السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1830. -- باب: ركوب البحر لحج أو عمرة أو غزو
-- باب: حج، عمرہ یا جہاد کے لیے سمندری سفر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8667
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" حَجَّةٌ لِمَنْ لَمْ يَحُجَّ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ غَزَوَاتٍ، وَغَزْوَةٌ لِمَنْ قَدْ حَجَّ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ حِجَجٍ وَغَزْوَةٌ فِي الْبَحْرِ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ غَزَوَاتٍ فِي الْبَرِّ وَمَنِ اجْتَازَ الْبَحْرَ فَكَأَنَّمَا اجْتَازَ الْأَوْدِيَةَ كُلَّهَا وَالْمَائِدُ فِيهِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ". كَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْهُ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حج نہیں کیا اس کے لیے حج دس غزوات سے بہتر ہے اور جس نے حج کیا ہوا ہے، اس کے لیے غزوہ کرنا دس حجوں سے بہتر ہے اور سمندری جہاد خشکی جہاد سے دس گنا بہتر ہے اور جس نے سمندر کو پار کیا گویا اس نے تمام تر وادیوں کو پار کیا اور اس (سمندر) میں چکر اور متلی میں مبتلا ہونے والا خون میں لت پت ہونے والے کی طرح ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8667]
تخریج الحدیث: «منكر۔ حاكم 2/ 155»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 8668
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ، ثنا مَرْوَانُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّمَشْقِيُّ الْمَعْنِيُّ، ثنا مَرْوَانُ، ثنا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيُّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ الَّذِي يُصِيبُهُ الْقَيْءُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ وَالْغَرِقُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ".
سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندری سفر کرنے والے کو اگر قے (الٹی) آئے تو اس کے لیے ایک شہید کا اجر ہے اور ڈوبنے والے کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8668]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداود 2494۔ حميدي 349»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 8669
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٤٨⦘ إِسْحَاقَ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ هَادِيَةَ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ مِنْ أَهْلِ عُمَانَ، قَالَ: مِنْ أَهْلِ عُمَانَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا عُمَانُ يَنَضَحُ بِجَانِبِهَا الْبَحْرُ، الْحَجَّةُ مِنْهَا أَفْضَلُ مِنْ حَجَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِهَا".
حسن بن ہادیہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ملا تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل عمان سے، فرمایا: اہل عمان سے؟ میں نے کہا: جی! فرمانے لگے کہ کیا میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث سناؤں؟ میں نے کہا: ضرور! فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں ایک ایسی زمین کو جانتا ہوں، جسے عمان کہا جاتا ہے، اس کے دونوں جانب سمندر ہے، وہاں سے حج کے لیے آنا دیگر مقامات کی نسبت دو حجوں سے افضل ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8669]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 2/ 30»
الحكم على الحديث: ضعيف
1831. -- باب: الحج عن الميت وأن الحجة الواجبة من رأس المال
-- باب: میت کی طرف سے حج کرنے اور اس بات کا بیان کہ واجب حج (کا خرچ) کل ترکے سے ادا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 8670
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ الْفَامِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتِ الْوَلِيدَةَ، قَالَ:" وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ" قَالَتْ: فَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ فَيُجْزِئُ أَنْ أَصُومَ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَتْ: وَلَمْ تَحُجَّ فَيُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ".
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی والدہ پر ایک لونڈی کا صدقہ کیا تھا اور وہ فوت ہو گئی ہے اور لونڈی چھوڑ گئی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اجر واجب ہو گیا اور وہ تیرے پاس بطور وراثت واپس آ گئی ہے۔“ وہ کہنے لگی: ”وہ فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمے روزے ہیں، تو کیا اس کی طرف سے میرا روزہ رکھنا کفایت کر جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اس نے کہا: ”اس نے حج بھی نہیں کیا، تو کیا اس کی طرف سے میرا حج کرنا کفایت کرے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8670]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1149۔ ابوداود 2877»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8671
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْفَامِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8671]
حدیث نمبر: 8672
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَعْنِي إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ فَحُجِّي عَنْهَا أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتِهِ؟" قَالَتْ نَعَمْ، قَالَ:" اقْضُوا حَقَّ اللهِ فَإِنَّ اللهَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی، لیکن وہ حج کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی، کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اس کی طرف سے حج کر، کیا خیال ہے اگر تیری والدہ پر قرضہ ہوتا تو تو وہ ادا کرتی؟“ کہنے لگی: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ کو بھی ادائیگی کرو، وہ وفا کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8672]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6885»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8673
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا صَفْوَانُ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ، عَنْ أَبِي الْغَوْثِ بْنِ الْحُصَيْنِ الْخَثْعَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللهِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَتَمَالَكُ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَمَا تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ حُجَّ عَنْهُ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَذَلِكَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِينَا وَلَمْ يُوصِ بِحَجٍّ فَنَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَتُؤْجَرُونَ" قَالَ: وَيُتَصَدَّقُ عَنْهُ وَيُصَامُ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَالصَّدَقَةُ أَفْضَلُ وَكَذَلِكَ فِي النُّذُورِ وَالْمَشْيِ إِلَى الْمَسْجِدِ" ⦗٥٤٩⦘ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
ابوغوث بن حصین خثعمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرے والد کو اللہ کے فریضۂ حج نے اس حال میں پایا ہے کہ وہ بہت بوڑھے ہیں اور اونٹنی پر سوار نہیں رہ سکتے، تو کیا خیال ہے، میں ان کی طرف سے حج کرلوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ان کی طرف سے حج کرو۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسی طرح ہمارے اہل و عیال میں سے جو بھی فوت ہو جائے جب کہ اس نے حج کی وصیت نہ کی ہو تو بھی اس کی طرف سے حج کیا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور تمہیں اجر ملے گا“، میں نے کہا: ”ان کی طرف سے صدقہ کیا جائے اور روزہ رکھا جائے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور صدقہ افضل ہے، اسی طرح نذریں اور مسجد کی طرف چل کر جانا بھی۔“
اس کی سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8673]
اس کی سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8673]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8674
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: الْحَجَّةُ الْوَاجِبَةُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ.
عطاء اور طاؤس رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ فرضی حج «رَأْسِ الْمَالِ» ”اصل مال“ سے کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8674]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مسند الشافعي 497»
الحكم على الحديث: ضعيف
1832. -- باب: من ليس له أن يحج عن غيره
-- باب: اس شخص کا بیان جسے دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا حق نہیں۔
حدیث نمبر: 8675
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيِّنٌ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ السِّجْزِيُّ إِمْلَاءً، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ:" مَنْ شُبْرُمَةُ" فَذَكَرَ أَخًا لَهُ أَوْ قَرَابَةً، قَالَ:" أَحَجَجْتَ قَطُّ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْكَ ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ" هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ لَيْسَ فِي هَذَا الْبَابِ أَصَحُّ مِنْهُ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَهَنَّادِ بْنِ السَّرِيِّ عَنْ عَبْدَةَ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: أَثْبَتُ النَّاسِ سَمَاعًا مِنْ سَعِيدٍ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي عَنْ سَعِيدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: «لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ» ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا کہ میرا قریبی یا کہا: میرا بھائی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے خود بھی کبھی حج کیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر یہ حج اپنی طرف سے کر، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“
یہ سند صحیح ہے، اس باب میں اس سے زیادہ صحیح کوئی سند نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8675]
یہ سند صحیح ہے، اس باب میں اس سے زیادہ صحیح کوئی سند نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8675]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ ابوداؤد 1811۔ ابن ماجه 2903»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8676
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يُلَبِّي عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ:" مَنْ شُبْرُمَةُ؟" فَقَالَ: أَخِي أَوْ ذُو قَرَابَةٍ لِي، فَقَالَ:" حَجَجْتَ قَطُّ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكِ ثُمَّ حُجَّ عَنْهُ" وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَرَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَنْ رَوَاهُ مَرْفُوعًا حَافَظٌ ثِقَةٌ فَلَا يَضُرُّهُ خِلَافُ مَنْ خَالَفَهُ وَعَزْرَةُ هَذَا هُوَ عَزْرَةُ بْنُ يَحْيَى..
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو شبرمہ کی طرف سے تلبیہ کہتے ہوئے سنا تو پوچھا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا: میرا بھائی یا قریبی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے کبھی حج کیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر یہ حج اپنی طرف سے کر، پھر اس کی طرف سے بعد میں کرنا۔“
غندر نے اسے سعید بن ابی عروبہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے، لیکن جس نے اسے مرفوع روایت کیا ہے وہ ثقہ حافظ ہے، لہٰذا اس کی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہیں دیتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8676]
غندر نے اسے سعید بن ابی عروبہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے، لیکن جس نے اسے مرفوع روایت کیا ہے وہ ثقہ حافظ ہے، لہٰذا اس کی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہیں دیتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8676]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره