🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2530. -- باب: اللقطة يأكلها الغني والفقير إذا لم تعترف بعد تعريف سنة
-- باب: مالدار اور فقیر کا لقطہ کو استعمال کر لینا جب ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد اسے پہچانا نہ جا سکے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12050
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا"، قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ"، قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ:" مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأَكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو اچھی طرح پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو دے دو ورنہ وہ تیری ہی ہے۔ اس نے پوچھا: گم شدہ بکری کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے۔ اس نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے اس میں کیا ہے؟ اس کے ساتھ اس کی سیراب کرنے کی چیز اور اس کے کھر ہیں، وہ پانی پر جا سکتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک پا لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12050]
تخریج الحدیث: «بخاري 2372۔ مسلم 1722»

الحكم على الحديث: بخاري 2372
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12051
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْهَا" أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو، ورنہ اسے اپنے خرچ میں شامل کر لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12051]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12052
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ، فَقَالَ:" اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تُعْرَفْ فَاسْتَنْفِقْهَا، وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے اور چاندی کی گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک نہ ملے تو اسے اپنے خرچے میں شامل کر لو اور وہ تیرے پاس امانت ہو گی، اگر اس کا طالب کسی بھی وقت آ جائے تو اسے دے دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12052]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12053
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَامِدٍ ⦗٣٠٨⦘ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشَّاةِ الضَّالَّةِ، فَقَالَ:" لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ"، وَسُئِلَ عَنِ الْبَعِيرِ، فَغَضِبَ وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ:" مَعَهُ سِقَاؤُهُ وَحِذَاؤُهُ، يَرِدُ الْمَاءَ، وَيَرْعَى الشَّجَرَ"، وَسُئِلَ عَنِ النَّفَقَةِ، فَقَالَ:" تُعَرِّفُهَا حَوْلًا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا عَرَفْتَ وِكَاءَهَا أَوْ عِفَاصَهَا ثُمَّ أَفَضْتَهَا فِي مَالِكَ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ".
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے۔ اور اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور غصے میں آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس اس کا سیراب کرنے کا سامان اور اس کا گھر ہے، وہ پانی پی سکتا ہے، درختوں سے پتے کھا سکتا ہے۔ اور خرچ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کا ایک سال تک اعلان کر۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو، ورنہ اس کے بندھن اور تھیلی کو اچھی طرح پہچان لو اور پھر اپنے مال میں شامل کر لو؛ اگر اس کا مالک آ جائے تو دے دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12053]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12054
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَارْدُدْهَا إِلَيْهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کا مالک نہ آئے تو اس کی تھیلی اور بندھن کو اچھی طرح پہچان لو، پھر کھالو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے لوٹا دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12054]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12055
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ يَقُولُ: كُنْتُ فِي غَزْوَةٍ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ، فَقَالَ لِي زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ: اطْرَحْهُ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا، فَقَضَيْنَا غَزَاتِنَا ثُمَّ حَجَجْتُ فَمَرَرْتُ بِالْمَدِينَةِ فَلَقِيتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِي: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" عَرِّفْهَا حَوْلًا" فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا، فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَعُدْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا"، فَعَرَّفْتُهَا ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا آخَرَ" فَعَرَّفْتُهَا ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ، قَالَ فِي الرَّابِعَةِ:" احْفَظْ عِدَّتَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا" قَالَ سَلَمَةُ: لَا أَدْرِي أَقَالَ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ" عَرِّفْهَا" أَوْ قَالَ حَوْلًا. ⦗٣٠٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ آدَمَ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ قَوْلُ سَلَمَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ..
سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سوید بن غفلہ رحمہ اللہ سے سنا کہ میں غزوہ میں تھا، مجھے ایک کوڑا ملا۔ میں نے اسے پکڑ لیا، مجھے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اسے پھینک دو۔ میں نے انکار کر دیا، ہم نے غزوہ مکمل کیا۔ پھر میں نے حج کیا، اور میں مدینہ سے گزرا تو مجھے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ملے۔ میں نے یہ قصہ ذکر کیا تو انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سو دینار کی تھیلی ملی۔ میں وہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا۔ لیکن میں نے ایسا کوئی نہ پایا جو اسے پہچان لیتا۔ میں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ایک سال اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا، پھر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ایک سال اور اعلان کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا، پھر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ چوتھی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ان کو شمار کرو اور اس کے بندھن کو اچھی طرح یاد کر لو۔ اگر اس کا مالک آئے تو دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھا لو۔ سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ اعلان کا کہا یا ایک دفعہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12055]
تخریج الحدیث: «بخاري 3437۔ مسلم 1723»

الحكم على الحديث: بخاري 3437
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12056
وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ فِي آخِرِهِ:" فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَهِيَ كَسَبِيلِ مَالِكَ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْحِيرِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ دُونَ قَوْلِ سَلَمَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ سُفْيَانَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا" وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ فَقَالَ:" انْتَفِعْ بِهَا" وَرَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ فَقَالَ:" ثُمَّ اقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ" وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ فَقَالَ:" وَاسْتَمْتِعْ بِهَا" وَكُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَى مَعْنًى وَاحِدٍ.
سلمہ بن کہیل نے آخر میں کہا: اگر اس کا مالک آجائے تو دے دینا ورنہ وہ (تیرے پاس) مالک کی طرح ہی ہے۔
ایک روایت کے الفاظ ہیں: ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤ، یہ بھی الفاظ ہیں کہ اس سے نفع اٹھاؤ۔ یہ بھی الفاظ ہیں کہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر اور یہ بھی کہ اس سے فائدہ اٹھا، سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12056]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12057
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا الْحَذَّاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَوَيْ عَدْلٍ أَوْ ذَا عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ".
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے کوئی گری پڑی چیز ملے وہ عدل والے دو شخص یا ایک گواہ بنا لے اور نہ اسے چھپائے اور نہ غائب کرے۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کا حق دار ہے ورنہ وہ اللہ کا مال ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12057]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الطيالسي 11177»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12058
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" مَا كَانَ مِنْهَا فِي طَرِيقِ الْمِئْتَاءِ وَالْقَرْيَةِ الْجَامِعَةِ فَعَرِّفُوهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَهِيَ لَكَ، وَمَا كَانَ فِي الْخَرَابِ فَفِيهَا وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بنجر زمین یا پھیلی ہوئی بستی سے ملے، اس کا ایک سال تک اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو دے دو، اگر نہ آئے تو وہ تیرے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12058]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه السجستائي 1710»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12059
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَمْرٍو وَعَاصِمٍ ابْنَىْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ وَجَدَ عَيْبَةً، فَأَتَى بِهَا ⦗٣١٠⦘ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ عُرِفَتْ فَذَاكَ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ، فَلَمْ تُعْرَفْ" فَلَقِيَهُ بِهَا الْقَابِلَ فِي الْمَوْسِمِ فَذَكَرَهَا لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ:" هِيَ لَكَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ"، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا، فَقَبَضَهَا عُمَرُ فَجَعَلَهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْهَا عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَتْ: اسْتَمْتِعِي بِهَا.
سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک ٹوکری ملی، وہ اسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ تیری ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ اس نے کہا: مجھے یہ روایت بھی کی گئی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے گری پڑی چیز کے بارے میں ایک عورت نے سوال کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو اس سے فائدہ اٹھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12059]
تخریج الحدیث: «حسن۔ الدارمي 2599۔ النسائي في الكبريٰ 5787»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں