السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2250. -- باب: من قال: لا توضع الجائحة
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی نہیں دی جائے گی“۔
حدیث نمبر: Q10623
رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: وَرُوِيَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ بَاعَ حَائِطًا لَهُ فَأَصَابَتْ مُشْتَرِيَهُ جَائِحَةٌ فَأَخَذَ الثَّمَنَ مِنْهُ، وَلَا أَدْرِي أَثَبَتَ أَمْ لَا؟.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے اپنا باغ فروخت کیا تو خریدار کو نقصان ہوگیا۔ سعد نے اس سے قیمت وصول کی۔ میں نہیں جانتا کیا وہ ثابت رہا یا نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: Q10623]
حدیث نمبر: 10623
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهَى، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا تُزْهَى؟ قَالَ:" حِينَ تَحْمَرُّ" وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ، فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ..
(١٠٦٢٣) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، کہا گیا: اس کا پکنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب وہ سرخ ہوجائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کا کیا خیال ہے جب اللہ پھل روک لے پھر تم اپنے بھائی کا مال کیوں مباح خیال کرتے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10623]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني قريبا»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10624
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ خِلَالَ كَلَامِهِ فِي مَسْأَلَةِ الْجَائِحَةِ: لَوْ كَانَ مَالِكُ الثَّمَرَةِ لَا يَمْلِكُ ثَمَنَ مَا اجْتِيحَ مِنْ ثَمَرَتِهِ مَا كَانَ لِمَنْعِهِ أَنْ يَبِيعَهَا مَعْنَى إِذَا كَانَ يَحِلُّ بَيْعُهَا طَلْعًا، أَوْ بَلَحًا يُلْقَطُ وَيُقْطَعُ إِلَّا أَنَّهُ أَمَرَ بِبَيْعِهَا فِي الْحِينِ الَّذِي الْأَغْلَبُ فِيهَا أَنْ تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ، وَلَوْ لَمْ يَلْزَمْهُ ثَمَنُ مَا أَصَابَتْهُ الْجَائِحَةُ مَا ضَرَّ ذَلِكَ الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ، قَالَ: وَإِنْ ثَبَتَ الْحَدِيثُ فِي وَضَعِ الْجَائِحَةِ لَمْ يَكُنْ فِي هَذَا حُجَّةٌ، وَأَمْضَى الْحَدِيثَ عَلَى وَجْهِهِ.
(١٠٦٢٤) امام شافعی (رح) اس مسئلہ میں فرماتے ہیں کہ اگر پھل کا مالک اپنے پھلوں کی خرابی کی وجہ سے اس قیمت کا مالک نہ بن سکا تو اس وجہ سے اس کو فروخت کرنے سے رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ جب وہ کچی کھجور اور درمیانے درجہ کی کھجور فروخت کرسکتا ہے تو اس کو اجازت ہونی چاہیے جب وہ پھل آفات سے محفوظ ہوجائے تو فروخت کرے۔ اگر خشک سالی یا آفات کی وجہ سے کمی پر قیمت لازم نہ ہو تو یہ چیز خریدار اور فروخت کرنے والے کو نقصان نہ دے گی۔ اگر یہ حدیث ثابت ہو کہ خشک سالی یا آفات کی وجہ سے قیمت کم کردی جائے تو یہ حدیث دلیل نہ ہوگی۔ اس طرح کی حدیث پہلے گزر گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10624]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10625
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَالَجَهُ وَقَامَ فِيهِ حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ النُّقْصَانُ، فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ يَضَعَ عَنْهُ أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَفْعَلَ، فَذَهَبَتْ أُمُّ الْمُشْتَرِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا" فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَبُّ الْحَائِطِ فَأَتَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هُوَ لَهُ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ: أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ، وَقَالَ: فَعَالَجَهُ وَأَقَامَ عَلَيْهِ، زَادَنِي أَبُو سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: حَدِيثُ عَمْرَةَ مُرْسَلٌ، وَأَهْلُ الْحَدِيثِ وَنَحْنُ لَا نُثْبِتُ الْمُرْسَلَ فَلَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ عَمْرَةَ كَانَتْ فِيهِ وَاللهُ أَعْلَمُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنْ لَا تُوضَعَ الْجَائِحَةُ لِقَوْلِهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا" وَلَوْ كَانَ الْحُكْمُ عَلَيْهِ أَنْ يَضَعَ الْجَائِحَةَ لَكَانَ أَشْبَهُ أَنْ يَقُولَ: ذَلِكَ لَازِمٌ لَهُ حَلَفَ أَوْ لَمْ يَحْلِفْ، ⦗٤٩٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ أَسْنَدَهُ حَارِثَةُ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ فَرَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَّا أَنَّ حَارِثَةَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَأَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ إِلَّا أَنَّهُ مُخْتَصَرٌ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الثَّمَرِ.
(١٠٦٢٥) عمرہ بنت عبدالرحمن فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ایک آدمی نے باغ کا پھل خریدا۔ اس نے اس میں کام کیا، لیکن پھر بھی نقصان ہوگیا۔ اس نے باغ کے مالک سے کہا کہ وہ قیمت کم کرے یا سودا فسخ کر دے۔ اس نے قسم اٹھائی کہ وہ ایسا نہ کرے گا تو خریدار کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جا کر تذکرہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے بھلائی نہ کرنے کی قسم کھائی ہے، یہ بات باغ کے مالک نے سن لی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: یہ اس کے لیے ہے۔
(ب) امام شافعی (رح) کی روایت میں ہے کہ وہ سودا توڑ دے اور فرمایا: اس پر وہ ہمیشہ کام کاج کرتا رہا۔
(ج) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ عمرہ بنت عبدالرحمن کی حدیث مرسل ہے، محدثین اور ہم مرسل حدیث کو ثابت نہیں مانتے۔ اگر عمرۃ کی حدیث ثابت ہو تو گویا کہ قیمت کو کم نہ کیا جائے گا۔ اگر یہ بات اس پر ثابت ہو کہ وہ قیمت کو کم کرے تو یہ اس کے مشابہہ ہے کہ قسم اٹھائے نہ اٹھائے قیمت کم کرنا لازم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10625]
(ب) امام شافعی (رح) کی روایت میں ہے کہ وہ سودا توڑ دے اور فرمایا: اس پر وہ ہمیشہ کام کاج کرتا رہا۔
(ج) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ عمرہ بنت عبدالرحمن کی حدیث مرسل ہے، محدثین اور ہم مرسل حدیث کو ثابت نہیں مانتے۔ اگر عمرۃ کی حدیث ثابت ہو تو گویا کہ قیمت کو کم نہ کیا جائے گا۔ اگر یہ بات اس پر ثابت ہو کہ وہ قیمت کو کم کرے تو یہ اس کے مشابہہ ہے کہ قسم اٹھائے نہ اٹھائے قیمت کم کرنا لازم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10625]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك 1286»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10626
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمْ، وَإِذَا أَحَدُهُمْ يَسْتَوْضِعُ الْآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللهِ لَا أَفْعَلُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ:" أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَى اللهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا فَلَهُ أِيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
(١٠٦٢٦) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دروازے پر جھگڑنے والوں کی بلند آوازیں سنیں، جب دوسرا قیمت کم کرنے اور نرمی کا مطالبہ کرتا تو وہ کہہ دیتا: اللہ کی قسم! میں ایسا نہ کروں گا۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ قسم اٹھانے والا کدھر ہے، جو کہتا ہے کہ وہ اچھا کام نہ کرے گا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ اس نے کہا: جو یہ پسند کرے اس کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10626]
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ قسم اٹھانے والا کدھر ہے، جو کہتا ہے کہ وہ اچھا کام نہ کرے گا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ اس نے کہا: جو یہ پسند کرے اس کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10626]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2558»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10627
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ" فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دِينِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
(١٠٦٢٧) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ایک آدمی کو نقصان ہوگیا جو اس نے پھل خریدے تھے، اس کا قرض زیادہ ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس پر صدقہ کرو۔ انھوں نے صدقہ کیا لیکن قرض پورا نہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پکڑو جو تم پاؤ تمہارے لیے صرف یہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10627]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1556»
الحكم على الحديث: صحيح
2251. -- باب: ما جاء في وضع الجائحة
-- باب: جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی (نقصان وضع کرنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10628
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ، وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحَ" ⦗٤٩٩⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مُقَطَّعًا فَرَوَى حَدِيثَ النَّهْيِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَى حَدِيثَ الْجَوَائِحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ وَلَمْ يُخَرِّجْهُ الْبُخَارِيُّ.
(١٠٦٢٨) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سالوں کی بیع کرنے سے منع کیا اور آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10628]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1554»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10629
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ كَثِيرًا فِي طُولِ مُجَالَسَتِي لَهُ مَا لَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ مِنْ كَثْرَتِهِ لَا يَذْكُرُ فِيهِ:" أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ" لَا يَزِيدُ عَلَى" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ"، ثُمَّ زَادَ بَعْدَ ذَلِكَ:" وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ" قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ حُمَيْدٌ يَذْكُرُ بَعْدَ بَيْعِ السِّنِينَ كَلَامًا قَبْلَ وَضْعِ الْجَوَائِحِ لَا أَحْفَظُهُ، فَكُنْتُ أَكُفُّ عَنْ ذِكْرِ وَضْعِ الْجَوَائِحِ؛ لِأَنِّي لَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ الْكَلَامُ وَفِي الْحَدِيثِ: أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ، زَادَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: فَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْكَلَامُ الَّذِي لَمْ يَحْفَظْهُ سُفْيَانُ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ أَمْرَهُ بِوَضْعِهَا عَلَى مِثْلِ أَمْرِهِ بِالصُّلْحِ عَلَى النِّصْفِ، وَعَلَى مِثْلِ أَمْرِهِ بِالصَّدَقَةِ تَطَوُّعًا حَضًّا عَلَى الْخَيْرِ لَا حَتْمًا، وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، وَيَجُوزُ غَيْرُهُ فَلَمَّا احْتَمَلَ الْحَدِيثُ الْمَعْنَيَيْنِ مَعًا، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَيِّهِمَا أَوْلَى بِهِ لَمْ يَجُزْ عِنْدَنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يُحْكَمَ عَلَى النَّاسِ فِي أَمْوَالِهِمْ بِوَضْعِ مَا وَجَبَ لَهُمْ بِلَا خَبَرٍ ثَبَتَ بِوَضْعِهِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.
(١٠٦٢٩) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سفیان سے بہت زیادہ مرتبہ یہ حدیث سنی، میں اس کو شمار نہیں کرسکتا۔ وہ اس میں قیمت کی کمی کا ذکر نہیں کرتے اور نہ ہی وہ اضافہ کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کے دو سالوں کی بیع سے منع فرمایا ہے، پھر اس کے بعد زائد کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خشک سالی کی وجہ سے قیمت کم کرنے کا حکم دیا۔
(ب) سفیان کہتے ہیں کہ حمید پھلوں کی دو سالوں کی بیع کے بعد کلام فرماتے لیکن آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے کے بارے میں۔۔۔ مجھے یاد نہ تھا اس لیے میں قیمت کی کمی کے الفاظ ذکر کرنے سے رک گیا۔ کیونکہ مجھے کلام کا علم نہ تھا کہ وہ کیسی ہے اور حدیث میں آفات کی وجہ سے قیمت کم کرنا موجود ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حمید کی حدیث سیجو بات سفیان کو یاد نہیں یہ دلالت کرتی ہے کہ آپ نے اس کو قیمت کم کرنے کا حکم دیا جیسے نصف پر صلح کرلینا یا صدقہ کا حکم دینا بھلائی کی رغبت کی وجہ سے لازم نہیں۔ جو اس کے مشابہہ ہو اس کے غیر میں بھی جائز ہے۔
جب حدیث میں دونوں قسم کے احتمال موجود ہیں تو پھر دونوں میں سے بہتر کیا ہے اس پر دلالت نہیں ہوئی۔ لیکن لوگوں پر قیمت کو کم کرنا چاہیے جو ان کے لیے ضروری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10629]
(ب) سفیان کہتے ہیں کہ حمید پھلوں کی دو سالوں کی بیع کے بعد کلام فرماتے لیکن آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے کے بارے میں۔۔۔ مجھے یاد نہ تھا اس لیے میں قیمت کی کمی کے الفاظ ذکر کرنے سے رک گیا۔ کیونکہ مجھے کلام کا علم نہ تھا کہ وہ کیسی ہے اور حدیث میں آفات کی وجہ سے قیمت کم کرنا موجود ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حمید کی حدیث سیجو بات سفیان کو یاد نہیں یہ دلالت کرتی ہے کہ آپ نے اس کو قیمت کم کرنے کا حکم دیا جیسے نصف پر صلح کرلینا یا صدقہ کا حکم دینا بھلائی کی رغبت کی وجہ سے لازم نہیں۔ جو اس کے مشابہہ ہو اس کے غیر میں بھی جائز ہے۔
جب حدیث میں دونوں قسم کے احتمال موجود ہیں تو پھر دونوں میں سے بہتر کیا ہے اس پر دلالت نہیں ہوئی۔ لیکن لوگوں پر قیمت کو کم کرنا چاہیے جو ان کے لیے ضروری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10629]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10630
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ الْجَوَائِحَ" قَالَ عَلِيٌّ: وَقَدْ كَانَ سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ وَضَعَ الْجَوَائِحَ كَذَا أَتَى بِهِ سُفْيَانُ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.
(١٠٦٣٠) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیمت کو کم کرنے کے بارے میں فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10630]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما مضي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10631
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، ح قَالَ: وَثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ الْمَعْنَى أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ ⦗٥٠٠⦘ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ؟"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَعَنْ حَسَنٍ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
(١٠٦٣١) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے اپنے بھائی کو پھل فروخت کیا اس میں آفت آگئی تو آپ کے لیے جائز نہیں ہے کہ آپ اس سے کچھ وصول کریں۔ آپ اپنے بھائی سے ناحق مال کیسے لیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10631]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1554»
الحكم على الحديث: صحيح