں کے پاس وہ احادیث پاتے ہیں جو آپ کے پاس نہیں ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”میرے پاس بہت سی احادیث ہیں، لیکن ربیعہ بن ہدید، طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہتے تھے، ان کا خیال ہے کہ انہوں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے کبھی نہیں سنا سوائے ایک حدیث کے۔“ ربیعہ نے کہا کہ میں نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ مجھے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور واقم کے حرہ (پتھریلی زمین) کی طرف گئے، ہمیں وہاں کچھ دکھائی دیا، وہ کچھ پرانی قبریں تھیں، ہم نے کہا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمارے ساتھیوں کی قبریں ہیں“، پھر ہم شہداء کی قبروں کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں“۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10299]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداود 2043»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10300
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ السَّقَطِيُّ، ثنا حَامِدٌ، يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْمَدَنِيُّ الْخُزَاعِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهُدَيْرِ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.
ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث کے سوا کبھی کوئی حدیث بیان کرتے نہیں سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10300]
حدیث نمبر: 10301
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا عِيسَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبُورِ الشُّهَدَاءِ عَلَى نَاقَتِهِ رَدَّهَا هَكَذَا وَهَكَذَا فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الطَّرِيقِ عَلَى نَاقَتِهِ فَقُلْتُ: لَعَلَّ خُفِّي يَقَعُ عَلَى خُفِّهِ".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ جب وہ اپنی اونٹنی پر شہداء کی قبروں کی طرف جاتے تو اسے اِدھر اُدھر گھماتے تھے، ان سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس راستے میں اپنی اونٹنی پر دیکھا تھا، تو میں نے (دل میں) کہا: شاید کہ میری اونٹنی کے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے پاؤں پر آ جائیں۔ [حسن] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10301]
2174. جماع أبواب آداب السفر -- باب: الاستخارة
سفر کے آداب پر مشتمل جامع ابواب۔ -- باب: سفر کے لیے استخارہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10302
أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللهُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْسَقَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الْمَوَّالِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ:" إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلِ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ⦗٤١٠⦘ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللهُمَّ إنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي" أَوْ قَالَ:" فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي، وَمَعَاشِي، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي" أَوْ قَالَ:" عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ" قَالَ: وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دعائے استخارہ اس طرح سکھاتے تھے، جیسے قرآن کی کوئی سورت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تم میں سے کوئی جب کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض نماز کے علاوہ دو رکعت پڑھے، پھر کہے: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ خیر کا سوال کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ساتھ طاقت کا سوال کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے بڑے فضل کا سوال کرتا ہوں؛ کیوں کہ تو قدرت رکھتا ہے، میں قدرت نہیں رکھتا اور تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین، میری معاش اور میرے کام کے انجام میں بہتر ہے (یا فرمایا: میری دنیا اور آخرت کے معاملہ میں) تو اسے میری قسمت میں کر دے، اسے میرے لیے آسان کر دے اور پھر میرے لیے اس میں برکت دے۔ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین، میری معاش اور میرے کام کے انجام میں برا ہے (یا میری دنیا و آخرت کے معاملہ میں) تو مجھے اس سے ہٹا دے اور اسے مجھ سے دور کر دے اور میری قسمت میں بھلائی کر جہاں بھی، مجھے اس پر راضی کر دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور (دعا کرنے والا) اپنی حاجت کا نام لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10302]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1109»
الحكم على الحديث: صحيح
2175. -- باب: الدعاء إذا سافر
-- باب: سفر شروع کرتے وقت کی جانے والی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 10303
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ، قَالَ:" اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا، وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَمِنَ الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَمِنْ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِينَ وَمِنْ سُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ.
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا، وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ» ”اے اللہ! تو ہی سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں نائب ہے۔ اے اللہ! تو ہمارا ساتھی بن ہمارے سفر میں اور ہمارا نائب بن ہمارے گھر والوں میں۔ اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی مشقت اور ناکام لوٹنے کے غم اور زیادتی کے بعد کمی اور مظلوم کی بددعا سے اور برے منظر سے مال و اہل میں پناہ چاہتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10303]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1343»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10304
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ لَمْ يَقُلْ زِيَادٌ: فِي سَفَرٍ، قَالَ:" اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ، وَالْكَابَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ، اللهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ" فَإِذَا أَرَادَ الرُّجُوعَ قَالَ:" آئِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ" فَإِذَا دَخَلَ أَهْلَهُ، قَالَ:" تَوْبًا تَوْبًا لِرَبِّنَا أَوْبًا لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حُوبًا".
عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں نکلنے کا ارادہ فرماتے (زیاد نے ”سفر میں“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے) تو فرماتے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ، وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ، اللَّهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ» ”اے اللہ! تو سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں نائب ہے۔ اے اللہ! میں سفر میں (دوسروں پر) بوجھ بننے اور واپسی میں غم سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور ہمارے لیے سفر آسان کر دے۔“ اور جب واپسی کا ارادہ ہوتا (تو فرماتے): «آيِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم واپس لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔“ جب اپنے گھر آتے تو فرماتے: «تَوْبًا تَوْبًا لِرَبِّنَا أَوْبًا لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حُوبًا» ”اپنے رب سے خوب توبہ کرتا ہوں، ہمارے گناہوں کو نہ چھوڑ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10304]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 1/ 255»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10305
وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنا أَحْمَدُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ.
ایضاً (یہی روایت سماک سے ایک اور سند کے ساتھ عثمان بن عمر کی حدیث کی طرح منقول ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10305]
حدیث نمبر: 10306
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسَاوِرٍ الْعِجْلِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمْ يُرِدْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا إِلَّا قَالَ حِينَ يَنْهَضُ مِنْ جُلُوسِهِ:" اللهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ، ⦗٤١١⦘ وَبِكَ اعْتَصَمْتُ، أَنْتَ ثِقَتِي وَرَجَائِي، اللهُمَّ اكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي وَمَا لَا أَهْتَمُّ بِهِ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللهُمَّ زَوِّدْنِي التَّقْوَى، وَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَجِّهْنِي إِلَى الْخَيْرِ حَيْثُ مَا تَوَجَّهْتُ" ثُمَّ يَخْرُجُ هَكَذَا يَقُولُهُ الْعَوَّامُّ:" بِكَ انْتَشَرْتُ" وَأَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ كَانَ يَقُولُ: الصَّحِيحُ" ابْتَسَرْتُ" يَعْنِي ابْتَدَأْتُ سَفَرِي.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کا ارادہ کیا تو جب اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ، وَبِكَ اعْتَصَمْتُ، أَنْتَ ثِقَتِي وَرَجَائِي، اللَّهُمَّ اكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي وَمَا لَا أَهْتَمُّ بِهِ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ زَوِّدْنِي التَّقْوَى، وَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَجِّهْنِي إِلَى الْخَيْرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهْتُ» ”اے اللہ! تیری مدد سے میں (سفر کے لیے) نکلا، تیری ہی طرف میں نے رخ کیا اور تیرا ہی سہارا میں نے پکڑا، تو ہی میرا بھروسا اور میری امید ہے۔ اے اللہ! مجھے ان باتوں سے کافی ہو جا جو مجھے فکر میں ڈالیں اور جن کی میں فکر نہیں کرتا اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اے اللہ! مجھے تقویٰ کا زادِ راہ عطا فرما، میرا گناہ معاف فرما اور میں جدھر بھی رخ کروں مجھے بھلائی کی طرف متوجہ فرما۔“ پھر (سفر کے لیے) نکل جاتے۔
عام لوگ اسی طرح «بِكَ انْتَشَرْتُ» کہتے ہیں، جبکہ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے تھے: صحیح «ابْتَسَرْتُ» ہے، یعنی میں نے اپنا سفر شروع کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10306]
عام لوگ اسی طرح «بِكَ انْتَشَرْتُ» کہتے ہیں، جبکہ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے تھے: صحیح «ابْتَسَرْتُ» ہے، یعنی میں نے اپنا سفر شروع کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10306]
2176. -- باب: اليوم الذي يستحب أن يكون خروجه فيه
-- باب: اس دن کا بیان جس میں سفر کے لیے نکلنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 10307
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ فِي سَفَرٍ لِجِهَادٍ، وَغَيْرِهِ إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ فِي حَدِيثِ تَوْبَةِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ.
عبدالرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے سفر یا کسی اور سفر کے لیے جمعرات کے علاوہ کسی اور دن کم ہی نکلتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10307]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2789»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10308
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الدَّيْنَوَرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ فِي سَفَرٍ إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے علاوہ کسی اور دن کم ہی سفر کے لیے نکلتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10308]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح