🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2369. -- باب: العصير المرهون يصير خمرا فيخرج من الرهن ولا يحل تخليل الخمر بعمل آدمي
-- باب: گروی رکھا ہوا رس جب شراب بن جائے تو وہ رہن سے خارج ہو جائے گا اور کسی انسانی عمل کے ذریعے شراب کو سرکہ بنانا حلال نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11200
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ بِبُخَارَا، أنبأ أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبُو جَنَابٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مَالُ أَيْتَامٍ، قَالَ: فَكَانَ يَشْتَرِي لَهُمُ الرَّجْعَ وَالْأَنْضَاءَ يُصْلِحُهَا وَيَبِيعُهَا، قَالَ: فَاشْتَرَى خَمْرًا فَجَعَلَهُ فِي الْخَوَابِي، وَإنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْزَلَ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" أَهْرِقْهُ"، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَقَالَ:" أَهْرِقْهُ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ غَيْرُهُ، قَالَ:" أَهْرِقْهُ" فَأَهْرَاقَهُ.
(١١٢٠٠) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی کے پاس یتیموں کا مال تھا تو وہ ان کے لیے پرانی اور خراب چیزیں خریدتا اور ان کو درست کر کے بیچ دیتا تھا۔ ایک دن اس نے شراب خریدی اور مٹکوں میں ڈال لی۔ پھر اللہ نے شراب کی حرمت نازل کی۔ وہ بنی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اسے فرمایا: شراب بہا دو، پھر انھوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا، اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! ان کا صرف یہی مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انڈیل دو چنانچہ اس نے اسے انڈیل دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11200]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11201
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِالطَّلَا ⦗٦٣⦘ وَهُوَ بِالْجَابِيَةِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يُطْبَخُ وَهُوَ كَعَقِيدِ الرُّبِّ، فَقَالَ:" إِنَّ فِي هَذَا لَشَرَابًا مَا انْتَهَى إِلَيْهِ فَلَا يُشْرَبُ خَلُّ خَمْرٍ أُفْسِدَتْ حَتَّى يُبْدِيَ اللهُ فَسَادَهَا، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَطِيبُ الْخَلُّ، وَلَا بَأْسَ عَلَى امْرِئٍ أَنْ يَبْتَاعَ خَلًّا وَجَدَهُ مَعَ أَهْلِ الْكِتَابِ مَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُمْ تَعَمَّدُوا إِفْسَادَهَا بَعْدَمَا عَادَتْ خَمْرًا" قَوْلُهُ: أُفْسِدَتْ يَعْنِي: عُولِجَتْ.
(١١٢٠١) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزادکردہ غلام حضرت اسلم سے روایت ہے کہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جابیہنامی جگہ پر ایکطلائلایا گیا اور وہ اس دن کچھ پکایا گیا تھا۔ گویا کہ وہ کچھ کھجور وغیرہ کا گاڑھا شیرہ ہے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں شراب ہے، جس سے منع کیا گیا ہے۔ شراب کا سرکہ نہ پیا جائے جو خراب ہوچکا ہو۔ یہاں تک کہ اللہ اس کا فسادواضح کر دے، پھر یہ پاک ہوجائے گی اور اس کی خریدو فروخت کرنے میں آدمی پر کوئی حرج نہیں۔ انھوں نے اہل کتاب کے پاس اس (سرکہ) کو پایا، جس کا انھیں علم نہ ہوا کہ انھوں نے جان بوجھ کر اس سے سرکہ بنایا جبکہ وہ شراب بن چکی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11201]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري اليٰ قوله ليطيب الخل»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2370. -- باب: ذكر الخبر الذي ورد في خل الخمر
-- باب: اس حدیث کا ذکر جو شراب سے بنے سرکے کے متعلق وارد ہوئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11202
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الدِّبَاغَ يَحِلُّ مِنَ الْمَيْتَةِ كَمَا يَحِلُّ الْخَلُّ مِنَ الْخَمْرِ" قَالَ فَرَجٌ: يَعْنِي أَنَّ الْخَمْرَ إِذَا تَغَيَّرَتْ فَصَارَتْ خَلًّا حَلَّتْ. تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ يَحْيَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ يَرْوِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَحَادِيثَ عَدَدًا لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا. قَالَهُ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْهُ، وَعَلَى هَذَا التَّفْسِيرِ يَرْتَفِعُ الْخِلَافُ، إِلَّا أَنَّ الْحَدِيثَ ضَعِيفٌ.
(١١٢٠٢) حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردار کے چمڑے کو رنگنا اسے اس طرح حلال کردیتا ہے جس طرح شراب سرکہ بنانے سے حلال ہوجاتی ہے۔ امام فرج فرماتے ہیں کہ جب شراب خراب ہوجاتی ہے تو وہ سرکہ بن جاتی ہے اور وہ حلال ہوجاتی ہے۔ یہ صرف امام فرج کا موقف ہے جو انھوں نے یحییٰ سے ذکر کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ کیونکہ یحییٰ سعید سے بہت سی ایسی روایات بیان کرتا ہی جن کی متابعت نہیں کی جاتی۔ یہ بات ابو الحسن دار قطنی نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11202]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11203
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّهْقَانُ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا مُغِيرَةُ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَقْفَرَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ، وَخَيْرُ خَلِّكُمْ خَلُّ خَمْرِكُمْ" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: هَذَا حَدِيثٌ وَاهٍ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ مَنَاكِيرَ قَالَ الشَّيْخُ: وَأَهْلُ الْحِجَازِ يَقُولُونَ لِخَلِّ الْعِنَبِ خَلُّ الْخَمْرِ، وَهُوَ الْمُرَادُ بِالْخَبَرِ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ إِنْ شَاءَ اللهُ، أَوْ خَمْرًا تَخَلَّلَتْ بِنَفْسِهَا، وَكَذَلِكَ مَا.
(١١٢٠٣) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس گھر کے سالن میں سرقہ شامل ہو وہ گھر کبھی فقیر نہیں ہوسکتا اور بہترین سرقہ وہ ہے جو شراب سے بنایا جائے۔
شیخ فرماتے ہیں: اہل حجاز انگوروں کے سرقہ کو شراب کا سرقہ کہتے ہیں اور یہی اس روایت میں مراد ہے۔ اگر یہ سنداً ثابت ہوجائے یا اس سے مراد وہ شراب ہے جو بذات خود سرقہ بن گئی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11203]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11204
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أُمِّ خِدَاشٍ، أَنَّهَا رَأَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" يَصْطَبِغُ بِخَلِّ خَمْرٍ".
(١١٢٠٤) سلیمان تیمی ام خداش سینقل فرماتے ہیں کہ اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ شراب کے سرقے کا سالن استعمال کر رہے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: شراب کو سرکہ بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اس کی سند مجہول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11204]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2371. -- باب: ما جاء في زيادات الرهن
-- باب: رہن (گروی رکھی ہوئی چیز) میں ہونے والے اضافے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11205
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَيُشْرَبُ لَبَنُ النَّاقَةِ إِذَا كَانَتْ مَرْهُونَةً، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ النَّفَقَةُ".
(١١٢٠٥) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پشت پر سواری کی جائے گی اس کے نفقہ کی و جہ سے جب کہ وہ مرہون ہو اور اونٹنی کا دودھ پیا جائے گا جب کہ وہ مرہونہ ہو اور دودھ پینے والے اور سواری کرنے والے کے ذمے نفقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11205]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11206
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَيَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ وَسُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ زَكَرِيَّا، وَزَادَا فِي مَتْنِهِ:" الْمُرْتَهَنَ"، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَفِي رِوَايَةِ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ: عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ:" إِذَا كَانَتِ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً فَعَلَى الَّذِي رَهَنَ عَلَفُهَا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ".
(١١٢٠٦) سفیان بن حبیب زکریا سے روایت کرتے ہیں اور اس روایت میں المر تھن کے الفاظ ہیں جو کہ محفوظ نہیں ہیں اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: جب جانور گروی رکھا جائے تو گروی رکھنے والے کے ذمہ گھاس ہے اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا اور جو شخص سواری کرے اور دودھ پیے تو خرچہ اس کے ذمہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11206]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11207
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّهْنُ مَحْلُوبٌ وَمَرْكُوبٌ" قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: إِنْ كَانُوا لَيَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَمْتِعُوا مِنَ الرَّهْنِ بِشَيْءٍ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا.
(١١٢٠٦) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گروی جانور کا دودھ بھی پیا جاسکتا ہے اور سواری بھی کی جاسکتی ہے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم کو بیان کی تو انھوں نی فرمایا: اگرچہ گروی رکھنے والے اسے ناپسند بھی کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11207]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11208
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا شَيْبَانُ يَعْنِي ابْنَ فَرُّوخَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ" فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَكَرِهَ أَنْ يُنْتَفَعَ بِشَيْءٍ مِنْهُ. وَرَوَاهُ الْجَمَاعَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ.
(١١٢٠٧) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گروی جانور کا دودھ بھی پیا جاسکتا ہے اور سواری بھی کی جاسکتی ہے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم کو بتائی تو انھوں نے گروی جانور سے نفع حاصل کرنے کو مکروہ ہی سمجھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11208]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11209
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: يُشْبِهُ قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ مَنْ رَهَنَ ذَاتَ دَرٍّ وَظَهْرٍ لَمْ يَمْنَعِ الرَّاهِنَ دَرَّهَا وَظَهْرَهَا؛ لِأَنَّ لَهُ رَقَبَتَهَا، فَهِيَ مَحْلُوبَةٌ وَمَرْكُوبَةٌ كَمَا كَانَتْ قَبْلَ الرَّهْنِ، قَالَ: وَمَنَافِعُ الرَّهْنِ لِلرَّاهِنِ، لَيْسَ لِلْمُرْتَهِنِ مِنْهَا شَيْءٌ.
(١١٢٠٨) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گروی جانور کی سواری بھی کی جاسکتی ہے اور دودھ بھی دوہا جاسکتا ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں: حضرت ابوہریرہ کے قول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کوئی دودھ والا یا سواری والا جانور گروی رکھے تو جس کے پاس گروی رکھا گیا ہو اسے منع نہ کیا جائے کہ وہ دودھ پیے یا سواری کرے؛ کیونکہ وہ اس کی دیکھ بھال بھی تو کرتا ہے۔ چنانچہ اس پر اسی طرح سواری کی جائے گی اور دودھ دوہا جائے گاجیسیرہن سے پہلے کیا جاتا تھا، فرماتے ہیں: رہن رکھی گئی چیز کے منافع گروی رکھنے والے کے لیے ہوں گے نہ کہ گروی لینے والے کے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11209]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں