السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2369. -- باب: العصير المرهون يصير خمرا فيخرج من الرهن ولا يحل تخليل الخمر بعمل آدمي
-- باب: گروی رکھا ہوا رس جب شراب بن جائے تو وہ رہن سے خارج ہو جائے گا اور کسی انسانی عمل کے ذریعے شراب کو سرکہ بنانا حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11200
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ بِبُخَارَا، أنبأ أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبُو جَنَابٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مَالُ أَيْتَامٍ، قَالَ: فَكَانَ يَشْتَرِي لَهُمُ الرَّجْعَ وَالْأَنْضَاءَ يُصْلِحُهَا وَيَبِيعُهَا، قَالَ: فَاشْتَرَى خَمْرًا فَجَعَلَهُ فِي الْخَوَابِي، وَإنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْزَلَ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" أَهْرِقْهُ"، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَقَالَ:" أَهْرِقْهُ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ غَيْرُهُ، قَالَ:" أَهْرِقْهُ" فَأَهْرَاقَهُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی کے پاس یتیموں کا مال تھا، تو وہ ان کے لیے پرانی اور خراب چیزیں خریدتا اور ان کو درست کر کے بیچ دیتا تھا۔ ایک دن اس نے شراب خریدی اور مٹکوں میں ڈال لی، پھر اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت نازل فرمائی۔ وہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”شراب بہا دو۔“ پھر انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا، اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! ان کا صرف یہی مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انڈیل دو۔“ چنانچہ اس نے اسے انڈیل دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11200]
حدیث نمبر: 11201
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِالطَّلَا ⦗٦٣⦘ وَهُوَ بِالْجَابِيَةِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يُطْبَخُ وَهُوَ كَعَقِيدِ الرُّبِّ، فَقَالَ:" إِنَّ فِي هَذَا لَشَرَابًا مَا انْتَهَى إِلَيْهِ فَلَا يُشْرَبُ خَلُّ خَمْرٍ أُفْسِدَتْ حَتَّى يُبْدِيَ اللهُ فَسَادَهَا، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَطِيبُ الْخَلُّ، وَلَا بَأْسَ عَلَى امْرِئٍ أَنْ يَبْتَاعَ خَلًّا وَجَدَهُ مَعَ أَهْلِ الْكِتَابِ مَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُمْ تَعَمَّدُوا إِفْسَادَهَا بَعْدَمَا عَادَتْ خَمْرًا" قَوْلُهُ: أُفْسِدَتْ يَعْنِي: عُولِجَتْ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جابیہ نامی جگہ پر طلاء لایا گیا، ان دنوں اسے پکایا جاتا تھا اور وہ گاڑھے شیرے کی طرح ہوتا تھا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ اس حد تک جہاں یہ پہنچ چکا ہے، ایک (جائز) مشروب ہے۔ شراب کا وہ سرکہ نہ پیا جائے جسے (جان بوجھ کر) بگاڑا گیا ہو، یہاں تک کہ اللہ خود اس کا بگاڑ ظاہر کر دے، تب وہ سرکہ پاکیزہ ہو جاتا ہے، اور آدمی پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اہل کتاب کے پاس پایا جانے والا سرکہ خرید لے، جب تک اسے یہ علم نہ ہو کہ انہوں نے شراب بن جانے کے بعد اسے جان بوجھ کر بگاڑا ہے۔
«أُفْسِدَتْ» (بگاڑا گیا) سے مراد ہے: اس کا علاج کیا گیا (یعنی اسے سرکہ بنانے کی تدبیر کی گئی)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11201]
«أُفْسِدَتْ» (بگاڑا گیا) سے مراد ہے: اس کا علاج کیا گیا (یعنی اسے سرکہ بنانے کی تدبیر کی گئی)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11201]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري اليٰ قوله ليطيب الخل»
الحكم على الحديث: صحيح
2370. -- باب: ذكر الخبر الذي ورد في خل الخمر
-- باب: اس حدیث کا ذکر جو شراب سے بنے سرکے کے متعلق وارد ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 11202
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الدِّبَاغَ يَحِلُّ مِنَ الْمَيْتَةِ كَمَا يَحِلُّ الْخَلُّ مِنَ الْخَمْرِ" قَالَ فَرَجٌ: يَعْنِي أَنَّ الْخَمْرَ إِذَا تَغَيَّرَتْ فَصَارَتْ خَلًّا حَلَّتْ. تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ يَحْيَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ يَرْوِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَحَادِيثَ عَدَدًا لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا. قَالَهُ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْهُ، وَعَلَى هَذَا التَّفْسِيرِ يَرْتَفِعُ الْخِلَافُ، إِلَّا أَنَّ الْحَدِيثَ ضَعِيفٌ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردار کے چمڑے کو رنگنا اسے اس طرح حلال کر دیتا ہے جس طرح شراب سرکہ بننے سے حلال ہو جاتی ہے۔“ امام فرج فرماتے ہیں: یعنی جب شراب بدل کر سرکہ بن جائے تو وہ حلال ہو جاتی ہے۔ اس روایت کو یحییٰ سے بیان کرنے میں فرج بن فضالہ منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں، وہ یحییٰ بن سعید سے بہت سی ایسی روایات بیان کرتے ہیں جن کی متابعت نہیں کی جاتی۔ یہ بات ابو الحسن دار قطنی رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ اس تفسیر کی بنا پر اختلاف ختم ہو جاتا ہے، مگر یہ حدیث ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11202]
حدیث نمبر: 11203
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّهْقَانُ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا مُغِيرَةُ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَقْفَرَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ، وَخَيْرُ خَلِّكُمْ خَلُّ خَمْرِكُمْ" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: هَذَا حَدِيثٌ وَاهٍ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ مَنَاكِيرَ قَالَ الشَّيْخُ: وَأَهْلُ الْحِجَازِ يَقُولُونَ لِخَلِّ الْعِنَبِ خَلُّ الْخَمْرِ، وَهُوَ الْمُرَادُ بِالْخَبَرِ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ إِنْ شَاءَ اللهُ، أَوْ خَمْرًا تَخَلَّلَتْ بِنَفْسِهَا، وَكَذَلِكَ مَا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر کے سالن میں سرکہ شامل ہو وہ گھر کبھی فقیر نہیں ہو سکتا اور بہترین سرکہ وہ ہے جو شراب سے بنایا جائے۔“
ابو عبداللہ (حاکم) فرماتے ہیں: یہ حدیث واہی (سخت ضعیف) ہے اور مغیرہ بن زیاد منکر روایات بیان کرنے والا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: اہل حجاز انگوروں کے سرکہ کو شراب کا سرکہ کہتے ہیں اور یہی اس روایت میں مراد ہے، اگر یہ سنداً ثابت ہو جائے، ان شاء اللہ، یا اس سے مراد وہ شراب ہے جو بذاتِ خود سرکہ بن گئی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11203]
ابو عبداللہ (حاکم) فرماتے ہیں: یہ حدیث واہی (سخت ضعیف) ہے اور مغیرہ بن زیاد منکر روایات بیان کرنے والا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: اہل حجاز انگوروں کے سرکہ کو شراب کا سرکہ کہتے ہیں اور یہی اس روایت میں مراد ہے، اگر یہ سنداً ثابت ہو جائے، ان شاء اللہ، یا اس سے مراد وہ شراب ہے جو بذاتِ خود سرکہ بن گئی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11203]
حدیث نمبر: 11204
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أُمِّ خِدَاشٍ، أَنَّهَا رَأَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" يَصْطَبِغُ بِخَلِّ خَمْرٍ".
سلیمان تیمی ام خداش سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ شراب کے سرکے کا سالن استعمال کر رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11204]
2371. -- باب: ما جاء في زيادات الرهن
-- باب: رہن (گروی رکھی ہوئی چیز) میں ہونے والے اضافے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11205
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَيُشْرَبُ لَبَنُ النَّاقَةِ إِذَا كَانَتْ مَرْهُونَةً، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ النَّفَقَةُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پشت پر سواری کی جائے گی اس کے نفقہ کی وجہ سے جب کہ وہ مرہون ہو اور اونٹنی کا دودھ پیا جائے گا جب کہ وہ مرہونہ ہو اور دودھ پینے والے اور سواری کرنے والے کے ذمے نفقہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11205]
حدیث نمبر: 11206
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَيَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ وَسُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ زَكَرِيَّا، وَزَادَا فِي مَتْنِهِ:" الْمُرْتَهَنَ"، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَفِي رِوَايَةِ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ: عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ:" إِذَا كَانَتِ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً فَعَلَى الَّذِي رَهَنَ عَلَفُهَا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”سواری کا جانور جب گروی ہو تو اس کے نفقہ کے بدلے اس پر سواری کی جائے گی اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا جب کہ وہ گروی ہو اور جو سواری کرے اور دودھ پیے اس کا نفقہ اسی کے ذمے ہے۔“
ہشیم اور سفیان بن حبیب، زکریا سے روایت کرتے ہیں اور اس روایت میں «الْمُرْتَهَنُ» کے الفاظ ہیں جو کہ محفوظ نہیں ہیں اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب جانور گروی رکھا جائے تو گروی رکھنے والے کے ذمہ گھاس ہے اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا اور جو شخص سواری کرے اور دودھ پیے تو خرچہ اس کے ذمہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11206]
ہشیم اور سفیان بن حبیب، زکریا سے روایت کرتے ہیں اور اس روایت میں «الْمُرْتَهَنُ» کے الفاظ ہیں جو کہ محفوظ نہیں ہیں اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب جانور گروی رکھا جائے تو گروی رکھنے والے کے ذمہ گھاس ہے اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا اور جو شخص سواری کرے اور دودھ پیے تو خرچہ اس کے ذمہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11206]
حدیث نمبر: 11207
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّهْنُ مَحْلُوبٌ وَمَرْكُوبٌ" قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: إِنْ كَانُوا لَيَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَمْتِعُوا مِنَ الرَّهْنِ بِشَيْءٍ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گروی جانور کا دودھ بھی پیا جاسکتا ہے اور سواری بھی کی جاسکتی ہے۔“ راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم رحمہ اللہ کو بیان کی تو انہوں نے فرمایا: وہ (اسلاف) گروی چیز سے کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانے کو ناپسند کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11207]
حدیث نمبر: 11208
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا شَيْبَانُ يَعْنِي ابْنَ فَرُّوخَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ" فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَكَرِهَ أَنْ يُنْتَفَعَ بِشَيْءٍ مِنْهُ. وَرَوَاهُ الْجَمَاعَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گروی جانور کا دودھ بھی پیا جاسکتا ہے اور سواری بھی کی جاسکتی ہے۔“ راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم کو بتائی تو انہوں نے گروی جانور سے نفع حاصل کرنے کو مکروہ ہی سمجھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11208]
حدیث نمبر: 11209
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: يُشْبِهُ قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ مَنْ رَهَنَ ذَاتَ دَرٍّ وَظَهْرٍ لَمْ يَمْنَعِ الرَّاهِنَ دَرَّهَا وَظَهْرَهَا؛ لِأَنَّ لَهُ رَقَبَتَهَا، فَهِيَ مَحْلُوبَةٌ وَمَرْكُوبَةٌ كَمَا كَانَتْ قَبْلَ الرَّهْنِ، قَالَ: وَمَنَافِعُ الرَّهْنِ لِلرَّاهِنِ، لَيْسَ لِلْمُرْتَهِنِ مِنْهَا شَيْءٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”گروی جانور کی سواری بھی کی جاسکتی ہے اور دودھ بھی دوہا جاسکتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے یہ معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جو شخص کوئی دودھ والا یا سواری والا جانور گروی رکھے تو گروی رکھنے والے (مالک) کو اس کا دودھ لینے یا اس پر سواری کرنے سے منع نہ کیا جائے؛ کیونکہ جانور کی ملکیت اسی کی ہے۔ چنانچہ اس پر اسی طرح سواری کی جائے گی اور دودھ دوہا جائے گا جیسے رہن سے پہلے کیا جاتا تھا، فرماتے ہیں: رہن رکھی گئی چیز کے منافع گروی رکھنے والے کے لیے ہوں گے نہ کہ گروی لینے والے کے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11209]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے یہ معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جو شخص کوئی دودھ والا یا سواری والا جانور گروی رکھے تو گروی رکھنے والے (مالک) کو اس کا دودھ لینے یا اس پر سواری کرنے سے منع نہ کیا جائے؛ کیونکہ جانور کی ملکیت اسی کی ہے۔ چنانچہ اس پر اسی طرح سواری کی جائے گی اور دودھ دوہا جائے گا جیسے رہن سے پہلے کیا جاتا تھا، فرماتے ہیں: رہن رکھی گئی چیز کے منافع گروی رکھنے والے کے لیے ہوں گے نہ کہ گروی لینے والے کے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11209]