السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2589. -- باب: من ورث الإخوة للأب والأم أو الأب مع الجد
-- باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے دادا کے ساتھ سگے یا باپ شریک بھائیوں کو وارث بنایا
حدیث نمبر: 12429
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: أَخَذَ أَبُو الزِّنَادِ هَذِهِ الرِّسَالَةَ مِنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمِنْ كُبَرَاءِ آلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ:" بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، لِعَبْدِ اللهِ مُعَاوِيَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ"، فَذَكَرَ الرِّسَالَةَ بِطُولِهَا، وَفِيهَا:" وَلَقَدْ كُنْتُ كَلَّمْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ⦗٤٠٥⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي شَأْنِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ كَلَامًا شَدِيدًا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَحْسِبُ أَنَّ الْإِخْوَةَ أَقْرَبُ حَقًّا فِي أَخِيهِمْ مِنَ الْجَدِّ، وَيَرَى هُوَ يَوْمَئِذٍ أَنَّ الْجَدَّ هُوَ أَقْرَبُ مِنَ الْإِخْوَةِ، فَطَالَ تَحَاوُرُنَا فِيهِ حَتَّى ضَرَبْتُ لَهُ بَعْضَ بَنِيهِ مَثَلًا بِمِيرَاثِ بَعْضِهِمْ دُونَ بَعْضٍ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ كَالْمُغْتَاظِ، فَقَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، لَوْ أَنِّي قَضَيْتُ الْيَوْمَ لِبَعْضِهِمْ دُونَ بَعْضٍ لَقَضَيْتُهُ لِلْجَدِّ، وَلَرَأَيْتُ أَنَّهُ أَوْلَى بِهِ، وَلَكِنْ لَعَلَّهُمْ أَنْ يَكُونُوا ذَوِي حَقٍّ وَلَعَلِّي لَا أُخَيِّبُ سَهْمَ أَحَدٍ مِنْهُمْ، وَسَوْفَ أَقْضِي بَيْنَهُمْ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى نَحْوَ الَّذِي أَرَى يَوْمَئِذٍ، فَحَسِبْتُهُ وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ آخِرِ كَلَامٍ حَاوَرْتُ فِيهِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ فِي شَأْنِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ، ثُمَّ حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ يَقْسِمُ بَعْدَهُمْ، ثُمَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ نَحْوَ الَّذِي كَتَبْتُ بِهِ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، وَحَسِبْتُ أَنِّي قَدْ وَعَيْتُ ذَلِكَ فِيمَا حَضَرْتُ مِنْ قَضَائِهِمَا" وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا اسْتَشَارَهُمْ فِي مِيرَاثِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ قَالَ زَيْدٌ:" وَكَانَ رَأْيِي يَوْمَئِذٍ أَنَّ الْإِخْوَةَ هُمْ أَوْلَى بِمِيرَاثِ أَخِيهِمْ مِنَ الْجَدِّ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَرَى يَوْمَئِذٍ أَنَّ الْجَدَّ أَوْلَى بِمِيرَاثِ ابْنِ ابْنِهِ مِنْ إِخْوَتِهِ، قَالَ زَيْدٌ: فَضَرَبْتُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ مَثَلًا، فَقُلْتُ لَهُ: لَوْ أَنَّ شَجَرَةً تَشَعَّبَ مِنْ أَصْلِهَا غُصْنٌ، ثُمَّ تَشَعَّبَ مِنْ ذَلِكَ الْغُصْنِ خُوطَانِ، ذَلِكَ الْغُصْنُ يَجْمَعُ ذَيْنِكَ الْخُوطَيْنِ دُونَ الْأَصْلِ وَيَغْذُوهُمَا، أَلَا تَرَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ أَحَدَ الْخُوطَيْنِ أَقْرَبُ إِلَى أَخِيهِ مِنْهُ إِلَى الْأَصْلِ؟" قَالَ زَيْدٌ:" أَضْرِبُ لَهُ أَصْلَ الشَّجَرَةِ مَثَلًا لِلْجَدِّ، وَأَضْرِبُ الْغُصْنَ الَّذِي تَشَعَّبَ مِنَ الْأَصْلِ مَثَلًا لِلْأَبِ، وَأَضْرِبُ الْخُوطَيْنِ اللَّذَيْنِ تَشَعَّبَا مِنَ الْغُصْنِ مَثَلًا لِلْإِخْوَةِ".
عبدالرحمن بن ابی زناد نے خبر دی کہ ابو زناد نے یہ رسالہ خارجہ بن زید اور آلِ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے لوگوں سے لیا ہے: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، اللہ کے بندے معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المومنین کے لیے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے، پس رسالہ کی لمبائی اور جو اس میں تھا اس کا ذکر کیا۔ تحقیق میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے دادا کے بارے میں کافی سخت بات کی ہے اور علاتی بھائیوں کے بارے میں اور اس دن میرے خیال میں بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ قریبی حق دار ہے اور عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ دادا بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے، ہم دونوں کی باتیں لمبی ہو گئیں یہاں تک کہ میں نے بعض بیٹوں کی بعض کے ساتھ میراث کی مثال بیان کی، تو عمر رضی اللہ عنہ غصہ کی حالت میں میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اگر میں آج اس بارے میں فیصلہ کرتا تو دادا کے حق میں فیصلہ کرتا اور میرے خیال میں وہ اس کا زیادہ حق دار ہے، لیکن ہو سکتا ہے وہ حق والے ہوں اور شاید میں ان میں سے کسی حصہ دار کو محروم نہ کروں اور عنقریب اگر اللہ نے چاہا تو میں ان کے درمیان فیصلہ کروں گا اسی طرح جس طرح میں اس دن خیال کرتا ہوں، اور میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور بے شک یہ آخری باتیں ہیں جو میں نے دادا اور بھائی کے بارے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کی ہیں، پھر میں نے خیال کیا کہ وہ اس کے بعد ان میں تقسیم کریں گے۔ پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بھی دادا اور بھائیوں کے درمیان ایسا ہی کیا جیسا کہ میں نے اس صحیفہ میں لکھا ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ میں نے دونوں کے فیصلہ کے وقت اس کو یاد کیا ہے۔
بعض نے ان الفاظ کو زیادہ کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے دادا اور بھائیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اس دن میری رائے یہ تھی کہ بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ حق دار ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ دادا اپنے پوتے کی وجہ سے بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے اس کی مثال بیان کی۔
میں نے کہا: اگر ایک درخت کی اصل سے ایک ٹہنی نکلے پھر اس ٹہنی سے دو ٹہنیاں اور نکلیں، تو یہی ٹہنی، نہ کہ اصل، ان دونوں کو جمع کرتی ہے اور ان دونوں کو غذا دیتی ہے۔ اے امیر المومنین! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ دونوں میں سے ایک ٹہنی اصل کی نسبت اپنے ساتھی کے زیادہ قریب ہے؟ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے درخت کی اصل کو دادا کی مثال بنایا اور اصل سے نکلنے والی ٹہنی کو باپ کی مثال اور اس ٹہنی سے نکلنے والی دو ٹہنیوں کو بھائیوں کی مثال بنایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12429]
بعض نے ان الفاظ کو زیادہ کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے دادا اور بھائیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اس دن میری رائے یہ تھی کہ بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ حق دار ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ دادا اپنے پوتے کی وجہ سے بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے اس کی مثال بیان کی۔
میں نے کہا: اگر ایک درخت کی اصل سے ایک ٹہنی نکلے پھر اس ٹہنی سے دو ٹہنیاں اور نکلیں، تو یہی ٹہنی، نہ کہ اصل، ان دونوں کو جمع کرتی ہے اور ان دونوں کو غذا دیتی ہے۔ اے امیر المومنین! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ دونوں میں سے ایک ٹہنی اصل کی نسبت اپنے ساتھی کے زیادہ قریب ہے؟ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے درخت کی اصل کو دادا کی مثال بنایا اور اصل سے نکلنے والی ٹہنی کو باپ کی مثال اور اس ٹہنی سے نکلنے والی دو ٹہنیوں کو بھائیوں کی مثال بنایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12429]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12430
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ عِيسَى الْمَدَنِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ مِنْ رَأْيِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنْ يَجْعَلَا الْجَدَّ أَوْلَى مِنَ الْأَخِ، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ الْكَلَامَ فِيهِ، فَلَمَّا صَارَ عُمَرُ جَدًّا قَالَ:" هَذَا أَمْرٌ قَدْ وَقَعَ، لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ مَعْرِفَتِهِ"، فَأَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" كَانَ مِنْ رَأْيِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ نَجْعَلَ الْجَدَّ أَوْلَى مِنَ الْأَخِ"، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَا تَجْعَلْ شَجَرَةً نَبَتَتْ فَانْشَعَبَ مِنْهَا غُصْنٌ، فَانْشَعَبَ فِي الْغُصْنِ غُصْنٌ، فَمَا يُجْعَلُ الْغُصْنُ الْأَوَّلُ أَوْلَى مِنَ الْغُصْنِ الثَّانِي، وَقَدْ خَرَجَ الْغُصْنُ مِنَ الْغُصْنِ؟ قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ زَيْدٌ، إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ سَيْلًا سَالَ فَانْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَةٌ، ثُمَّ انْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَتَانِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ هَذِهِ الشُّعْبَةَ الْوُسْطَى رَجَعَ أَلَيْسَ إِلَى الشُّعْبَتَيْنِ جَمِيعًا؟ فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ:" هَلْ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْجَدَّ فِي فَرِيضَةٍ؟" فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: سَمِعْتُ ⦗٤٠٦⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَتْ لَهُ فَرِيضَةٌ فِيهَا ذِكْرُ الْجَدِّ فَأَعْطَاهُ الثُّلُثَ، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟" قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ:" لَا دَرَيْتَ"، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ:" هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْجَدَّ فِي فَرِيضَةٍ؟" فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَتْ لَهُ فَرِيضَةٌ فِيهَا ذِكْرُ الْجَدِّ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّدُسَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟" قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ:" لَا دَرَيْتَ". قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَكَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَجْعَلُهُ أَخًا حَتَّى يَبْلُغَ ثَلَاثَةً هُوَ ثَالِثُهُمْ، فَإِذَا زَادُوا عَلَى ذَلِكَ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَجْعَلُهُ أَخًا حَتَّى يَبْلُغَ سِتَّةً هُوَ سَادِسُهُمْ، فَإِذَا زَادُوا عَلَى ذَلِكَ أَعْطَاهُ السُّدُسَ.
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ دادا بھائی سے زیادہ حق دار ہے اور عمر رضی اللہ عنہ اس میں کلام کرنے کو ناپسند کرتے تھے، جب عمر رضی اللہ عنہ دادا بن گئے تو کہا: ایسا معاملہ بن گیا ہے کہ لوگوں کے لیے اس کی پہچان ضروری ہے، پس زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے کہ ہم جد کو بھائی سے زیادہ حق دار رکھیں۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! آپ نہ بنائیں ایسا درخت کہ وہ اگے اس سے ایک ٹہنی نکلے اس ٹہنی سے ایک اور ٹہنی نکلے پس کیسے پہلی ٹہنی دوسری سے افضل بن گئی حالانکہ وہ اسی سے نکلی ہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی زید رضی اللہ عنہ کی مانند کہا مگر انہوں نے دریا کی طرح کہا کہ وہ بہتا ہے اس سے ایک حصہ علیحدہ ہوتا ہے، پھر اس سے دو حصے علیحدہ ہو جاتے ہیں پھر کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر درمیان والا حصہ علیحدہ ہو جائے تو کیا دونوں حصے مل نہ جائیں گے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دادا کے بارے میں سنا ہو؟ ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ کے سامنے فرائض کا ذکر کیا گیا تو اس میں دادا بھی شامل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو ثلث دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ساتھ اور کون وارث تھا؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نہ جانے۔ پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دادا کے حصہ کے بارے میں سنا ہو۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے کہا: میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے سامنے فرائض کا ذکر کیا گیا اس میں دادا بھی شامل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سدس دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ساتھ اور کون وارث تھا؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نہ جانے۔
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس کو بھائی بناتے تھے، یہاں تک کہ تین ہو جائیں اور وہ ان میں تیسرا ہو جب تین سے زیادہ ہو جائیں تو اسے ثلث دیتے تھے اور علی رضی اللہ عنہ اسے بھائی بناتے تھے، جب چھ کو پہنچ جائیں وہ ان میں سے چھٹا ہو، جب وہ زیادہ ہو جاتے تو اس کو سدس دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12430]
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس کو بھائی بناتے تھے، یہاں تک کہ تین ہو جائیں اور وہ ان میں تیسرا ہو جب تین سے زیادہ ہو جائیں تو اسے ثلث دیتے تھے اور علی رضی اللہ عنہ اسے بھائی بناتے تھے، جب چھ کو پہنچ جائیں وہ ان میں سے چھٹا ہو، جب وہ زیادہ ہو جاتے تو اس کو سدس دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12430]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 12431
وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ عَنْ سُفْيَانَ بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ زَيْدٌ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَا تَجْعَلْ شَجَرَةً نَبَتَتْ فَانْشَعَبَ مِنْهَا غُصْنٌ، فَانْشَعَبَ فِي الْغُصْنِ غُصْنَانِ، فَمَا جَعَلَ الْأَوَّلَ أَوْلَى مِنَ الثَّانِي وَقَدْ خَرَجَ الْغُصْنَانِ مِنَ الْغُصْنِ الْأَوَّلِ؟" فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا قَالَ لِزَيْدٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ كَمَا قَالَ زَيْدٌ، إِلَّا أَنَّ عَلِيًّا جَعَلَهُ سَيْلًا سَالَ فَانْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَةٌ، ثُمَّ انْشَعَبَتْ مِنْهُ شُعْبَتَانِ، فَقَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ مَاءَ هَذِهِ الشُّعْبَةِ الْوُسْطَى يَبُسَ أَكَانَ يَرْجِعُ إِلَى الشُّعْبَتَيْنِ جَمِيعًا" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ فَذَكَرَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُشْرِكُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ لِأَبٍ وَأُمٍّ أَوْ لِأَبٍ.
حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المومنین! آپ درخت کی ایسی مثال نہ بنائیں کہ وہ اگے، اس سے ٹہنی نکلے، اس ٹہنی سے دو ٹہنیاں نکلیں، پس کیسے آپ پہلی کو دوسری سے اعلیٰ بناتے ہیں حالانکہ دونوں پہلی سے نکلی ہیں؟“ پس عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور جو زید رضی اللہ عنہ سے کہا تھا وہی کہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی زید رضی اللہ عنہ کی مانند کہا مگر علی رضی اللہ عنہ نے دریا کی مثال دی جو بہتا ہے، اس سے ایک حصہ جدا ہوتا ہے پھر اس سے دو حصے جدا ہوتے ہیں اور کہا: ”آپ کا کیا خیال ہے اگر درمیان والے حصے کا پانی خشک ہو جائے تو کیا دونوں حصے مل جائیں گے؟“
شیخ فرماتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما دادا اور حقیقی اور علاتی بھائی، بہنوں کو شریک کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12431]
شیخ فرماتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما دادا اور حقیقی اور علاتی بھائی، بہنوں کو شریک کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12431]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
2590. -- باب: كيفية المقاسمة بين الجد والإخوة والأخوات
-- باب: دادا اور بھائیوں بہنوں کے درمیان تقسیم کی کیفیت کے بیان میں
حدیث نمبر: 12432
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَقَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" قَضَى أَنَّ الْجَدَّ يُقَاسِمُ الْإِخْوَةَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَالْإِخْوَةَ لِلْأَبِ مَا كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ ثُلُثِ الْمَالِ، فَإِنْ كَثُرَتِ الْإِخْوَةُ أُعْطِيَ الْجَدُّ الثُّلُثَ، وَكَانَ لِلْإِخْوَةِ مَا بَقِيَ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ} [النساء: ١١] الْأُنْثَيَيْنِ، وَقَضَى أَنَّ بَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْ بَنِي الْأَبِ ذُكُورِهِمْ وَإِنَاثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّ بَنِي الْأَبِ يُقَاسِمُونَ الْجَدَّ لِبَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ ⦗٤٠٧⦘ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِمْ، وَلَا يَكُونُ لِبَنِي الْأَبِ مَعَ بَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ شَيْءٌ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَنُو الْأَبِ يَرُدُّونَ عَلَى بَنَاتِ الْأَبِ وَالْأُمِّ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ بَعْدَ فَرَائِضِ بَنَاتِ الْأَبِ وَالْأُمِّ فَهُوَ لِلْإِخْوَةِ لِلْأَبِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ".
قبیصہ بن ذویب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دادا کی تقسیم کا فیصلہ حقیقی اور علاتی بھائیوں کے ساتھ کیا کہ ثلث مال سے جو ان کے لیے بہتر ہو۔ اگر بھائی زیادہ ہوں تو دادا کو ثلث اور بھائیوں کے لیے باقی ماندہ ہوگا ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت اور فیصلہ کیا کہ حقیقی اولاد، علاتی اولاد (مذکر ہو یا مؤنث) سے زیادہ حق دار ہے، اس کے علاوہ کہ علاتی بھائی حقیقی بہن بھائیوں کی «مُقَاسَمَةُ الْجَدِّ» (دادا کے ساتھ تقسیم) میں (شریک) ہوں تو وہ حقیقی بہن بھائیوں پر لوٹائی جائے گی۔
اور علاتی اولاد کے لیے حقیقی اولاد کے ساتھ کچھ نہ ہوگا مگر یہ کہ علاتی بیٹوں کو حقیقی بیٹیوں پر لوٹایا جائے۔ اگر حقیقی بیٹیوں کو حصہ دینے کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ علاتی بھائیوں کے لیے ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12432]
اور علاتی اولاد کے لیے حقیقی اولاد کے ساتھ کچھ نہ ہوگا مگر یہ کہ علاتی بیٹوں کو حقیقی بیٹیوں پر لوٹایا جائے۔ اگر حقیقی بیٹیوں کو حصہ دینے کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ علاتی بھائیوں کے لیے ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12432]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12433
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو طَاهِرٍ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: أَخَذَ أَبُو الزِّنَادِ هَذِهِ الرِّسَالَةَ مِنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمِنْ كُبَرَاءِ آلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ:" بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، لِعَبْدِ اللهِ مُعَاوِيَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ"، فَذَكَرَ الرِّسَالَةَ بِطُولِهَا، وَفِيهَا:" إِنِّي رَأَيْتُ مِنْ نَحْوِ قَسْمِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ، إِذَا كَانَ أَخًا وَاحِدًا ذَكَرًا مَعَ الْجَدِّ قَسَمَ مَا وَرِثَا بَيْنَهُمَا شَطْرَيْنِ، فَإِنْ كَانَ مَعَ الْجَدِّ أُخْتٌ وَاحِدَةٌ قَسَمَ لَهَا الثُّلُثَ، فَإِنْ كَانَتَا أُخْتَيْنِ مَعَ الْجَدِّ قَسَمَ لَهُمَا الشَّطْرَ وَلِلْجَدِّ الشَّطْرَ، فَإِنْ كَانَ مَعَ الْجَدِّ أَخَوَانِ فَإِنَّهُ يَقْسِمُ لِلْجَدِّ الثُّلُثَ، فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنِّي لَمْ أَرَهُ حَسِبْتُ يُنْقِصُ الْجَدَّ مِنَ الثُّلُثِ شَيْئًا، ثُمَّ مَا خَلَصَ لِلْإِخْوَةِ مِنْ مِيرَاثِ أَخِيهِمْ بَعْدَ الْجَدِّ فَإِنَّ بَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ هُمْ أَوْلَى بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ بِمَا فَرَضَ اللهُ لَهُمْ دُونَ بَنِي الْعَلَّةِ، فَلِذَلِكَ حَسِبْتُ نَحْوًا مِنَ الَّذِي كَانَ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَقْسِمُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ، وَلَمْ يَكُنْ يُوَرِّثُ الْإِخْوَةَ مِنَ الْأُمِّ الَّذِينَ لَيْسُوا مِنَ الْأَبِ مَعَ الْجَدِّ شَيْئًا"، قَالَ:" ثُمَّ حَسِبْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ نَحْوَ الَّذِي كَتَبْتُ بِهِ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ".
عبدالرحمٰن بن ابوالزناد کہتے ہیں: یہ رسالہ ابوالزناد نے خارجہ بن زید اور آل زید بن ثابت کے بڑوں سے لیا ہے: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، اللہ کے بندے معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المومنین کے لیے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے، اس کے لمبا ہونے اور جو اس میں تھا اس کا ذکر کیا اور میں نے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تقسیم دادا اور علاتی بھائیوں کے درمیان کو دیکھا، جب ایک بھائی ہو دادا کے ساتھ تو دونوں کے درمیان وراثت دو حصوں میں تقسیم ہوگی۔ اگر دادا کے ساتھ ایک بہن ہو تو بہن کے لیے ثلث اور اگر دادا کے ساتھ دو ہوں تو دونوں کے لیے نصف اور نصف دادا کے لیے۔ اگر دادا کے ساتھ دو بھائی ہوں تو دادا کے لیے ثلث اور اگر بھائی زیادہ ہوں تو میرے خیال میں وہ ثلث سے کچھ بھی کم نہ کرتے تھے، پھر جو ان کے بھائی کی وراثت سے ان کے لیے بچ جائے دادا کے بعد تو حقیقی اولاد کے لیے جو اللہ نے ان کے لیے فرض کیا ہے علاتی اولاد کے علاوہ۔ اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ جد اور علاتی بھائیوں کے درمیان تقسیم کرتے تھے اور اخیافی بھائیوں کو وارث نہ بناتے تھے، پھر میں نے خیال کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح دادا اور بھائیوں کے درمیان تقسیم کرتے تھے جس طرح میں نے آپ کی طرف لکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12433]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الْجَدِّ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:" إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلِيَّ تَسْأَلُنِي عَنِ الْجَدِّ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَذَلِكَ مَا لَمْ يَكُنْ يَقْضِي فِيهِ إِلَّا الْأُمَرَاءُ، يَعْنِي الْخُلَفَاءَ، وَقَدْ حَضَرْتُ الْخَلِيفَتَيْنِ قَبْلَكَ يُعْطِيَانِهِ النِّصْفَ مَعَ الْأَخِ الْوَاحِدِ، وَالثُّلُثَ مَعَ الِاثْنَيْنِ، فَإِنْ كَثُرَ الْإِخْوَةُ لَمْ يُنْقِصَاهُ مِنَ الثُّلُثِ".
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور دادے کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ نے مجھ سے دادے کے بارے میں سوال کیا ہے، «اللهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتے ہیں“ اور اس مسئلہ میں خلفاء فیصلہ کرتے تھے، میں آپ سے پہلے دو خلفاء کے پاس گیا ہوں، وہ دونوں دادے کو ایک بھائی کے ساتھ نصف دیتے تھے اور دو بھائیوں کے ساتھ ثلث دیتے تھے، اگر بھائی زیادہ ہوتے تو ثلث سے کم نہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12434]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مالك 1095»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12435
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ مِنْ كِتَابِهِ، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْطِي الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ الثُّلُثَ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْطِيهِ السُّدُسَ، وَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" إِنَّا نَخَافُ أَنْ نَكُونَ قَدْ أَجْحَفْنَا بِالْجَدِّ فَأَعْطِهِ ⦗٤٠٨⦘ الثُّلُثَ"، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَا هُنَا أَعْطَاهُ السُّدُسَ. فَقَالَ عَبِيدَةُ: فَرَأْيُهُمَا فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَأْيِ أَحَدِهِمَا فِي الْفُرْقَةِ.
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ ثلث دیتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سدس دیتے تھے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”ہمیں ڈر ہے کہ ہم نے دادا کے ساتھ زیادتی کی ہے، لہٰذا اسے ثلث دو“۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہاں آئے تو سدس دیتے تھے، عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا: ان دونوں کی رائے تمام جماعت میں میرے نزدیک کسی ایک کی رائے کی نسبت زیادہ پسندیدہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12435]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12436
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ" يُعْطِي الْجَدَّ الثُّلُثَ، ثُمَّ تَحَوَّلَ إِلَى السُّدُسِ، وَأَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ يُعْطِيهِ السُّدُسَ، ثُمَّ تَحَوَّلَ إِلَى الثُّلُثِ".
عبیدہ بن نفیلہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ دادے کو ثلث دیتے تھے، پھر سدس دینا شروع کر دیا اور عبداللہ رضی اللہ عنہ پہلے سدس دیتے تھے پھر ثلث پر آ گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12436]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12437
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللهِ يُقَاسِمَانِ بِالْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ السُّدُسُ خَيْرًا لَهُ مِنْ مُقَاسَمَتِهِمْ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللهِ:" مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَجْحَفْنَا بِالْجَدِّ، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَقَاسِمْ بِهِ مَعَ الْإِخْوَةِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ الثُّلُثُ خَيْرًا لَهُ مِنْ مُقَاسَمَتِهِمْ"، فَأَخَذَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ.
عبید بن نضلہ فرماتے ہیں کہ عمر اور عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں دادے کو بھائیوں کے ساتھ اس وقت تک تقسیم میں شریک کرتے تھے جب تک «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ اس کے لیے ان کے ساتھ تقسیم سے بہتر نہ ہو، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ کی طرف لکھا کہ میرا خیال ہے کہ ہم نے دادا کے ساتھ زیادتی کی ہے، یعنی نقصان پہنچایا ہے، جب تیرے پاس میرا یہ خط آئے تو اسے بھائیوں کے ساتھ اس وقت تک تقسیم میں شریک کرنا جب تک «الثُّلُثُ» ”تہائی حصہ“ اس کے لیے ان کے ساتھ تقسیم سے بہتر نہ ہو، پس عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی پر عمل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12437]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12438
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ سِتَّةِ إِخْوَةٍ وَجَدٍّ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ:" اجْعَلْهُ كَأَحَدِهِمْ، وَامْحُ كِتَابِي".
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ چھ بھائیوں اور دادا کے بارے میں بتائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اسے بناؤ گویا کہ وہ ان میں سے کوئی ایک ہے اور میرا خط مٹا دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12438]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح