السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2458. -- باب: لا تجوز الإجارة حتى تكون معلومة، وتكون الأجرة معلومة
-- باب: اجارہ اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ کام معلوم نہ ہو اور اجرت متعین نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11654
وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ الْقَاضِي، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا:" أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ، وَأَعْلِمْهُ أَجْرَهُ وَهُوَ فِي عَمَلِهِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عِمْرَانَ الْقَطَّانُ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي الْوَرْدِ الْمَقْدِسِيُّ بِإِسْفَرَائِينَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زَيْدٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ فَذَكَرَهُ، وَهَذَا ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”مزدور کو اس کا حق پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو اور جب وہ کام میں لگا ہو تو اسے اس کی مزدوری بتا دو۔“
یہ روایت سخت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11654]
یہ روایت سخت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11654]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11655
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" نَشَأْتُ يَتِيمًا، وَهَاجَرْتُ مِسْكِينًا، وَكُنْتُ أَجِيرًا لِابْنِ عَفَّانَ وَابْنَةِ غَزْوَانَ عَلَى طَعَامِ بَطْنِي وَعُقْبَةِ رِجْلِي، أَحْتَطِبُ لَهُمْ إِذَا نَزَلُوا، وَأَحْدُو بِهِمْ إِذَا سَارُوا، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الدِّينَ قِوَامًا، وَأَبَا هُرَيْرَةَ إِمَامًا" ⦗٢٠٠⦘ فَلَيْسَ فِي هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ بِهِ فَأَقَرَّهُمْ عَلَى ذَلِكَ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا مُوَاضَعَةً بَيْنَهُمْ عَلَى سَبِيلِ التَّرَاضِي لَا عَلَى سَبِيلِ التَّعَاقُدِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے یتیمی کی حالت میں پرورش پائی اور میں نے مسکینی کی حالت میں ہجرت کی، اور میں ابن عفان اور بنت غزوان کے ہاں اپنے پیٹ کے کھانے اور (سواری پر) اپنی باری کے عوض مزدور تھا۔ جب وہ پڑاؤ ڈالتے تو میں ان کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرتا اور جب وہ چلتے تو میں ان کے لیے حدی خوانی کرتا۔
اب تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کو مضبوطی بخشی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو امام بنایا۔
اس میں یہ نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جان لینے کے بعد بھی برقرار رہنے دیا اور احتمال ہے کہ یہاں دونوں کے درمیان رضامندی تھی نہ کہ عقد تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11655]
اب تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کو مضبوطی بخشی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو امام بنایا۔
اس میں یہ نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جان لینے کے بعد بھی برقرار رہنے دیا اور احتمال ہے کہ یہاں دونوں کے درمیان رضامندی تھی نہ کہ عقد تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11655]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه 247»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11656
وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَدْفَعَ الرَّجُلَ إِلَى الرَّجُلِ الثَّوْبَ فَيَقُولُ:" بِعْهُ بِكَذَا وَكَذَا، فَمَا زِدْتَ فَهُوَ لَكَ" وَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِذَلِكَ. وَهَذَا أَيْضًا يَكُونُ عَلَى سَبِيلِ الْمُرَاضَاةِ لَا عَلَى سَبِيلِ الْمُعَاقَدَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی کسی دوسرے آدمی کو کپڑا دے اور کہے: ”اسے اتنے اتنے میں بیچ دو، جو زیادہ ملے وہ تمہارا ہے۔“
یہ بھی دونوں کی رضامندی سے ہوگا نہ کہ (عقد) لازم کرنے سے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11656]
یہ بھی دونوں کی رضامندی سے ہوگا نہ کہ (عقد) لازم کرنے سے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11656]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2459. -- باب: إثم من منع الأجير أجره
-- باب: اس شخص کے گناہ کا بیان جو مزدور کو اس کی اجرت نہ دے۔
حدیث نمبر: 11657
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرَيْشٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جُنَادٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ: رَجُلٌ أُعْطِيَ بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا اسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوفِهِ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تین لوگ ایسے ہیں کہ قیامت کے دن جن سے میں جھگڑا کروں گا، اور جس سے میں جھگڑا کروں اس پر غالب آ جاؤں گا: وہ آدمی جو میرے نام سے لیتا ہے، پھر دھوکا دیتا ہے اور وہ آدمی جو کسی آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت کھاتا ہے اور وہ آدمی جو مزدور رکھتا ہے، اس سے کام پورا لیتا ہے لیکن اجرت نہیں دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11657]
تخریج الحدیث: «بخاري 2227»
الحكم على الحديث: بخاري 2227
حدیث نمبر: 11658
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدٍ.
(١١٦٥٨) پچھلی روایت کی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11658]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11659
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا الزَّعْفَرَانِيُّ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِ الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11659]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2460. -- باب: كراء الإبل والدواب
-- باب: اونٹوں اور دیگر جانوروں کو کرائے پر لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11660
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو، وَزِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ثنا أَبُو أُمَامَةَ التَّيْمِيُّ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا أَكْرِي فِي هَذَا الْوَجْهِ، وَكَانَ نَاسٌ يَقُولُونَ لِي أَنْ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي لَرَجُلٌ أَكْرِي فِي هَذَا الْوَجْهِ، وَإِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ لِي إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، قَالَ: أَلَيْسَ تُحْرِمُ وَتُلَبِّي وَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَتُفِيضُ مِنْ عَرَفَاتٍ وَتَرْمِي الْجِمَارَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ لَكَ حَجًّا، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: ١٩٨] ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ:" لَكَ حَجٌّ".
ابو امامہ النجی فرماتے ہیں: میں حج میں کرایہ پر جانور دیتا تھا اور لوگ کہتے تھے: تیرا حج نہیں ہے۔ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور کہا: اے ابو عبدالرحمن! میں کرایہ پر جانور دیتا ہوں اور لوگ کہتے ہیں: میرا حج نہیں ہے، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تو نے احرام نہیں باندھا؟ اور تلبیہ نہیں پکارا اور بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور عرفات سے نہیں لوٹا اور تو نے رمی حجار نہیں کی؟ ابو امامہ فرماتے ہیں: میں نے جواب دیا: کیوں نہیں، میں نے سارے کام کیے ہیں، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تیرا حج درست ہے۔ (پھر فرمایا) ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسی طرح سوال کیا جس طرح تو نے کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 198] ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو۔“
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو بلایا اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھی، پھر فرمایا: ”تیرا حج درست ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11660]
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو بلایا اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھی، پھر فرمایا: ”تیرا حج درست ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11660]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ 2/155/6434، ابوداؤد1733»
الحكم على الحديث: صحيح
2461. -- باب: ما يستحب من تأخير الأحمال؛ ليكون أسهل على الجمال وغيرها
-- باب: بوجھ کو (سواری کی پیٹھ پر) پیچھے کی طرف رکھنے کے مستحب ہونے کا بیان؛ تاکہ اونٹوں اور دیگر جانوروں پر آسانی رہے۔
حدیث نمبر: 11661
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُنَادِي:" أَخِّرُوا الْأَحْمَالَ؛ فَإِنَّ الْأَيْدِيَ مُعَلَّقَةٌ، وَالْأَرْجُلَ مُوثَقَةٌ".
مسلمہ بن نوفل بنو ثقیف کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ اعلان کر رہے تھے کہ سواریوں پر سامان آخر میں لادا کرو، بے شک ہاتھ لٹکے ہوتے ہیں اور پاؤں مضبوط ہوتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11661]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11662
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبِي، أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِيهِ بِمِنًى فَسَمِعَ مُنَادِيًا يُنَادِي:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَخِّرُوا الْأَحْمَالَ؛ فَإِنَّ الرِّجْلَ مُوثَقَةٌ، وَإِنَّ الْيَدَ مُعَلَّقَةٌ" فَقُلْتُ لِأَبِي: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: عُمَرُ قَالَ يَعْقُوبُ: مَسْلَمَةُ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ، وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ قَوِيٍّ.
ابومغیرہ ثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے بتلایا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ منیٰ میں تھے، انہوں نے ایک اعلان کرنے والے کو سنا: اے لوگو! سواریوں پر بوجھ آخر میں لادا کرو، بے شک پاؤں مضبوط ہوتے ہیں اور ہاتھ لٹکے ہوتے ہیں۔ میں نے اپنے والد سے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
یعقوب نے کہا: مسلمہ کوفی اور ثقہ ہیں، اور اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے جس کی سند قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11662]
یعقوب نے کہا: مسلمہ کوفی اور ثقہ ہیں، اور اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے جس کی سند قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11662]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11663
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِحْمَشٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَمَّلْتُمْ فَأَخِّرُوا؛ فَإِنَّ الْيَدَ مُعَلَّقَةٌ، وَالرِّجْلَ مُوثَقَةٌ وَصَلَهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ وَائِلٍ، أَوْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، هَكَذَا بِالشَّكِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَخِّرُوا الْأَحْمَالَ؛ فَإِنَّ الْأَيْدِيَ مُعَلَّقَةٌ، وَالْأَرْجُلَ مُوثَقَةٌ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سامان لادو تو یہ کام آخر میں کرو۔ بیشک ہاتھ لٹکے ہوتے ہیں اور پاؤں مضبوط ہوتے ہیں۔“
زہری رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت نقل فرماتے ہیں کہ: ”سواریوں پر سامان آخر میں لادا کرو، بیشک ہاتھ لٹکے ہوتے ہیں اور پاؤں مضبوط ہوتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11663]
زہری رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت نقل فرماتے ہیں کہ: ”سواریوں پر سامان آخر میں لادا کرو، بیشک ہاتھ لٹکے ہوتے ہیں اور پاؤں مضبوط ہوتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11663]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف