🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2309. -- باب: كل قرض جر منفعة فهو ربا
-- باب: ”ہر وہ قرض جو کسی نفع کا باعث بنے وہ سود ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10930
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ عِشْرُونَ دِرْهَمًا، فَجَعَلَ يُهْدِي إِلَيْهِ وَجَعَلَ كُلَّمَا أَهْدَى إِلَيْهِ هَدِيَّةً بَاعَهَا حَتَّى بَلَغَ ثَمَنُهَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" لَا تَأْخُذْ مِنْهُ إِلَّا سَبْعَةَ دَرَاهِمَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا دوسرے کے ذمہ ۲۰ درہم قرض تھا، وہ اس کو تحفہ دیتا، وہ جب بھی تحفہ دیتا وہ اس کو فروخت کر دیتا، یہاں تک کہ اس کی قیمت ۱۳ درہم تک پہنچ گئی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس سے سات درہم وصول کر لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10930]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10931
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: ⦗٥٧٣⦘ كَانَ لَنَا جَارٌ سَمَّاكٌ عَلَيْهِ لِرَجُلٍ خَمْسُونَ دِرْهَمًا، فَكَانَ يُهْدِي إِلَيْهِ السَّمَكَ فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" قَاصِّهِ بِمَا أَهْدَى إِلَيْكَ".
سالم بن ابی جعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارا ہمسایہ مچھلی فروش (سماک) تھا، اس کے ذمہ ۵۰ درہم قرض تھا، وہ اس کو مچھلی ہدیہ میں دیتا رہا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور سوال کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کا حساب کر جو اس نے ہدیہ دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10931]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10932
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، وَخَالِدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ اسْتَقْرَضَ مِنْ رَجُلٍ دَرَاهِمَ، ثُمَّ إِنَّ الْمُسْتَقْرِضَ أَفْقَرَ الْمُقْرِضَ ظَهْرَ دَابَّتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" مَا أَصَابَ مِنْ ظَهْرِ دَابَّتِهِ فَهُوَ رِبًا" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: يَذْهَبُ إِلَى أَنَّهُ قَرْضٌ جَرَّ مَنْفَعَةً، قَالَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ: هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ رَجُلًا أَقْرَضَ رَجُلًا دَرَاهِمَ وَشَرَطَ عَلَيْهِ ظَهْرَ فَرَسِهِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ:" مَا أَصَابَ مِنْ ظَهْرِهِ فَهُوَ رِبًا".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ان سے سوال ہوا کہ ایک آدمی نے دوسرے سے چند درہم بطور قرض وصول کیے، پھر قرض دینے والے کو مقروض کی سواری کی ضرورت پڑ گئی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو اس نے سواری سے فائدہ حاصل کیا ہے، وہ سود ہے۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کی مراد یہ ہے کہ یہ ایسا قرض ہے جو نفع کا سبب بنا۔
(ب) ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے چند درہم قرض لیے اور اس کے گھوڑے پر سواری کی شرط لگائی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا، تو انہوں نے فرمایا: جو اس نے سواری سے فائدہ حاصل کیا، وہ سود ہے۔
یہ سند منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10932]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10933
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ التُّجِيبِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ وَجْهٌ مِنْ وُجُوهِ الرِّبَا" مَوْقُوفٌ.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ ہر وہ قرض جو نفع کا سبب بنے وہ سود کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10933]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10934
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ الرَّجُلُ مِنَّا يُقْرِضُ أَخَاهُ الْمَالَ فَيُهْدِي إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا، فَأُهْدِيَ إِلَيْهِ طَبَقٌ فَلَا يَقْبَلْهُ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى دَابَّةٍ فَلَا يَرْكَبْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ" كَذَا قَالَ..
یزید بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: اے ابو ہمزہ! ایک آدمی اپنے بھائی کو قرض دیتا ہے، پھر وہ اسے ہدیہ دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قرض دے، پھر اس کے عوض کوئی تحفہ ملے یا سواری ملے تو اسے قبول نہ کرے الا یہ کہ ان کا آپس میں پہلے سے کوئی تعلق ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10934]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابن ماجه 2432»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10935
وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُتْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، قَالَ الْمَعْمَرِيُّ: قَالَ هِشَامٌ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْهُنَائِيُّ وَلَا أَرَاهُ إِلَّا وَهِمَ، وَهَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، ⦗٥٧٤⦘ ورَوَاهُ شُعْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ فَوَقَفَاهُ.
ہشام بن عمار نے اسے اسماعیل سے، انہوں نے عتبہ سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کیا ہے کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، پھر اسی طرح ذکر کیا۔ ہشام کہتے ہیں: اس حدیث میں (راوی کا نام) یحییٰ بن ابی اسحاق ہنائی آیا ہے، اور میرے خیال میں یہ وہم ہی ہے، یہ یحییٰ بن یزید ہنائی کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
شعبہ اور محمد بن دینار نے اسے موقوف بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10935]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2310. -- باب:: لا خير أن يسلفه سلفا على أن يقبضه خيرا منه
-- باب: ”اس بات میں کوئی بھلائی نہیں کہ کوئی شخص اس شرط پر قرض دے کہ وہ اس سے بہتر وصول کرے گا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10936
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلَا يَشْرِطْ إِلَّا قَضَاءَهُ" وَقَدْ رَفَعَهُ بَعْضُ الضُّعَفَاءِ، عَنْ نَافِعٍ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے قرض دیا، وہ صرف اس کی ادائیگی کی شرط لگائے، اس کے علاوہ کوئی شرط نہ رکھے۔
بعض ضعیف راویوں نے اسے نافع سے مرفوع بیان کیا ہے، اور یہ کوئی چیز نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10936]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10937
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَسْلَفْتُ رَجُلًا سَلَفًا وَاشْتَرَطْتُ عَلَيْهِ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ:" فَذَلِكَ الرِّبَا"، قَالَ: فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" السَّلَفُ عَلَى ثَلَاثَةِ وُجُوهٍ: سَلَفٌ تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللهِ فَلَكَ وَجْهُ اللهِ، وَسَلَفٌ تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ صَاحِبِكَ فَلَكَ وَجْهُ صَاحِبِكَ، وَسَلَفٌ تُسْلِفُهُ لِتَأْخُذَ خَبِيثًا بِطَيِّبٍ فَذَلِكَ الرِّبَا"، قَالَ: فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَقَالَ:" أَرَى أَنْ تَشُقَّ الصَّحِيفَةَ فَإِنْ أَعْطَاكَ مِثْلَ الَّذِي أَسْلَفْتَهُ قِبْلَتَهُ وَإِنْ أَعْطَاكَ دُونَ مَا أَسْلَفْتَهُ، فَأَخَذْتَهُ أُجَرْتَ، وَإِنْ أَعْطَاكَ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتَهُ طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَذَلِكَ شُكْرٌ شَكَرَهُ لَكَ وَلَكَ أَجْرُ مَا أَنْظَرْتَهُ".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں نے کسی کو قرض دیا ہے اور اس پر اس سے بہتر ادا کرنے کی شرط رکھی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: یہ سود ہے، تو اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ قرض تین قسم کا ہے: 1۔ جس سے تو اللہ کی رضا چاہتا ہو، تو تیرے لیے اللہ کی رضا ہے۔ 2۔ جس سے تو اپنے ساتھی کی رضا چاہتا ہو، تو تیرے لیے تیرے ساتھی کی رضا ہے۔ 3۔ وہ قرض جو تو اس لیے دیتا ہے کہ پاکیزہ کے بدلے خبیث لے، یہ سود ہے۔ اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میری رائے ہے کہ آپ معاہدے کا ورق پھاڑ ڈالیں، اگر وہ اتنا ہی واپس کرے جتنا آپ نے قرض دیا ہے تو قبول کرلینا۔ اگر اس سے کم ادا کرے اور آپ قبول کر لیں تو اجر ملے گا۔ اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے بہتر واپس کرتا ہے تو یہ شکر ہے، جو اس نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور آپ کو ڈھیل کی وجہ سے اجر ملے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10937]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك 1362»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10938
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا ابْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّيْبُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ مَسْعُودٍ: إِنِّي اسْتَسْلَفْتُ مِنْ رَجُلٍ خَمْسَمِائَةٍ عَلَى أَنْ أُعِيرَهُ ظَهْرَ فَرَسِي، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" مَا أَصَابَ مِنْهُ فَهُوَ رِبًا" ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مُنْقَطِعٌ.
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے کسی سے 500 اس شرط پر قرض لیا ہے کہ میں اپنا گھوڑا عاریتاً ان کو سواری کے لیے دوں گا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: جو اس سے فائدہ حاصل ہو وہ سود ہے۔
ابن سیرین کی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10938]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك 1362»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2311. -- باب: الرجل يقضيه خيرا منه بلا شرط طيبة به نفسه
-- باب: کوئی شخص بلا شرط اپنی خوشی سے (قرض کے بدلے) اس سے بہتر چیز ادا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10939
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أنا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا تَقَاضَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ أَصْحَابُهُ بِهِ فَقَالَ:" دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا، اشْتَرُوا لَهُ ⦗٥٧٥⦘ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ" قَالُوا: إِنَّا نَجِدُ لَهُ سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ، قَالَ:" اشْتَرُوا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
ابوسلمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سختی سے قرض کا مطالبہ کیا، صحابہ اس پر طیش میں آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حق والے کو بات کا بھی حق ہے، اس کو اونٹ خرید کر دو۔“ انہوں نے کہا: ہم اس کے اونٹ سے بہتر عمر کا پاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو وہی خرید کر دو، تم میں سے بہتر وہ ہے جو ادائیگی کے اعتبار سے اچھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10939]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري في غير موضع، مسلم 1601»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں