🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1993. -- باب: الاستكثار من الطواف بالبيت ما دام بمكة
-- باب: جب تک مکہ میں رہے بیت اللہ کا کثرت سے طواف کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9430
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ طَافَ سَبْعًا وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ كَعِتَاقِ رَقَبَةٍ" لَمْ يَذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ أَبَاهُ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى عَطَاءٍ، فَبَعْضُهُمْ ذَكَرَهُ عَنْهُ، وَبَعْضُهُمْ لَمْ يَذْكُرْهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور دو رکعتیں ادا کیں تو ایک غلام آزاد کرانے کے برابر یہ عمل ہو جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9430]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9431
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ لِابْنِ عُمَرَ: مَا لِي أَرَاكَ لَا تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ وَلَا تَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا؟، قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اسْتِلَامَهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا" قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ طَافَ سُبُوعًا، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَلَهُ بِعِدْلِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ رَفَعَ قَدَمًا وَوَضَعَ أُخْرَى كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً، وَحَطَّ لَهُ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً" وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُمَا جَمِيعًا سَمِعَاهُ الْأَبُ وَالِابْنُ.
عبید بن عمیر نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ صرف ان دو رکنوں کو چھوتے ہیں اور ان کے علاوہ کو نہیں؟ کہنے لگے: اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ان دونوں کو چھونا گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“ کہتے ہیں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے سات چکر لگائے اور دو رکعتیں ادا کیں تو اس کے لیے گردن آزاد کرانے کے برابر ثواب ہے اور جس نے ایک پاؤں اٹھایا اور دوسرا رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی لکھے گا اور گناہ مٹائے گا اور درجہ بلند کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9431]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ انظر قبله، وهذا الفظ احمد 2/3۔ وابو يعلي 5688»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9432
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي ⦗١٧٩⦘ عَمْرٍو قِرَاءَةً، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَاهَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا أَعْرِفَنَّ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ مَا مَنَعْتُمْ طَائِفًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے بنی عبدِ مناف! میں یہ نہ سنوں کہ تم اس گھر کا طواف کرنے سے کسی کو بھی منع کرتے ہو، خواہ دن ہو یا رات۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9432]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1994. -- باب: القران بين الأسابيع
-- باب: طواف کے سات سات چکروں (اسابیع) کو آپس میں ملانے (قران) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9433
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْمَعْمَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا؛ ثُمَّ طََافَ سَبْعًا لِأَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَرَى النَّاسُ قُوَّتَهُ" وَفِي رِوَايَةِ الْمَعْمَرِيِّ: طَافَ سَبْعًا، ثُمَّ طَافَ سَبْعًا؛ لِأَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَرَى النَّاسُ، أَوْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ وَقَدْ، قَالَ غَيْرُهُ فِي هَذَا الْمَتْنِ: طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَبْعًا، وَقِيلَ: أَرَادَ بِهِ طَافَ سَبْعًا بِالْبَيْتِ وَسَبْعًا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَا يَكُونُ مَدْخَلُهُ هَذَا الْبَابَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات طواف کیے، پھر دوبارہ سات چکر لگائے؛ کیونکہ آپ پسند کرتے تھے کہ لوگ آپ کی قوت دیکھیں۔
(ب) معمری کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چکر لگائے، پھر سات چکر لگائے؛ کیونکہ آپ پسند کرتے تھے کہ لوگ دیکھیں یا آپ لوگوں کو اپنی قوت دکھلائیں۔ دوسروں نے اس متن میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: «طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَبْعًا» ”سات چکر لگائے اور سات چکر لگائے۔“
(ج) ایک قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور سات چکر صفا مروہ کے درمیان لگائے، تو اس باب میں اس کا مدخل نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9433]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 1/ 255۔ طبراني كبير 21827»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9434
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ بِمَكَّةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ أَبِي الْجَنُوبِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ ثَلَاثَةَ أَسْبَاعٍ جَمِيعًا، ثُمَّ أَتَى الْمَقَامَ فَصَلَّى خَلْفَهُ سِتَّ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ يَمِينًا وَشِمَالًا"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" أَرَادَ أَنْ يُعَلِّمَنَا" خَالَفَهُ الصَّغَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَنَابٍ فِي إِسْنَادِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے تین مرتبہ سات سات چکر اکٹھے ہی لگائے، پھر مقام پر آ کر اس کے پیچھے چھ رکعتیں ادا کیں، ہر دو رکعتوں میں دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھانا چاہتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9434]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ضعفاء للعقيلي 3/66»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9435
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ أَبِي الْجَنُوبِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا أَتْمَمْنَا دَخَلْنَا فِي الثَّانِي، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّا قَدْ أَتْمَمْنَا، قَالَ: إِنِّي لَمْ أَوْهَمْ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرِنَ" لَيْسَ هَذَا بِالْقَوِيِّ وَقَدْ رَخَّصَ فِي ذَلِكَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَعَائِشَةُ، وَكَرِهَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا، جب ایک مکمل ہو گیا تو دوسرا شروع کر لیا تو ہم نے ان کو کہا کہ ہم نے طواف پورا کر لیا ہے تو کہنے لگے: مجھے کوئی شک نہیں ہے، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو طواف اکٹھے کرتے دیکھا ہے تو میں بھی ایسا کرنا پسند کرتا ہوں۔
یہ روایت قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9435]
تخریج الحدیث: «منكر۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1995. -- باب: الخطب التي يستحب للإمام أن يأتي بها في الحج، أولها يوم السابع من ذي الحجة بمكة
-- باب: ان خطبوں کا بیان جنہیں امام کے لیے حج میں دینا مستحب ہے، جن میں سے پہلا ذوالحجہ کی ساتویں تاریخ کو مکہ میں ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9436
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُلُودِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو قُرَّةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ خَطَبَ النَّاسَ، فَأَخْبَرَهُمْ بِمَنَاسِكِهِمْ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یومِ ترویہ سے پہلے لوگوں کو خطبہ دیا اور مناسکِ حج بیان فرمائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9436]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ حاكم 1/632»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9437
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الطَّبَرِيُّ، ثنا أَبُو حُمَةَ، ثنا أَبُو قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَجَعَ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْحَجِّ، فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرَجِ ثُوِّبَ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا اسْتَوَى لِلتَّكْبِيرِ سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَوَقَفَ عَنِ التَّكْبِيرِ، فَقَالَ: هَذِهِ رَغْوَةُ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَاءِ، لَقَدْ بَدَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا فَإِذَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمِيرٌ أَمْ رَسُولٌ؟ قَالَ: بَلْ رَسُولٌ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةَ أَقْرَأُ عَلَى النَّاسِ فِي مَوَاقِفِ الْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ عَنْ إِفَاضَتِهِمْ، وَعَنْ نَحْرِهِمْ، وَعَنْ مَنَاسِكِهِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلُ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ، وَكَيْفَ يَرْمُونَ، فَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ، تَفَرَّدَ بِهِ هَكَذَا ابْنُ خُثَيْمٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس آئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حج پر بھیجا۔ ہم بھی ان کے ساتھ گئے حتیٰ کہ جب عرج پہنچے تو صبح کی اقامت کہی گئی۔ جب تکبیرِ تحریمہ کہنے کے لیے سیدھے ہوئے تو اپنے پیچھے سے آواز سنی۔ آپ تکبیر سے رک گئے تو انہوں نے کہا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی «الْجَدْعَاءُ» ”جدعاء“ کی آواز ہے، لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حج کا ارادہ ہو گیا ہے۔ شاید کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں۔“ جب دیکھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس پر سوار تھے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”امیر بن کر آئے ہو یا قاصد؟“ کہنے لگے: ”بلکہ قاصد بن کر آیا ہوں۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَرَاءَةٌ» ”براءت“ دے کر بھیجا ہے، میں حج کو مواقف میں اسے لوگوں کے سامنے پڑھوں۔“ جب ہم مکہ آئے تو ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) سے ایک دن پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کو مناسکِ حج کے بارے میں بتایا حتیٰ کہ جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ساری «بَرَاءَةٌ» ”براءت“ پڑھ دی۔ پھر ہم نکلے حتیٰ کہ جب یومِ عرفہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور لوگوں کو ان کے مناسک بتائے، پھر جب فارغ ہو گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور مکمل «بَرَاءَةٌ» ”براءت“ پڑھی۔ پھر جب قربانی کا دن تھا تو ہم واپس لوٹے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا، ان کو ان کے لوٹنے، قربانی کرنے اور مناسک کے بارے میں بتایا۔ جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں پر «بَرَاءَةٌ» ”براءت“ پڑھی حتیٰ کہ اس کو ختم کیا۔ جب واپس لوٹنے کا دن تھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کو بتایا کہ وہ کیسے لوٹیں اور کیسے رمی کریں، ان کو ان کے مناسک بتائے۔ جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں پر «بَرَاءَةٌ» ”براءت“ پڑھی حتیٰ کہ اس کو ختم کیا۔
ابن خثیم اس روایت کو اس طرح بیان کرنے میں منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9437]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ نسائي 2993۔ دارمي 1915»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1996. -- باب: التوجه إلى منى يوم التروية، والإقامة بها إلى الغد ثم الغدو منها إلى عرفة
-- باب: یومِ ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو منیٰ کی طرف روانہ ہونے، اور اگلے دن تک وہاں قیام کرنے اور پھر صبح کے وقت وہاں سے عرفہ کی طرف جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9438
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ ⦗١٨١⦘ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ، وَالصُّبْحَ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعْرٍ فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا واقعہ سنایا اور فرمایا: پھر سارے لوگ حلال ہو گئے اور انہوں نے بال کٹوائے، سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس شخص کے جس کے پاس قربانی تھی، تو جب ترویہ کا دن تھا اور وہ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے، انہوں نے حج کا تلبیہ کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی اور عصر بھی اور مغرب و عشاء بھی اور صبح بھی، پھر تھوڑی دیر تک ٹھہرے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کے قبہ کا حکم دیا، اس کو نمرہ میں لگایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور قریش کو اس میں کوئی شک نہیں تھا مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعرِ حرام کے پاس ٹھہرنے والے ہیں، جس طرح قریش جاہلیت میں کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے آگے بڑھ گئے حتیٰ کہ عرفہ آئے اور دیکھا کہ قبہ نمرہ میں لگایا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں اترے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9438]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9439
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ:" بِمِنًى"، قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ:" بِالْأَبْطَحِ" ثُمَّ قَالَ:" افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: مجھے کوئی ایسی بات بتاؤ جس کو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا ہو کہ انہوں نے ترویہ کے دن ظہر کہاں ادا کی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، میں نے کہا: عصر کوچ کے دن، کہا: پڑھی؟ انہوں نے کہا: ابطح میں، پھر کہا: ویسے ہی کر جیسے تیرے امراء کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9439]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1570۔ مسلم 1309»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں