🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2518. -- باب: الرقبى
-- باب: رقبیٰ (اس شرط پر ہبہ کرنا کہ جو زندہ بچ گیا چیز اس کی ہوگی) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11989
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، ثنا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ، وَلَا تُرْقِبُوا، فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُهُ"، وَفِي رِوَايَةِ شِبْلٍ:" فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی چیز بطور عمریٰ دے تو وہ اسی آدمی کی ہے جسے عمریٰ دیا گیا، اس کی زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی، اور نہ رقبیٰ کرو، جو رقبیٰ دیا گیا تو وہی اس کا وارث ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11989]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 21989»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2519. -- باب: ما جاء في تفسير العمرى والرقبى التي وردت في الأخبار المطلقة
-- باب: مطلق احادیث میں وارد ہونے والے عمریٰ اور رقبیٰ کی تفسیر کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11990
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ:" تَأْوِيلُ الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: هَذِهِ الدَّارُ لَكَ عُمُرَكَ، أَوْ يَقُولَ لَهُ: هَذِهِ الدَّارُ لَكَ عُمُرِي" قَالَ: وَقَدْ حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي تَفْسِيرِ الْعُمْرَى بِمِثْلِ ذَلِكَ أَوْ نَحْوِهِ.
ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «عُمْرٰی» کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے آدمی سے کہے کہ یہ گھر تیرا ہے جب تک تو زندہ رہے یا یہ کہے کہ یہ گھر تیرا ہے جب تک میں زندہ ہوں۔ عطاء رحمہ اللہ سے بھی «عُمْرٰی» کی تفسیر کے بارے میں اسی طرح منقول ہے۔
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «رُقْبٰی» کے بارے میں ابوزبیر رحمہ اللہ نے کہا: «رُقْبٰی» یہ ہے کہ آدمی کہے: اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہو گیا تو یہ میری طرف لوٹ آئے گا اور اگر میں تجھ سے پہلے فوت ہو گیا تو یہ تیرا ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: «رُقْبٰی» یہ ہے کہ کوئی کہے: یہ فلاں کے لیے ہے، اگر وہ فوت ہو گیا تو فلاں کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11990]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11991
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: هُوَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ، وَالرُّقْبَى أَنْ يَقُولَ الْإِنْسَانُ: هُوَ لِآخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنِّي وَمِنْكَ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَذْهَبُ فِي الْقَدِيمِ إِلَى ظَاهِرِ مَا رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، وَهُوَ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَإِنْ جَعَلَهَا لَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ عَقِبَهُ، قَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: هِيَ بَاطِلَةٌ، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ: إِذَا مَاتَ الْمُعْمَرُ رَجَعَتْ إِلَى الْمُعْمِرِ، ثُمَّ ذَهَبَ فِي الْجَدِيدِ إِلَى سَائِرِ الرِّوَايَاتِ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى أَنَّهُ إِذَا جَعَلَهَا لَهُ حَيَاتَهُ وَسَلَّمَهَا إِلَيْهِ كَانَتْ لَهُ وَلِعَقِبِهِ، وَهَذَا هُوَ الْمَذْهَبُ، وَكَذَلِكَ فِي الرُّقْبَى.
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمریٰ یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے سے کہے: وہ تیرا ہے جب تک تو زندہ ہے۔ جب اسی طرح کہے تو وہ اس کا اور اس کے وارثوں کا ہو جائے گا اور رقبیٰ یہ ہے کہ آدمی کہے: وہ دونوں میں سے بعد میں فوت ہونے والے کا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ کا قدیم مذہب زہری کی روایت کے ظاہر کے مطابق یہ ہے کہ وہ اس کے لیے اور اس کے ورثاء کے لیے کر دے۔ اگر اس نے ورثاء کا ذکر نہ کیا تو ایک جگہ پر کہا کہ یہ باطل ہے اور دوسری جگہ پر کہا: جب معمَر (جسے دیا گیا) فوت ہو جائے تو واپس معمِر (دینے والے) کی طرف لوٹ آئے گا، پھر ان کا جدید مذہب یہ ہے کہ جب اس نے اس کی زندگی میں دے دیا اور اس کے سپرد کر دیا تو وہ اس کا اور اس کے ورثاء کا ہو گا۔ یہی مذہب ہے اور رقبیٰ میں بھی اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11991]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداود 3560»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2520. جماع أبواب عطية الرجل ولده -- باب: السنة في التسوية بين الأولاد في العطية
باب: انسان کا اپنی اولاد کو عطیہ دینے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: عطیہ دینے میں اولاد کے درمیان برابری کرنے کی سنت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11992
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، يُحَدِّثَانِهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا كَانَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا؟" قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَارْجِعْهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کو ان کا والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا اور کہا: میں نے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اسی طرح غلام دیا ہے؟“ اس نے نہ میں جواب دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو واپس لوٹا دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11992]
تخریج الحدیث: «بخاري 2587۔ مسلم 1623»

الحكم على الحديث: بخاري 2587
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11993
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ يَقُولُ: نَحَلَنِي أَبِي غُلَامًا، فَأَمَرَتْنِي أُمِّي أَنْ أَذْهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُشْهِدُهُ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَهُ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَارْدُدْهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
محمد بن نعمان اور حمید بن عبدالرحمن دونوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میرے والد نے مجھے غلام دیا، میری ماں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ مقرر کر لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے ساری اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس اسے بھی واپس لوٹا دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11993]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11994
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً، فَقَالَتْ لَهُ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنَ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً، وَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاتَّقُوا اللهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ"، قَالَ: فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ حُصَيْنٍ.
سیدنا عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ منبر پر فرما رہے تھے کہ مجھے میرے والد نے عطیہ دیا، سیدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں یہاں تک کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: میں نے عمرہ بنت رواحہ کے بیٹے کو عطیہ دیا ہے اور اس (عمرہ) نے کہا ہے کہ میں آپ کو گواہ بنا لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔“ راوی کہتے ہیں: وہ واپس لوٹے اور اپنے عطیہ کو واپس لے لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11994]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11995
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّرَابَرْدِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِي مِنْ مَالِهِ، فَالْتَوَى بِهَا سَنَةً، ثُمَّ بَدَا لَهُ فَوَهَبَهَا لِي، ⦗٢٩٣⦘ وَإِنَّهَا قَالَتْ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا وَهَبْتَ لِابْنِي، فَأَخَذَ بِيَدِي وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ، فَأَتَى بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمَّ هَذَا ابْنَةَ رَوَاحَةَ قَاتَلَتْنِي مُنْذُ سَنَةٍ عَلَى بَعْضِ الْمَوْهِبَةِ لِابْنِي هَذَا، وَقَدْ بَدَا لِي فَوَهَبْتُهَا لَهُ، وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ نُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَقَالَ:" يَا بَشِيرُ، ألَكَ وَلَدٌ سِوَى وَلَدِكَ هَذَا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَلَا تُشْهِدْنِي"، أَوْ قَالَ:" لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا، فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میری ماں نے میرے باپ سے اپنے مال میں سے کچھ میرے لیے ہبہ کرنے کا سوال کیا، ایک سال تک اس نے نہ کیا۔ پھر والد نے میرے لیے ہبہ کیا، میری ماں نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں، یہاں تک کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ بنا لے جو تو نے میرے بیٹے کو ہبہ کیا ہے۔ پس باپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس وقت بچہ تھا اور وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی ماں رواحہ کی بیٹی ہے، ایک سال سے وہ مجھ سے اسے ہبہ کرنے کے بارے میں لڑائی کر رہی تھی، پس اب میں نے ہبہ کر دیا اور اس کو پسند ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر گواہ بن جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے بشیر! کیا تیری اس کے علاوہ اور بھی اولاد ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو مجھے گواہ نہ بنا، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11995]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11996
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ نُحْلًا، فَأَرَادَ أَنْ يُشْهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ كَمَا نَحَلْتَهُ؟" فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَ وَلَدِكَ، كَمَا عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ" تَفَرَّدَ مُجَالِدٌ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کو ان کے باپ نے عطیہ دیا، انہوں نے ارادہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ بنالیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے اوپر حق ہے کہ تو اپنی اولاد کے درمیان عدل کرے، جس طرح ان پر حق ہے کہ وہ تیرے ساتھ نیکی کریں۔“
ان الفاظ کو بیان کرنے میں مجالد منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11996]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ الي قوله نحلة، اخرجه الطيالسي»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11997
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ، وَأَشْهِدْ عَلَيْهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِيَ وَقَالَتْ: أَشْهِدْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَهُ أُخْوَةٌ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا، وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ..
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بشیر کی بیوی نے کہا: میرے بیٹے کو عطیہ دے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ مقرر کر۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: فلاں کی بیٹی مجھ سے سوال کرتی ہے کہ میں اس کے بیٹے کو عطیہ دوں اور کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس کے اور بھی بھائی ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے سب کو عطیہ دیا ہے، جس طرح اسے دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صحیح نہیں ہے اور نہ میں ظلم پر گواہ بنتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11997]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11998
وَرَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زُهَيْرٍ بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ" أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا عَاصِمٌ، ثنا زُهَيْرٌ فَذَكَرَهُ.
عاصم بن علی نے زہیر سے اسی معنی میں روایت کیا ہے، مگر انہوں نے کہا: ”میں صرف حق پر گواہ بنتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11998]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں