السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2457. -- باب: جواز الإجارة
-- باب: اجارہ (مزدوری اور کرائے پر دینے) کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 11645
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ:" إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، أُعْطِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا بِهَا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ، ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، وَأُعْطِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى صَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ أُعْطِيتُمُ الْقُرْآنَ فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى غُرُوبِ الشَّمْسِ فَأُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَقَالَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ: رَبَّنَا هَؤُلَاءِ أَقَلُّ عَمَلًا وَأَكْثَرُ أَجْرًا، فَقَالَ:" هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: لَا، فَقَالَ:" فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَرَوَاهُ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ رِوَايَةِ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ، وَأَبَيْنَ مِنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ”تمہارا زمانہ گزرے ہوئے زمانوں کے مقابلے میں اس طرح ہے جیسے نمازِ عصر سے نمازِ مغرب کا وقت ہوتا ہے۔ اہلِ تورات کو تورات دی گئی، انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی۔ پھر وہ عاجز آگئے، پس انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا اور اہلِ انجیل کو انجیل دی گئی۔ انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز ہو گئی۔ پھر وہ عاجز آگئے، پس انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا، پھر تم کو قرآن دیا گیا، پس تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ مغرب ہو گئی، پس تم کو دو دو قیراط دیے گئے۔ پس اہل تورات اور اہل انجیل نے کہا: اے ہمارے رب! ان کو عمل کم اور بدلہ زیادہ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے اجر میں کوئی کمی کی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں عطا کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11645]
تخریج الحدیث: «بخاري 7467»
الحكم على الحديث: بخاري 7467
حدیث نمبر: 11646
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْقَاسِمُ، ثنا يُوسُفُ، وَإِبْرَاهِيمُ الْجَوْهَرِيُّ، وَالْمَسْرُوقِيُّ، قَالُوا جَمِيعًا: ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ عَمَلًا يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ عَلَى أَجْرٍ مَعْلُومٍ، فَعَمِلُوا إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ ثُمَّ قَالُوا: لَا حَاجَةَ لَنَا فِي أُجْرَتِكَ الَّتِي شَرَطْتَ لَنَا، ومَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، فَقَالَ لَهُمْ: لَا تَفْعَلُوا: اعْمَلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ ثُمَّ خُذُوا أَجْرَكُمْ كَامِلًا، فَأَبَوْا وَتَرَكُوا ذَلِكَ ⦗١٩٧⦘ عَلَيْهِ، وَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا آخَرِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ فَقَالَ: اعْمَلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ هَذَا وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ لِهَؤُلَاءِ مِنَ الْأَجْرِ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانَ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَالُوا: مَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، وَلَكَ الْأَجْرُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا، لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ، فَقَالَ لَهُمْ: كَمِّلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ؛ فَإِنَّمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ شَيْءٌ يَسِيرٌ وَخُذُوا أَجْرَكُمْ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا آخَرِينَ، فَعَمِلُوا لَهُ بَقِيَّةَ يَوْمِهِم حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ وَاسْتَكْمَلُوا أَجْرَ الْفَرِيقَيْنِ وَالْأَجْرَ كُلَّهُ، فَذَلِكَ مَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى الَّذِينَ تَرَكُوا مَا أَمَرَهُمُ اللهُ وَمَثَلُ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ قَبِلُوا هُدَى اللهِ وَمَا جَاءَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ.
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مسلمانوں اور یہودیوں و عیسائیوں کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے کچھ مزدور لگائے کہ وہ صبح سے رات تک ایک معلوم معاوضے پر کام کریں گے۔ پس انہوں نے دوپہر تک کام کیا۔ پھر انہوں نے کہا: ہمیں تیری مزدوری کی کوئی ضرورت نہیں، جو تو نے شرط لگائی ہے اور جو ہم نے کام کیا وہ بھی باطل ہے۔ پس اس نے ان کو کہا: تم ایسے نہ کرو، باقی دن بھی کام کرو، پھر اپنی مکمل اجرت لو، پس انہوں نے انکار کر دیا اور وہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اس نے اور لوگوں کو مزدوری پر لگایا اور کہا: تم باقی دن کام کرو اور تمہارے لیے وہی ہے جو میں نے شرط لگائی ہے، پس انہوں نے کام کیا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا، انہوں نے کہا: جو ہم نے کام کیا وہ باطل ہے اور جو اجرت تو نے ہمارے لیے مقرر کی تھی وہ بھی تیری ہی ہے، ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ پس اس نے ان سے کہا: باقی دن بھی کام کرو، دن کا تھوڑا سا حصہ رہ گیا ہے اور اپنی اجرت لے لو۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ اس آدمی نے ایک اور قوم کو مزدوری پر لگایا، انہوں نے باقی دن کام کیا یہاں تک کہ جب مغرب ہوئی تو انہوں نے پہلی دو جماعتوں کی اجرت پوری لے لی۔ پس یہ مثال ہے یہود و نصاریٰ کی کہ انہوں نے اس چیز کو چھوڑ دیا جو اللہ نے ان کو حکم دیا تھا اور مسلمانوں کی مثال یہ کہ انہوں نے اللہ کی ہدایت کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز لے کر آئے اسے قبول کر لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11646]
تخریج الحدیث: «بخاري 2271»
الحكم على الحديث: بخاري 2271
حدیث نمبر: 11647
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عِيسَى بْنُ حَامِدٍ الرُّخَّجِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَشَّاءُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ انْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى السُّوقِ يَتَحَامَلُ فَيُصِيبُ الْمُدَّ، وَإِنَّ لِبَعْضِهِمْ مِائَةَ أَلْفٍ" وَمَا أُرَاهُ يَعْنِي إِلَّا نَفْسَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِحَدِيثِ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَبِأَنَّ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمِلَ بِالِإجَارَةِ.
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں صدقہ کا حکم دیتے تو ہم میں سے بعض لوگ بازار کی طرف جاتے، بوجھ اٹھاتے اور ایک «مُدّ» (غلہ) حاصل کرتے، لیکن آج بعض ایسے ہیں جن کے پاس ایک لاکھ موجود ہیں (راوی کہتے ہیں:) میرا خیال ہے کہ وہ اس سے اپنے آپ ہی کو مراد لے رہے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں حنظلہ بن قیس کی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت سے، اور اس بات سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی ایک نے اجارہ پر عمل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11647]
امام شافعی رحمہ اللہ نے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں حنظلہ بن قیس کی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت سے، اور اس بات سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی ایک نے اجارہ پر عمل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11647]
تخریج الحدیث: «بخاري 2273»
الحكم على الحديث: بخاري 2273
حدیث نمبر: 11648
وَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ" تَكَارَى أَرْضًا، فَلَمْ تَزَلْ بِيَدِهِ حَتَّى هَلَكَ، قَالَ ابْنُهُ: فَمَا كُنْتُ أُرَاهَا إِلَّا أَنَّهَا لَهُ مِنْ طُولِ مَا مَكَثَتْ بِيَدِهِ، حَتَّى ذَكَرَهَا عِنْدَ مَوْتِهِ وَأَمَرَنَا بِقَضَاءِ شَيْءٍ بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ كِرَائِهَا مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ".
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے زمین کرائے پر لی، وہ ان کے قبضے میں رہی، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے، ان کے بیٹے نے کہا: میں نے اپنے باپ کے قبضے میں زیادہ عرصہ رہنے کی وجہ سے گمان کیا کہ وہ ان کی ملکیت ہے، یہاں تک کہ وفات کے وقت انہوں نے بتایا اور ہمیں حکم دیا کہ سونا اور چاندی دے کر کچھ کرایہ ادا کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11648]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11649
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَصَابَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَاصَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ يَلْتَمِسُ عَمَلًا لَيُصِيبَ مِنْهُ شَيْئًا يَبْعَثُ بِهِ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بُسْتَانًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ فَاسْتَقَى لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ دَلْوًا، كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ، فَخَيَّرَهُ الْيَهُودِيُّ مِنْ تَمْرِهِ سَبْعَ عَشْرَةَ تَمْرَةً عَجْوَةً، فَجَاءَ بِهَا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ هَذَا يَا أَبَا الْحَسَنِ؟" قَالَ: بَلَغَنِي مَا بِكَ مِنِ الْخَصَاصَةِ يَا نَبِيَّ اللهِ، فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ عَمَلًا لِأُصِيبَ لَكَ طَعَامًا، قَالَ:" فَحَمَلَكَ عَلَى هَذَا حُبُّ اللهِ وَرَسُولِهِ؟" قَالَ عَلِيٌّ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللهِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ إِلَّا الْفَقْرُ أَسْرَعَ إِلَيْهِ مِنْ جِرْيَةِ السَّيْلِ عَلَى وَجْهِهِ، مَنْ أَحَبَّ اللهَ وَرَسُولَهُ فَلْيُعِدَّ تِجْفَافًا"، وَإِنَّمَا يَعْنِي الصَّبْرَ ⦗١٩٨⦘ وَرُوِيَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَذَكَرَ بَعْضَ مَعْنَى هَذِهِ الْقِصَّةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ مشکل پیش آئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کا پتا چلا، وہ کام کی تلاش میں نکلے تاکہ کچھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ ایک یہودی کے باغ میں آئے اور سترہ ڈول پانی دیا، ہر ڈول کے بدلے کھجوریں تھیں، یہودی نے سترہ عجوہ کھجوریں دے دیں، وہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوالحسن! یہ کہاں سے لائے ہو؟“ فرمانے لگے: مجھے پتا چلا تھا کہ آپ تنگی میں ہیں، اے اللہ کے نبی! میں نکلا اور میں کام تلاش کرنے لگا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا لاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے اس چیز پر ابھارا؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے تو فقر و فاقہ اس کی طرف بہنے والے سیلاب سے بھی زیادہ جلدی آتا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے وہ جفاکشی (یعنی صبر) کے لیے تیار ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11649]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11650
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ مُجَاهِدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ مُعْتَجِرًا بِبُرْدٍ مُشْتَمِلًا فِي خَمِيصَةٍ فَقَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ {فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ} [الذاريات: ٥٤] لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا أَيْقَنَ بِالْهَلَكَةِ؛ إِذْ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَلَّى عَنَّا حِينَ نَزَلَتْ" وَذَكَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ بِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَبَيْنَ يَدَيْ بَابِهَا طِينٌ، قُلْتُ:" تُرِيدِينَ أَنْ تَبُلِّي هَذَا الطِّينَ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، فَشَارَطْتُهَا عَلَى كُلِّ ذَنُوبٍ بِتَمْرَةٍ، فَبَلَلْتُهُ لَهَا وَأَعْطَتْنِي سِتَّ عَشْرَةَ تَمْرَةً، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَرُوِيَ عَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي نَزْعِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَهُودِيٍّ كُلَّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي اسْتِقَاءِ رَجُلٍ غَيْرِ مُسَمًّى.
مجاہد فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے۔ آپ نے دھاری دار چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ کہنے لگے: جب یہ آیت ﴿فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ﴾ [سورة الذاريات: 54] (پس آپ ان سے منہ پھیر لیں۔ آپ قابل ملامت نہیں ہیں) نازل ہوئی تو ہم میں سے ہر ایک کو فوت ہونے کا یقین ہوگیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ آپ ہم سے منہ پھیر لیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک انصاری عورت کے پاس سے گزرے اور اس کے دروازے کے سامنے مٹی تھی۔ میں نے کہا: تو اسے گوندھنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے شرط لگائی کہ ہر ڈول کے بدلے کھجور دے۔ میں نے اس مٹی کو گوندھا اور اس نے مجھے سولہ کھجوریں دیں۔ میں وہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہودی کے باغ کو پانی لگایا اور ہر ڈول کے بدلے کھجور لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11650]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2458. -- باب: لا تجوز الإجارة حتى تكون معلومة، وتكون الأجرة معلومة
-- باب: اجارہ اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ کام معلوم نہ ہو اور اجرت متعین نہ ہو۔
حدیث نمبر: Q11651
اسْتِدْلَالًا بِمَا رُوِّينَا فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَالِإجَارَاتُ صِنْفٌ مِنَ الْبُيُوعِ، وَالْجَهَالَةُ فِيهَا غَرَرٌ.
اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے جو ہم کتاب البیوع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر چکے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا، اور اجارے بھی بیوع ہی کی ایک قسم ہیں، اور ان میں (کسی چیز کا) نامعلوم ہونا دھوکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: Q11651]
حدیث نمبر: 11651
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُسَاوِمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَايَعُوا بِإِلْقَاءِ الْحَجَرِ، وَمَنِ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَلْيُعْلِمْهُ أَجْرَهُ" كَذَا رَوَاهُ أَبُو حَنِيفَةَ، وَكَذَا فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقِيلَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے اور نہ بولی لگائے اور نہ پتھر پھینکنے سے بیع کرے اور جو اجرت پر کسی کو رکھے، اسے مزدوری طے کر لینی چاہیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11651]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11652
وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ، يَعْنِي حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُ أَجْرَهُ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗١٩٩⦘ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَهُ. وَهُوَ مُرْسَلٌ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَأَبِي سَعِيدٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ مُرْسَلًا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مزدور کو اجرت پر رکھنے سے منع فرمایا، یعنی جب تک اس کی اجرت اس کے لیے واضح نہ کر دے۔“
یہ روایت ابراہیم اور ابوسعید کے درمیان مرسل (منقطع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11652]
یہ روایت ابراہیم اور ابوسعید کے درمیان مرسل (منقطع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11652]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11653
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: وَثنا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ هِدْمٍ، يَعْنِي عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" غَزَوْنَا وَعَلَيْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَفِينَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، فَانْطَلَقْتُ أَلْتَمِسُ الْمَعِيشَةَ، فَأَلْفَيْتُ قَوْمًا يُرِيدُونَ يَنْحَرُونَ جَزُورًا لَهُمْ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتُمْ كَفَيْتُكُمْ نَحْرَهَا وَعَمَلَهَا وَأَعْطُونِي مِنْهَا، فَفَعَلْتُ فَأَعْطَوْنِي مِنْهَا شَيْئًا، فَصَنَعْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَنِي: مِنْ أَيْنَ هُوَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أُسْمِعُكَ قَدْ تَعَجَّلْتَ أَجْرَكَ، وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَرَكْتُهَا، قَالَ: ثُمَّ أَبْرَدُونِي فِي فَتْحٍ لَنَا، فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَاحِبُ الْجَزُورِ، وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ: لَمْ يَزِدْنِي عَلَى ذَلِكَ" قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي هَذَا إِنَّ الْأُجْرَةَ كَانَتْ مَجْهُولَةً، وَفِي الذِّمَّةِ مُعَلَّقَةً بِعَيْنٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے جنگ کی اور ہمارے امیر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے اور ہم میں سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ ہمیں شدت کی بھوک لگی۔ میں چلا کہ کوئی کام تلاش کروں۔ میں نے ایک قوم کو پایا وہ اونٹ ذبح کرنا چاہتے تھے۔ میں نے کہا: اگر تم چاہو تو میں تمہارا یہ کام کر دیتا ہوں اور مجھے اس سے کچھ دے دینا۔ میں نے ایسا کیا تو انہوں نے مجھے اس میں سے کچھ دیا، میں نے اسے پکایا۔ پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ انہوں نے سوال کیا: یہ کہاں سے آیا ہے؟ میں نے بتایا تو انہوں نے کہا: تو نے اجرت میں جلدی کی ہے اور کھانے سے انکار کر دیا۔ پھر میں نے سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی بات کہی اور کھانے سے انکار کر دیا۔ میں نے یہ دیکھ کر اسے چھوڑ دیا، کہتے ہیں: پھر ہمیں ایک فتح ملی تو انہوں نے مجھے اس کی خبر دے کر قاصد بنا کر بھیجا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ والے تم ہو“ اور مجھے کچھ نہ کہا۔
شیخ فرماتے ہیں: اس میں یہ بات ہے کہ اجرت مجہول تھی اور ذمہ میں تھی جو ایک معین چیز سے متعلق تھی، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11653]
شیخ فرماتے ہیں: اس میں یہ بات ہے کہ اجرت مجہول تھی اور ذمہ میں تھی جو ایک معین چیز سے متعلق تھی، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11653]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف