السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2272. -- باب: المشتري يجد بما اشتراه عيبا وقد استغله زمانا
-- باب: خریدار اپنی خریدی ہوئی چیز میں عیب پائے جبکہ وہ ایک عرصے تک اس سے فائدہ اٹھا چکا ہو۔
حدیث نمبر: 10742
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ خُفَافٍ، قَالَ: ابْتَعْتُ غُلَامًا فَاسْتَغْلَلْتُهُ ثُمَّ ظَهَرْتُ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ فَخَاصَمْتُ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَضَى لِي بِرَدِّهِ، وَقَضَى عَلَيَّ بِرَدِّ غَلَّتِهِ فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَرُوحُ إِلَيْهِ الْعَشِيَّةَ فَأُخْبِرُهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْنِي" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي مِثْلِ هَذَا أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ". فَعَجَّلْتُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ مَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ ⦗٥٢٦⦘ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا أَيْسَرَ عَلَيَّ مِنْ قَضَاءٍ قَضَيْتُهُ اللهُ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أُرِدْ فِيهِ إِلَّا الْحَقَّ فَبَلَغَتْنِي فِيهِ سُنَّةٌ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرُدُّ قَضَاءَ عُمَرَ وَأُنَفِّذُ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَاحَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ فَقَضَى لِي أَنْ آخُذَ الْخَرَاجَ مِنَ الَّذِي قَضَى بِهِ عَلَيَّ لَهُ.
مخلد بن خفاف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک غلام خریدا، میں نے اس سے غلہ حاصل کیا، پھر میں نے اس کے عیب کی نشاندہی کر دی، پھر میں جھگڑا لے کر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس گیا، انہوں نے اس کی واپسی کا فیصلہ کر دیا اور مجھے اس کا غلہ واپس کرنے کا کہا۔ میں نے آکر عروہ رحمہ اللہ کو خبر دی تو انہوں نے کہا: میں شام کے وقت جا کر ان کو خبر دوں گا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کا فیصلہ فرمایا کہ: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» ”خراج ضمانت کی وجہ سے ہے۔“ میں نے حضرت عمر رحمہ اللہ کی طرف جلدی کی، میں نے ان کو بتایا جو عروہ رحمہ اللہ نے بحوالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مجھے بتایا، حضرت عمر رحمہ اللہ فرمانے لگے: اپنے کیے ہوئے فیصلے کو بدلنا میرے لیے کتنا آسان ہے! اللہ جانتا ہے کہ میں نے اس میں صرف حق کا ارادہ کیا تھا، اب مجھے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پہنچ گئی ہے، لہٰذا میں عمر کا فیصلہ رد کرتا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نافذ کرتا ہوں۔ عروہ رحمہ اللہ ان کے پاس گئے، تو انہوں نے میرے لیے فیصلہ کیا کہ میں خراج اس شخص سے واپس لوں جس کے حق میں انہوں نے میرے خلاف فیصلہ کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10742]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10743
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ”خراج (آمدنی) ضمانت کے بدلے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10743]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الترمذي 1286»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10744
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ غُلَامًا فَأَصَابَ مِنْ غَلَّتِهِ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ دَاءً كَانَ عِنْدَ الْبَائِعِ فَخَاصَمَهُ إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ:" رُدَّ الدَّاءَ بِدَائِهِ، وَلَكَ الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ".
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے غلام خریدا، اس سے غلہ بھی حاصل کیا، پھر اس میں بیماری پائی جو فروخت کرنے والے کے پاس ہی موجود تھی۔ وہ جھگڑا لے کر قاضی شریح کے پاس آگئے تو انہوں نے فرمایا: وہ بیماری کی وجہ سے واپس کیا جائے گا اور تیرے لیے غلہ ضمانت کی وجہ سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10744]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2273. -- باب: ما جاء فيمن اشترى جارية فأصابها ثم وجد بها عيبا
-- باب: اس شخص کے متعلق کیا وارد ہوا ہے جس نے کوئی لونڈی خریدی اور اس سے ہم بستری کی پھر اس میں کوئی عیب پایا۔
حدیث نمبر: 10745
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَلِيٍّ فِي رَجُلٍ اشْتَرَى جَارِيَةً فَوَطِئَهَا فَوَجَدَ بِهَا عَيْبًا، قَالَ:" لَزِمَتْهُ وَيَرُدُّ الْبَائِعُ مَا بَيْنَ الصِّحَّةِ وَالدَّاءِ، وَإنْ لَمْ يَكُنْ وَطِئَهَا رَدَّهَا"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ، عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ عَلِيًّا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
سیدنا علی بن حسین رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے لونڈی خرید کر ہم بستری کی، پھر اس کا عیب معلوم ہوا۔ فرمایا: اسی کے پاس ہی رہے گی اور فروخت کرنے والا جو صحت اور بیماری کے درمیان ہے ادا کرے گا۔ اگر اس نے مجامعت نہ کی ہو تو واپس کر سکتا ہے۔
یہ روایت مرسل ہے، علی بن حسین نے اپنے دادا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ یہ مسلم بن خالد عن جعفر عن ابیہ عن جدہ عن حسین بن علی عن علی کی سند سے بھی مروی ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10745]
یہ روایت مرسل ہے، علی بن حسین نے اپنے دادا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ یہ مسلم بن خالد عن جعفر عن ابیہ عن جدہ عن حسین بن علی عن علی کی سند سے بھی مروی ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10745]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 14685»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10746
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا شَرِيكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرٌ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ:" إِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا رَدَّ مَعَهَا نِصْفَ الْعُشْرِ، وَإنْ كَانَتْ بِكْرًا رَدَّ الْعُشْرَ" قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا مُرْسَلٌ، عَامِرٌ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا نَعْلَمُهُ يَثْبُتُ عَنْ عُمَرَ وَلَا عَلِيٍّ وَلَا وَاحِدٍ مِنْهُمَا، وَكَذَلِكَ قَالَ بَعْضُ مَنْ حَضَرَهُ وَحَضَرَ مَنْ يُنَاظِرُهُ فِي ذَلِكَ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ أَنَّ ذَلِكَ لَا يَثْبُتُ، وَهُوَ فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ الْعِرَاقِيِّينَ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر وہ ثیبہ (شوہر دیدہ) ہو تو اس کے ساتھ (قیمت کا) بیسواں حصہ واپس کیا جائے۔ اگر کنواری ہو تو دسواں حصہ واپس کیا جائے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے، عامر نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے علم میں یہ سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما میں سے کسی سے ثابت نہیں، اور اسی طرح وہاں موجود بعض اہل حدیث نے بھی کہا کہ یہ ثابت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10746]
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے، عامر نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے علم میں یہ سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما میں سے کسی سے ثابت نہیں، اور اسی طرح وہاں موجود بعض اہل حدیث نے بھی کہا کہ یہ ثابت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10746]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الدارقطني3/309»
الحكم على الحديث: ضعيف
2274. -- باب: ما جاء في البعير الشرود يرد
-- باب: بھاگ جانے والے اونٹ کے متعلق جو وارد ہوا ہے کہ اسے (عیب کی بنا پر) واپس کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 10747
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الشَّرُودُ يُرَدُّ" يَعْنِي الْبَعِيرَ الشَّرُودَ وَرَوَاهُ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ وَبَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ فِي رَجُلٍ ابْتَاعَ بَعِيرًا فَمَكَثَ عِنْدَهُ، ثُمَّ شَرَدَ فَجَاءَ بِهِ إِلَى صَاحِبِهِ فَقَبِلَهُ، ثُمَّ ذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَمَا إنَّ الْبَعِيرَ الشَّرُودَ يُرَدُّ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدکنے اور بھاگ جانے والے جانور کو واپس کیا جائے گا، یعنی بدکنے اور بھاگ جانے والا اونٹ۔“
(ب) عبدالسلام ایک شخص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس نے اونٹ خریدا، وہ اس کے پاس ٹھہرا رہا، پھر بھاگ گیا، وہ اس کو لے کر اس کے مالک کے پاس آئے تو اس نے قبول کر لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھاگنے والے اونٹ کو واپس کر دیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10747]
(ب) عبدالسلام ایک شخص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس نے اونٹ خریدا، وہ اس کے پاس ٹھہرا رہا، پھر بھاگ گیا، وہ اس کو لے کر اس کے مالک کے پاس آئے تو اس نے قبول کر لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھاگنے والے اونٹ کو واپس کر دیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10747]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10748
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثنا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَجْلَانَ الْعُجَيْفِيُّ، ثنا أَبُو يَزِيدَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10748]
2275. -- باب: فيمن ابتاع جارية فوجدها ذات زوج
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس نے لونڈی خریدی پھر اسے شادی شدہ پایا۔
حدیث نمبر: 10749
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،" أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابْتَاعَ وَلِيدَةً مِنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَوَجَدَهَا ذَاتَ زَوْجٍ فَرَدَّهَا".
ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے لونڈی خریدی۔ اس کا خاوند بھی تھا۔ انہوں نے اس کو واپس کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10749]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك 1278»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10750
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،" أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ اشْتَرَى مِنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ جَارِيَةً فَأُخْبِرَ أَنَّ لَهَا زَوْجًا فَرَدَّهَا".
ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے ایک لونڈی خریدی، ان کو بتایا گیا کہ اس کا خاوند ہے تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اسے واپس کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10750]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10751
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، سُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ تُبَاعُ وَلَهَا زَوْجٌ" أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى أَنَّهُ عَيْبٌ تُرَدُّ مِنْهُ".
حفص بن غیلان، سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ سے ایک لونڈی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جو فروخت کی گئی اور اس کا خاوند بھی تھا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ سنایا کہ یہ عیب ہے، اسے واپس کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10751]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف