السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2534. -- باب: تعريف اللقطة ومعرفتها والإشهاد عليها
-- باب: لقطہ (گری پڑی چیز) کا اعلان کرنے، اس کی پہچان رکھنے اور اس پر گواہ بنانے کے بیان میں
حدیث نمبر: 12090
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَدْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ نَزَلَ مَنْزِلًا بِطَرِيقِ الشَّامِ فَوَجَدَ صُرَّةً فِيهَا ثَمَانُونَ دِينَارًا، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" عَرِّفْهَا عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، وَاذْكُرْهَا لِمَنْ يَقْدَمُ مِنَ الشَّامِ سَنَةً، فَإِذَا أَمْضَتِ السَّنَةَ فَشَأْنَكَ بِهَا".
(١٢٠٩٠) معاویہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ان کے والد نے خبر دی کہ وہ شام کے ایک راستے میں اترے وہاں ایک تھیلی پانی جس میں ٨٠ دینار تھے انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسجد کے دروازوں پر اس کا اعلان کرو اور جو شام سے آئے ایک سال تک اسے بھی بتاؤ، پس جب ایک سال گزر جائے تو وہ تیرے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12090]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مالك 1483»
الحكم على الحديث: ضعيف
2535. -- باب: بيان مدة التعريف
-- باب: (لقطہ کے) اعلان کی مدت کے بیان میں
حدیث نمبر: Q12091
اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى تَعْرِيفِ اللُّقَطَةِ سَنَةً وَاحِدَةً، وَقَدْ مَضَتِ الرِّوَايَةُ عَنْهُمَا، وَكَذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرِوَايَةُ الْأَعْمَشِ وَزَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ وَحَمَّادٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُعَرِّفُهَا ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ. وَرُوِّينَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَلَمَةَ كَذَلِكَ، قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا.
سلمہ بن کہیل والی روایت دلالت کرتی ہے کہ تین سال تک اعلان کرو۔ شعبہ کہتے ہیں: میں سلمہ سے مکہ میں ملا اس کے بعد انھوں نے کہا: میں نے نہیں جانتا کہ ایک سال ہے یا تین سال۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: Q12091]
حدیث نمبر: 12091
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ يَقُولُ: غَزَوْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ، فَقَالَا لِي: أَلْقِهِ، فَقُلْتُ: لَا، وَلَكِنِّي أُعَرِّفُهُ، فَإِنْ وَجَدْتُ مَنْ يَعْرِفُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي أَنِّي حَجَجْتُ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ أُبِيُّ بْنُ كَعْبٍ: وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا"، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ:" احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا" قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُ سَلَمَةَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا، فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ فَقُلْتُ لِأَبِي صَادِقٍ: تَعَالَ فَاسْمَعْهُ مِنْهُ وَرَوَاهُ بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ. قَالَ شُعْبَةُ: فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ يَقُولُ: عَرِّفْهَا عَامًا وَاحِدًا..
(١٢٠٩١) سلمۃ بن کہیل فرماتی ہیں: میں نے سوید بن غفلہ سے سنا کہ میں غزوہ میں تھا، مجھے ایک کوڑا ملا، میں نے اسے پکڑ لیا۔ مجھے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے کہا: اسے پھینک دو۔ میں نے انکار کر دیاہم نے غزوہ مکمل کیا، پھر میں نے حج کیا اور میں مدینہ سے گزرا تو مجھے ابی بن کعب ملے۔ میں نے یہ قصہ ذکر کیا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سود ینار کی تھیلی ملی، میں وہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے مجھے کہا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا، لیکن میں نے ایسا کوئی نہ پایا جو اسے پہچان لیتا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے کہا: ایک سال اس کا اعلان کرو، میں نے ایسا ہی کیا، پھر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے کہا: ایک سال اور اعلان کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا پھر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیاچوتھی دفعہ تو آپ نے کہا: ان کو شمار کرو اور اس کے بندھن کو اچھی طرح یاد کرلو۔ اگر اس کا مالک آئے تو دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھا۔ سلمہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ نے تین دفعہ اعلان کا کہا یا ایک دفعہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12091]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12092
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا بَهْزٌ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَأَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ كَانَ يَشُكُّ فِيهِ ثُمَّ يَذْكُرُ فَيَثْبُتُ عَلَى عَامٍ وَاحِدٍ.
(١٢٠٩٢) صحیح مسلم میں عبدالرحمن سے روایت ہے کہ سلمہ بن کہیل کو شک تھا، پھر ان کو یاد آگیا، پھر وہ ایک سال پر ثابت قدم رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12092]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12093
وَأَمَّا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ مِقْسَمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجَدَ دِينَارًا فَأَتَى بِهِ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، فَقَالَتْ: هَذَا رِزْقٌ رَزَقَنَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، لِلَّهِ الْحَمْدُ، فَاشْتَرَى بِهِ لَحْمًا وَطَعَامًا فَهَيَّأَ طَعَامًا، فَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ: أَرْسِلِي إِلَى أَبِيكِ فَتُخْبِرِيهِ، فَإِنْ رَآهُ حَلَالًا أَكَلْنَاهُ، فَلَمَّا صَنَعُوا طَعَامًا دَعَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَتَى ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ رِزْقُ اللهِ"، فَأَكَلَ مِنْهُ وَأَكَلُوا، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَتِ امْرَأَةٌ تَنْشُدُ الدِّينَارَ: أَنْشُدُ اللهَ الدِّينَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ، أَدِّ الدِّينَارَ".
(١٢٠٩٣) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ایک دینار ملا، وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آئے۔ اس نے کہا: یہ رزق ہے جو ہمیں اللہ نے دیا ہے۔ اللہ کے لیے تعریف ہے، اس کے ساتھ گوشت اور کھانا خرید لاعلی رضی اللہ عنہ کھانا خرید لائے۔ پھر فاطمہ سے کہا: اپنے باپ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر دو۔ اگر وہ حلال سمجھیں تو ہم کھا لیں گے، جب انھوں نے کھانا بنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو انھوں نے آپ سے یہ ذکر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کا رزق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کھایا اور انھوں نے بھی کھایا۔ اس کے بعد ایک عورت آئی، وہ ایک دینار گم کر بیٹھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! دینار اسے دے دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12093]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12094
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ، وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ ⦗٣٢١⦘ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيهِمَا؟ قَالَتِ: الْجُوعُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ، فَجَاءَ إِلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتِ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ فَخُذْ لَنَا دَقِيقًا، فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى جَاءَ بِه فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتِ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا، فَذَهَبَ وَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمٍ لَحْمًا، فَجَاءَ بِهِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَهُمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَذْكُرُ لَكَ فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلَالًا أَكَلْنَاهُ وَأَكَلْتَ، مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ:" كُلُوا بِاسْمِ اللهِ"، فَأَكَلُوا، فَبَيْنَا هُمْ مَكَانَهُمْ إِذَا غُلَامٌ يَنْشُدُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ الدِّينَارَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِيَ لَهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكَ: أَرْسِلْ إِلِيَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْهَمُكَ عَلَيَّ"، فَأَرْسَلَ بِهِ، فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ: ظَاهِرُ الْحَدِيثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْبَابِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ أَنْفَقَهُ قَبْلَ التَّعْرِيفِ فِي الْوَقْتِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُعَرِّفَهُ فَلَمْ يُعْتَرَفْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْكُلَهُ، وَظَاهِرُ تِلْكَ الرِّوَايَةِ أَنَّهُ شَرَطَ التَّعْرِيفَ فِي الْوَقْتِ وَأَبَاحَ أَكْلَهُ قَبْلَ مُضِيِّ السَّنَةِ، وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي وَرَدَتْ فِي اشْتِرَاطِ التَّعْرِيفِ سَنَةً فِي جَوَازِ الْأَكْلِ أَصَحُّ وَأَكْثَرُ، فَهِيَ أَوْلَى، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَبَاحَ لَهُ إِنْفَاقَهُ قَبْلَ مُضِيِّ سَنَةٍ لِوُقُوعِ الِاضْطِرَارِ إِلَيْهِ، وَالْقِصَّةُ تَدُلُّ عَلَيْهِ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ لَمْ يَشْتَرِطْ مُضِيَّ سَنَةٍ فِي قَلِيلِ اللُّقَطَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٢٠٩٤) سہل بن سعید نے خبر دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فاطمہ، حسن، حسین کے پاس گئے، وہ دونوں رو رہے تھے، پوچھا: یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں؟ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: بھوک کی وجہ سے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر سے نکلے، بازار میں سے ایک دینار مل گیا، پھر فاطمہ کے پاس آئے، اسے خبر دی، فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں یہودی کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے آٹا لے کر آؤ۔ وہ یہودی کے پاس آئے اس سے آٹا خریدا۔ یہودی نے کہا: تو اس شخص کا داماد ہے جو گمان کرتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں اس نے کہا: دینار بھی لے جاؤ اور آٹا بھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نکلے اور فاطمہ کے پاس آئے، اسے بتایا، فاطمہ نے کہا: فلاں قصاب کے پاس جاؤ اور درہم کا ہمارے لیے گوشت لے کر آؤ وہ گئے اور دینار ایک درہم گوشت کے بدلے گروی رکھا اور گوشت لے کر آئے، فاطمہ نے آٹا گوندھا اور روٹی پکائی۔ پھر اپنے اباجان (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے پاس آئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں آپ کو بتاتا ہوں اگر آپ ہمارے لیے حلال خیال کریں گے تو ہم کھا لیں گے اور آپ بھی کھا لینا معاملہ بیان کیا، آپ نے فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھکھاؤ، میں نے کھایا، وہ ابھی اسی جگہ پر تھے کہ ایک غلام دینار گم ہونے کی صدا لگا رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اسے بلایا گیا، اس سے سوال کیا گیا: اس نے کہا: بازار میں میرا دینار گرگیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: اے علی قصاب کے پاس جاؤ۔ اسے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرے لیے کہا ہے کہ دینار واپس کر دو اور تیرا درہم مجھ پر ہے۔ میں نے دینار بھیج دیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ دینار اسے دے دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ والی حدیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اسے اعلان سے پہلے ہی خرچ کرلیا تھا، اور ایک دوسری روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا اعلان کرنے کا حکم دیا لیکن کوئی بھی پہچان نہ سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور روایت کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ اس وقت اس کا اعلان کرنا شرط ہے اور ایک سال گزرنے سے پہلے اس کا کھانا جائز ہے اور وہ احادیث جو ایک سال کی شرط کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کہ کھانا جائز ہے زیادہ صحیح ہیں اور یہی اولیٰ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کا کھانا مباح ہے۔ ایک سال گزرنے سے پہلے مجبوری کی وجہ سے اور یہ قصہ اسی پر دلالت کرتا ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ تھوڑی چیز پر سال گزرنے کی شرط نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12094]
شیخ فرماتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ والی حدیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اسے اعلان سے پہلے ہی خرچ کرلیا تھا، اور ایک دوسری روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا اعلان کرنے کا حکم دیا لیکن کوئی بھی پہچان نہ سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور روایت کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ اس وقت اس کا اعلان کرنا شرط ہے اور ایک سال گزرنے سے پہلے اس کا کھانا جائز ہے اور وہ احادیث جو ایک سال کی شرط کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کہ کھانا جائز ہے زیادہ صحیح ہیں اور یہی اولیٰ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کا کھانا مباح ہے۔ ایک سال گزرنے سے پہلے مجبوری کی وجہ سے اور یہ قصہ اسی پر دلالت کرتا ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ تھوڑی چیز پر سال گزرنے کی شرط نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12094]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12095
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ" أَنْهُ الْتَقَطَ دِينَارًا فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا، فَعَرَفَهُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الدِّينَارَ، فَأَخَذَهُ عَلِيٌّ فَقَطَعَ مِنْهُ قِيرَاطَيْنِ فَاشْتَرَى بِهِ لَحْمًا" فِي مَتْنِ هَذَا الْحَدِيثِ اخْتِلَافٌ، وَفِي أَسَانِيدِهِ ضَعْفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٢٠٩٥) حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دینار ملا، انھوں نے اس سے آٹا خریداتو آٹے والے نے اسے پہچان لیا اور اس نے دینار لوٹا دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہ لے لیا اور دو قیراط کا گوشتخریدا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12095]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2536. -- باب: ما جاء في قليل اللقطة
-- باب: تھوڑی مقدار والے لقطہ کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: Q12096
ظَاهِرُ الْأَحَادِيثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُلُّ عَلَى التَّسْوِيَةِ بَيْنَ قَلِيلِ اللُّقَطَةِ وَكَثِيرِهَا فِي التَّعْرِيفِ.
حضرت زید بن خالد اور عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ والی روایات کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ چیز تھوڑی ہو یا زیادہ اس کا اعلان کرنے کا حکم برابر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: Q12096]
حدیث نمبر: 12096
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعِجْلِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِتَمْرَةٍ بِالطَّرِيقِ فَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ زَائِدَةُ: عَنْ مَنْصُورٍ فَذَكَرَهُ.
(١٢٠٩٦) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کھجورع کے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12096]
تخریج الحدیث: «بخاري 2055۔ مسلم 1071»
الحكم على الحديث: بخاري 2055
حدیث نمبر: 12097
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ الْقَزَّازُ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى تَمْرَةٍ فِي الطَّرِيقِ مَطْرُوحَةٍ فَقَالَ:" لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا".
(١٢٠٩٧) حضرت انس سے رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کھجور کے پاس سے گزرے جو راستے میں پڑی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہے تو میں اسے کھا لیتا، راوی کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہ راستے میں پڑی ہوئی ایک کھجور کے پاس سے گزرے تو اسے کھالیا۔
ہم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گھر میں داخل ہوتا ہوں، اپنے بستر پر پڑی کھجور پاتا ہوں اور ایک روایت میں ہے کہ میں نہیں جانتا یہ کھجور صدقہ کی ہے یا گھر کی۔ میں اسے چھوڑ دیتا ہوں اور یہ لقطہ کے حکم میں نہیں آتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12097]
ہم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گھر میں داخل ہوتا ہوں، اپنے بستر پر پڑی کھجور پاتا ہوں اور ایک روایت میں ہے کہ میں نہیں جانتا یہ کھجور صدقہ کی ہے یا گھر کی۔ میں اسے چھوڑ دیتا ہوں اور یہ لقطہ کے حکم میں نہیں آتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12097]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح