🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2317. -- باب: ما جاء في إنظار المعسر والتجوز عن الموسر
-- باب: تنگ دست کو مہلت دینے اور مالدار سے درگزر کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10970
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَقَالُوا أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا، قَالُوا: تَذَكَّرْ، قَالَ: كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَآمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ، قَالَ: فَقَالَ اللهُ تَعَالَى تَجَوَّزُوا عَنْهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے پہلے لوگوں کی کسی روح کو فرشتے ملے اور اس سے کہنے لگے: کیا تو نے کوئی نیک عمل کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تو یاد کر۔ اس نے کہا: میں لوگوں کو قرض دیتا تھا۔ میں اپنے غلام کو حکم دیتا تھا کہ تنگ دست کو مہلت دینا اور مالدار سے درگزر کرنا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم اس سے درگزر کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10970]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1971»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10971
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَاتَ رَجُلٌ فَقِيلَ لَهُ: مَا عَمِلْتَ؟ قَالَ: كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فَأَتَجَاوَزُ فِي الْمَسْأَلَةِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ" قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
ربعی بن حراش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”ایک آدمی فوت ہوگیا، اس سے پوچھا گیا: تو نے کیا عمل کیا ہے؟ اس نے کہا: میں لوگوں سے خریدوفروخت کرتا تھا، میں ان کو ڈھیل دیتا اور درگزر کرتا تھا۔“ وہ جنت میں داخل ہوگیا اور ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (بھی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10971]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2261»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10972
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْسَقَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا يُخَالِطُ النَّاسَ فَيَقُولُ لِغِلْمَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ، فَقَالَ اللهُ لِمَلَائِكَتِهِ: فَنَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَتَجَاوَزُوا عَنْهُ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِمَا.
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے ایک آدمی کا حساب و کتاب کیا گیا، اس کی کوئی نیکی نہ تھی الا یہ کہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہتا تھا، وہ اپنے غلاموں سے کہتا کہ تم تنگ دست سے درگزر کیا کرو، تو اللہ رب العزت نے اپنے فرشتوں سے فرمایا: ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں، تم بھی اس سے درگزر کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10972]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 1561»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10973
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ ⦗٥٨٤⦘ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ ٨ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ الله بْنِ عُتْبَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يقول:" كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ فَإِذَا أَعْسَرَ الْمُعْسِرُ قَالَ لِفَتَاهُ: تَجَاوَزْ عَنْهُ فَلَعَلَّ اللهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَقِيَ اللهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”ایک آدمی لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا، جب کسی پر تنگ دستی ہو جاتی تو اپنے غلاموں سے کہتا: ”تم اس سے درگزر کرو، شاید اللہ رب العزت ہم سے درگزر فرمائیں،“ اس نے اللہ سے ملاقات کی تو اللہ نے اس سے درگزر فرما لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10973]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1972»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10974
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْآجُرِّيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ الْمُهَلَّبِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ فَتَوَارَى عَنْهُ، ثُمَّ وَجَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُعْسِرٌ، فَقَالَ لَهُ: قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنَجِّيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنْظِرْ مُعْسِرًا أَوْ لِيَضَعْ عَنْهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ.
سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ایک مقروض کو تلاش کرتے تھے، وہ ان سے چھپتا پھرتا تھا، پھر انہوں نے اس کو پا لیا، اس نے کہا: میں تنگ دست ہوں، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «آللّٰهِ؟» ”اللہ کی قسم؟“ اس نے کہا: «آللّٰهِ» ”اللہ کی قسم“، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”جس کو پسند ہو کہ اللہ قیامت کی ہول ناکیوں سے اس کو بچائے، وہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کو معاف ہی کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10974]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1563»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10975
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ السِّمْسَارُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجْنَا أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعَلِّمَ فِي هَذَا الْحِيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا فَكَانَ أَوَّلَ مَا لَقِينَا أَبُو الْيَسَرِ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ وَمَعَهُ ضِمَامَةٌ مِنْ صُحُفٍ، وَعَلَى أَبِي الْيَسَرِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا عَمُّ إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ سَفَعةً مِنْ غَضِبٍ، قَالَ: أَجَلْ كَانَ لِي عَلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ الْحَرَمِيِّ مَالٌ فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ فَسَلَّمْتُ فَقُلْتُ: ثَمَّ هُوَ؟ قَالُوا: لَا فَخَرَجَ عَلَيَّ ابْنٌ لَهُ صَغِيرٌ فَقُلْتُ: أَيْنَ أَبُوكَ؟ قَالَ: سَمِعَ صَوْتَكَ فَدَخَلَ أَرِيكَةَ أُمِّي، فَقُلْتُ: اخْرُجْ إِلِيَّ فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ فَخَرَجَ، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ مِنِّي؟ قَالَ: أَنَا وَاللهِ أُحَدِّثُكَ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَكْذِبُكَ خَشِيتُ وَاللهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ وَأَنْ أَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ، وَكُنْتَ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ وَاللهِ مُعْسِرًا، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: فَأَتَى بِصَحِيفَتِهِ ثُمَّ مَحَاهَا بِيَدِهِ وَقَالَ: إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً فَاقْضِنِي وَإِلَّا أَنْتَ فِي حِلٍّ فَأَشْهَدُ بَصُرَ عَيْنِي هَاتَيْنِ، وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ عَلَى عَيْنَيْهِ، وَسَمِعَ أُذُنِي هَاتَيْنِ وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا، وَأَشَارَ إِلَى نِيَاطِ قَلْبِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ، يَقُولُ:" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّهِ" ⦗٥٨٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ.
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اور میرے والد انصار کے اس قبیلے میں علم کی تلاش کے لیے، ان کی وفات سے پہلے نکلے۔ سب سے پہلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو الیسر رضی اللہ عنہ سے ملے، ان کے ساتھ ان کا ایک غلام بھی تھا اور ان کے پاس لکھے ہوئے صحیفوں کا ایک بنڈل تھا۔ ابو الیسر رضی اللہ عنہ کے اوپر ایک معافری چادر تھی اور ان کے غلام پر بھی۔ میرے والد نے کہا: اے چچا! میں آپ کے چہرے پر غصے کی وجہ سے سیاہی دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: فلاں بن فلاں «الْحَرَامِيِّ» ”حَرَامی“ (قبیلہ بنو حرام کے ایک فرد) کے ذمے میرا مال تھا۔ میں ان کے گھر آیا اور سلام کیا، میں نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ یہاں نہیں ہے، پھر اس کا چھوٹا بیٹا میرے پاس آیا، میں نے پوچھا: تمہارا والد کدھر ہے؟ اس نے کہا: انہوں نے آپ کی آواز سنی تو وہ میری امی کی چادر یا تکیہ کے پیچھے چھپ گئے۔ میں نے پکار کر کہا: باہر نکلو! میں جانتا ہوں کہ تم کہاں چھپے ہو؟ جب وہ باہر آیا تو میں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے اس بات پر ابھارا کہ تم مجھ سے چھپ گئے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو حقیقت بیان کروں گا، پھر کہا: میں جھوٹ نہیں بولوں گا، کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں کہ میں آپ سے بات کروں اور جھوٹ بولوں یا یہ کہ میں آپ سے وعدہ کروں اور وعدہ خلافی کروں، جبکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم! میں واقعی تنگ دست ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم!“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”اللہ کی قسم؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، اللہ کی قسم!“ میں نے پھر پوچھا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، اللہ کی قسم!“ پھر وہ معاہدے والا کاغذ اور صحیفہ لائے، اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا اور فرمایا: ”اگر تم قرض کی واپسی کی گنجائش پاؤ تو واپس کر دینا وگرنہ تم اس سے بری (آزاد) ہو۔“ میری ان دو آنکھوں نے دیکھا—اور انہوں نے اپنی دو انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھیں—اور میرے ان دو کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے اسے محفوظ رکھا—اور انہوں نے اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا—کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ اسے (قیامت کے دن) اپنا سایہ نصیب فرمائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10975]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 3006»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10976
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ بُرَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَإِنَّ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةً" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، ثُمَّ قُلْتُ لَهُ: بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةٌ، فَقَالَ لَهُ:" بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ مَا لَمْ يَحِلَّ الدَّيْنُ فَإِذَا حَلَّ الدَّيْنُ فَإِنْ أَنْظَرَهُ بَعْدَ الْحِلِّ فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةٌ".
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تنگ دست کو مہلت دی تو اس کے لیے ہر دن اس کے برابر صدقہ کا ثواب ہے۔“ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہر دن صدقہ؟ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہر دن اسی کی مثل صدقہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے ہر دن صدقہ ہے، جب تک قرض کی ادائیگی کا وقت نہ آئے اور جب قرض کی ادائیگی کا وقت آ جائے، پھر اس کے بعد وہ اس کو مہلت دیتا ہے تو اس کے لیے ہر دن اس کی مثل صدقہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10976]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ماجه2418»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2318. -- باب: ما جاء في الإنظار إذا كان المال لليتامى
-- باب: جب مال یتیموں کا ہو تو مہلت دینے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ؛ لِيُقَاتِلَهُمْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِ أَبِيهِ وَاشْتِدَادِ الْغُرَمَاءِ عَلَيْهِ فِي التَّقَاضِي، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُ لِي فُلَانًا" الْغَرِيمَ الَّذِي اشْتَدَّ عَلَيَّ فِي التَّقَاضِي، فَقَالَ:" أَيْسِرْ جَابِرًا بَعْضَ دَيْنِكِ الَّذِي عَلَى أَبِيهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ" قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ وَاعْتَلَّ، قَالَ: إِنَّمَا هُوَ مَالُ يَتَامَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَيْنَ جَابِرٌ؟" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَضَاءِ الدَّيْنِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مشرکین کے خلاف جہاد کے لیے نکلے، اس نے حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ ان کے والد شہید ہوئے اور قرضہ لینے والوں کی ان پر سختی ہوئی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں کو بلاؤ۔“ یعنی وہ قرضہ لینے والا جس نے میرے اوپر سختی کی تھی، قرضہ کے تقاضا میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر کے والد پر جو قرض تھا آئندہ پھل کی کٹائی تک مؤخر کر دو۔“ اس نے کہا: ”میں ایسا کرنے والا نہیں ہوں۔“ وہ اس بات پر اڑ گیا، کیونکہ یہ یتیموں کا مال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جابر کہاں ہیں؟“ حدیث میں قرض کی ادائیگی کا بیان ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10977]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه احمد 3/ 397»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2319. -- باب: السهولة والسماحة في الشراء والبيع، ومن طلب حقا فليطلبه في عفاف
-- باب: خرید و فروخت میں نرمی اور فیاضی اختیار کرنے اور جو شخص اپنا حق مانگے تو اسے پاکدامنی اور شائستگی سے مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10978
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللهُ عَبْدًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، سَمْحًا إِذَا اشْتَرَى، سَمْحًا إِذَا قَضَى" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَيَّاشٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سخی آدمی پر رحم فرمائے، جب فروخت کرتا ہے تو نرمی کرتا ہے اور خریدتا ہے تو آسانی کرتا ہے، جب ادائیگی کرتا ہے تو نرمی کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10978]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري1970»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10979
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ ⦗٥٨٦⦘ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَفَرَ اللهُ لِرَجُلٍ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانَ سَهْلًا إِذَا بَاعَ سَهْلًا إِذَا اشْتَرَى سَهْلًا إِذَا قَضَى سَهْلًا إِذَا اقْتَضَى".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے اللہ نے ایک نرم آدمی کو معاف کر دیا، جو خرید و فروخت میں نرمی برتتا تھا، جب ادا کرتا یا ادائیگی کا مطالبہ کرتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10979]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الترمذي 1320»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں