السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2251. -- باب: ما جاء في وضع الجائحة
-- باب: جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی (نقصان وضع کرنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10632
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا".
(١٠٦٣٢) عبداللہ بن وہب اس کی مثل ذکر کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے جائز نہیں ہے کہ آپ اس کی قیمت سے کچھ وصول کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10632]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10633
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ إِنْ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ؟" حَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ إِنْ لَمْ يَكُنْ وَارِدًا فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا كَحَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ فَهُوَ صَرِيحٌ فِي الْمَنْعِ مِنْ أَخْذِ ثَمَنِهَا إِنْ ذَهَبَتْ بِالْجَائِحَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٠٦٣٣) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ تم اپنے بھائی کے مال کو حاصل کرو گے جب آسمان سے اس پر آفت آگئی۔
(ب) ابوزبیر کی حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اگرچہ پھلوں کے پکنے کی بیع کے بارے میں وارد نہیں ہوئی۔ جیسے مالک کی حدیث حمید عن انس۔ یہ صریح ہے کہ جب آفت آئے تو اس کی قیمت لینا ممنوع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10633]
(ب) ابوزبیر کی حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اگرچہ پھلوں کے پکنے کی بیع کے بارے میں وارد نہیں ہوئی۔ جیسے مالک کی حدیث حمید عن انس۔ یہ صریح ہے کہ جب آفت آئے تو اس کی قیمت لینا ممنوع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10633]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10634
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ:" الْجَوَائِحُ كُلُّ ظَاهِرٍ مُفْسِدٍ منْ مَطَرٍ، أَوْ بَرْدٍ، أَوْ جَرَادٍ، أَوْ رِيحٍ، أَوْ حَرِيقٍ".
(١٠٦٣٤) حضرت عطا فرماتے ہیں کہ جوائع، ہر ظاہر خراب کردینے والی چیز بارش، سردی، ٹڈی، ہوا، جلانا یہ سب مراد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10634]
تخریج الحدیث: «جيد۔ اخرجه ابوداود 3471»
الحكم على الحديث: جيد
2252. -- باب: المزابنة، والمحاقلة
-- باب: مزابنہ اور محاقلہ (کی بیع) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10635
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ ثَمَرَ نَخْلِهِ كَيْلًا، وَكَرْمَهُ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا"، ⦗٥٠١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ.
(١٠٦٣٥) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”مزابنہ“ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی تازہ کھجوریں ماپ کر خشک کھجور کے بدلے فروخت کرے اور انگور کو ماپے ہوئے کے عوض فروخت کرے۔
(ب) شافعی کی روایت میں ہے کہ مزابنہ یہ ہے: درختوں کی تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے بدلے جو ماپی ہوں فروخت کرنا، اور تازہ انگوروں کو ماپے ہوئے منقی کے بدلے فروخت کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10635]
(ب) شافعی کی روایت میں ہے کہ مزابنہ یہ ہے: درختوں کی تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے بدلے جو ماپی ہوں فروخت کرنا، اور تازہ انگوروں کو ماپے ہوئے منقی کے بدلے فروخت کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10635]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2073»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10636
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ بِمِصْرَ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنا أَبُو الْفَيَّاضِ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ ثَمَرَتَهُ كَيْلًا إنْ زَادَ فَلِي وَإنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ" وَفِي رِوَايَةِ عَارِمٍ" أَنْ يَبِيعَ الثَّمَرَةَ بِكَيْلٍ"، وَزَادَ أَبُو الرَّبِيعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَارِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
(١٠٦٣٦) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنی کھجور کا پھل ماپ کر فروخت کرے اگر زیادہ ہوا تو میرے لیے اور اگر کم ہوجائے تو میرے ذمہ ہے۔
(ب) عارم کی روایت میں ہے کہ تازہ کھجوریں ماپ کر فروخت کرے۔
(ج) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع عرایا میں اندازے کی رخصت دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10636]
(ب) عارم کی روایت میں ہے کہ تازہ کھجوریں ماپ کر فروخت کرے۔
(ج) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع عرایا میں اندازے کی رخصت دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10636]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2064»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10637
وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادٍ، وَزَادَ فِيهِ: قَالَ نَافِعٌ: وَالْمُحَاقَلَةُ فِي الزَّرْعِ بِمَنْزِلَةِ الْمُزَابَنَةِ فِي النَّخْلِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ فَذَكَرَهُ.
(١٠٦٣٧) سلیمان بن حرب حماد سے نقل فرماتے ہیں اور اس میں زیادہ ہے، نافع کہتے ہیں کہ محاقلہ کھیتی کے بارے میں ہے مزابنہ کے کھجور کے قائم مقام۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10637]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10638
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا، وَإنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا، وَإنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
(١٠٦٣٨) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کا پھل فروخت کرے۔ اگر کھجور ہے تو خشک کھجور کے بدلے متعین ماپ سے فروخت کی جائیں۔ اگر انگور ہے تو وہ اپنے انگور کو منقہ کے بدلے متعین ماپ سے فروخت کرے۔ اگر کھیتی ہے تو متعین ماپے ہوئے غلہ کے عوض فروخت کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10638]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري2091»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10639
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَرَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا، وَالْمُخَابَرَةُ كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، وَالْمُحَاقَلَةُ اشْتِرَاءُ السُّنْبُلَةِ بِالْحِنْطَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ" قُلْتُ لِسُفْيَانَ: هَذَا التَّفْسِيرُ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ؟، قَالَ: نَعَمْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ دُونَ التَّفْسِيرِ.
(١٠٦٣٩) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ، مخابرہ، مزابنہ، سے منع فرمایا اور بیع عرایا میں رخصت دی۔ مخابرہ یہ ہے کہ پیداوار ایک تہائی یا ایک چوتھائی حصے کے بدلے زمین کرائے پردے اور محاقلہ یہ ہے کہ بالیوں میں گندم کے بدلے خریدنا اور مزابنہ یہ ہے کہ تازہ پھل کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنا۔ میں نے سفیان سے کہا: یہ ابن جریج کی حدیث میں تفسیر ہے؟ فرماتے ہیں: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10639]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2252»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10640
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا فِي الْحَدِيثِ:" وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقِ حِنْطَةٍ، وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الثَّمَرَ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقِ تَمْرٍ، وَالْمُخَابَرَةُ كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ".
(١٠٦٤٠) سفیان بن عیینہ ابن جریج سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے اس کا معنیٰ ذکر کیا ہے، دونوں حدیث کے بارے میں کہتے ہیں۔ محاقلہ یہ ہے کہ کوئی شخص گندم کی کھیتی کو ایک سو فرق کے عوض فروخت کر دے۔ (فرق: ٣ صاع، ایک صاع ٢١٠٠ گرام۔ تین صاع۔ ٦٣٠٠ گرام سو فرق ٦٣٠٠٠ گرام) مزابنہ یہ ہے کہ تازہ پھل جو کھجوروں کے اوپر ہے اس کو سو فرق خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنا۔
مخابرہ یہ ہے کہ پیداوار ایک تہائی یا ایک چوتھائی حصے کے بدلے زمین کرائے پر دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10640]
مخابرہ یہ ہے کہ پیداوار ایک تہائی یا ایک چوتھائی حصے کے بدلے زمین کرائے پر دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10640]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10641
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَطَاءٍ: وَمَا الْمُحَاقَلَةُ؟ قَالَ:" الْمُحَاقَلَةُ فِي الْحَرْثِ كَهَيْئَةِ الْمُزَابَنَةِ فِي النَّخْلِ سَوَاءٌ بَيْعُ الزَّرْعِ بِالْقَمْحِ" قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ أَفَسَّرَ لَكُمْ جَابِرٌ فِي الْمُحَاقَلَةِ كَمَا أَخْبَرْتَنِي؟، قَالَ:" نَعَمْ".
(١٠٦٤١) ابن جریج نے حضرت عطاء سے کہا کہ محاقلہ کیا ہے؟ فرماتے ہیں: محاقلہ کھیتی کے بارے میں ویسے ہی ہے جیسے مزابنہ کی حیثیت کھجور کے بارے میں ہوتی ہے، برابر ہے کہ کھیتی کو گندم کے بدلے فروخت کیا جائے۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطاء سے کہا: کیا جابر نے تمہارے لیے یہ تفسیر بیان کی تھی، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا ہے، فرمانے لگے: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10641]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن